← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

نیپال: اصلاح پسندی کی ایک اور ناکامی

By جدوجہد • 2025-09-11 • 18 min read

راہول جے پی / عمران کامیانہ

نیپال گزشتہ دو روز سے دھماکہ خیز واقعات کی لپیٹ میں ہے۔ دسیوں ہزار نوجوانوں کے انتہائی بے باک اور جارحانہ احتجاجوں نے پورے ریاستی ڈھانچے کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ اس تحریک کی قیادت چونکہ انتہائی کم عمر نوجوان کر رہے ہیں لہٰذا اسے ’’جین ذی‘‘ یعنی 1995ء سے 2010ء کے درمیان پیدا ہونے والی نسل کا احتجاج بھی کہا جا رہا ہے (اس سے قبل کینیا اور بنگلہ دیش وغیرہ کی تحریکوں کو بھی ایسے نام دئیے جا چکے ہیں)۔ سوشل میڈیا پر عائد حکومتی پابندی (جو ان احتجاجوں کی فوری وجہ بنی) کے خاتمے کے اعلان کے باوجود کھٹمنڈو سمیت مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ رکنے کے بجائے مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔ بدترین ریاستی تشدد سے کم از کم 19 احتجاجی نوجوان اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ مظاہرین کے ہاتھوں تین پولیس اہلکاروں اور برسر اقتدار کمیونسٹ پارٹی کے سابق چیئرمین اور سابق وزیر اعظم جھالا ناتھ کی بیوی کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ہیں۔ زخمی ہونے والوں کا کوئی شمار نہیں ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پارلیمنٹ اور وزیر اعظم ہاؤس کی عمارتوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا ہے جبکہ اعلیٰ حکومتی اہلکاروں بشمول وزرا اور ان کے اہل خانہ کے زیر عتاب آنے کی خبروں اور ویڈیوز سے سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے۔ اس سے قبل وزیر داخلہ اور وزیر صحت سمیت تین وزرا نے شدید عوامی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے اپنے استعفے پیش کیے تھے۔ جس کے بعد بالآخر وزیراعظم کے پی شرما اولی کو بھی استعفیٰ دینا پڑ گیا۔ اولی نے بظاہر یہ قدم ’’آئینی حل‘‘ کی راہ ہموار کرنے کے لئے اٹھایا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاملات ریاست کے کنٹرول سے باہر ہو چکے ہیں۔ نام نہاد ’’کمیونسٹ‘‘ حکومت کے بے رحمانہ جبر نے تحریک کو کچلنے کی بجائے مزید بھڑکا دیا ہے۔ شرما اولی کے ملک سے فرار ہو جانے کی اطلاعات بھی گردش میں ہیں۔ باغی نوجوانوں کے مطالبات بھی سوشل میڈیا پر سے پابندی اٹھانے سے بڑھ کر کرپشن و اقربا پروری کے خلاف ٹھوس اقدامات، احتساب و شفافیت اور موجودہ حکومت کے مکمل خاتمے تک وسیع ہو چکے ہیں۔

اِس تحریک کا آغاز ایک ہفتہ قبل اس وقت ہوا جب حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کر دی۔ اس پابندی نے نوجوانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا اور سالہا سال سے معاشی ذلتوں کے خلاف پکنے والا غم و غصہ آخر کار پھٹ پڑا۔ یہ حکومتی پابندی ’’ریگولیشن‘‘ کے بہانے لگائی گئی تھی لیکن ظاہر ہے اس کا مقصد مزاحمتی آوازوں کو دبانا اور سطح کے نیچے پنپتے سیاسی و معاشی بحرانات پر پردہ ڈالنا تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کو عوام میں موجود بے چینی کا بخوبی علم تھا۔ لیکن لاکھوں نوجوانوں نے جب اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لئے سڑکوں کا رخ کیا تو ریاستی بندوقوں نے ان کے جسم چھلنی کر ڈالے۔ ایک دن میں 19 معصوم جانیں چھین لی گئیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ یہ نیپال کی تاریخ میں کسی بھی احتجاج کے دوران ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ اس سے قبل 2006ء میں بادشاہ گیانندرا کے خلاف تحریک میں 25 افراد مارے گئے تھے۔

