← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

وسکانسن: سوشلسٹ امیدوار فرانسیسکا ہونگ کا گورنر کے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان

By جدوجہد • 2026-01-22 • 7 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)امریکہ کی ریاست وسکانسن میں بڑھتی مہنگائی، پبلک اداروں کی کمزوری اور دائیں بازو کی سیاست کی شدت نے سیاسی فضا کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ اسی ماحول میں ڈیموکریٹک سوشلسٹس نے مختلف شہروں میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جن کا موقف ہے کہ کرائے میں ریلیف، صحت عامہ اور عوامی سرمایہ کاری جیسے ٹھوس مطالبات ووٹروں کو سیاسی بے بسی سے نکالتے ہیں۔

اسی پس منظر میں وسکانسن اسٹیٹ اسمبلی کی رکن اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدوار فرانسیسکا ہونگ نے گورنر کے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ وہ ایک سروس انڈسٹری ورکر اور سنگل مادر ہونے کے ساتھ ساتھ ریاست میں بڑھتی عدم مساوات کے خلاف آواز بلند کرتی رہی ہیں۔

’جیکوبن‘ کے مطابق ہونگ کا کہنا ہے کہ موجودہ ”کرپشن اور افراتفری“ کے ماحول نے تبدیلی کا موقع پیدا کیا ہے، اور عوام ایسی قیادت چاہتے ہیں جو مستقل افورڈایبلٹی، بہتر عوامی خدمات اور محنت کشوں کو منظم کرنے پر توجہ دے۔

ہونگ ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا (ڈی ایس اے) کی رکن ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کی مہم ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر موجود نظریاتی مباحث کو نئی سمت دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق ”الیکٹیبلٹی“ ایک موضوعی تصور ہے اور اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ کون سا پیغام اور کون سا پیغام رساں محنت کش طبقے کے ساتھ مضبوط رشتہ قائم کر سکتا ہے۔

گورنر کی کرسی پر محدود اختیارات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں ہر وہ آئینی طاقت استعمال کرنی ہوگی جو عوام کے مفاد میں ہو، چاہے اس کے لیے ایمرجنسی اختیارات ہی کیوں نہ بروئے کار لانے پڑیں۔ ان کے مطابق سوشلسٹ قیادت کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب وہ حقیقی پالیسی نتائج فراہم کرے۔

ہونگ نے اپنی مہم کو وسکانسن کی ”سیور سوشلزم“ کی تاریخ سے جوڑا، جس نے بیسویں صدی میں تقریباً پچاس سال تک میلواکی میں عوامی خدمات، صاف پانی، تعلیم اور سماجی تحفظ کے نمایاں ماڈل قائم کیے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”یہ وقت ہے کہ ہم اپنی ترقی پسند اور سوشلسٹ جڑوں کو دوبارہ زندہ کریں اور ثابت کریں کہ حکومت عام لوگوں کے لیے واقعی کارآمد ہو سکتی ہے۔“