← Back to Newsroom OS تعلیم

پارٹی کو ازسرِنو مسلح کرنے کا عمل

By جدوجہد • 2025-06-21 • 41 min read

(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)

اپریل کے آغاز میں لینن کی غیرمعمولی تنہائی کی وضاحت کیسے کی جا سکتی ہے؟ ایسی صورتحال بالعموم کیسے پیدا ہو سکتی تھی اور بالشویک قیادت کو ازسرِ نو مسلح کرنے کا عمل کامیابی کے ساتھ کیسے مکمل کیا گیا؟
1905ء کے سال سے بالشویک پارٹی نے مطلق العنانیت کے خلاف ’’پرولتاریہ اور کسانوں کی جمہوری آمریت‘‘ کے نعرے کے تحت جدوجہد کی تھی۔ اِس نعرے اور اِس کے نظریاتی پس منظر کا ماخذ لینن تھا۔ منشویکوں کے نظریہ دان پلیخانوف نے ہٹ دھرمی سے’’بورژوازی کے بغیر بورژوا انقلاب برپا کرنے کے امکان کے غلط نظرئیے‘‘ کی مخالفت کی تھی۔ اِس کے برخلاف لینن کا خیال تھا کہ روسی بورژوازی خود اپنے ہی انقلاب کی قیادت کرنے کے قابل نہیں تھی۔ صرف پرولتاریہ اور کسانوں کا مضبوط اتحاد ہی بادشاہت اور جاگیرداروں کے خلاف جمہوری انقلاب برپا کر سکتا تھا۔ لینن کے مطابق اِس اتحاد کی فتح کو اُس جمہوری آمریت کا آغاز بننا تھا جو نہ صرف یہ کہ پرولتاریہ کی آمریت سے مماثل نہیں تھی بلکہ اِس سے بالکل متضاد تھی، کیونکہ اس کا مسئلہ سوشلسٹ سماج کی تخلیق نہیں تھا، حتیٰ کہ ایسے کسی سماج کی طرف تبدیلی کی اشکال کی تخلیق بھی نہیں تھا، بلکہ صرف قرون وسطیٰ کی غلاظت کا بے رحمانہ خاتمہ تھا۔ انقلابی جدوجہد کا مقصد مکمل طور پر تین لڑاکا نعروں میں بیان کیا گیا تھا: ’ جمہوریہ کا قیام، جاگیروں کی ضبطی، آٹھ گھنٹے کے اوقات کار‘، جنہیں روزمرہ کی بولی میں بالشویزم کی تین وھیل مچھلیاں بھی کہا جاتا تھا، یہ اُن وھیل مچھلیوں سے تشبیہ تھی جن کے اوپر ایک قدیم مقبولِ عام حکایت کے مطابق زمین ٹِکی ہوئی تھی۔
پرولتاریہ اور کسانوں کی جمہوری آمریت کے امکان کا سوال کسانوں کی اُن کے اپنے انقلاب کو برپا کرنے کی صلاحیت کے سوال سے جڑا ہوا تھا، یعنی ایک ایسی نئی حکومت قائم کرنے کی صلاحیت سے جو بادشاہت اور زمیندار اشرافیہ کا خاتمہ کر سکے۔انقلابی حکومت میں مزدور نمائندگان کی شمولیت بھی اگرچہ جمہوری آمریت کے نعرے میں فرض کی گئی تھی، لیکن یہ شمولیت ایک کسان انقلاب کے مسائل کو حل کرنے میں پرولتاریہ کے بطور بائیں بازو کے اتحادی کے کردار تک پہلے سے ہی محدود کر دی گئی تھی۔ یوں جمہوری انقلاب میں پرولتاریہ کی برتری کے مقبول عام اور حتیٰ کہ [پارٹی کی جانب سے] باضابطہ طور پر منظور شدہ نظرئیے کا مطلب بھی اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا کہ مزدوروں کی پارٹی اپنے اسلحہ خانے کے سیاسی ہتھیار کے ساتھ کسانوں کی حمایت کرے گی، اُنہیں جاگیردارانہ سماج کے خاتمے کے بہترین طریقے اور ذریعے سمجھائے گی اور اُنہیں دکھائے گی کہ اِن طریقوں اور ذریعوں کو کیسے نافذ العمل کیا جائے۔ بورژوا انقلاب میں پرولتاریہ کے رہنما کردار کی بات کا مطلب کسی طور بھی یہ نہیں تھا کہ کسانوں کی شورش کو اپنی حمایت دے کر پرولتاریہ انہیں اپنے تاریخی فریضے کی ادائیگی، یعنی سوشلسٹ سماج کی طرف براہ راست تبدیلی کے لئے بروئے کار لائے گا۔ [اِس پرانے بالشویک نظرئیے کی روسے] جمہوری انقلاب میں پرولتاریہ کی قیادت پرولتاریہ کی آمریت سے بالکل مختلف تھی، بلکہ نزاعی طور پر اس سے الٹ تھی۔ 1905ء کی بہار کے بعد سے بالشویک پارٹی کی تربیت اِنہی نظریات کے تحت کی گئی تھی [۱]۔
فروری انقلاب کی حقیقی روش نے بالشویزم کے اِس روایتی منصوبے کو ناکارہ بنا دیا۔ یہ درست ہے کہ انقلاب مزدوروں اور کسانوں کے اتحاد نے برپا کیا تھا۔ کسان زیادہ تر سپاہی کے حلیے میں سرگرم عمل تھا۔ لیکن انقلاب اگر امن کے وقتوں میں برپا ہوتا تو تب بھی زارشاہی کی کسانوں پر مشتمل فوج کا طرز عمل فیصلہ کن اہمیت کا حامل ہوتا۔ اگر جنگ کے دوران اِن دسیوں لاکھ مسلح آدمیوں نے پہلے پہل کسانوں کو نمایاں نہ ہونے دیا تو یہ بالکل فطری تھا۔ سرکشی کی فتح کے بعد مزدور اور سپاہی صورتحال پر حاوی تھے۔ اس لحاظ سے یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری آمریت قائم ہو چکی تھی۔لیکن درحقیقت فروری کی شورش ایک بورژوا حکومت پر منتج ہوئی ، جس میں ملکیتی طبقات کے اقتدار کو مزدوروں اور سپاہیوں کی اُن سوویتوں نے محدود کر دیا جن کی حاکمیت ابھی تک مکمل طور پر عمل پذیر نہیں ہوئی تھی۔ سارے پتے آپس میں ملے ہوئے تھے۔انقلابی آمریت، یعنی انتہائی مجتمع شدہ اقتدار کی بجائے دوہرے اقتدار کا غیر مستحکم نظام حکومت قائم ہو گیا تھا، جس میں حکمرن طبقات کی نحیف توانائی داخلی تصادموں پر قابو پانے میں ضائع ہو رہی تھی۔ کسی نے بھی ایسے نظام حکومت کی پیش بینی نہیں کی تھی۔ اور درحقیقت پیش بینی سے کوئی یہ تقاضا نہیں کر سکتا کہ یہ ارتقا کے بنیادی رجحانات کے ساتھ ساتھ حادثاتی اتفاقات کی بھی نشاندہی کرے۔ لینن نے بعد میں پوچھا، ’’آج تک کس نے پہلے سے یہ جانتے ہوئے ایک عظیم انقلاب برپا کیا ہے کہ اسے کیسے مکمل کیا جائے؟ آپ کو ایسا علم کہاں سے مل سکتا ہے؟ کتابوں میں تو یہ نہیں ملتا۔ ایسی کوئی کتابیں نہیں ہوتیں۔ ہمارے فیصلے عوام کے تجربے سے ہی جنم لے سکتے ہیں۔‘‘
