← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

وینزویلا پر امریکی یلغار: کچھ بنیادی نکات

By جدوجہد • 2026-02-03 • 24 min read

ماریا سوشلسٹا

تلخیص و ترجمہ: عمران کامیانہ

(پہلی بار انٹرنیشنل سوشلسٹ لیگ کی ویب سائٹ پر 8 جنوری کو شائع ہوا۔)

اگرچہ نکولس مادورو کو اغوا کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے فوجی مداخلت کی گئی ہے (جس میں اب تک 100 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے) لیکن سامراج نے (تاحال) ملک میں اپنے فوجی دستے تعینات کرنے سے گریز کیا ہے۔ اگرچہ طاقتور بحری و فضائی محاصرہ بدستور جاری ہے۔ جو کچھ وقوع پذیر ہوا وہ سامراج کی جانب سے کیا گیا ایک بیرونی فوجی کُو تھا۔ جس میں بلا شبہ اندرونی سازباز شامل تھی یا جو پردے کے پیچھے ہونے والے مذاکرات اور سمجھوتوں سے ہی ممکن ہوا۔ یہی عوامل وضاحت کرتے ہیں کہ امریکی حملے کو روکنے کے لیے طیارہ شکن دفاع اور دیگر ذرائع یا تو ناکام کیوں رہے یا فعال ہی کیوں نہ کیے گئے۔ تاہم وینزویلا کی مسلح افواج (FANB) نے تاحال اس حوالے سے کوئی وضاحت پیش نہیں کی اور اس وقت صرف ٹرمپ کا بیانیہ ہی سامنے ہے۔ بہرحال غداری یا کسی خفیہ سودے بازی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

مادورو کے اغوا اور انہیں ملک سے باہر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر اہداف پر بھی حملے کیے گئے۔ جن میں فوجی تنصیبات، سرکاری دفاتر‘ حتیٰ کہ وینزویلا کا ایک سائنسی تحقیقی ادارہ بھی شامل تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ کم از کم دو عام شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ تاہم ہلاکتوں کی بڑی تعداد مادورو کے فوجی حفاظتی دستے کے ارکان کے قتل پر مشتمل تھی۔ جن میں کیوبا کے اہلکار بھی شامل تھے۔

وینزویلا پر جارحیت کے بعد وزیر دفاع لوپیز کی جانب سے ایک پیغام سامنے آیا جس میں واقعات کی رپورٹ دی گئی اور وینزویلا کی مسلح افواج پر اعتماد رکھنے کی اپیل کی گئی۔ حالانکہ یہ افواج اپنے فرائض کی انجام دہی میں موثر ثابت نہیں ہوئیں۔ بنیادی طور پر لوپیز نے امن و سکون اور تحمل کی تلقین کی۔ بعد ازاں وزیر داخلہ دیوسدادو کا پیغام بھی اسی نوعیت کا تھا۔ وینزویلا کی مسلح افواج کی جانب سے کسی موثر دفاعی یا طیارہ شکن جوابی کارروائی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ سوائے ایک دشمن ہیلی کاپٹر کو نقصان پہنچانے کے۔

ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان کیے جانے کے بعد کہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو ’’گرفتار‘‘ کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے، نائب صدر ڈیلسے رودریگز ایک آڈیو پیغام میں نمودار ہوئیں۔ جس میں انہوں نے مادورو کے اغوا کی مذمت کی، صدارتی جوڑے کے ٹھکانے سے متعلق معلومات کا مطالبہ کیا اور دونوں کے زندہ ہونے کا ثبوت طلب کیا۔ بعد ازاں ان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ حکومت نے اعلان کیا کہ طاقت کے خلا سے بچنے کے لیے نائب صدر کو قائم مقام یا عبوری صدر مقرر کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

سامراجی کشیدگی اور 3 جنوری کی مداخلت کے تناظر میں ماریا (Marea) اور ایل آئی ایس کے ابتدائی بیانات

ماریا سوشلسٹا، جو مادورو کی آمرانہ حکومت کی مخالف لیکن سامراج دشمن، سرمایہ داری مخالف اور محنت کش طبقے و وینزویلا کے عوام کے جمہوری و سماجی حقوق کا دفاع کرنے والی ایک بائیں بازو کی تنظیم ہے، کی جانب سے ہم ابتدا ہی سے ٹرمپ کی سامراجی بمباریوں اور جارحانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے آ رہے ہیں۔ ہم صدر نکولس مادورو اور سیلیا فلورس کے اغوا کو بھی مسترد کرتے ہیں اور ملک کے اندرونی سیاسی مقدر کے تعین میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو رد کرتے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وینزویلا کو ہراساں کرنے اور نشانہ بنانے والی بحری و فضائی افواج اور فوجی دستوں کو فوری طور پر واپس بلایا جائے۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ لاطینی امریکہ اور دنیا بھر کی حکومتیں اور تنظیمیں امریکی حکومت کی قزاقانہ اور مداخلت پسندانہ کارروائیوں کے خلاف سخت مذمت اور احتجاج پر مبنی مؤقف اختیار کریں۔