اولی حکومت نے جس بے رحمی کے ساتھ ان احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کی کوشش کی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس نیپالی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت نہ کمیونسٹ ہے نہ مارکسزم اور کمیونزم کے انقلابی آدرشوں سے اس کا کوئی لینا دینا ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں اصلاح پسند بائیں بازو کے بہت سے حلقے دوسری کئی ’’سامراج مخالف‘‘ یا نام نہاد بائیں بازو کی حکومتوں کی طرح اِس نیپالی حکومت کے بھی گن گاتے رہے ہیں اور محنت کشوں میں بھی ایسی خوش فہمیوں کو پروان چڑھاتے رہے ہیں۔ ان میں سٹالنزم اور ماؤازم سے وابستہ رجحانات (اگرچہ تمام نہیں) کے ساتھ ساتھ ’’نیو لیفٹ‘‘ کے بہت سے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو روس اور چین کی ریاستوں سے امیدیں وابستہ کرتے اور کرواتے ہیں اور ’’سامراج مخالفت‘‘ کے نام پر نہ صرف وینزویلا میں مادورو اور شام میں بشار الاسد وغیرہ جیسی حکومتوں بلکہ ایرانی ملاؤں کی حمایت میں بھی ہر حد تک چلے جاتے ہیں۔ زیادہ وقت نہیں گزرا کہ یہ شرما اولی کی حکومت کو جنوب ایشیا میں ’’بائیں بازو کی بحالی‘‘ قرار دے رہے تھے۔ اب بھی ان میں سے بیشتر زمینی حقائق کو جھٹلاتے اور حالیہ تحریک کو ’’سامراجی سازش‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنی موقع پرستی اور نظریاتی دیوالیہ پن کا ثبوت ایک بار پھر پیش کریں گے۔

نیپال میں اولی کی ’’کمیونسٹ‘‘ حکومت کے خلاف اتنی بڑی عوامی بغاوت اور پھر اس بغاوت کو کچلنے کے لئے بدترین ریاستی تشدد سے واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی حدود و قیود میں اقتدار سنبھالنے والی کسی بھی حکومت، خواہ وہ خود کو کمیونسٹ کہے یا سوشلسٹ، کو آخر کار سرمایہ دار طبقے اور ریاست کے مفادات کی رکھوالی اور دلالی پر ہی مجبور ہونا پڑتا ہے۔ یہی اولی، جو کبھی نیپالی عوام کی امیدوں اور سامراج مخالف نعروں کے سہارے اقتدار تک پہنچا تھا، آج سامراجی سرمایہ داری کے منصوبوں کا محافظ بنا ہوا ہے اور نیپالی محنت کشوں کے خون میں لتھڑا ہوا ہے۔

یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ محنت کش عوام کی نجات اور آزادی سرمایہ داری کے اندر رہ کر اصلاحات کے ذریعے ممکن نہیں بنائی جا سکتی۔ ہمارے خطوں جیسے پسماندہ اور ازل سے بحران زدہ سرمایہ دارانہ نظاموں میں تو اصلاحات کی گنجائش روزِ اول سے ہی ناپید رہی ہے۔ سرمایہ داری کی تاریخی زوال پذیری کی موجودہ کیفیت میں تو اس نظام کے کھوکھلے ڈھانچوں پر انحصار کرنے والے اصلاح پسندوں کو آخر کار نیولبرلزم کا راستہ ہی اختیار کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ بائیں بازو کی اصلاح پسندی اور روایتی دائیں بازو کی پالیسیوں کے درمیان تفریق کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ جس سے پھر انتہائی دائیں بازو کے فسطائی قسم کے رجحانات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ مرحلہ واریت اور اصلاح پسندی کے یہ گمراہ کن راستے آخر کار تحریکوں کے زوال، ان میں شامل دیانتدار انقلابی عناصر پر جبر، سامراجی سرمایہ کاری کے تحفظ اور ریاستی مشینری کے محنت کش طبقے کے خلاف استعمال کی طرف ہی جاتے ہیں۔ یوں نظریاتی کمزوریاں یا انحرافات آخر کار تاریخی جرم بن جاتے ہیں۔ لمحوں کی خطا کاریوں کی سزا پھر نسلوں کو بھگتنی پڑتی ہے۔

سوشل میڈیا پر پابندی اس تحریک کی فوری وجہ ہی بنی ہے۔ یعنی وہ تنکا جس نے اونٹ کی کمر پر پہلے سے لدے بوجھ کو ناقابل برداشت بنا دیا۔ اِس کے پس منظر میں حکمرانوں کی کرپشن اور عوام کی بدترین غربت، مسلسل بڑھتی بے روزگاری اور اشرافیہ کی عیاشیوں کے خلاف وہ شدید نفرت اور غصہ کارفرما تھا جو طویل عرصے سے پک رہا تھا۔ اس وقت لاکھوں نیپالی نوجوان روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔ خلیجی ممالک میں نیپالی مزدور سب سے بدحال اور سستے شمار ہوتے ہیں۔ جو لوگ ملک سے باہر نہیں جا سکتے وہ محض ترسیلاتِ زر کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ ایک شکستہ سرمایہ دارانہ معیشت اور اس کے کھوکھلے سیاسی ڈھانچے کی غماز کیفیت ہے۔