لیکن انسانی سوچ قدامت پسند ہوتی ہے اور انقلابیوں کی سوچ بعض اوقات بالخصوص قدامت پسند ہو جاتی ہے۔ روس میں موجود بالشویک قیادت پرانے کلیے پر ہی قائم رہی اور دو متضاد حکومتیں قائم ہو جانے کے باوجود بھی اسے ایک بورژوا انقلاب کا پہلا مرحلہ سمجھتی رہی۔ مارچ کے آخر میں رائیکوف نے سائبیریا سے سوشل ڈیموکریٹوں کی جانب سے ’پراودا‘ کو ’’قومی انقلاب‘‘ کی فتح کی مبارکباد کا تار بھیجا، جس کا مسئلہ ’’سیاسی آزادی جیتنا‘‘ تھا۔ کسی ایک استثنا کے بغیر تمام رہنما بالشویکوں کا خیال تھا کہ جمہوری آمریت ابھی آگے مستقبل میں قائم ہونا تھی۔بورژوازی کی اس عبوری حکومت کے ’’خود کو ختم‘‘ کر لینے کے بعد بورژوا پارلیمانی حکومت کے پیش رو کے طور پر مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری آمریت قائم ہونا تھی۔ یہ بالکل غلط تناظر تھا۔ فروری انقلاب سے برآمد ہونے والا نظام حکومت نہ صرف یہ کہ جمہوری آمریت کو تیار نہیں کر رہا تھا بلکہ اس حقیقت کا زندہ اور جامع ثبوت تھا کہ ایسی کوئی آمریت ناممکن تھی۔ مصالحت پسندانہ جمہوریت نے کیرنسکی کی غیر سنجیدگی یا شکائدز کی محدود ذہانت کی وجہ سے حادثاتی طور پر اقتدار لبرلوں کے حوالے نہیں کیا تھا، اس کا اظہار اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ آنے والے پورے آٹھ مہینوں کے دوران یہ مصالحت پسندانہ جمہوریت اپنے پورے زور سے بورژوا حکومت کو بچانے کی جدوجہد کرتی رہی ۔ یہ مزدوروں، کسانوں اور سپاہیوں کو دباتی رہی اور 25 اکتوبر کو [بالشویکوں کے اقتدار پر قبضے کے وقت] یہ بورژوازی کی محافظ اور اتحادی کے طور پر لڑ رہی تھی۔ مزید برآں جب جمہوریت نے اپنے سامنے موجود دیوہیکل فرائض اور عوام کی لامحدود حمایت کے باوجود رضاکارانہ طور پر اقتدار کو مسترد کر دیا تھا تو یہ شروع سے ہی بہت واضح تھا کہ یہ سیاسی اصولوں یا پہلے سے کئے گئے فیصلے کی وجہ سے نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ سماج میں پیٹی بورژوازی کی مایوس کن صورتحال کی وجہ سے تھا، وہ بھی بالخصوص جنگ اور انقلاب کے ایسے وقتوں میں جب ممالک، عوام اور طبقات کی زندگی کے بنیادی مسائل کا فیصلہ ہونا ہوتا ہے۔ ملیوکوف کو اقتدار دیتے وقت پیٹی بورژوازی نے کہا: ’’نہیں، میں اِن فرائض کو ادا کرنے کے قابل نہیں ہوں۔‘‘
اپنے کندھوں پر مصالحت پسند جمہوریت کو اٹھانے والے کسان اپنے اندر بورژوا سماج کے تمام طبقات کی جزیات سمیٹے ہوتے ہیں۔ شہروں کی پیٹی بورژوازی، جس نے روس میں کوئی سنجیدہ کردار ادا نہیں کیا، کے ساتھ ساتھ یہ کسان وہ پیچیدہ مادہ مرتب کرتے ہیں جس میں سے ماضی میں تمام نئے طبقات کی تفریق ہوئی تھی اور جو تفریق حال میں بھی جاری ہوتی ہے۔ کسانوں کے ہمیشہ دو چہرے ہوتے ہیں، ایک کا رخ پرولتاریہ کی جانب ہوتا ہے اور دوسرے کا بورژوازی کی طرف۔ لیکن سوشل انقلابیوں کی طرح کی ’’کسان‘‘ پارٹیوں کا درمیانی اور مصالحت پسندانہ مقام صرف نسبتاً سیاسی جمود کے حالات میں ہی قائم رہ سکتا ہے؛ ایک انقلابی عہد میں ناگزیر طور پر وہ لمحہ آتا ہے جب پیٹی بورژوازی کو کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ سوشل انقلابیوں اور منشویکوں نے پہلے ہی لمحے انتخاب کر لیا تھا۔ اُنہوں نے ’’جمہوری آمریت‘‘ کو ابتدا میں ہی تباہ کر دیا تاکہ اسے پرولتاریہ کی آمریت کی طرف پل بننے سے روکا جا سکے۔ لیکن اسی طرح اُنہوں نے پرولتاریہ کی آمریت کا راستہ کھول دیا، جو ایک مختلف راستہ تھا اور جو اُن کے ذریعے نہیں بلکہ اُن کے برخلاف تھا۔
انقلاب کے مزید ارتقا کو اب پرانے منصوبوں کی بجائے نئے حقائق سے آگے بڑھنا تھا۔ اپنے نمائندوں کے ذریعے عوام جزوی طور پر اپنی مرضی کے برخلاف اور جزوی طور پر اپنے شعور کے بغیر، دوہرے اقتدار کے نظام حکومت کا حصہ بن چکے تھے۔ اب اُنہیں اِس میں سے گزرنا تھا تاکہ اپنے تجربے سے سیکھ سکیں کہ یہ اُنہیں زمین یا امن نہیں دے سکتا تھا۔ اس کے بعد سے دوہرے اقتدار کے نظام حکومت سے پلٹنے کا مطلب عوام کے لئے سوشل انقلابیوں اور منشویکوں سے علیحدگی تھا۔ لیکن یہ بالکل واضح ہے کہ دوہرے اقتدار کے ڈھانچے کو تباہ کر نے کے بعد مزدوروں اور سپاہیوں کے بالشویکوں کے طرف سیاسی جھکاؤ کا مطلب مزدوروں اور کسانوں کے اتحاد پر قائم پرولتاریہ کی آمریت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اگر عوام کو شکست ہو جاتی تو بالشویک پارٹی کے کھنڈرات میں سے سرمائے کی فوجی آمریت ہی ابھر سکتی تھی۔ ’’جمہوری آمریت‘‘ ہر صورت میں ناممکن ہی تھی۔ اِس کی طرف دیکھتے ہوئے بالشویکوں کو اپنے چہرے ماضی کی ایک غلط فہمی کی طرف موڑنے پڑتے تھے۔ اِسی کیفیت میں وہ لینن کو ملے، جب وہ پارٹی کو نئے راستے پر گامزن کرنے کا غیرلچکدار عزم لے کر آیا۔
یقینا خود لینن نے بھی فروری انقلاب کی شروعات تک جمہوری آمریت کے کلیے کو کسی مشروط یا فرضی کلیے سے بھی تبدیل نہیں کیا تھا۔کیا وہ اس معاملے میں درست تھا؟ ہمارے خیال میں وہ درست نہیں تھا۔ انقلاب کے بعد پارٹی میں جو کچھ ہوا اس نے بڑے تشویشناک انداز میں مسلح کرنے کے عمل کی تاخیر کو عیاں کیا، جو مزید برآں اُن حالات میں لینن کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ اُس نے اِس مقصد کے لئے خود کو تیار کیا تھا۔ اُس نے اپنے فولاد کو تپایا تھا اور جنگ کی آگ میں دوبارہ ڈھالا تھا۔ اُس کی نظروں میں تاریخی عمل کا عمومی تناظر بدل چکا تھا؛ جنگ کے صدمے نے مغرب میں سوشلسٹ انقلاب کی ممکنہ تاریخ کو بہت نزدیک کر دیا تھا ۔ لینن کی نظر میں ابھی تک جمہوری رہنے کے باوجود انقلابِ روس کو یورپ میں ایک سوشلسٹ انقلاب کو تحریک (Stimulus) دینا تھی، جس نے پھر تاخیر زدہ روس کو اپنے گرداب میں کھینچ لینا تھا۔ زیورک سے نکلتے وقت لینن کا عمومی خیال یہی تھا۔ سوئٹزرلینڈ کے مزدوروں کے نام جس خط کو ہم نے پہلے بھی نقل کیا ہے، اس میں وہ کہتا ہے: ’’روس ایک کسان ملک ہے، یہ یورپ کے سب سے پسماندہ ممالک میں سے ایک ہے۔ یہاں سوشلزم فوری طور پر فتح یاب نہیں ہو سکتا۔ لیکن اِس ملک، جہاں زمین کے وسیع قطعات ابھی تک اشرافیہ کے پاس ہیں، کا کسان کردار 1905ء کے تجربے کی بنیاد پر روس میں بورژوا جمہوری انقلاب کے وسیع امکان کا باعث بن سکتا ہے اور ہمارے انقلاب کو ایک عالمگیر سوشلسٹ انقلاب کی تمہید اور اس کی طرف بڑھنے والا قدم بنا سکتا ہے۔‘‘ اس لحاظ سے لینن نے یہاں پہلی بار لکھا کہ سوشلسٹ انقلاب کا آغاز روسی پرولتاریہ کرے گا۔
انقلاب کو جمہوری مقاصد تک محدود کرنے والے بالشویزم کے پرانے موقف اور لینن کی جانب سے 4 اپریل کے تھیسس میں پارٹی کے سامنے پیش کئے جانے والے نئے موقف میں یہ ایک درمیانی کڑی تھی۔ پرولتاریہ کی آمریت کی طرف فوری تبدیلی کا یہ نیا تناظر بالکل غیر متوقع اور روایت کے برخلاف معلوم ہوتا تھا اور سوچ میں سماتا ہی نہیں تھا۔ یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ فروری انقلاب کے پھٹ پڑنے تک اور کچھ وقت بعد تک بھی ٹراٹسکی ازم کا مطلب یہ خیال نہیں تھا کہ روس کی قومی حدود میں ایک سوشلسٹ سماج قائم کرنا ناممکن تھا (جس کا ’’امکان‘‘ 1924ء تک کسی نے ظاہر نہیں کیا اور بمشکل ہی کسی کے ذہن میں آیا)۔ ٹراٹسکی ازم کا مطلب یہ خیال تھا کہ روسی پرولتاریہ شاید مغربی پرولتاریہ سے پہلے اقتدار پر قبضہ کر لے، اس صورت میں یہ خود کو جمہوری آمریت کی حدود میں مقید نہیں کر سکے گا بلکہ ابتدائی سوشلسٹ اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو گا۔ یوں یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ لینن کے اپریل تھیسس کو ’ٹراٹسکی اسٹ‘ قرار دے کر ان کی مذمت کی گئی۔
پرانے بالشویکوں کے مخالفانہ دلائل کئی خطوط پر پروان چڑھے۔ بنیادی لڑائی اِس سوال پر تھی کہ کیا بورژوا جمہوری انقلاب ختم ہو چکا تھا؟ چونکہ زرعی انقلاب ابھی مکمل نہیں ہوا تھا لہٰذا لینن کے مخالفین درست طور پر دعویٰ کر رہے تھے کہ مجموعی طور پر جمہوری انقلاب مکمل نہیں ہوا تھا اور یوں اُنہوں نے نتیجہ نکالا کہ پرولتاریہ کی آمریت کی کوئی گنجائش نہیں تھی، اگرچہ روس کے سماجی حالات نے اسے کم و بیش کسی قریبی تاریخ میں بالعموم ممکن بنا دیا تھا۔ ’پراودا‘ کے مدیران اسی انداز میں سوال کو اُس جملے میں پیش کر رہے تھے جس کا حوالہ ہم نے ابھی دیا تھا۔ بعد ازاں اپریل کے اجلاس میں کامینیف نے اسے دہرایا: ’’لینن غلط کہتا ہے کہ بورژوا جمہوری انقلاب مکمل ہو چکا ہے… جاگیرداری کی کلاسیکی باقیات، یعنی جاگیریں، ابھی ختم نہیں کی گئی ہیں… ریاست کو ابھی تک ایک جمہوری تنظیم میں تبدیل نہیں کیا گیا ہے… یہ کہنا جلد بازی ہے کہ بورژوا جمہوریت نے اپنے سارے امکانات استعمال کر کے ختم کر لئے ہیں۔‘‘
ٹامسکی کی دلیل تھی کہ ’’جمہوری آمریت ہمارا بنیادی پتھر ہے۔ ہمیں پرولتاریہ اور کسانوں کی طاقت کو منظم کرنا چاہئے اور ہمیں چاہئے کہ اسے کمیون سے ممتاز کریں، کیونکہ کمیون کا مطلب صرف پرولتاریہ کی طاقت ہو گا۔‘‘
رائیکوف نے اُس کی تائید کی: ’’ہمارے سامنے دیوہیکل انقلابی فرائض کھڑے ہیں، لیکن اِن فرائض کی ادائیگی ہمیں بورژوا حکومت کے ڈھانچے سے آگے نہیں لے جاتی ہے۔‘‘
ظاہر ہے کہ اپنے مخالفین کی طرح لینن بھی دیکھ رہا تھا کہ جمہوری انقلاب ابھی مکمل نہیں ہوا تھا، بلکہ اس کے برعکس حقیقی معنوں میں شروع ہونے سے بھی پہلے یہ قصہ ماضی بننے لگا تھا۔ لیکن بالکل اسی حقیقت سے یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ صرف ایک نئے طبقے کے حکمران ہی اسے مکمل کر سکتے تھے اور مزید یہ کہ ایسا صرف عوام کو منشویکوں اور سوشل انقلابیوں کے اثر و رسوخ، یعنی کہ لبرل بورژوازی کے براہ راست اثر و رسوخ سے نکال کر ہی کیا جا سکتا تھا ۔ اس لئے لینن نے سوشل حب الوطنی کے تمام رنگوں کی ناقابل مصالحت مخالفت کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کو پسماندہ عوام سے الگ کیا جائے، تاکہ بعد میں اِن عوام کو اِن کی پسماندگی سے آزادکیا جا سکے۔ ’’ہمیں پرانا بالشویزم ترک کرنا ہو گا‘‘، وہ مسلسل دہراتا رہا، ’’ہمیں پیٹی بورژوازی اور اجرتی مزدور کے درمیان واضح تقسیم کرنا ہوگی۔‘‘
سطحی نظر سے شاید یہ لگے کہ پرانے دشمنوں نے اپنے ہتھیار آپس میں تبدیل کر لئے تھے۔ منشویک اور سوشل انقلابی اب مزدوروں اور سپاہیوں کی اکثریت کی نمائندگی کر رہے تھے اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ پرولتاریہ اور کسانوں کے اس سیاسی اتحاد کو عملی جامہ پہنا چکے تھے جس کی وکالت بالشویکوں نے ہمیشہ منشویکوں کے خلاف کی تھی۔ لینن مطالبہ کر رہا تھا کہ پرولتاری ہراول دستہ اس اتحاد سے علیحدہ ہو جائے۔ تاہم حقیقت میں دونوں اطراف اپنے تئیں درست تھیں۔ ہمیشہ کی طرح منشویکوں کی نظر میں اُن کا نصب العین لبرل بورژوازی کی حمایت تھا۔ سوشل انقلابیوں کے ساتھ اُن کا اتحاد صرف اس حمایت کو وسیع اور مضبوط بنانے کے لئے تھا۔ اِس کے برعکس پیٹی بورژوا اتحاد سے پرولتاری ہراول دستے کی علیحدگی کا مطلب بالشویک پارٹی کی قیادت میں مزدوروں اور کسانوں کے اتحاد، یعنی پرولتاریہ کی آمریت کی تیاری تھا۔
