← Back to Newsroom OS پاکستان

پاک فوج کی لبرل عظمتیں

By جدوجہد • 2025-05-22 • 12 min read

کنور خلدون شاہد

پاک فوج راہِ شِیر کی نمبر ون فوج ہے اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں۔۔۔بلکہ اگر نمبر ون سے اوپر کوئی اعلیٰ ترین فائیو سٹار علامتی عہدہ ہوتا ہے تو وہ بھی بغیر تاخیر کے اس غیر معمولی اور مثالی فوج کو اعزازی طور پر دے دینا چاہئے۔۔۔اگر ماضی میں کبھی اس مصنف کے کی بورڈ نے ایسے الفاظ کا مجموعہ مرتب کیا ہو جن کی تشریح میں  پاک فوج کی غیر مشروط عقیدت کے سوا کچھ بھی اور رونما ہوا ہو تویہ قاری کی لفظ پرستی اورتنگ نظری کی نشاندہی کرتا ہے- بحیثیت لبرل، مصنف نہ صرف اپنے تاثرات کی لبرل یعنی لچک دار تشریح کا قائل ہے بلکہ ایک آزاد خیال فرد ہونے کے ناطے موقع کی مناسبت سے اپنے ہر لفظ کو اس کے مفہوم کی قید سے آزاد بھی دیکھنا پسند کرتا ہے۔اور اس ملک میں حقیقی آزادی کی ضامن  پاک فوج کے سوا اور کون ہے؟

جس کسی گستاخ نے ہماری مسلح افواج  پر انگلی اٹھائی ہو گی، اس نے کبھی کسی مصلیٰ پر شہادت کی انگلی نہ اٹھائی ہو گی۔ بس مصنف نے اتنا ہی ٹویٹ کیا تھا تو چند صارفین نے مصنف کے لبرلزم پر ہی حملہ کر دیا۔ ترقی پسندانہ استعارات میں ہم اسلامی ٹچ تو برسوں سے کبھی کفر توڑ کر اور کبھی بت اٹھوا کر دیتے آ ہی رہے ہیں، آپ بس یوں سمجھ لیجئے کہ پاک فوج نے معرکہ حق میں دشمن کو ایسا ناکوں بڑا گوشت  چبوا یا کہ مصنف کے  لبرلزم کا رخ قبلہ اول کی جانب ہو گیا۔ یومِ تشکر قبلہ رخ ہوکر پاک فوج کی لبرل عظمتیں گنتے ہی گزرا۔

ہرگنتی کا آغاز  لامحالہ 14 صدیوں پہلے ہی ہوتا ہے جب محمد بن قاسم نہ صرف پہلا پاکستانی بنا بلکہ پہلا لبرل پاکستانی بھی۔ لبرل بن قاسم نے جن عقائد سے لیس ہو کر سندھ فتح کیا تھا،آج بھی ان کے علمبر دار طوطے کی طرح وہی سبق دہراتے ہیں۔۔۔ میاں مٹھو کی آزادی افواج الوقت کی عنایت ہے چاہے سپہ سالار قاسم ہو یا عا— اچھا یہ مت بھولئے گا کہ ہم کوئی مطالعہ پاکستان چھاپ گنوار نہیں۔ ہم اینلائٹنڈ لبرل ہیں۔سو محض اس غرض سے کسی قصے کو سچا نہیں مان لیں گے کہ اس میں مسلمانوں کی فتح اور کفار کی شکست ہے۔

ہم  غیر جانبدارانہ اور کھلے دماغ سے ماضی و حاضر کا مطالعہ کر کے ہی اسلام کو حاضر و ناظر پاتے ہیں، لیکن فقط لبرل اسلام کو۔ انشااللہ یہی تنقیدانہ تفکرہمیں ہر   گوشہ عالم میں لبرل اسلام کی کامیابی دیکھنا نصیب فرمائے جس کی کمان پاک فوج نے صدیوں سے سنبھال رکھی ہے، جس کی جیت میں ہی ہم سب کی فتح ہے۔      

ارشادِ قائداعظم محمد علی جناح، جو پہلے ہم لبرلز کے قائد ہیں بعد میں کسی اور کے،ہے کہ اسلام نے ہمیں جمہوریت ساتویں صدی میں سکھا دی تھی۔ تو یقینا ہماری افواج نے پولیٹیکل انجینئرنگ بھی اس صدی کے آس پاس ہی سیکھ لی ہوگی اور برصغیر کی تمام اسلامی سلطنتیں دراصل  ہائبرڈ ریجیمزتھیں۔ تاریخ کی بیشتر اسلامی ریاستوں کی طرح یہ بھی مسلم اور غیر مسلم رعایا میں تفریق کرتی تھیں یعنی کہ اپنے طرز کے دو قومی نظرئیے کی حامل تھیں جو ہمیں قائدِاعظم نے بذاتِ خود سکھایا۔یہ نظریہ لبرل سیکیولر اقدار کا مثالی مظہر ہے۔ مذہب سے قومیت اخذ کر کے اس پربٹوارے کی  بنیاد رکھنے سے زیادہ لبرل یعنی لچک دار اور کیا تھیوری ہو سکتی ہے؟

اس نظرئیے کی اصل لچک تو حالتِ جنگ میں دکھائی دی جب ہندوستانی مسلمان، کیا فوجی کیا مولانا کیا سیاستدان، قبائلیت پرستی کے شکار جہالت کے مارے وسعت النظر سے محروم یہ مسلمانان ہند، اپنی فوج  کی عظمتیں گننے بیٹھ گئے۔ پہلے قائداعظم کا اس لئے شکریہ ادا کرتے تھے کہ ان کی لبرل تھیوری نے مظلوم بننے کے لیے جو مسلمان مختص کئے تھے ان میں ہم شامل نہ تھے اور اب قائداعظم کا اس لئے شکر کرتے ہیں کہ ظلم کا ساتھ دینے والے مسلمانوں میں ہم شامل نہیں۔ وہ اپنی فوج کی حمایت محض قومی تعصب یا  بقا کے تعاقب میں کرتے ہیں کیوں کہ آزاد سوچ ان کے نصیب میں نہیں۔
تھینک یو جناح! آپ نے ہمیں سوچ کی آزادی عطا کرنے والی لبرل فوج کی تحویل میں رکھا۔

چند لبرل احباب کا ماننا ہے کہ دو قومی نظرئیے کی حتمی تصدیق یہ ہے کہ ہندوستانی تو بالکل ہم جیسے نکلے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ کسی تھیوری  کے سرخرو ہونے کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ اسے دشمن نے اپنا لیا ہو۔ مصنف ذاتی طور پر اس تھیوری کو دو فوجی نظریہ سمجھتا ہے جس میں ایک ہی فوج ایسی ہے جس نے پوری قوم کو اپنے کندھے پر اور بندوق کو قوم کے کندھے پر رکھ کر باہمی انحصاراور دلیری کی منفرد مثال قائم کی۔

یہ جرات کا ہی تو بٹوارہ ہے کہ دشمن نے ہماری ایک عبادت گاہ کی شناخت بدلنے کے لئے دہائیاں صرف کردیں جس دوران وہاں اس طرز کی سینکڑوں عبادت گاہوں کی بنیاد رکھ دی گئی جب کہ ہم نے نہ صرف دشمن کی مقدس عمارات کو نیست و نابود کر دیا بلکہ ایسا کوئی نیا ڈھانچہ بھی نہ پنپنے دیا۔ بنیاد پرست   بیکری شکن کیا جانیں لبرل بت شکنی کی برکات۔ ہم تو انہدام میں بھی اتنے سیکیولر ہیں کہ اپنے  ہی دین سے منسلک عبادت گاہوں کو بھی تباہ کر دیتے ہیں بشرطیکہ ان عمارات کو ان کے نام سے پکارنا قانونا جرم ہو۔ یاد رہے قانون کی بالادستی لبرل ازم کااہم جزو ہے اور ہمارے آئین میں ایسے کئی متحرک قوانین ہیں جن کی تکمیل جلاد کرے نہ کرے ہم  ضرور کر جاتے ہیں۔ دشمن کے پاس چونکہ ایسی پرجوش قانون سازی اور مطلق العنان ادارہ سازی کا  فقدان ہے تو اسے انتہا پسندوں کو قیادت سپرد کر کے ہی گزارا چلانا پڑتا ہے۔ یہ ہماری فوج کا ہی لبرل کرم ہے ہمیں کبھی کسی دہشتگرد کو منتخب کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔

اب چونکہ ہم لبرل ہیں تو خود احتسابی ہمارا نظریاتی اور قومی فریضہ  ہے۔ لبرل احتساب میں پہلا نمبر ہمیشہ طاقتور کا آتا ہے جو آج کے ڈیجیٹل دور میں لاکھوں فالوورز رکھنے والے وہ آرٹسٹس ہیں جنھوں نے جنگی جنون میں یا تو اپنا حصہ ڈالا ہی نہیں یا تاخیر سے ڈالا یا قلیل ڈالا۔ جب دشمن آرٹسٹس جہنم کو ترجیح دینے کی باتیں کر رہے ہیں تو ان کو بھی ان کے ہمراہ جہنم رسید کر دینا چاہیے۔ دعوے سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر اس جہنمی جگل بندی کو فلمایا گیا تو وہ نیٹ فلکس میں ٹاپ ٹرینڈ کرے گی۔- اگر لاجسٹک وجوہات کی بنا پر یہ فلم بندی ممکن نہ بھی ہو تو خطے کا نمبر ون پروڈکشن ہاؤس عہدِ بے وفا نامی لبرل سیکوئل فی الفور  تیار کر لے گا۔

مصنف کی ذاتی ترجیح ویسے دستاویزی فلم ہوگی کیونکہ 2025 کی جنگ جیت کر ہم نے تاریخ کی وہ جامع فتح حاصل کی جس نے ہمیں ماضی کی تمام جنگوں اور تمام  بیانیوں میں بھی فاتح قرار دے دیا ہے۔ دہشتگردوں کی آڑ میں دشمن نے ہم پر حملہ کر کے جہاں ہمیں افغانستان سمجھ بیٹھنے کی بھول کی وہاں اس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ دہشت گردی کے پیچھے جو وردی ہے اس میں بھگواکی زردی ہے – اسی طرح آج ہمارا سبز لبرالی پرچم دوبارہ مشرقی پاکستان میں لہرا کر 1971 کے پروپیگنڈا کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ کشمیر میں ہماری جنگی فتوحات کا تسلسل ان جنگجوؤں نے برقرار رکھا ہے جنھوں نے 1948، 1965، اور 1999 میں ہمیں کامیابی دلائی، جن کا بہرحال آج ہم سے کوئی تعلق نہیں۔

آج ملک کے سیاسی،سماجی اور معاشی حالات بھی ان جنگوں اور جنگجوؤں کی کامیابی کی عکاسی کر رہے ہیں۔ آج ریاست کی ہر فیلڈ میں مارشل لازم و ملزوم ہے۔ اس سے زیادہ لبرل یعنی لچکدار فتح اور کیا ہو سکتی ہے؟

Kunwar Khuldune Shahid

کنور خلدون شاہد ایک صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ ’دی ڈیپلومیٹ‘ کے پاکستان میں مقیم نمائندہ ہیں، ’دی سپیکٹیٹر‘ کے لیے بطور کالم نگار کام کرتے ہیں اور پاکستانی سیٹائر اخبارات ’دی ڈیپینڈنٹ‘ اور ’خبرستان ٹائمز‘ کے شریک بانی ہیں۔