← Back to Newsroom OS سیاست

نیپال کے انتخابات: نوجوانوں کی بغاوت کے بعد آج پہلی بار پارلیمانی ووٹنگ ہو گی

By جدوجہد • 2026-03-05 • 8 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)نیپال میں لاکھوں شہری آج اس پہلے پارلیمانی انتخاب میں ووٹ ڈال رہے ہیں جو گزشتہ سال ایک نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی پرتشدد بغاوت کے بعد منعقد ہو رہا ہے۔ یہ بغاوت سابق وزیراعظم خدگا پرساد شرما اولی کی حکومت کے خاتمے کا سبب بنی اوراس نے نئی نسل کے اصلاحات کے مطالبات کو سیاسی مرکزیت دلائی۔

’اے پی‘ کے مطابق الیکشن سے قبل سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ معمول کے فورسز کے ساتھ ہزاروں عارضی پولیس اہلکار تعینات ہیں، جبکہ فوج بھی سڑکوں اور پولنگ اسٹیشنوں کی نگرانی کر رہی ہے۔ حکومت نے شہریوں کو ووٹ ڈالنے میں سہولت دینے کے لیے تین روزہ عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور اسکولوں سمیت سرکاری عمارتوں کو پولنگ مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پچھلے عام انتخابات (2022) کے بعد سے ووٹر لسٹ میں 10 لاکھ سے زائد نئے ووٹرز شامل ہوئے ہیں، جن میں بڑی تعداد اُن نوجوانوں کی ہے جو گزشتہ سال حکومت مخالف احتجاج میں سڑکوں پر تھے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر اور تجزیہ کار بھوج راج پوخاریل کے مطابق تمام جماعتیں پہلی بار نوجوانوں پر غیر معمولی توجہ دے رہی ہیں۔

انتخابات میں ووٹر دو الگ الگ بیلٹ ڈالیں گے۔ ایک بیلٹ165اراکین کے انتخاب کے لیے ہو گا، جو سنگل ممبر حلقوں سے فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ نظام کے تحت منتخب کیے جائیں گے۔ دوسرا بیلٹ باقی110ممبران کے انتخاب کے لیے ہوگا، جو پورے ملک کو ایک واحد قومی حلقہ تصور کرتے ہوئے پروپورشنل ریپریزنٹیشن کے نظام کے تحت منتخب کیے جائیں گے۔ انتخابات میں کل 1کروڑ89لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ 68سیاسی جماعتوں کے3ہزار400سے زائد امیدوار اس انتخابی مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں۔

انتخابات میں اصل مقابلہ تین جماعتوں کے درمیان ہے۔ نیشنل انڈیپنڈنٹ پارٹی نئی ابھرتی ہوئی قوت ہے، جبکہ دیگر دو مرکزی جماعتوں میں نیپالی کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یو ایم ایل) شامل ہیں۔

نیشنل انڈیپنڈنٹ پارٹی کے وزیراعظم کے امیدوار بالندرا شاہ ہیں، جو 2022 میں کٹھمنڈو کے میئر بن کر ملکی سیاست میں ہلچل مچا چکے ہیں۔ نوجوان ووٹرز میں ان کی مقبولیت سب سے زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔

ملکی سیاست مسلسل عدم استحکام کا شکار رہی ہے۔ معزول بادشاہ کے حامی دعویٰ کرتے ہیں کہ آئینی بادشاہت کی بحالی کے لیے عوامی حمایت بڑھ رہی ہے، اگرچہ فوری واپسی کا امکان کم ہے۔

آنے والی حکومت کو کرپشن کے خاتمے، گورننس بہتر بنانے اور بھارت و چین جیسے طاقتور ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنے جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہوں گے۔