لینن کے خلاف ایک اور دلیل روس کی پسماندگی سے ماخوذ تھی۔ محنت کش طبقے کی حکومت کا ناگزیر مطلب سوشلزم کی طرف تبدیلی تھا، لیکن معاشی اور ثقافتی طور پر روس اس کے لئے پک کر تیار نہیں ہوا تھا۔ہمیں پہلے جمہوری انقلاب مکمل کرنا چاہئے۔ مغرب میں ایک سوشلسٹ انقلاب ہی یہاں پرولتاریہ کی آمریت کو جواز فراہم کر سکتا ہے۔ اپریل کانفرنس میں یہ رائیکوف کی دلیل تھی۔ یہ لینن کے لئے ابجد تھی کہ روس کے ثقافتی و معاشی حالات ایک سوشلسٹ سماج کی تعمیر کے لئے ناکافی تھے۔ لیکن سماج اتنے منطقی نہیں ہوتے کہ پرولتاریہ کی آمریتوں کی تاریخیں عین اُسی لمحے آ جائیں جب معاشی اور ثقافتی حالات سوشلزم کے لئے پک کر تیار ہو جائیں۔ انسانیت اگر اتنی نظم و ترتیب کے ساتھ ارتقا پذیر ہوئی ہوتی تو آمریت کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، نہ ہی بالعموم انقلاب کی ضرورت پیدا ہوتی۔ زندہ تاریخی سماج بالکل بے آہنگ ہوتے ہیں اور جتنے بے آہنگ ہوتے ہیں اتنی ہی تاخیر زدہ اُن کی ترقی ہوتی ہے۔ یہ حقیقت اسی بے آہنگی کا ہم آہنگ اظہار تھی کہ روس جیسے پسماندہ سماج میں بورژوا حکومت کی مکمل فتح سے پہلے ہی بورژوازی گل سڑ چکی تھی اور سوائے پرولتاریہ کے کوئی نہ تھا جو قومی قیادت میں اس کی جگہ لے سکے۔ رائیکوف ، جو مسلسل دہرا رہا تھا کہ سوشلزم کو زیادہ ترقی یافتہ صنعت والے ملکوں کی طرف سے آنا چاہئے، کو لینن نے ایک سادہ لیکن تسلی بخش جواب دیا: ’’تم نہیں بتا سکتے کہ کون شروع کرے گا اور کون ختم کرے گا۔‘‘

*****

1921ء میں جب پارٹی افسرشاہانہ انحطاط سے ابھی تک دور تھی اور اسی آزادی سے اپنے ماضی کو پرکھ رہی تھی جس سے یہ اپنے مستقبل کی تیاری کر رہی تھی، اُس وقت پارٹی کے ارتقا کے تمام مراحل میں رہنما کردار ادا کرنے والے ایک پرانے بالشویک اولمنسکی نے سوال اٹھایا: اِس حقیقت کی وضاحت کیسے کی جائے کہ فروری انقلاب کے وقت پارٹی مفاد پرستانہ راستے پر گامزن تھی اور پھر کس چیز نے تیزی سے اس کا رخ اکتوبر انقلاب کے راستے کی طرف موڑ دیا؟ مصنف نے درست طور پر مارچ میں پارٹی کے بھٹک جانے کی وجہ اس حقیقت میں ڈھونڈی ہے کہ یہ بڑی دیر تک ’’جمہوری آمریت‘‘ سے چمٹی رہی۔ اولمنسکی کہتا ہے، ’’آنے والے انقلاب کو صرف بورژوا انقلاب ہی ہونا چاہئے… یہ پارٹی کے ہر رکن کے لئے لازمی تمہید تھی، پارٹی کا باضابطہ موقف تھا، فروری انقلاب تک اس کا مسلسل اور غیر متغیر نعرہ تھا، حتیٰ کہ کچھ عرصہ بعد تک بھی ایسا ہی تھا۔‘‘ تشریح میں اولمنسکی نے شاید اِس حقیقت کا حوالہ بھی دیا ہو کہ سٹالن اور کامینیف سے بھی پہلے، خود اولمنسکی سمیت’’بائیں بازو‘‘ کی ادارت کے تحت ’پراودا‘ نے 7 مارچ کو یوں اعلان کیا جیسے بتانے کی ضرورت نہ ہو: ’’ظاہر ہے کہ ہمارے درمیان سرمائے کی حکمرانی کی تباہی کا تو سوال ہی نہیں ہے، بلکہ صرف حکمران اشرافیہ اور جاگیرداری کی تباہی کا سوال ہے۔‘‘ اس بالکل مختصر نصب العین کا نتیجہ مارچ میں پارٹی کے بورژوا جمہوریت کی جکڑ میں پھنس جانے کی صورت میں نکلا ۔ ’’پھر اکتوبر انقلاب کیسے ہو گیا؟‘‘یہی مصنف پوچھتا ہے۔ ’’یہ کیسے ہوا کہ پارٹی نے، اپنے رہنماؤں سے لے کر عام اراکین تک، اتنی جلدی وہ سب کچھ ترک کر دیا جسے وہ تقریباً دو دہائیوں تک حتمی سچ سمجھتی رہی تھی؟‘‘
ایک مخالف کے طور پر بات کرتے ہوئے سوخانوف اِس سوال کو مختلف طریقے سے اٹھاتا ہے۔ ’’اپنے بالشویکوں کو مات دینے اور جیتنے میں لینن کامیاب کیسے ہو گیا؟‘‘ یہ درست ہے کہ پارٹی میں لینن کی فتح نہ صرف مکمل تھی بلکہ بہت کم وقت میں حاصل گئی تھی۔ مخالفین اِسے بالشویک پارٹی کے اندر ایک شخص کی بالا دستی قرار دیتے ہوئے طعنے دے رہے تھے۔سوخانوف خود ہی اِس سوال کا جواب دیتا ہے جسے اُس نے سورمائی جذبے سے اٹھایا تھا: ’’غیر معمولی ذہانت کا حامل لینن ایک تاریخی ساکھ اور عملداری کا حامل تھا، یہ اِس معاملے کا ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ یہ ہے کہ پارٹی میں لینن کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا۔ لینن کے بغیر کچھ عظیم رہنماؤں کی حیثیت سورج کے بغیر کچھ دیوہیکل سیاروں والی تھی (میں یہاں ٹراٹسکی سے ہٹ کر بات کر رہا ہوں جو اس وقت پارٹی کی صفوں میں شامل نہیں تھا)۔‘‘یہ دلچسپ سطور لینن کے اثر و رسوخ کو اُس کی عملداری کی بنیاد پر ہی بیان کرنے کی کوشش کرتی ہیں، جیسے افیون کی نیند پیدا کرنے کی صلاحیت کی وضاحت اس کی خواب آور خاصیتوں سے ہی کی جائے۔ ظاہر ہے ایسی کوئی وضاحت ہمارے لئے کچھ خاص فائدہ مند نہیں ہے۔ پارٹی میں لینن کا حقیقی اثرورسوخ یقینا بہت زیادہ تھا، لیکن یہ کسی طور بھی لامحدود نہیں تھا۔ حتیٰ کہ اکتوبر کے بعد بھی یہ حتمی نہیں تھا ، جب کہ اُس کی عملداری میں غیرمعمولی اضافہ ہو چکا تھا، کیونکہ پارٹی نے اُس کی برتری کی پیمائش عالمی واقعات کے پیمانے سے کر لی تھی۔ اپریل 1917ء میں اُس کی عملداری کے ذاتی حوالہ جات اور بھی ناکافی ہیں، جب پارٹی کے سارے رہنما گروہ نے پہلے ہی لینن کے برخلاف موقف اختیار کر لیا تھا۔
اولمنسکی سوال کا جواب دینے کے بہت قریب آ جاتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ بورژوا جمہوری انقلاب کے کلیے کے باوجود پارٹی ایک لمبے عرصے سے اقتدار کی براہ راست جدوجہد میں پرولتاریہ کی قیادت کی تیاری کر رہی تھی۔اولمنسکی کہتا ہے، ’’ہم ( یا کم از کم ہم میں سے کئی لوگ) غیرشعوری طور پر پرولتاری انقلاب کی طرف گامزن تھے، اگرچہ سوچ یہ رہے تھے کہ ہم ایک بورژوا جمہوری انقلاب کی طرف جا رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہم تیاری تو اکتوبر انقلاب کی کر رہے تھے، جب کہ سوچ یہ رہے تھے کہ ہم فروری انقلاب کی تیاری کر رہے ہیں۔‘‘ ایک انتہائی قابل قدر عمومی نتیجہ اور ساتھ ہی ایک بے خطا گواہ کی گواہی!
انقلابی پارٹی کی نظریاتی تربیت میں تضاد کا ایک عنصر موجود تھا، جس نے اپنا اظہار پرولتاریہ اور کسانوں کی ’’جمہوری آمریت‘‘ کے ذومعنی کلیے میں کیا۔ اجلاس میں لینن کی رپورٹ پر بات کرتے ہوئے ایک خاتون مندوب نے اولمنسکی کے خیال کو زیادہ سادہ انداز میں بیان کیا : ’’بالشویکوں کی پیش بینی غلط تھی لیکن اُن کے طریقے درست تھے۔‘‘
بہت متناقضانہ (Paradoxical) لگنے والے اپنے اپریل تھیسس میں لینن پرانے کلیے کے خلاف پارٹی کی زندہ روایت پر، یعنی حکمران طبقات کی طرف پارٹی کے ناقابل مصالحت رویے اور ادھورے اقدامات کی مخالفت پر انحصار کر رہا تھا، جبکہ’’ پرانے بالشویک‘‘ طبقاتی جدوجہد کے ٹھوس ارتقا کے خلاف ابھی تک تازہ لیکن متروک ہو چکی یاد وں سے جڑے ہوئے تھے۔لیکن لینن کو بالشویکوں کی منشویکوں کے خلاف پوری تاریخی جدوجہد کے پیش نظر بہت مضبوط مدد حاصل تھی۔ یہاں یہ یاد رکھنا بہتر ہو گا کہ باضابطہ سوشل ڈیموکریٹ پروگرام ابھی تک بالشویکوں اور منشویکوں میں مشترک تھا، کیونکہ تحریری شکل میں جمہوری انقلاب کے اکتسابی فرائض دونوں پارٹیوں کے لئے ایک جیسے ہی تھے۔ لیکن عمل میں وہ بالکل بھی ایک جیسے نہیں تھے۔ انقلاب کے فوراً بعد مزدور بالشویکوں نے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار میں پیش قدمی کی؛ منشویکوں نے اس مطالبے کو بے موقع قرار دیا۔ بالشویکوں نے زارپرست حکام کو گرفتار کرنے میں پیش قدمی کی؛ منشویکوں نے اِن ’’حد سے متجاوز اقدامات‘‘ کی مخالفت کی۔ بالشویکو ں نے پورے جوش و جذبے سے مزدور ملیشیا کی تخلیق کا بیڑا اٹھایا؛ منشویکوں نے بورژوازی سے لڑنے کی خواہش ظاہر نہ کرتے ہوئے مزدوروں کو مسلح کرنے میں تاخیر کی۔ ابھی تک بورژوا جمہوریت کی حدود سے تجاوز نہ کرتے ہوئے بھی بالشویکوں کا طرز عمل ناقابل مصالحت انقلابیوں والا تھا۔ جبکہ منشویکوں نے ہر قدم پر لبرلوں کے ساتھ اتحاد کی خاطر اپنے جمہوری پروگرام کو قربان کیا۔ جمہوری اتحادیوں کی مکمل عدم موجودگی میں کامینیف اور سٹالن ناگریز طور پر ہوا میں معلق ہو گئے۔
لینن اور پارٹی قیادت کے درمیان اپریل کا یہ تصادم اپنی نوعیت کا واحد تصادم نہیں تھا۔اپنی اساس میں اِسی قاعدے کی تصدیق کرنے والی کچھ اقساط کے استثنا کے ساتھ، بالشویزم کی ساری تاریخ کے دوران پارٹی کے تمام رہنما تمام اہم لمحات میں لینن کے دائیں طرف کھڑے ہوتے تھے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔لینن دنیا کی تاریخ کی سب سے انقلابی پارٹی کا غیرمشروط رہنما اِس لئے بنا کہ اُس کی سوچ اور عزم واقعی ملک اور عہد کے دیوہیکل انقلابی ممکنات کے تقاضوں کے شایانِ شان تھے۔ لینن کے علا وہ باقی لوگ اِس معاملے میں قدرے کم تر تھے اور اکثر کہیں زیادہ پیچھے تھے۔
انقلاب سے مہینوں یا پھر سالوں پہلے سے ہی بالشویک پارٹی کا تقریباً سارا رہنما حلقہ فعال کام سے باہر تھا۔ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں بہت سے لوگ جیلوں میں ڈال دئیے گئے تھے یا جلاوطن کر دئیے گئے تھے اور انٹرنیشنل کی بربادی کے وقتوں میں تنہائی یا چھوٹے گروہوں میں زندگی گزار رہے تھے۔ اگرچہ پارٹی کی صفوں میں اُنہوں نے انقلاب کے اُن خیالات کی کافی اثرپذیری ظاہر کی تھی جو اُنہیں بالشویزم کی طرف کھینچ لائے تھے، لیکن تنہائی میں وہ اِتنے مضبوط نہیں تھے کہ گردونواح کے سماجی ماحول کے دباؤ کے خلاف مزاحمت کر سکیں اور واقعات کی آزادانہ مارکسی پرکھ کر سکیں۔ جنگ کے ڈھائی سال کے دوران عوام کی رائے میں پیدا ہونے والی بہت بڑی تبدیلی اُن کی نظر کے حلقے سے تقریباً باہر رہی تھی۔ تاہم انقلاب نے نہ صرف اُنہیں تنہائی سے نکالا بلکہ اُن کی شہرت کے پیش نظر فوراً ہی پارٹی میں رہنما مقام پر براجمان کروا دیا۔اپنے مزاج میں وہ زیادہ تر فیکٹریوں کے انقلابی مزدوروں سے زیادہ ’’زمروالڈ‘‘ کے دانشوروں کے قریب ہوتے تھے۔
’’پرانے بالشویکوں‘‘، جنہوں نے اپنے اِس خطاب پر اپریل 1917ء میں نمائشی انداز سے بہت زور دیا، کو شکست سے اِس لئے دوچار ہونا پڑا کہ وہ پارٹی کی روایت کے اُسی عنصر کا دفاع کر رہے تھے جس نے تاریخ کا امتحان پاس نہیں کیا تھا۔ مثلاً کالینن (Kalinin)نے 14 اپریل کی پیٹروگراڈ اجلاس میں کہا، ’’میرا تعلق پرانے بالشویک لینن اسٹوں سے ہے اور میرا خیال ہے کہ پرانا لینن ازم کسی طرح بھی موجود مخصوص صورتحال میں بے کار ثابت نہیں ہوا ہے، میں کامریڈ لینن کے اس بیان پر حیران ہوں کہ موجودہ وقت میں پرانے بالشویک ایک رکاوٹ بن چکے ہیں۔‘‘ لینن کو اِس طرح کی بہت سی ناراض آوازیں اُن دنوں سننا پڑیں۔ تاہم پارٹی کے روایتی کلیے سے علیحدہ ہو کر بھی لینن ’’لینن اسٹ‘‘ ہی تھا۔ اُس نے بالشویزم کا پرانا خول اتار پھینکا تاکہ اس کے مرکزے کو نئی زندگی دے سکے۔
پرانے بالشویکوں کے خلاف لینن کو پارٹی کی ایک اور پرت میں حمایت ملی،جو تپ کے فولاد بن چکی تھی لیکن زیادہ تازہ تھی اور عوام کے ساتھ زیادہ قربت سے جڑی ہوئی تھی۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ فروری انقلاب میں مزدور بالشویکوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ وہ بالکل صاف سمجھتے تھے کہ فتح حاصل کرنے والے طبقے کو ہی اقتدار پر قابض ہونا چاہئے تھا۔ اِنہی مزدوروں نے کامینیف اور سٹالن کی روش کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا اور وائبورگ کے علاقے والوں نے تو ’’رہنماؤں‘‘ کو پارٹی سے نکالنے کی دھمکی بھی دے ڈالی تھی۔ یہی کیفیت صوبوں میں بھی دیکھی گئی۔ تقریباً ہر جگہ بائیں بازو کے بالشویکوں پر شدت پسندی اور انارکزم تک کا الزام لگایا گیا۔ اِن مزدور بالشویکوں کے پاس اپنے موقف کے دفاع کے لئے صرف نظریاتی وسائل کی کمی تھی۔ لیکن وہ پہلی واضح آواز کا جواب دینے کے لئے تیار تھے۔ 1912-14ء کے ابھار کے سالوں میں فیصلہ کن طور پر اپنے پیروں پر کھڑے ہونے والے مزدوروں کی اِسی پرت پر اب لینن انحصار کر رہا تھا۔ پہلے ہی جنگ کے آغاز پر ، جب حکومت نے دوما کے بالشویک دھڑے کو گرفتا ر کر کے پارٹی پر بھاری ضرب لگائی تھی، لینن نے آگے کے انقلابی کام کی بات کرتے ہوئے پارٹی سے اُن ’’ہزاروں طبقاتی شعور رکھنے والے مزدوروں‘‘ کی تربیت کا مطالبہ کیا تھا جن میں سے ’’تمام تر مشکلات کے باوجود نئے قائدین کا عملہ ابھرے گا۔‘‘
اِن مزدوروں سے دو جنگی محاذوں کی دوری اور تقریباً کوئی رابطہ نہ ہونے کے باوجو د بھی لینن اُن سے بے خبر نہیں تھا۔ ’’جنگ، جیلوں، سائبیریاکی جلاوطنی، سخت مشقت کی سزا کو انہیں دو بار، دس بار پاش پاش کر لینے دو، لیکن اس پرت کو تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ زندہ ہے۔ یہ وطن پرستی کی مخالفت اور انقلابیت سے سرشارہے۔‘‘
اپنے ادراک میں لینن واقعات کے تجربے میں سے اِن مزدور بالشویکوں کے ہمراہ گزر رہا تھا ، اُن کے ساتھ ضروری نتائج اخذ کر رہا تھا، فرق صرف یہ تھا کہ لینن کے نتائج اُن کی نسبت زیادہ وسیع اور زیادہ جرات مندانہ تھے۔ پارٹی کی قیادت اور وسیع تر عہدیدار پرتوں کی ہچکچاہٹ کے خلاف اپنی جدوجہد میں لینن نے عہدیداروں سے نیچے والی پرت پر انحصار کیا، جو زیادہ بہتر طور پر عام مزدور بالشویک کی عکاسی کرتی تھی۔
سوشل حب الوطنوں کی عارضی قوت اور بالشویکوں کے موقع پرست دھڑے کی پوشیدہ کمزوری اِس حقیقت میں مضمر تھی کہ سوشل حب الوطن اپنی بنیاد عوام کے تعصبات اور خوش فہمیوں کو بنا رہے تھے اور موقع پرست اِن عارضی تعصبات اور خوش فہمیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر رہے تھے۔ لینن کی سب سے بڑی قوت تحریک کی داخلی منطق کی سمجھ اور اِس کی بنیاد پر اپنی حکمت عملی کے تعین میں مضمر تھی۔ وہ عوام پر اپنا منصوبہ تھونپتا نہیں تھا؛ وہ عوام کی مدد کرتا تھا کہ وہ خود اپنے منصوبے کو پہچان لیں۔ جب لینن نے انقلاب کے سارے مسائل کو صرف ایک مسئلے تک محدود کر دیا کہ ’’صبر کے ساتھ وضاحت کرو‘‘ تو اِس کا مطلب تھا کہ عوام کے شعور کی مطابقت اُس صورتحال سے کروانا ضروری تھا جس میں تاریخی عمل نے اُنہیں دھکیل دیا تھا۔ مصالحت پسندوں کی حکمت عملی سے مایوس مزدور یا سپاہی کو کامینیف یا سٹالن کے درمیانے مرحلے میں بھٹکنے دینے کی بجائے لینن کے موقف پر لانا لازم تھا۔
ایک بار جب لینن اسٹ کلیے جاری ہو گئے تو اُنہوں نے بالشویکوں کے سامنے گزرے ہوئے مہینوں اور آنے والے ہر نئے دن پر نئی روشنی ڈالی۔ پارٹی کے اندر بڑے پیمانے پر تیزی سے درجہ بدرجہ بائیں سے مزید بائیں جانب، لینن کے تھیسس کی جانب تبدیلی پیدا ہوئی۔ زالزھسکی کہتا ہے، ’’ایک کے بعد دوسرا علاقہ اُن کے ساتھ وابستہ ہونے لگا اور 24 اپریل کو کُل روس پارٹی اجلاس کے وقت تک پیٹرزبرگ کی ساری کی ساری تنظیم تھیسس کے حق میں تھی۔‘‘
بالشویک صفوں کو ازسر نو مسلح کرنے کی جدوجہد، جو 3 اپریل کو شروع ہوئی تھی، مہینے کے آخر تک بنیادی طور پر ختم ہو چکی تھی۔ پارٹی اجلاس ، جس کی نشست 24-29 اپریل کو پیٹروگراڈ میں ہوئی، نے اُس مارچ کی میزان مرتب کر دی جو موقع پرستانہ تذبذب کا مہینہ تھا، اور اُس اپریل کی بھی جو گہرے بحران کا مہینہ تھا۔ اُس وقت تک پارٹی بہت نشونما پا چکی تھی، مقداری طور پر بھی اور سیاسی لحاظ سے بھی۔ 149 مندوبین پارٹی کے 79 ہزار اراکین کی نمائندگی کر رہے تھے، جن میں سے 15 ہزار پیٹروگراڈ میں مقیم تھے۔ ایک ایسی پارٹی کے لئے یہ ایک متاثر کن عدد تھا جو کل تک غیرقانونی تھی اور آج حب الوطنی کی مخالف تھی، لینن نے کئی بار اطمینان کے ساتھ اس طرف توجہ مبذول کروائی۔ اجلاس کے سیاسی خدوخال کا تعین فوراً ہی پانچ اراکین پر مشتمل مجلس صدارت نے کر دیا۔ اس میں کامینیف اور سٹالن شامل نہیں تھے، جو مارچ کی بدبختی کے سب سے زیادہ ذمہ دار تھے۔
اگرچہ مجموعی طور پر پارٹی کے لئے متنازعہ سوالات پختگی سے طے پا گئے تھے، لیکن ماضی کے ساتھ ابھی تک چمٹے ہوئے کئی رہنماؤں نے اِس اجلاس میں لینن کی مخالفت یا نیم مخالفت جاری رکھی۔ سٹالن خاموش رہا اور انتظار کرتا رہا۔ ڈزرزنسکی (Dzerzhinsky) نے ’’اصولی طور پر ترجمان کے تھیسس سے اتفاق نہ کرنے والے بہت سوں ‘‘ کی طرف سے مطالبہ کیا کہ ’’ہمارے ساتھ انقلاب کے عملی تجربے سے گزرنے والے کامریڈوں‘‘ کی اختلافی رپورٹ بھی سنی جائے۔ یہ لینن اسٹ تھیسس کے تارک وطن کردار پر کھلا حملہ تھا [۲]۔ کامینیف نے بورژوا جمہوری آمریت کے دفاع میں اختلافی رپورٹ درحقیقت پیش بھی کی۔رائیکوف، ٹامسکی اور کالینن نے کم و بیش اپنے مارچ کے موقف پر قائم رہنے کی کوشش کی۔ کالینن نے لبرلزم کے خلاف جدوجہد میں منشویکوں کے ساتھ اتحاد بنانے کی وکالت جاری رکھی۔ ماسکو کے نمایاں پارٹی کارکن سمیڈووچ نے اپنی تقریر میں غصے سے شکایت کی کہ ’’جب بھی ہم بولتے ہیں تو ہمارے خلاف کامریڈ لینن کے تھیسس کی شکل میں ایک خاص قسم کابھوت کھڑا کر دیا جاتا ہے۔‘‘ اس سے پہلے جب ماسکو کے یہ اراکین منشویکوں کی قراردادوں کے حق میں ووٹ ڈال رہے تھے تو زندگی بڑی پرامن تھی۔
لینن پر روسی پرولتاریہ کو کمزور کرنے والے علیحدگی پسندانہ رجحانات کو تحفظ دینے کا الزام لگاتے ہوئے ڈزرزنسکی نے روزا لکسمبرگ کے شاگرد کی حیثیت سے اقوام کے حق خود ارادیت کے خلاف بات کی۔ عظیم روسی وطن پرستی کی حمایت کرنے کے لینن کے جوابی الزام کا جواب ڈزرزنسکی نے یوں دیا: ’’ میں پولش، یوکرائنی اور دوسرے وطن پرستوں کے نقطہ نظر سے اس (لینن) کی سرزنش کر سکتا ہوں۔‘‘یہ مکالمہ سیاسی تیکھے پن سے خالی نہیں ہے: عظیم -روسی لینن ایک پولینڈ کے باشندے ڈزرزنسکی پر عظیم- روسی وطن پرستی کا الزام لگاتا ہے اور اِس پولینڈ کے باشندے کی جانب سے اُس پر پولش وطن پرستی کا الزام لگتا ہے۔ سیاسی طور پر اِس لڑائی میں لینن درست تھا۔ قومیتوں پر اُس کی حکمت عملی اکتوبر انقلاب کا ایک انتہائی اہم عنصر تھی۔
حزب مخالف واضح طور پر کمزور ہو رہی تھی۔ زیر بحث سوال پر اُسے سات سے زیادہ ووٹ نہیں ملے۔ تاہم پارٹی کے بین الاقوامی تعلقات سے متعلق ایک عجیب اور گہرا استثنا تھا۔ اجلاس کے بالکل آخر میں، 29 اپریل کو شام کی نشست میں زینوویف نے اپنے کمیشن کی طرف سے ایک قرارداد پیش کی: ’’18 مئی کو (سٹاک ہوم میں) منعقدہونے والی زمروالڈ والوں کی بین الاقوامی کانفرنس میں حصہ لیا جائے۔‘‘ رپورٹ بتاتی ہے: ’’ایک کے خلاف سارے ووٹوں سے قرارداد منظور کر لی گئی۔‘‘ یہ ایک ووٹ لینن کا تھا۔ وہ زمروالڈ سے علیحدگی کا مطالبہ کر رہا تھا، جہاں اکثریت فیصلہ کن طور پر جرمن انڈپنڈنٹوں اور سوئٹزرلینڈ کے گرِم (Grimm) جیسے غیرجانبدار امن پسندوں کی رہی تھی۔ لیکن پارٹی کے روسی حلقے کے لئے جنگ کے دوران زمروالڈ تقریباً بالشویزم کے ساتھ ہی جڑ گیا تھا۔ مندوبین ابھی تک سوشل ڈیموکریٹ کا نام ترک کرنے یا زمروالڈ سے الگ ہونے کے لئے تیار نہیں تھے، جو مزید برآں اُن کی نظروں میں دوسری انٹرنیشنل کے عوام کے ساتھ ایک بندھن تھا۔
لینن نے آنے والی اِس کانفرنس میں شرکت کو معلوماتی مقاصد کے لئے موجودگی تک محدود کرنے کی کوشش کی۔زینوویف اس کے خلاف بولا۔ لینن کی تجویز مسترد کر دی گئی۔ اُس نے پھر ساری قرارداد کے ہی خلاف ووٹ دے دیا۔ کسی نے اُس کی حمایت نہیں کی۔ یہ ’’مارچ‘‘ کے رجحان کا آخری چھینٹا، گزرے ہوئے کل کے موقف سے ایک پیوستگی، ’’تنہائی‘‘کا ایک خوف تھا۔ تاہم سٹاک ہوم کانفرنس منعقد نہیں ہوئی، یہ زمروالڈ کی انہی داخلی بیماریوں کا نتیجہ تھا جن کی وجہ سے لینن اس سے الگ ہوا تھا۔ یوں اُس کی بائیکاٹ کی متفقہ طور پر مسترد شدہ حکمت عملی حقیقت بن گئی۔
پارٹی کی سمت میں تیز تبدیلی سب کے لئے واضح تھی۔ ایک مزدور بالشویک اور بعد ازاں محنت کے عوامی کمیسار شمٹ نے اپریل کے اِس اجلاس میں کہا: لینن نے کام کے کردار کو مختلف سمت دے دی ہے۔‘‘ راشکولنیکوف نے کئی سالوں بعد لکھا کہ لینن نے اپریل 1917ء میں ’’پارٹی رہنماؤں کے شعور میں اکتوبر انقلاب برپا کیا… ہماری پارٹی کا طریقہ کار ایک سیدھی لکیر نہیں ہے، بلکہ لینن کی آمد کے بعد اِس نے بائیں طرف تیز چھلانگ لگائی۔‘‘ پرانی بالشویک لڈمیلا سٹاہل (Ludmila Stahl) نے زیادہ بلاواسطہ اور زیادہ درست طور پر تبدیلی کو پرکھا۔14 اپریل کو پارٹی کے شہری اجلاس میں اُس نے کہا’’لینن کی آمد سے قبل سارے کامریڈ اندھیرے میں بھٹک رہے تھے ۔ہمیں صرف 1905ء کے کلیے معلوم تھے۔ عوام کے آزادانہ تخلیقی کام کو دیکھتے ہوئے ہم اُنہیں سکھا نہیں پائے… ہمارے کامریڈ صرف پارلیمانی طریقوں سے آئین ساز اسمبلی کی تیاری تک ہی محدود تھے اور اِس سے آگے جانے کے امکان پر غور نہیں کیا۔ لینن کے نعروں کو قبول کرتے ہوئے ہم وہ کر رہے ہیں جس کی تجویز خود زندگی ہمیں دے رہی ہے۔ہمیں کمیون سے ڈرنے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے پاس پہلے سے ہی مزدوروں کی حکومت ہے؛ پیرس کا کمیون صرف مزدوروں ہی کی نہیں بلکہ پیٹی بورژوا حکومت بھی تھی۔‘‘ سوخانوف سے اتفاق کرنا ممکن ہے کہ پارٹی کو ازسر نو مسلح کرنے کا عمل ’’لینن کی سب سے بڑی اور بنیادی فتح تھی، جو مئی کے ابتدائی دنوں تک مکمل ہوئی۔‘‘ سوخانوف کا خیال تھا کہ اِس کاروائی میں لینن نے ایک مارکسی ہتھیار کی جگہ انارکسٹ ہتھیار استعمال کیا۔
اگرچہ جواب دینے سے زیادہ آسان سوال پوچھنا ہے، لیکن یہ پوچھنا ابھی باقی ہے اور یہ کوئی غیراہم سوال نہیں ہے : اگر اپریل 1917ء میں لینن روس نہ پہنچتا تو انقلاب کیسے آگے بڑھتا؟ اگر ہماری تشریح کوئی چیز بھی واضح اور ثابت کرتی ہے تو وہ یہ ہے کہ لینن انقلابی عمل کا خالق نہیں تھا، وہ بس معروضی تاریخی قوتوں کے سلسلے میں داخل ہی ہوا۔ لیکن وہ اس سلسلے کی عظیم کڑی تھا۔ اِس ساری صورتحال سے پرولتاریہ کی آمریت کا ہی نتیجہ اخذ ہونا تھا، لیکن ابھی اسے قائم کرنا باقی تھا۔ ایک پارٹی کے بغیر یہ قائم نہیں ہو سکتی تھی۔ پارٹی اپنے مقصد کو سمجھنے کے بعد ہی پورا کر سکتی تھی۔ اِس کے لئے لینن ضروری تھا ۔ اُس کی آمد تک کوئی ایک بالشویک رہنما بھی انقلاب کی تشخیص کی جرات نہیں کر سکا تھا۔ کامینیف اور سٹالن کی قیادت کو واقعات کی روش نے دائیں طرف، سوشل حب الوطنوں کی طرف اچھال دیا تھا: لینن اورمنشویزم کے بیچ میں انقلاب نے درمیانی موقف کے لئے کوئی جگہ نہیں چھوڑی تھی۔ بالشویک پارٹی میں داخلی جدوجہد بالکل ناگزیر تھی۔ لینن کی آمد نے اِس عمل کو صرف تیز ہی کیا۔ اُس کے ذاتی اثرورسوخ نے بحران کو مختصر کر دیا۔ تاہم کیا اعتماد کے ساتھ یہ کہنا ممکن ہے کہ اُس کے بغیر پارٹی اپنا راستہ تلاش کر سکتی تھی؟ ہم کسی طو ر بھی یہ کہنے کی جرات نہیں کریں گے۔ یہاں وقت کا عنصر فیصلہ کن ہے اور ماضی میں جھانک کر تاریخ کی گھڑی میں وقت دیکھنا مشکل ہے۔ جدلیاتی مادیت اور تقدیر پرستی میں کچھ بھی مشترک نہیں ہے۔ لینن کے بغیر موقع پرست قیادت نے ناگزیر طور پر جو بحران پیدا کرنا تھا اُس نے ایک غیرمعمولی طور پر تیز اور طویل کردار اختیار کر لینا تھا۔ تاہم جنگ اور انقلاب کے حالات نے پارٹی کو اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے لمبا وقت نہیں دینا تھا۔ یوں کسی طور خارج ازامکان نہیں تھا کہ ایک بے سمت اور تقسیم شدہ پارٹی شاید انقلابی موقع کئی سالوں کے لئے گنوا دیتی۔ یہاں شخصیت کا کردار ہمارے سامنے دیوہیکل پیمانے پر سامنے آتا ہے۔ تاریخی سلسلے میں شخصیت کو ایک کڑی گردانتے ہوئے ضروری ہے کہ اُس کردار کو درست طور پر سمجھا جائے۔
طویل غیرموجودگی کے بعد لینن کی بیرون ملک سے ’’اچانک‘‘ آمد، اُس کے نام کے گرد پریس کی جانب سے برپا کی جانے والی غضب ناک چیخ و پکار، اپنی ہی پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ اُس کا تصادم اور اُن پر اُس کی فوری فتح… مختصراً یہ کہ صورتحال کا بیرونی غلاف اِس صورت میں فرد، سورما اور ذہین و فطین آدمی کے معروضی حالات، عوام اور پارٹی کے ساتھ میکانکی موازنے کو آسان بنا دیتا ہے۔ لیکن ایسا موازنہ درحقیقت یکطرفہ ہے۔ تاریخی ارتقا میں لینن کوئی حادثاتی عنصر نہیں بلکہ روسی تاریخ کے سارے ماضی کی پیداوار تھا۔ وہ انتہائی گہری جڑوں کے ساتھ اس میں جما ہوا تھا۔ مزدوروں کے ہراول دستے کے ساتھ وہ پچھلی ایک چوتھائی صدی کے دوران اُن کی جدوجہد کے تجربے سے گزرا تھا۔’’حادثہ‘‘ واقعات میں اُس کی مداخلت نہیں بلکہ وہ چھوٹا سا تنکا تھا جس سے برطانوی وزیراعظم لائڈ جارج نے اُس کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی۔ لینن نے پارٹی کی مخالفت باہر سے نہیں کی تھی، بلکہ وہ خود اِس کا سب سے مکمل اظہار تھا۔ اِس کی تربیت کے دوران اُس نے اِس کے اندر اپنی تربیت کی تھی۔ بالشویکوں کے رہنما حلقوں سے اُس کے انحراف کا مطلب پارٹی کے مستقبل کی اِس کے ماضی کے خلاف جدوجہد تھا۔ اگر ہجرت اور جنگ کے حالات کی وجہ سے لینن مصنوعی طور پر پارٹی سے الگ نہ ہوا ہوتا تو بحران کی بیرونی میکانیات اتنی ڈرامائی نہ ہوتیں اور اِس حد تک پارٹی کے ارتقا کے داخلی تسلسل کو ماند نہ کرتیں۔ لینن کی آمد کو ملنے والی غیرمعمولی اہمیت سے صرف یہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ رہنما حادثاتی طور پر تخلیق نہیں ہوتے ہیں، کہ وہ دہائیوں کے عرصے میں بتدریج چُنے جاتے ہیں اور تربیت پاتے ہیں، کہ وہ پل بھر میں تبدیل نہیں کئے جا سکتے ہیں، کہ جدوجہد سے اُن کی میکانکی بے دخلی پارٹی کو ایک زندہ زخم لگاتی ہے اور کئی صورتوں میں پارٹی کو لمبے عرصے تک مفلوج بھی کر سکتی ہے۔

*****

[۱] فروی 1917ء سے پہلے تک لینن کا خیال تھا کہ روس میں انقلاب کا کردار شروعات میں جمہوری ہو گا، یعنی کہ یہ سوشلسٹ انقلاب نہیں بلکہ قومی جمہوری انقلاب ہو گا، جس کا مقصد جاگیرداری اور بادشاہت کا خاتمہ اور جمہوریہ (Republic) کا قیام ہو گا۔ پرولتاریہ اس جمہوری انقلاب میں کسانوں کے ساتھ ہراول کردار ادا کرے گا لیکن اس کا مقصد ’پرولتاریہ کی آمریت‘ کا قیام نہیں بلکہ قومی جمہوری انقلاب کی تکمیل ہو گا۔تاہم منشویکوں اور دوسرے مصالحت پسند رجحانات کے برعکس جمہوری انقلاب کے لئے بھی لینن بورژوازی سے مصالحت یا مفاہمت کا سخت مخالف تھا۔ لیکن 1917ء میں انقلاب اِس جمہوری مرحلے سے پہلے ہی آگے بڑھ چکا تھا۔ ٹراٹسکی نے پہلے ہی اس کی پیش بینی اپنے ’’انقلابِ مسلسل‘‘ کے نظرئیے میں کی تھی۔ لینن نے اپنے ’اپریل تھیسس‘ میں اسی نظرئیے کی توثیق کر دی۔
[۲] لینن نے یہ تھیسس روس آتے ہوئے ٹرین میں مرتب کئے تھے۔ مخالفین اب اس بنیاد پر اُسے تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے کہ اُسے روس کے حالات کا ٹھیک طرح سے پتا نہیں تھا۔