نیو یارک میں اسرائیل کو امریکی اسلحہ کی فروخت کیخلاف احتجاج، 90 کے قریب مظاہرین گرفتار
لاہور(جدوجہد رپورٹ)امریکہ کے شہر نیویارک سٹی میں پیر کے روز اسلحہ فروخت اور فوجی تعاون کے خلاف ہونے والے بڑے احتجاجی مظاہروں کے دوران تقریباً 90 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ یہ مظاہرے امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو اسلحہ اور عسکری مدد کے تسلسل کے خلاف منعقد کیے گئے تھے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق مظاہرین میں جوئش وائس فار پیس کے ارکان بھی شامل تھے، جنہوں نے تصدیق کی کہ پولیس نے قریب 90 افراد کو گرفتار کیا۔ گرفتار ہونے والوں میں امریکی فوج کی سابق اہلکار اور مشہور وہسل بلورچیلسی میننگ بھی شامل تھیں، جنہیں مظاہرے کے دوران سڑک پر بیٹھ کر دھرنا دینے پر حراست میں لیا گیا۔
نیویارک سٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ متعدد گرفتاریاں کی گئی ہیں، تاہم اہلکاروں نے تعداد بتانے سے گریز کیا۔
مظاہروں کی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ شرکا امریکی سینیٹ کے اقلیتی رہنماچک شومراور سینیٹر کرسٹین گیلیبرینڈکے دفاتر کے قریب جمع تھے۔ مظاہرین نے’بمباری بند کرو‘،’ہلاکتیں روکو‘،’فلسطین کو آزادی دو‘،’غزہ کو جینے دو‘،’ایران کو جینے دو‘اور’لبنان کو جینے دو‘جیسے نعرے لگائے۔
یہ احتجاج اس وسیع تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں 28 فروری کو امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کے جوابی وار نے پورے خطے کو شدید تنازع میں دھکیل دیا۔ ایران، لبنان اور غزہ میں جاری حملوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حالیہ مہینوں میں احتجاجی تحریکوں کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں، جن میں غیر ملکی طلبہ کی ملک بدری کی کوششیں، احتجاج کرنے والی یونیورسٹیوں کی فنڈنگ روکنے کی دھمکیاں، اور تارکین وطن کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی شامل ہے۔ تاہم متعدد عدالتی فیصلوں نے اس کریک ڈاؤن میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔
نیویارک 2024 میں بھی فلسطین کے حق میں مظاہروں کا مرکز رہا تھا۔ انسانی حقوق کے گروہوں نے خاص طور پر اسرائیل کو دی جانے والی امریکی عسکری مدد پر سوال اٹھائے ہیں، جو غزہ میں ہزاروں ہلاکتوں، بھوک، مکمل بے دخلی اور اقوام متحدہ کی سطح پر نسل کشی کے خدشات کے باوجود جاری ہے۔