دوسری جانب ہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ وینزویلا کے بیوروکریٹک آمرانہ نظام، جس کی قیادت 3 جنوری 2026ء تک مادورو کے پاس تھی، کے ساتھ گہرے اوربنیادی اختلافات کے باوجود ہم ملک کی خودمختاری کے دفاع، جمہوری حقوق کے مطالبے، جبر کے خلاف مؤقف اور محنت کش طبقے و مصیبت زدہ عوام کے سماجی مطالبات کے حق میں کھڑے ہیں۔ ہم امریکی سامراج کے خلاف اور وینزویلا کے عوام کے دفاع میں قومی و بین الاقوامی سطح پر وسیع ترین متحدہ عملی جدوجہد اور تحریک کی اپیل کرتے ہیں۔ (3 جنوری 2026ء)

اس پوزیشن کا ایک حصہ پہلے ہی اس قرارداد میں شامل تھا جسے ہم نے ایل آئی ایس کی تیسری کانگریس (6 تا 12 دسمبر 2025ء) میں منظور کیا تھا۔

موجودہ عالمی تناظر میں وینزویلا کے خلاف سامراجی جارحیت کا مطلب اور مطلوبہ ردِعمل

ماریا سوشلسٹا نے امریکی سامراج کی ان نہایت سنگین جارحانہ کارروائیوں کی بھرپور اور دوٹوک مذمت جاری رکھی ہے۔ امریکہ کو کسی دوسرے ملک کے صدر کو بزورِ طاقت اغوا کرنے یا قید کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

ہم نے خبردار کیا تھا کہ ٹرمپ کی یہ جارحانہ یلغار صرف وینزویلا تک محدود نہیں بلکہ تمام لاطینی امریکی اور کیریبین ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔ یہ ان تمام حکومتوں کے خلاف ممکنہ مداخلت پسندانہ اقدامات کی راہ ہموار کرتی ہے جو سامراج کے احکامات کے سامنے سر جھکانے سے انکار کریں۔ جیسا کہ کولمبیا، کیوبا اور میکسیکو کو دی جانے والی دھمکیوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔

ٹرمپ پاناما کو بھی دھمکا رہا ہے کہ اگر اس نے پاناما کینال کے انتظام میں اسے مکمل طور پر مطمئن نہ کیا یا تجارتی جنگ کے تناظر میں چین کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ اس نے گرین لینڈ کو ضم کرنے کی اپنی خواہش کا اعادہ کیا ہے۔ حتیٰ کہ سادہ سکیورٹی خدشات یا امریکی مفادات کے لیے وسائل کے حصول کے نام پر ہمسایہ ملک کینیڈا کو بھی ہڑپ کرنے کی بات کی ہے۔ وہ غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نیتن یاہو حکومت کی جانب سے جاری نسل کشی کی معاونت بھی کر رہا ہے اور اس خطے کو اپنے کاروباری مفادات کے لیے قبضے میں لینے کے عزائم رکھتا ہے۔

امریکی صدر یہ سمجھتا ہے کہ اسے دنیا کے کسی بھی حصے میں مداخلت کرنے، وسائل پر تصرف حاصل کرنے یا یہ طے کرنے کا حق حاصل ہے کہ کون حکومت کرے اور کون نہ کرے۔ اسی مقصد کے لیے اس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین، معاہدوں یا کثیر جہتی اداروں کی کوئی پروا نہیں کرے گا۔

چنانچہ یہ بالکل واضح ہے کہ ہم امریکی سامراج کی ایک عالمی جارحانہ یلغار کا سامنا کر رہے ہیں۔ جو خود کو دوبارہ غالب عالمی طاقت اور جغرافیائی سیاسی بالادست قوت کے طور پر قائم یا بحال کرنے کی اس کی کوشش کا حصہ ہے۔ ابھرتی ہوئی دیگر سامراجی طاقتوں کے ساتھ مقابلے میں امریکہ کرہ ارض پر خصوصی علاقائی حلقہ ہائے اثر (Spheres of Influence) متعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ روس اور چین کے ساتھ طاقت کی تقسیم میں بھی اپنا حصہ بڑھانا چاہتا ہے۔ لیکن کھیل کے تمام ضابطے توڑ کر وہ دیگر طاقتوں کو بھی یہی موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ اپنی ہوس کو انہی طریقوں سے پورا کریں۔ بے لگام من مانی اور عسکری طاقت کے استعمال کے ذریعے اور کسی قسم کے ابہام کے بغیر!

لہٰذا ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی عالمی مداخلت پسندی کو دنیا بھر کے عوام اور ان کی تحریکوں کی جانب سے فوری، بھرپور اور فیصلہ کن طور پر مسترد کرنا اور اس کا مقابلہ کرنا نہایت اہم ہے۔ یہ جدوجہد بین الاقوامی سطح پر تمام ممکنہ قوت اور صلاحیت کے ساتھ کی جانی چاہیے۔ جس کا آغاز متحد اور مربوط مہمات اور اقدامات سے ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر حکومتوں اور تنظیموں کو بھی اس جارحیت کی مذمت پر مجبور کیا جائے اور اس کی روک تھام کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات اختیار کرنے کا دباؤ ڈالا جائے۔
ٹرمپ کی جارحیت کو روکنے کے لیے مجوزہ بین الاقوامی اقدامات

اس تناظر میں ہم درج ذیل بین الاقوامی اقدامات کو ناگزیر سمجھتے ہیں: