← Back to Newsroom OS سیاست

ٹرمپ انتظامیہ نے تارکین وطن پر دباؤ بڑھانے کے لیے بدنام پرائیویٹ ڈیٹ کلیکٹرز کی خدمات لے لیں - روزنامہ جدوجہد

By جدّوجہد • 2026-05-09 • 3 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)ٹرمپ انتظامیہ نے ملک نہ چھوڑنے والے تارکین وطن پر عائد نئے بھاری بھرکم دیوانی جرمانوں کی وصولی کے لیے ان پرائیویٹ ڈیٹ کلیکشن کمپنیوں کو دوبارہ بھرتی کر لیا ہے جو ماضی میں وفاقی اسٹوڈنٹ لون پروگرام میں بدسلوکی، غیر قانونی ہتھکنڈوں اور صارفین کو ہراساں کرنے کے باعث بدنام رہ چکی ہیں۔

’جیکوبن‘ کے مطابق حکومتی دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ پرائیویٹ ڈیٹ کلیکٹرز اب لاکھوں ڈالر کے جرمانوں کے نوٹس تارکین وطن کو بھیج رہے ہیں، ایسے جرمانے جو محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے گزشتہ سال سے بڑی تعداد میں عائد کرنا شروع کیے۔ ایک نوٹس میں ایک تارک وطن پر 18 لاکھ ڈالر کا جرمانہ اور مزید فیسوں و سود کی مد میں پانچ لاکھ ڈالر شامل کر کے مجموعی رقم 23 لاکھ ڈالر تک پہنچا دی گئی، جو موجودہ امیگریشن قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ حد ہے۔

امیگریشن وکلاء نے بتایا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ایسے نوٹسوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں تارکین وطن سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ملک چھوڑیں یا کروڑوں روپے کے جرمانے ادا کریں۔ یہ نیا مالی دباؤ جنوری میں جاری کی گئی ایک صدارتی ایگزیکٹو آرڈر کا حصہ ہے، جس کے ذریعے تارکین وطن کو ’’خود ملک چھوڑنے‘‘ پر مجبور کرنے کی پالیسی کو مزید سخت کیا گیا۔ اس پالیسی کے تحت حکومت نے انہی متنازع پرائیویٹ ٹھیکے داروں سے مدد لی ہے جن کی بدنامی پہلے سے قائم ہے، بالکل اسی طرح جیسے وہ قید و نظر بندی کے مراکز کی نگرانی متنازعہ نجی جیل کمپنیوں جیو گروپ اورکور سیوک کو سونپ چکی ہے۔

پبلک جسٹس کے وکیل چارلس مور کے مطابق’’یہ انتظامیہ کی اس خواہش کا حصہ ہے کہ نجی شعبے کے ساتھ مل کر امیگریشن نافذ العمل کو زیادہ سے زیادہ سخت، تکلیف دہ اور سزا نما بنایا جائے۔‘‘ گزشتہ سال تک انتظامیہ نے اندازاً 6 ارب ڈالر کے جرمانے 20 ہزار سے زائد تارکین وطن پر مختلف الزامات کے تحت عائد کیے۔ ان میں سے زیادہ تر جرمانے اُن افراد پر لگائے گئے جنہوں نے ’’ڈیپورٹیشن ریموول آرڈر‘‘ کے باوجود ملک نہیں چھوڑا۔ اب ایک تارک وطن پر ان احکامات کی خلاف ورزی پر تقریباً 1000 ڈالر یومیہ تک جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے، جو زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک وصول کیا جا سکتا ہے۔

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی اس بھاری قرض کی وصولی اب ان پرائیویٹ کمپنیوں کے سپرد کر رہا ہے جن پر ماضی میں صارفین کو ہراساں کرنے، ناجائز فیسیں وصول کرنے اور جارحانہ طریقوں کے استعمال کے لاتعداد مقدمات دائر ہو چکے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق کم از کم چار ڈیٹ کلیکشن کمپنیاں گزشتہ سال حکومت کے ساتھ معاہدے کر چکی ہیں، جن میں ملک کی سب سے بڑی ایجنسیوں میں سے ایک کنٹیننٹل سروسز بھی شامل ہے، جو ہوم لینڈ سکیورٹی کے ساتھ تین معاہدے کر چکی ہے جن کی کل مالیت 10 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ پانچویں کمپنی کو محکمہ خزانہ کی جانب سے ٹھیکہ ملا ہے، جو ان جرمانوں کی ادائیگی جمع کرنے والے سرکاری اکاؤنٹ کو سنبھالتا ہے۔

یہ تمام کمپنیاں وہی ہیں جنہیں جو بائیڈن انتظامیہ نے اسٹوڈنٹ لون ڈیٹ کلیکشن پروگرام کی بندش کے بعد نکال دیا تھا، لیکن اب انہیں نئے اختیارات کے ساتھ دوبارہ حساس ذمہ داری دی جا رہی ہے۔ پروٹیکٹ بوروورز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیک پیئرس کے مطابق’’اگر آپ اسٹیفن ملر ہیں، تو آپ چاہتے ہیں کہ امریکہ کے سب سے جارح مزاج اور بدنام ڈیٹ کلیکٹر تارکین وطن کو ہراساں کریں، کیونکہ مقصد انہیں اتنا مجبور کرنا ہے کہ وہ ملک چھوڑنے پر آمادہ ہو جائیں۔‘‘

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور متعلقہ کمپنیوں نے اس رپورٹ پر کوئی جواب نہیں دیا۔ مارچ 2025 میں انتظامیہ نے ایک نسبتاً غیر معروف قانون ، جو 1996 میں صدر بل کلنٹن نے منظور کیا تھا ، کا استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر جرمانے لگانا شروع کیے۔ یہ قانون ان تارکین وطن پر بھاری جرمانے کی اجازت دیتا ہے جو ملک چھوڑنے میں دانستہ ناکام رہتے ہیں، لیکن دو دہائیوں تک کبھی لاگو نہیں ہوا تھا۔

لیک ہونے والی ای میلز کے مطابق سابق وائٹ ہاؤس مشیر اسٹیفن ملر نے 2018 میں اس قانون کو بارڈر وال کی مالی معاونت کے ایک متبادل راستے کے طور پر تجویز کیا تھا، جس میں جرمانوں سے حاصل ہونے والی رقم کو ہوم لینڈ سکیورٹی کے زیر انتظام ’’امیگریشن انفورسمنٹ اکاؤنٹ‘‘ میں رکھا جانا تھا۔

اب ان جرمانوں کی تعداد اور شدت دونوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اگست 2025 تک 20 ہزار سے زائد افراد نئے جرمانوں کی زد میں آ چکے تھے۔ نئے قوانین کے تحت غیر قانونی سرحد پار کرنے پر 5ہزار ڈالر کا اضافی جرمانہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے انتظامی سماعتوں کا دائرہ بھی محدود کر دیا ہے۔ وہ سماعتیں جن میں تارکین وطن پہلے اپنے جرمانوں کے خلاف اپیل کر سکتے تھے۔ اب انہیں صرف تحریری نوٹس تک محدود کر دیا گیا ہے۔نوٹس کی مدت بھی کم کر دی گئی ہے، جس کے بعد حکومت فوراً جرمانہ لاگو کر سکتی ہے۔