← Back to Newsroom OS تعلیم

نیپال: جنریشن زی کے انقلاب کا ردانقلابی انجام - روزنامہ جدوجہد

By جدّوجہد • 2026-05-03 • 3 min read

حارث قدیر

چین اور شمالی بھارت کے درمیان واقع جنوب ایشیائی ملک نیپال میں گزشتہ سال ستمبر میں ’جین زی‘ کی بغاوت کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد رواں سال مارچ میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔ اس بغاوت سے بڑے پیمانے پر پھلنے پھولنے والی جماعت راسٹریا سوتنترا پارٹی (آر ایس پی) نے اکثریت حاصل کرتے ہوئے حکومت قائم کر لی۔ جس میں سابق میئر کٹھمنڈو نے بطور وزیر اعظم چارج سنبھالتے ہوئے ابتدائی 100 دن کا روڈ میپ بھی گزشتہ ماہ 28 مارچ کو جاری کر دیا ہے۔ یہ 100 روزہ روڈ میپ اور حکومت کے ابتدائی اقدامات عالمی سطح پر تنقید کی زد میں ہیں۔ نیپال میں سماجی ابتری، معاشی اور سیاسی بحران کے باعث نئی حکومت کو جہاں بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے وہیں یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا نئی حکومت کے ایجنڈے میں مروجہ نظام میں کوئی ساختی تبدیلی بھی شامل ہے یا محض عوامی سطح پر مقبول (پاپولسٹ) نعروں کے گرد بحران زدہ سرمایہ دارانہ نظام کو مزید سخت گیر انداز میں نافذ کرنے کی ہی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

انتخابی نتائج

5 مارچ 2026ء کو ہونے والے عام انتخابات میں ایوانِ زیریں (ایوان نمائندگان) کی 275 میں سے 182 نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے آر ایس پی نے دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ 2008ء میں بادشاہت ختم ہونے کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ نیپال میں کسی پارٹی نے اتنی بڑی اکثریت حاصل کی ہے۔ اس سے قبل مخلوط حکومتیں بنتی رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 17 سالہ پارلیمانی تاریخ میں 14 حکومتیں تبدیل ہوئی ہیں۔ نتائج کے مطابق (بھارت نواز سمجھی جانے والی) نیپالی کانگریس 38 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی۔ نیپالی کمیونسٹ پارٹی 17 جبکہ (چین کے قریب سمجھی جانے والی) کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یو ایم ایل) 25 نشستیں حاصل کر پائی۔

آر ایس پی کا قیام اور مقبولیت

آر ایس پی کا قیام جولائی 2022ء میں معروف ٹی وی اینکر ربی لامیچھانے کی زیر قیادت عمل میں لایا گیا۔ لامیچھانے کو کرپشن، بدعنوانی اور حکومتی بدانتظامیوں کے خلاف ٹی وی پروگرامات کرنے کی وجہ سے شہرت ملی تھی۔ وہ اپنی جماعت قائم کرنے کے بعد دسمبر 2022ء میں بننے والی نئی مخلوط حکومت کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بھی مقرر ہوئے۔ تاہم انہیں امریکی شہریت کا حامل ہونے کی وجہ سے ایک ماہ کے اندر ہی نااہل قرار دے دیا گیا۔ بعد ازاں خود ان پر بھی مالی بدعنوانیوں کے الزامات عائد ہوئے اور انہیں چارج شیٹ کیا گیا۔ یوں کرپشن کے خلاف تحریک کے سر پر سوار ہو کر اقتدار میں آنے والی پارٹی کے سربراہ لامیچھانے پر 48 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بدعنوانی کے الزامات عائد ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف کوآپریٹو فراڈ کیس بھی زیر التوا ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں جین زی مظاہروں کے دوران معروف ریپ گلوکار اور سابق میئر کٹھمنڈو بالیندھر شاہ عرف بالن شاہ کے گانوں کیساتھ ساتھ لامیچھانے کا کرپشن مخالف ٹی وی ایکٹوازم بھی مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک میں شامل نوجوانوں اور شہری متوسط طبقے کی بڑی تعداد نے آر ایس پی کو ہی متبادل جماعت کے طور پر اپنا سیاسی مسکن بنانے کا فیصلہ کیا۔ دسمبر 2025ء میں لامیچھانے اور بالن شاہ نے اتحاد کا فیصلہ کیا۔ جس کے نتیجے میں لامیچھانے کو پارٹی سربراہ، جبکہ بالن شاہ کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنانے کا معاہدہ کیا گیا۔

اس طرح ’’نئے نیپال‘‘ کے وعدے کے ساتھ میدان میں اترنے والی یہ جماعت اکثریتی نئے چہروں کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

نئی حکومت کا سیاسی و نظریاتی خاکہ

جین زی تحریک بنیادی طور پر’ سٹیٹس کو‘ مخالف تحریک کے طور پر سامنے آئی۔ دوسرے لفظوں میں اس تحریک میں زیادہ تر شامل شہری مڈل کلاس کے نوجوانوں کو یہ تو معلوم ہے کہ مروجہ نظام ناکام ہو چکا ہے، تاہم وہ اس کا ذمہ دار مروجہ سیاسی جماعتوں کی کرپشن، بدعنوانی، اقرباپروری، بیڈ گورننس اور قانون پرعملدرآمد نہ ہونے کو سمجھتے ہیں۔ نئی ابھرنے والی سیاسی قیادتیں بھی اس نظام کے اندر موجود ساختی خرابیوں اور بحران کی سیاسی اور نظریاتی وضاحت کرنے اور متبادل پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آر ایس پی نے خود کو روایتی دائیں اور بائیں بازو کی سیاست سے الگ اور سنٹرسٹ، اصلاحاتی اور اینٹی کرپشن قوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ پارٹی نے بدعنوانی کے خاتمے، ٹیکنالوجی پر مبنی گورننس، بیوروکریسی میں اصلاحات، شہری خدمات میں بہتری، نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنانے جیسے وعدے کیے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں سرمایہ دارانہ نظام کے بحران، تاخیر زدگی اور نااہلی کو محض کرپشن کے خاتمے اور گڈ گورننس کے ذریعے بہتر یا ٹھیک کرنے جیسا حل پیش کیا ہے۔ تاہم اس بدعنوانی کے لیے بھی محض پرانی سیاسی قیادتوں کو ہی ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ کارپوریٹ سرمایہ داروں، فوج کی ٹھیکیداری اور دفاعی ساز و سامان کی خریداری میں کرپشن اور بدعنوانی کا ذکر شامل نہیں ہے۔ نہ ہی آئی ایم ایف کے حوالے سے کوئی موقف شامل ہے۔ جس کی شرائط پر معاشی پالیسیاں بنائی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہی بجٹ ترتیب دینے کا عمل کم از کم رواں سال کے آخر تک جاری رہے گا۔

100 دن کا حکومتی روڈ میپ

نئی حکومت نے 100 روزہ روڈ میپ میں گورننس کی اصلاحات، ڈیجیٹل ریاست، شفاف تقرریاں، بیوروکریسی کی اصلاح، کرپشن کے خلاف مہم، بڑے کیسوں کی تحقیقات، اثاثوں کی جانچ، معاشی اقدامات، روزگار پروگرام، سرمایہ کاری کے مواقع، انفراسٹرکچر منصوبے، صفائی، ٹریفک، پانی اور ہاؤسنگ وغیرہ کی بہتری کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

سب سے اہم اقدام کرپشن کے خلاف مہم کے سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا ہے۔ جس میں حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ سابق حکمرانوں کے اثاثوں کی چھان بین کرے گی اور ان کی مبینہ لوٹی ہوئی دولت واپس وصول کی جائے گی۔ یہ بالکل اسی طرز کا اقدام اور بیانیہ ہے جو پاکستان میں عمران خان کی تحریک انصاف کی طرف سے پیش کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم اب عمران خان خود کرپشن کے الزامات اور مقدمات کے تحت جیل میں ہے۔

