← Back to Newsroom OS خبریں

نیو یارک سوشلزم کی لپیٹ میں: 3 سوشلسٹ کانگریس کی دہلیز پر

By Roznama Jeddojehad • 2026-07-03 • 2 min read

سٹاک ہولم (فاروق سلہریا) ظہران ممدانی نیو یارک مئیر کا الیکشن جیتے تو پاکستان کا میڈیا بھی ان کا ذکر کر رہا تھا اور ہندوستان کا بھی۔ پاکستانی میڈیا ان کے مسلان ہونے کو نمایاں کر رہا تھا جبکہ ہندوستان کا میڈیا ان کے ہندوستانی ہونے پر۔ ان کی والدہ میرا نیر معروف فلمساز جبکہ انک کے والد معروف اکیڈیمک محمود ممدانی ہیں جن کا تعلق ہندوستانی ریاست گجرات سے ہے مگر یہ خاندان یوگنڈا چلا آیا تھا۔

ان کی انٹکابی کامیابی میں نہ تو ان کا ہندوستانی ہونا اہم تھا، نہ ان کا مسلمان ہونا۔

ظہران ممدانی کی کامیابی کے پیچھے اصل قوت ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ (ڈی ایس اے) تھی۔ ڈی ایس اے گذشتہ دو دہائیوں میں ایک بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ یہ انتخابی سیاست کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی کا پلیٹ فارم استعمال کرتی ہے۔ یہ کوئی انقلابی سوشلسٹ جماعت نہیں ۔ نہ ہی اس میں کوئی ایک رجحان ہے۔ اس میں مختلف رجحان ہیں۔ بعض رجحان انقلابی سوشلسٹ بھی سمجھے جاتے ہیں۔عمومی طور پر اس جماعت کو ایک طرح کی اصلاح پسند سوشلسٹ جماعت کہا جا سکتا ہے یا کہا جاتا ہے۔ڈی ایس اے خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ کے طور پر متعارف کراتی ہے۔

اس کے ارکان کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ارکان کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ صدر ٹرمپ جب بائیں بازو کے خلاف واویلا کرتے سنائی دیتے ہیں تو عام طور پر وہ اشارۃ ڈی ایس اے کی بات ہی کر رہے ہوتے ہیں۔

24 جون کی شام ڈیموکریٹس کی رجعتی اسٹیبلشمنٹ کے لئے کافی بھاری تھی۔ ظہران ممدانی کی جیت کے بعد، ایک مرتبہ پھر نیو یارک میں ڈیموکریٹک ارکان کی اکثریت نے سوشلزم کے حق میں فیصلہ دیا۔

کانگریس کی تین نشستوں کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے پرایمریز کے لئے ووٹ ڈالے۔ امریکہ میں پارٹی کا نمائندہ پہلے پارٹی کے ارکان بذریعہ ووٹ منتخب کرتے ہیں۔ کاش اس طرح کی کوئی روایت پاکستان میں بھی موجود ہوتی۔ یہاں تو سیاسی جماعتیں خاندان شاہیاں ہیں۔ جماعت کے تاحیات سربراہ کی مرضی منشا (اور جی ایچ کیو کی آشیر باد کی بناید پر پارٹی ٹکٹ دیا جاتا ہے)۔ خیر۔

گذشتہ ہفتے جب نیو یارک کیڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمری ہوئی تو ڈی ایس اے سے تعلق رکھنے والے تینوں ارکان،جنہیں ظہران ممدانی کی بھی حمایت حاصل تھی، بھاری اکثریت سے جیت گئے۔

سب سے بڑا برج 32 سالہ ،طالب علم رہنما دریالیزا شاولئیر  نے الٹا۔ انہوں نے فیصد ووٹ لے کر پانچ دفعہ کے رکن کانگریس ادریانو ایسپیلات کو شکست دی ۔

ڈی ایس اے کے حمایت یافتہ بریڈ لینڈر نے فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔

نیو یارک سٹیٹ اسمبلی کو موجودہ رکن ، سالہ کلئیر والڈز  نے فیصد ووٹ حاصل کئے ۔

نیو یارک میں چونکہ ری پبلکن جماعت بہت کمزور ہے اس لئے ڈیموکریٹک پرائمری جیتنے والے امیدوار بارے سمجھا جاتا ہے کہ وہ کانگریس کا رکن بن گیا ۔