نیو جرسی میں امیگریشن حراستی مرکز کے باہر احتجاج جاری، 6 افراد گرفتار
لاہور(جدوجہد رپورٹ)امریکی ریاست نیو جرسی میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) کے حراستی مرکز ڈیلنی ہال کے باہر احتجاجی مظاہرے مسلسل جاری ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مرکز میں قید سیکڑوں تارکین وطن ایک ہفتے سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور اپنی فوری رہائی کے ساتھ ساتھ غیر انسانی حالات کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق جمعرات کے روز زیر حراست افراد کے اہل خانہ نے ایک پریس کانفرنس میں آئس پر بھوک ہڑتالی قیدیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا الزام عائد کیا۔ کارکنوں کے مطابق انہیں ڈیلنی ہال کے اندر سے متعدد فون کالز موصول ہوئیں جن میں قیدیوں نے دعویٰ کیا کہ محافظوں نے بھوک ہڑتالی افراد پر مرچوں والا اسپرے کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔
ادھر بدھ کی رات احتجاجی مظاہروں کے دوران کم از کم 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق قیدیوں کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ڈیلنی ہال کے باہر ایک انسانی رکاوٹ قائم کر رکھی تھی، جبکہ آئس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد بار مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے احتجاج ختم کرانے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے، تاہم اہل خانہ اور کارکن اپنے مطالبات پر قائم رہے اور زیر حراست تارکین وطن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے رہے۔
ڈیلنی ہال حراستی مرکز کو جیو گروپ چلاتا ہے، جو منافع بخش نجی جیلوں کے شعبے میں کام کرنے والی ایک بڑی کمپنی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے نجی حراستی مراکز میں قیدیوں کے ساتھ سلوک اور ان کے حالات زندگی پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے تارکین وطن کی شکایات کا فوری نوٹس لیا جائے، مبینہ تشدد کی تحقیقات کی جائیں اور غیر قانونی یا غیر انسانی حراستوں کا خاتمہ کیا جائے۔ اس معاملے نے امریکہ میں امیگریشن پالیسی، نجی حراستی مراکز اور تارکین وطن کے حقوق کے حوالے سے جاری بحث کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