نیو یارک کے بعد چلی: کمیونسٹ پارٹی کی خائنت خارا لیفٹ پرائمری جیت کر صدارتی امیدوار
فاروق سلہریا
گذشتہ کچھ دنوں سے دنیا بھر کے میڈیا میں ظہران ممدانی کا ذکر ہو رہا ہے۔ دنیا بھر کے ترقی پسندوں اور محنت کشوں کے لئے ایک ویسی ہی اہم خبر یہ ہے کہ چلی کی جس کمیونسٹ پارٹی کو ستر کی دہائی میں امریکی سی آئے اے نے وہاں کی فوج کے ساتھ مل کر کچل دیا تھا، اگلے انتخاب میں وہ صدارتی انتخاب جیتنے کے لئے پر امید ہے۔
امسال 16 نومبر کو چلی میں صدارتی انتخابات ہوں گے۔جون کے آخر میں ان انتخابات کے لئے لیفٹ بلاک کا امیدوار نامزد کرنے کے پرائمری انتخابات ہوئے۔ان پرائمری انتخابات میں کمیونسٹ پارٹی کی خائنت خار(Jeannete Jara)انے 60 فیصد ووٹ حاصل کئے۔
لیفٹ بلاک میں کمیونسٹ پارٹی، سوشل ڈیموکریٹس، گرین اور براڈ فرنٹ (Frente Amplio) شامل ہیں۔ چلی کے موجودہ صدر گبرئیل بورک کا تعلق براڈ فرنٹ سے ہے۔
ان پرائمری انتخابات میں خائنت خارا کی قریبی حریف سوشل ڈیموکریٹ کیرولینا طوہا (Carolina Toha)تھیں۔ انہیں 27 فیصد ووٹ ملے۔ براڈ فرنٹ کے گنزالو ونتر(Gonzalo Winter) کو 9 فیصد جبکہ گرین امیدوارخین مولت(Jaine Mulet) کو 2 فیصد ووٹ ملے۔ان انتخابات پر سپین کے معروف اخبار El Pais کاتبصرہ تھا: نا قابلِ یقیں۔
یاد رہے ستر کی دہائی میں چلی کی کمیونسٹ پارٹی کا شمار دنیا کی بڑی کمیونسٹ پارٹیوں میں ہوتا تھا۔ لاطینی امریکہ میں کیوبا سے باہر، یہ سب سے بڑی اشتراکی جماعت سمجھی جاتی تھی۔1973 میں یہاں کمیونسٹ پارٹی کے رہنما ڈاکٹر الاندے کی منتخب حکومت کو سی آئی اے نے فوج کے ساتھ مل کر گرایا۔ جی ہاں! رژیم چینج۔یہاں جنرل پنوشے نے ایک بد ترین فوجی آمریت مسلط کی۔ الاندے حکومت کے مزدور دوست اقدامات کو رول بیک کر کے،یہاں نئیو لبرل معاشی حکمت عملی لاگو کی گئی۔کہا جاتا ہے کہ نئیو لبرل معاشی پالیسیوں کا سب سے پہلا تجربہ پنوشے آمریت نے کیا۔
Farooq Sulehria
فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔
