← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

ٹرمپ ہارورڈ سے خوفزدہ کیوں؟

By جدوجہد • 2025-08-06 • 13 min read

پرویز امیر علی ہود بھائی

امریکی یونیورسٹیوں پر پوری دنیا رشک کرتی ہے۔یہ یونیورسٹیاں اکیڈیمک کا م کا اعلیٰ ترین نمونہ ہیں۔اِن جامعات میں ہونے والی جدید ترین تحقیق، ان کے ہاں میسرآزاد خیالی،ان کے ہاں پایا جانے والا تخلیقی پن۔۔۔وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے انہیں زبردست عروج ملا۔گو امریکی یونیورسٹیوں کی کریش لینڈنگ اب نوشتہ دیوار ہے لیکن دنیا بھر کے نوجوان ابھی بھی یہ خواب دیکھتے ہیں کہ کسی امریکی یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے۔

امریکی یونیورسٹیوں کا عروج بہت تیزی سے ہوا۔ 1901 ء میں جب نوبل انعام کا اجرا ہو اتو زیادہ تر انعام جرمن یونیورسٹیوں کو ملے۔ آکسفورڈ اور کیمبرج کے حصے میں چند نوبل انعام ہی آئے۔اُن دِنوں امریکہ آئس کریم اور فٹ بال کھلاڑیوں کی وجہ سے،تفریح کے لئے مشہور اپنے”کاو کالجز“ (cow colleges)کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔کتابوں اور سیکھنے سکھانے میں شائد ہی کسی کو دلچسپی ہوتی تھی۔1939 ء کے بعد، ہٹلر کے عذاب سے فرار ہو کر جب یورپی اکیڈیمکس کاؤ بوائز کے امریکہ پہنچے تو یہاں کا یونیورسٹی کلچر بالکل بدل گیا۔

ایک ہی دہائی بعد نوبل انعام،ٹرننگ ایوارڈز، پولٹزر پرائزیا اس نوع کے دیگر اعزازات ایم آئی ٹی، ہارورڈ،کولمبیا،سٹینفورڈ اور دیگر بڑے امریکی اسکولوں کے حصے میں آ رہے تھے۔جب امریکی یونیورسٹیوں کے بطن سے گوگل،ان ٹل(Intel)، کاچ(Koch) اور ڈیل (Dell)جیسے منصوبے پیدا ہوئے تو امریکی معیشت آسمان کو چھونے لگی۔

پھر ایک مجرم سامنے آیا، جسے امریکی قانون کے مطابق سزا سنائی جا چکی ہے۔۔۔آج کل وہ امریکی صدر ہے۔۔۔اس نے سوچا کہ امریکہ کو اپنے ہی پاوں پر”میک امیریکا گریٹ اگین“ (MAGA) والی کلہاڑی مارنی چاہیے۔بائبل بیلٹ سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگوں کے علاوہ ٹرمپ کو موٹی توندوں والے بڈ وائزر بئیر کے شوقین فٹ بال شائقین،اور ایسے ناکام لوگوں کی حمایت حاصل ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ناکامی کی وجہ میکسیکن، مسلمان اور سیاہ فام مائیں ہیں جو گھر بیٹھے سوشل کھاتی ہیں۔
ج

ے ڈی وانس، جو اب امریکی نائب صدر ہیں، نے جولائی 2024 میں بیان دیا تھا کہ ”پروفیسر اصل دشمن ہیں“۔ان کا کہنا تھا:”ہمیں جی جان سے اور بھر پور طریقے سے یونیورسٹیوں پرحملہ کرنا ہو گا“۔

ماگا (MAGA)کی سر پرستی میں چلنے والے وائٹ ہاوس نے یونیورسٹیوں میں برابری، تنوع، نسل،پس ماندہ گروہوں کی حمایت کے لئے اقدامات،ماحولیاتی تبدیلی،ویکسین کی افادیت،جنگلی حیات یا”ووک“(woke) سمجھے جانے والے ہر موضوع پر پابندی لگا دی ہے۔اسرائیل پر تنقید کو یہود دشمنی قرار دے کر اسے قانونی جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

اگر آپ دیکھیں کہ اسرائیلی فوجی غزہ کے بچوں پر گولیاں چلا رہے ہیں، تو اسے آپ جینو سائڈ نہیں کہہ سکتے۔بیمار ذہنیت والا ایک گروہ بے رحمی کے ساتھ ”لبرل اسٹیبلشمنٹ“ کا خاتمہ کر رہا ہے۔ایک معتبر سائنسی جریدے ”نیچر“ کے زیر اہتمام امسال مارچ میں ہونے والے ایک جائزے کے مطابق،75فیصد امریکی سائنس دان ملک چھوڑنے بارے سوچ رہے ہیں۔

کولمبیا جیسی یونیورسٹی،جو ایک زمانے میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھی، نے گھٹنے ٹیک دئے ہیں اور حکومت کو 220 ملین ڈالر ادا کرنے کے علاوہ اپنے یہودی ملازمین کو ”غیر قانونی طور پر نشانہ بنانے اور ہراس کیے جانے پر“ 21 ملین ادا کئے۔فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرنے پر پابندی ہے۔ نصاب بدلا جا رہا ہے۔مڈل ایسٹرن اسٹڈیز کے ڈیپارٹمنٹس میں آنے والے نئے اساتذہ کو اسرائیل اینڈ جوئش اسٹڈیز کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔ان تمام اقدامات کے جواب میں وفاقی حکومت،کولمبیا یونیورسٹی کی 400 ملین ڈالر پر مبنی ریسرچ فنڈنگ جاری کر دے گی۔

کولمبیا نے جب اس شرمناک انداز میں گھٹنے ٹیک دیے تو اگلا نشانہ ہارورڈ یونیورسٹی تھی۔ٹرمپ نے کہا کہ ہارورڈ کے 9 ارب ڈالرروک لیے جائیں۔مزید یہ حکم دیا کہ ہارورڈ غیر ملکی طلبہ کی میزبانی نہیں کرسکتا۔طلبہ میں بے چینی پھیل گئی۔ہارورڈ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔کئی مقدمے دائر کر دیے۔ کئی ایسی جامعات جن کے پاس بہت زیادہ انڈاومنٹ فنڈز نہیں، وہ بے چینی سے ان مقدموں کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ کسی روزٹرمپ کا غصہ ان پر بھی نکل سکتا ہے۔

ہارورڈ اخلاقی اقدار کی کسی معراج پر فائز نہیں۔ اس کا ماضی کسی حد تک داغدار بھی ہے۔ستر کی دہائی میں ہم ایم آئی ٹی کے طلبہ ہارورڈ کے طلبہ کے ساتھ مل کر۔۔۔ہارورڈ ہم سے پندرہ منٹ پیدل کا فاصلہ تھا۔۔۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے خلاف جلوس نکالتے کیونکہ ہارورڈ یونیورسٹی ویت نام جنگ میں امریکی حکومت کی مدد کر رہی تھی۔ہارورڈ میں یہ رسم بھی موجود ہے کہ امیر اور طاقتور لوگوں کے بچوں کو بغیر میرٹ کے داخلہ دے دیا جاتا ہے۔جنرل ایوب اور بھٹو کی آل اولاد،یا ان جیسوں کو، ایسے ہی تو داخلہ ملا۔

ایسی تمام باتوں کے باوجود،ہارورڈ اپنے موٹو ”ویریٹاس“ (Veritas)کا پاس رکھتی ہے(ویریٹاس لاطینی زبان کا لفظ ہے،جس کا مطلب ہے: سچ)۔ابھی امریکی ریاست وجود میں نہیں آئی تھی کہ ہارورڈ نے،تھوڑی بہت استثناؤں کے ساتھ، ویریٹاس کے موٹو پر عمل درآمد شروع کر دیا تھا۔اس یونیورسٹی کی روح روشن فکری میں گندھی ہوئی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ یہاں کاسمالوجی سے لے کر بائیولوجی تک، انسانی نفسیات سے لے کر سماجی علوم تک۔۔۔ہر شعبے میں شاندار تحقیق ہوئی۔

ہارورڈ کو کیا بات اتنا خاص بناتی ہے؟

جواب ہے: اکیڈیمک آزادیاں جو فطرت اور انسانی سماج بارے بنیادی سچ کی تلاش کے لیے ضروری ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پروفیسر حضرات کو وسائل مہیا کیے جاتے ہیں کہ وہ اپنے موضوع پر تحقیق کریں،طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ مختلف شعبوں، مذہبوں، سوچوں، قوموں،طبقوں اور جینڈر کے طلبہ کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں۔ ایسے ماحول میں ممکن ہے کہ کچھ سچ کڑوے لگیں مگر اس کے نتیجے میں انسان کی دانشوارانہ سطح بلند ہو جاتی ہے۔

ٹرمپ،پوتن، مودی اور ژی زن پنگ ایسے طالع آزما رہنماؤں کو اکیڈیمک آزادی قابلِ قبول نہیں۔وہ اس کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔جنوبی ایشیا میں اگر کوئی ہارورڈ جیسی یونیورسٹی بن رہی تھی تو وہ تھی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی۔ 2005 ء میں جب میں وہاں لیکچر دینے گیا تو بطور پاکستانی میں نے جس آزادی سے بات کی اور میری بات سنی گئی،اس پر مجھے حیرت ہوئی۔اب جے این یو کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے اور مستقبل میں شائد ہارورڈ کا بھی یہی حشر ہو۔

پاکستان میں اکیڈیمک آزادی کی حالت اور بھی پتلی ہے۔برطانوی ہند میں یونیورسٹیوں کا مقصد ویریٹاس نہیں تھا۔گو یہاں بنائی گئی یونیورسٹیوں کو آکسفورڈ اور کیمبرج کی طرز پر بنایا گیا مگر ان کا مقصد تھا کہ انگریزی بولنے والی وفا دار کلاس پیدا کی جائے جو حکومتی ذمہ داریاں نبھا سکے۔ان یونیورسٹیوں کے پیش نظر ہندوستان کی مڈل کلاس تھی۔آزادی کے بعد،ہندوستان کے حصے میں 16 یا17 یونیورسٹیاں آئیں۔ پاکستان کے حصے میں صرف لاہور کی پنجاب یونیورسٹی آئی۔

جامعہ پنجاب کا معیار، اس زمانے کے لحاظ سے گواچھا تھا،مگر ہندو اساتذہ کے ہندوستان چلے جانا اور انگریزاساتذہ کے برطانیہ واپس چلے جانے سے،پنجاب یونیورسٹی کا معیارکافی متاثر ہوا۔چند ہی سال گزرے تھے کہ پاکستانی یونیورسٹیوں پرمذہبی انتہا پسندوں کا غلبہ ہو گیا۔ یونیورسٹیوں پر مذہبی جنونیوں کا یہ غلبہ آج بھی قائم ہے۔یہ انتہا پسند اپنی سوچ کے خلاف ہلکی سی سرگوشی بھی برداشت نہیں کرتے۔

آج پاکستان میں سینکڑوں نام نہاد یونیورسٹیاں ہیں۔ حقیقت میں یہ وہ اندھیری غاریں ہیں جہاں سوچ کی روشنی کو پھیلنے سے روکا جاتا ہے۔میں نے قائد اعظم یونیورسٹی میں 47 سال پڑھایا۔ اس یونیورسٹی میں یا کسی بھی دوسری یونیورسٹی سے، میں نے اساتذہ کو اکیڈیمک آزادی اور بہتر معیارِ تعلیم کا مطالبہ کرتے نہیں سنا۔اگر ان کو دلچسپی تھی،تب بھی اور اب بھی، تو محض اس بات سے کہ تنخواہ میں کیسے اضافہ کروانا ہے اور ترقی کیسے لینی ہے۔

ویریٹاس! محض اس ایک حرف میں یہ راز پنہاں ہے کہ اندریں حالات یا مستقبل قریب میں پاکستان میں کسی ہارورڈ جیسی یونیورسٹی کا خواب دیکھنا ممکن نہیں۔

ایک عسکری ریاست جو اپنے شہریوں کو مکمل طور پر کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے، اسے یا تو یونیورسٹی کے نام پر پراپیگنڈہ مشین کی ضرورت ہوتی ہے یا کچھ ٹیکنالوجی کالجز کی۔ایسی ریاست ہارورڈ جیسی یونیورسٹی برداشت نہیں کر سکتی۔اکثر پاکستانی پروفیسر اس صورت حال سے خوش ہیں۔ ان کی نظر میں ویریٹاس کوئی خوبی نہیں،بلکہ ایک رکاوٹ ہے۔

رہااصل ہارورڈ یونیورسٹی کامعاملہ تو دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ کی مدت صدارت ختم ہونے تک ہارورڈ کس حد تک اپنی اقدار کو بچا پائے گی۔

Pervez Hoodbhoy

پرویز ہودبھائی کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ اُن کا شعبہ نیوکلیئر فزکس ہے۔ وہ طویل عرصے تک قائد اعظم یونیورسٹی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