اس روڈ میپ میں دوسرا اقدام ٹریڈ یونینوں اور طلبہ یونینوں پر پابندی عائد کرنے کا ہے۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ٹریڈ یونینز اور ان کی سیاسی جماعتوں یا نظریات سے وابستگی سرکاری کاموں میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں محنت کشوں کا اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا نیولبرل پالیسیوں کے نفاذ‘ یعنی کٹوتیوں، ڈاؤن سائزنگ اور رائٹ سائزنگ وغیرہ جیسے حکومتی اقدامات کے لیے مسائل پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے!

طلبہ یونین پر پابندی کی وجہ بھی طلبہ یونینز کی سیاسی جماعتوں اور نظریات سے وابستگی قرار دی جا رہی ہے۔ اس کے متبادل کے طو رپر طلبہ کونسلوں کا فارمولا پیش کیا گیا ہے۔ جو ’’غیر سیاسی‘‘ طرز کی حامل یا نئی حکمران جماعت کے زیر اثر ہوں گی۔ اس سے ماضی کی طلبہ احتجاج کی روایت کو کند کرنا اور نئی پارٹی کے ڈسپلن میں طلبہ سیاست کو مقید کرنا آسان ہو جائے گا۔ طلبہ کے درمیان نظریاتی بحثوں اور گراس روٹ سے نئی قیادتوں کے سامنے آنے کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ حتمی طور پر ایک آمرانہ طرز کی سیاست کو پروان چڑھایا جائے گا۔ جو ماضی کی سیاست سے نفرت اور تعصب کو بڑھاوا دے کر ماضی کے ہی نظام کی پالیسیوں کو زیادہ وحشت ناک طریقے سے نافذ کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔

گرفتاریاں، ریاستی جبر اور احتجاج

ابتدائی طور پر سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو جین زی بغاوت کے دوران ریاستی تشدد سے ہونے والی 76 ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دے کر گرفتار کیا گیا ہے۔ جس کے خلاف شدید رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات میں ابھی تک 460 سے زائد افراد کو نئی حکومت گرفتار کر چکی ہے۔ حکومت پر تنقید کرنے والے میڈیا کو خاموش کرنے جیسے اقدامات بھی شروع کیے گئے ہیں۔ 9 اپریل کو ایک معروف یوٹیوبر کو محض اس لیے گرفتار کیا گیا کہ اس نے وزیر اعظم بالن شاہ کے اقدامات پر تنقید کی تھی۔ اس گرفتاری کے خلاف بھی احتجاج ہوا ہے ۔ اہم بات یہ تھی کہ جین زی مظاہروں میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس احتجاج میں شریک ہوئی اور حکومت کو مجبور کیا کہ وہ یوٹیوبر کو رہا کرے۔

اپوزیشن کے خلاف وسیع پیمانے کے کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ٹریڈ یونین اور طلبہ یونین پر پابندیوں کے خلاف بھی جہاں عالمی سطح پر تنقید ہو رہی ہے وہیں طلبہ اور ٹریڈیونین قیادتوں نے بھی سخت احتجاج کی دھمکی دے رکھی ہے۔ یوں آنے والے دنوں میں دوبارہ بڑے پیمانے کے احتجاجوں کے امکانات موجود ہیں۔

معاشی و سماجی بحران

تقریباً تین کروڑ آبادی کے اس ملک کی معیشت کا زیادہ تر دارومدار تارکین وطن کی بھیجی گئی ترسیلات زر، سیاحت اور زراعت پر ہے۔ تقریباً 49 ارب ڈالر کی مجموعی قومی آمدن کے حامل اس ملک کی اوسط فی کس سالانہ آمدنی 1650 ڈالر ہے۔ معیشت کی ساخت میں خدمات کا شعبہ سب سے زیادہ 55 فیصد ہے۔ زراعت 22 فیصد اور صنعت صرف 11 فیصد ہے۔ جبکہ ترسیلات زر کل داخلی معیشت کا 25 فیصد ہیں۔ مطلب معیشت‘ ایکسپورٹ کی گئی قوت محنت پر خاصی منحصر ہے۔ 2022ء سے نیپال آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہے۔ جس کی وجہ سے بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کو مدنظر رکھ کر ہی بنایا جاتا ہے۔

نئی حکومت نے آئی ایم ایف کی مسلط کردہ نیولبرل سرمایہ دارانہ پالیسیوں کو چیلنج کرنے کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔ بلکہ یہ سلسلہ اسی طرز پر جاری رکھا جا رہا ہے۔ منی لانڈرنگ جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے بھی کوئی واضح پالیسی نہیں بنائی گئی۔ جس میں کوآپریٹو بینکنگ، کارپوریٹ سیکٹر اور حکومت و بیوروکریسی کی شخصیات ملوث ہیں۔ منی لانڈرنگ کی وجہ سے ہی نیپال ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود ہے۔ اسی طرح انجینئرنگ، لاجسٹکس اور اسلحہ کی خرید و سپلائی میں فوج کی کرپشن کو بھی زیر بحث لانے سے اجتناب برتا گیا ہے۔

بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں، پنشن اور قرضوں کی ادائیگی جیسے جاری اخراجات میں خرچ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے انسانی ترقی کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ دیہی علاقوں میں سہولیات اور انفراسٹرکچر کی شدید کمی ہے۔ صحت و تعلیم کے معیارات بہت غیر مساوی ہیں۔ نوجوانوں میں بیروزگاری کی سطح بلند ہے۔ سرکاری اعداد و شمار میں غربت میں کمی کا دعویٰ تو کیا جاتا رہا ہے لیکن شہروں اور دیہاتوں میں شدید تفاوت موجود ہے۔ اسی طرح امارت و غربت اور تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ کی ایک گہری تقسیم موجود ہے۔

روزگار کا بڑا ذریعہ بیرون ملک ملازمت ہے۔ بڑی تعداد میں نیپالی محنت کش مشرق وسطیٰ میں انتہائی تلخ حالات میں اپنی مزدوری بیچنے پر مجبور ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں حالیہ جنگی صورتحال کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ان نوکریوں کے خاتمے کا خدشہ بھی منڈلا رہا ہے۔ جبکہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بیرون ملک جانے کے لیے لائن میں کھڑی ہے۔

انفراسٹرکچر کا شدید بحران موجود ہے۔ سڑکیں اور ٹرانسپورٹ کمزور ہے۔ پانی اور نکاسی آب کے مسائل، بجلی کی غیر یقینی فراہمی، بڑے منصوبوں میں غیر معمولی تاخیر، جغرافیائی مشکلات، بیوروکریسی کی رکاوٹیں، فنڈز کی کمی اور دیگر بے شمار ایسے مسائل ہیں جو موجودہ نظام کے اندر حل کرنے ممکن نہیں ہیں۔ بنیادی طور پر یہ مسائل پسماندہ سرمایہ داری کی ناہموار ترقی کے ہی پیدا کردہ ہیں اور سرمایہ دارانہ نیو لبرل پالیسیوں، انتظامی بہتری اور قانون پر عملدرآمد کی باتوں کے ذریعے حل ہونے والے نہیں ہیں۔

بالن شاہ کی سیاست

بالن شاہ نے بطور میئر جو اقدامات کیے وہ بھی تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد بھی بالن شاہ کا چلن اسی طرز کا نظر آتا ہے۔ شہری مڈل کلاس‘ بالخصوص نوجوانوں میں مقبولیت بھی وقتی اور سطحی نعروں، کرپشن اور اقربا پروری کے خلاف نام نہاد کریک ڈاؤن اور تجاوزات ختم کر کے شہری انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے دعوؤں کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔

بطور میئر بھی ریاستی طاقت کے بے دریغ اور مرکزیت پسندانہ استعمال اور غریب بستیوں پر بڑے پیمانے پر بلڈوزر چلانے کی وجہ سے وہ تنقید کی زد میں رہا ہے۔ اب بطور وزیر اعظم بھی وہ اسی قسم کے اقدامات کو قانون پر عملداری کا نام دے کر حکومت چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کرپشن کے خلاف مہم کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک میں ایسی مہمات زیادہ تر سیاسی انتقام، آمرانہ طرز حکومت اور مزید کرپشن کی راہ ہموار کرنے کے لیے شروع کی جاتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد ہی لوٹ مار اور استحصال ہے۔ کرپشن اور اقربا پروری اس نظام کی روح اور اساس میں شامل ہے۔ ایسے میں سرمایہ دارانہ حکومتوں اور ریاستوں کا احتساب ایک سیاسی ہتھیار کی حیثیت ہی رکھتا ہے۔ جس میں زیادہ سے زیادہ‘ کرپشن کو ’’کنٹرول‘‘ کرنے کی ہی کوشش کی جاتی ہے۔ نیپال کی نئی حکومت بھی یہی کر رہی ہے۔

نظام کی تبدیلی

ایک نئی قیادت تو سامنے آئی ہے لیکن نیپال میں نظام کی تبدیلی کا خواب ابھی تشنہ تکمیل ہے۔ کرپشن مخالف بیانیہ بنانے والی اس قیادت نے درحقیقت طبقاتی تضادات کو اوجھل کرنے کی کوشش کی ہے۔ کمیونسٹ پارٹیاں (یا کم از کم ان کے بیشتر حصے) بھی گزشتہ 17 سالوں کے دوران اس نظام کو تبدیل کرنے کا ایجنڈا پیش کرنے کی بجائے اسی کے اندر اصلاحات اور اپنے مفادات کی تکمیل کی کوششوں کے نتیجے میں مصلحت پسندی کا شکار ہو کر نشان عبرت بن چکی ہیں۔ تاہم نئی آنے والی قیادت بھی طبقاتی تضادات، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، نیولبرل اور مزدور دشمن پالیسیوں کے خاتمے کی بجائے اسی نظام کو زیادہ بے رحمی سے جاری رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

حتمی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرنے، سامراجی قرضے ضبط کرنے اور پیداواری وسائل کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں لیتے ہوئے معاشی منصوبہ بندی اور معیشت کی سوشلسٹ بنیادوں پر استواری کے بغیر کوئی ایک بھی بنیادی مسئلہ حل کرنا ممکن نہیں ہے۔

نیپال کے محنت کشوں اور نوجوانوں نے 1991ء سے 2025ء تک تین بڑی عوامی بغاوتیں کی ہیں۔ لیکن ہر بار محض طرز حکومت ہی تبدیل ہوا ہے۔ بادشاہت سے سیاسی جماعتوں کی آزادی ہو یا بادشاہت کا مکمل خاتمہ کر کے نام نہاد جمہوری حکومتوں کا قیام‘ ہر بار عوامی امنگوں کو بری طرح سے مجروح کیا گیا ہے۔ نظریاتی اور سیاسی دیوالیہ پن کا شکار ’کمیونسٹ‘ قیادتوں کی مرحلہ واریت اور مروجہ نظام کے ساتھ مصالحت نے نیپالی نوجوانوں کی بڑی تعداد کو سیاست سے متنفر بھی کیا ہے۔

تاہم نئی حکومت کے مزاج بھی ایک نئی عوامی بغاوت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ جلد یا بدیر نیپالی محنت کش، طلبہ اور بیروزگار و بدحال نوجوان ایک بار پھر سڑکوں کا رخ کریں گے۔ کوئی ترقی پسندانہ کردار ادا کرنے سے عاری‘ تاخیر اور بحران سے دوچار سرمایہ داری کے انقلابی خاتمے کے ذریعے ہی حقیقی معنوں میں ایک نئے نیپالی سماج کی تعمیر کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