ٹرمپ کا صحت پروگرام امریکہ کو مزید بیمار بنانے جا رہا ہے
برانکو مارسیٹک
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور ان کے اتحادی جو نسخہ امریکہ کو تباہ کرنے اور اسے دولت مندوں اور طاقتوروں کے حوالے کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، وہ اب واضح ہو چکا ہے۔ زبان سے وہ ’’ووک کلچر‘‘ اور ’’سینسر شپ‘‘ پر حملہ کریں گے، جبکہ عمل میں وہی چیزیں تیز ترین رفتار سے نافذ کریں گے۔ ایک ہاتھ سے وہ ایلیٹ طبقے پر مکے برسائیں گے اور دوسرے ہاتھ سے ان کی جیبوں میں نقدی اور مراعات بھریں گے۔ وہ اس وقت بلند آواز سے مزدور طبقے کی حمایت کا دعویٰ کریں گے ،اگر اس میں ان گروہوں پر حملہ شامل ہو جن سے وہ نفرت کرتے ہیں، لیکن بند دروازوں کے پیچھے مزدوروں کے حقوق چھینیں گے اور انہیں مزید غریب بنائیں گے۔
ہر بار حربہ وہی ہوتا ہے۔ اپنی حمایت یافتہ عوام اور مجموعی طور پر امریکی عوام کو یہ دکھا کر بہکانا کہ وہ کسی بڑے خطرے سے لڑ رہے ہیں، اور اسی دوران پس پردہ وہی کام کرنا جس کے خلاف لڑنے کا ڈھونگ رچایا گیا ہے۔
یہی پالیسی ایک بار پھر ’’میک امریکہ ہیلدی اگین‘‘ (ماہا) پروگرام میں دہرائی جا رہی ہے، جسے ٹرمپ کے ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز (ایچ ایچ ایس) سیکرٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے ترتیب دیا ہے۔ ابھی تک ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں نے اپنی تمام تر توجہ ان عجیب و غریب اور غیر حقیقی مسائل پر مرکوز کی ہے جن پر آر ایف کے جونیئر برسوں سے چیختے رہے ہیں۔
آر ایف کے جونیئر ایک طویل عرصے سے ویکسین مخالف ’’شک پرست‘‘ رہے ہیں۔ اب وہ اپنی حکومتی حیثیت استعمال کرتے ہوئے ویکسین پر حملہ کر رہے ہیں، چاہے وہ کووڈ 19 کی ویکسین ہو یا دیگر بیماریوں کے خلاف استعمال ہونے والی ویکسین ہوں۔ ان اقدامات سے ٹرمپ کے ریاستی اتحادیوں کو شہ ملی ہے کہ وہ جان بچانے والی ویکسین کی شرائط مزید ختم کرنے کی کوشش کریں۔
اسی طرح وہ پینے کے پانی میں فلورائیڈ کو بھی ہدف بنا رہے ہیں اور وفاقی حکومت کی جانب سے اس کی سفارش ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ مختلف ریاستوں میں میک امریکہ گریٹ اگین(ماگا) قانون ساز اس پر پابندی کے لیے سرگرم ہیں۔ اب ان کی توجہ ’’کیم ٹریل‘‘ نامی تھیوری کی طرف بھی جا رہی ہے، جو انٹرنیٹ کے ابتدائی دنوں کی ایک مشہور سازشی کہانی تھی اور جس کے اتنے مضحکہ خیز ہونے کے باعث ٹرمپ کی اپنی ماحولیاتی ایجنسی (ای پی اے) کو وضاحت کرنا پڑی کہ یہ حقیقت نہیں ہے۔
یہ تمام تر حماقت کے باوجود ایک ایسے احساس پر مبنی ہے جو بذات خود معقول ہے۔ عوام کو شک ہے کہ ان کے کھانے پینے اور سانس لینے میں غیر ملکی اور زہریلے مادے شامل کیے جا رہے ہیں، اور وہ اس پر قابو پانے کی خواہش رکھتے ہیں۔
تاہم یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کا اصل ایجنڈا بالکل مضحکہ خیز ہے، کیونکہ ٹرمپ اور ان کے حواری گزشتہ 7 ماہ سے خوراک، پانی اور ہوا میں حقیقی اور انتہائی خطرناک آلودہ مادے شامل کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، جن میں سے کئی کینسر پیدا کرنے والے ہیں۔
مثال کے طور پر ٹرمپ کی ماحولیاتی ایجنسی (ای پی اے) نے یہ فیصلہ کیا کہ امریکیوں کے پینے کے پانی میں شامل ’’پی ایف اے ایس‘‘ یعنی ’’ہمیشہ رہنے والے کیمیکلز‘‘ پر پابندی موخر کی جائے۔ یہ وہ کیمیکلز ہیں جو انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد ٹوٹتے نہیں بلکہ جمع ہوتے رہتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ کینسر سمیت کئی مہلک امراض پیدا کرتے ہیں۔ اس اقدام کو ’’ریگولیٹری لچک‘‘ کا نام دیا گیا ہے، یعنی ان بڑی کمپنیوں کی خاطر جو ان کیمیکلز پر پابندی کے خلاف کروڑوں ڈالر کی لابنگ کر چکی ہیں اور جنہیں ٹرمپ نے ای پی اے میں اعلیٰ عہدوں پر بٹھایا ہوا ہے۔
یہ صرف پی ایف اے ایس تک محدود نہیں ہے۔ ٹرمپ نے دو ماہ کے اندر کئی اقدامات کیے ہیں۔ ایک کیس واپس لے لیا گیا جس سے لوزیانا کے ’’کینسر ایلی‘‘ میں ایک زہریلے مادے کے اخراج پر قابو پانا تھا۔ ایک اور کینسر پیدا کرنے والے مادے پر پابندی تاخیر کا شکار کر دی گئی۔ میڈیکل ڈیوائس کمپنیوں کے کہنے پر قوانین نرم کر دیے گئے اور مختلف کیمیکلز کی جانچ اور حفاظتی اصول کمزور کر دیے گئے۔
یہ قوانین اسی لیے تھے تاکہ خطرناک مادے جیسے ’’وینائل کلورائیڈ‘‘ عوام پر نہ چھوڑے جائیں۔ یہی وہ کیمیکل تھا جس نے 2023 میں اوہائیو کے ایسٹ پلسٹین کو ریلوے حادثے کے بعد زہریلا علاقہ بنا دیا تھا، اور جسے ٹرمپ نے محض انتخابی مہم میں استعمال کیا۔ اس دوران انہوں نے اس ادارے کو بھی ختم کر دیا جو کیمیکلز کے اثرات پر تحقیق کرتا تھا تاکہ مستقبل میں اگر وہ نقصان دہ ثابت ہوں تو ان پر پابندی لگائی جا سکے۔ یہ سب ایک فضول ’’اخراجات میں کٹوتی‘‘ کی مہم کے تحت کیا گیا۔
اب ٹرمپ کے دور میں کمپنیاں محض ای میل بھیج کر ان قواعد سے استثنیٰ لے سکتی ہیں۔ درجنوں مرتبہ ایسا ہو بھی چکا ہے۔ اسی لیے کیمیکل انڈسٹری کو اپنے مستقبل کے حوالے سے ’’واضح خوش امیدی‘‘ ہے۔
پیسٹی سائیڈز (کیڑے مار ادویات) میں بھی یہی ہوا۔ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ’’لاکھوں امریکیوں کو کیڑے مار ادویات‘‘ سے بچائیں گے۔ تاہم وائٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد انہوں نے الٹا راستہ اختیار کیا۔ بڑی زرعی کمپنیوں کو یقین دہانی کروائی کہ ان پر کوئی قدغن نہیں لگے گی، پینے کے پانی کی صفائی کے لیے 20 ملین ڈالر کی فنڈنگ ختم کر دی، کیڑے مار ادویات پر وارننگ لیبل کی شرط ہٹانے کی کوشش کی اور ایک انتہائی تباہ کن کیڑے مار دوا کے دوبارہ استعمال کی اجازت دے دی جسے ماہرین نے ’’ناقابل یقین پیمانے کی تباہی‘‘ کہا۔
خوراک کو بھی غیر محفوظ بنایا جا رہا ہے۔ ٹرمپ 50سے زائد غذائی مصنوعات کے ’’پرانے‘‘ معیار ختم کرنے جا رہے ہیں۔ دو اہم فوڈ سیفٹی کمیٹیاں بند کر دی گئی ہیں اور فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) سے 3ہزار 500 ملازمین فارغ کیے گئے ہیں۔ یہی ادارہ امریکہ کی 80 فیصد خوراک کی نگرانی کرتا ہے اور ہر سال 1 سے 2 فیصد فیکٹریوں میں سنگین خلاف ورزیاں پکڑتا ہے۔
اس کے ممکنہ نتائج دیکھنے کے لیے ہمیں صرف بائیڈن کے دور کی یاد تازہ کرنا ہوگی جب بچوں کے دودھ کی قلت نے بحران کھڑا کر دیا تھا۔ اس وقت فوڈ سیفٹی کی معمولی سی ناکامی نے بچوں کوہسپتال پہنچا دیا، کچھ کی موت واقع ہو گئی اور بڑے پیمانے پر مصنوعات واپس لینی پڑیں۔ چار بڑی کمپنیوں میں سے ایک کی ناکامی نے کروڑوں والدین کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔
ٹرمپ اور ’ماہا‘ کا خلاصہ یہی ہے کہ اگر کوئی فرضی صحت کا بحران ہو ،جو انٹرنیٹ کی پرانی کہانیوں سے جڑا ہو تو فوراً اس پر کارروائی ہو گی۔تاہم اگر کوئی حقیقی کیمیکل یا آلودگی ہو جو کینسر یا دیگر امراض پھیلائے تو ٹرمپ اور ان کی ٹیم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ وہ ہمارے کھانے، پانی اور ہوا میں شامل ہو۔
(بشکریہ: ’جیکوبن‘، ترجمہ: حارث قدیر)