نیپال کی تقریباً تین کروڑ آبادی میں سے بیشتر انسان غربت، بھوک، بیماری اور محرومی سے دو چار ہیں۔ شرما اولی پہلی بار 2015ء میں اقتدار میں آیا تھا۔ لیکن ایک دہائی گزر جانے کے باوجود شدید غربت کی سرکاری شرح 20 فیصد پر ٹھہری ہوئی ہے اور نیپال اب بھی اقوامِ متحدہ کی فہرست میں پسماندہ ترین ممالک میں شامل ہے۔ زلزلوں اور سیلابوں جیسی آفات نے اس سماجی بربادی کو سنگین بنایا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریاست کے پاس عوام کو ریلیف دینے کی صلاحیت ہی موجود نہیں ہے۔ یوں پورا سماج دھماکہ خیز تضادات کا شکار ہو گیا ہے۔

ان تضادات کا سب سے واضح اظہار ملک میں مسلسل بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے۔ حکومتی رپورٹوں کے مطابق ملک میں بیروزگاری کی شرح 12.6 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ نوجوانوں میں یہ شرح 22.7 فیصد تک ہے۔ جو اس سال کے اختتام تک مزید بڑھ جانے کا امکان ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ہر ایک ہندسہ ایک برباد زندگی، ایک اجڑی امید اور ایک ایسے نوجوان کی چیخ و پکار پر مبنی ہے جس کے پاس اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے ذلت بھری ہجرت کا راستہ ہی بچتا ہے۔

گزشتہ تین دہائیاں نیپال کی کمیونسٹ/ماؤاسٹ پارٹیوں میں تقسیموں، ادغاموں اور پھر نئی تقسیموں کے نہ ختم ہونے والے سلسلے سے لبریز ہیں۔ 1996ء سے 2006ء تک ماؤاسٹ ایک خونریز خانہ جنگی میں ریاست کیساتھ برسرِ پیکار رہے۔ جس میں آٹھ ہزار ماؤاسٹ گوریلوں اور ساڑھے چار ہزار ریاستی اہلکاروں سمیت تقریباً 18 ہزار لوگ ہلاک ہوئے۔ یہ خانہ جنگی 2006ء میں ’’جامع امن معاہدے‘‘ کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی (یہاں واضح رہے کہ ریاست کو پسپائی پہ مجبور کرنے میں 2006ء میں نیپال کے شہروں میں ابھرنے والے انقلاب کا کلیدی کردار تھا)۔ یہ معاہدہ بنیادی طور پر ماؤاسٹوں کی ریاست کے ساتھ مفاہمت پر مبنی تھا۔ جس کے تحت انہوں نے مرحلہ واریت کی تھیوری کے تحت اپنے تئیں انقلاب کا سامراج مخالف (بنیادی طور پر بھارتی سامراجی اثر و رسوخ سے آزادی) جمہوری مرحلہ مکمل کیا اور بادشاہت کے خاتمے سمیت کئی طرح کی جمہوری اصلاحات کی راہ ہموار ہوئی۔ لیکن نیپال کے انقلابی عوام‘ بالخصوص نوجوانوں نے جبر و استحصال سے پاک ایک بہتر زندگی کی جس امید کیساتھ اتنی قربانیاں دی تھیں‘ آنے والے ماہ و سال اس پر پانی پھیرتے چلے گئے۔ 2008ء میں بادشاہت کے باضابطہ خاتمے سے لے کے اب تک ملک ایک عمومی سیاسی بحران کا شکار چلا آ رہا ہے۔ جس میں حکومتیں تحلیل ہوتی رہیں، اتحاد بنتے بگڑتے رہے اور وزرائے اعظم بدلتے رہے ہیں۔ ان 17 سالوں میں 13 حکومتیں بدل چکی ہیں۔ اس دوران تین بار بھارت نواز نیپالی کانگریس کے لوگ بھی اقتدار میں آئے ہیں اور نگران سیٹ اپ بھی بنتے رہے ہیں۔ اس وقت حالات یہ ہیں کہ حکومت بھی کمیونسٹ پارٹی کی ہے اور اپوزیشن کی قیادت بھی ایک کمیونسٹ پارٹی کر رہی ہے۔

شرما اولی نے پہلی بار 2015ء میں اقتدار سنبھالا تھا۔ 2018ء میں وہ کمیونسٹ اتحاد کی ایک نسبتاً مستحکم پوزیشن کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آیا۔ اس وقت خوشحالی، روزگار اور ترقی کے بڑے وعدے کیے گئے۔ لیکن موجودہ حالات کوئی اور ہی داستان سناتے ہیں۔ کرپشن مزید بڑھی ہے، طبقاتی تفاوت گہری ہوئی ہے اور بھارت کے چنگل سے نکالنے کے چکر میں نیپال کو چین کی جھولی میں ڈال دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ حکومت نیپال کی تاریخ کی سب سے زیادہ چین نواز حکومت سمجھی جاتی ہیں جس نے چین کے ساتھ گہرے سیاسی، تجارتی و اقتصادی تعلقات قائم کیے ہیں۔ لیکن یہ سرمایہ کاری اور تعمیراتی منصوبے نیپالی عوام کی زندگیوں میں کوئی آسودگی لانے سے قاصر ہی نظر آتے ہیں۔

یہی وہ حالات ہیں جنہوں نے نیپالی نوجوانوں کو بغاوت پر مجبور کر دیا ہے۔ اس قسم کی تحریکیں ہم ماضی قریب میں سری لنکا، کینیا اور بنگلہ دیش میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر بحران زدہ سرمایہ داری کے خلاف عالمگیر بغاوت کی مختلف کڑیاں ہیں۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں محنت کش عوام کے حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں۔ نیپال کی اس تحریک نے ایک بار پھر مرحلہ واریت اور اصلاح پسندی کی ناکامی و نامرادی کو بالکل عیاں کیا ہے۔ ایک بار پھر واضح ہوا ہے کہ سطحی اصلاحات، معمولی مراعات اور برائے نام تبدیلیوں سے استحصال زدہ عوام کے مقدر نہیں بدلے جا سکتے۔ نئی نسل شعوری یا لاشعوری طور پر ایک ایسی انقلابی جراحی کی خواہاں ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ ان کی امنگیں اور مطالبات واضح طور سے اس تڑپ کی غمازی کرتے ہیں۔ لیکن ان مطالبات کو مارکسی پروگرام اور لائحہ عمل درکار ہے۔ نیپال کے موجودہ حالات ناگزیر طور پر ماؤاسٹ تحریک میں موجود انقلابی رجحانات رکھنے والے سنجیدہ اور دیانتدار عناصر میں نئی نظریاتی بحثوں کو جنم دیں گے۔ کئی دہائیوں سے مسلح جدوجہد سمیت بہتر زندگی کی جرات مندانہ جدوجہد کرنے والے عوام کے سامنے یہ حقیقت زیادہ واضح طور پر آشکار ہو گی کہ سرمایہ داری سے جان چھڑائے بغیر طبقاتی، صنفی و قومی نجات ممکن نہیں ہے۔ بالخصوص محنت کش طبقے کے نوجوانوں کی سیاسی طور پر متحرک اور نظریاتی حوالے سے زیادہ باشعور پرتیں ماضی و حال کے واقعات سے مستقبل کے لئے بہت اہم اسباق حاصل کریں گی۔ مروجہ پارٹیوں میں ٹوٹ پھوٹ اور نئے سیاسی رجحانات کے ابھار کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ حالات میں نہ صرف نیپال بلکہ دنیا بھر میں مرحلہ واریت اور اصلاح پسندی کی فرسودگی کو مسترد کرنے اور انقلابی سوشلزم کے پروگرام پر یقین رکھنے والے رجحانات کا فریضہ ہے کہ وہ بپھرے ہوئے عوام کی امنگوں کو عبوری پروگرام کے ذریعے سوشلسٹ انقلاب کے نصب العین کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ جنوب ایشیا اور دنیا بھر میں سامراجی سرمایہ داری کی نہ ختم ہونے والی ذلت اور بربادی سے نجات کا یہی ایک راستہ ہے۔

Rahul JP

راہول کا تعلق حیدر آباد سے ہے اور وہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین سندھ کے رہنما ہیں۔

Imran Kamyana

عمران کامیانہ گزشتہ کئی سالوں سے انقلابی سیاست اور صحافت سے وابستہ ہیں۔ سیاسی معاشیات اور تاریخ ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