پاکستان امن کا عالمی علمبردار بن کر کیوں ابھرا ہے؟ - روزنامہ جدوجہد
فاروق سلہریا
مین اسٹریم پاکستان اپنی عظمت کے گن گانے میں خود ہی مصروف ہے۔ایران امریکہ مذاکرات کے میزبان کے طور پر ، اسلام آباد پھولے نہیں سما رہا۔ ٹاک شو ز سے لیکر یو ٹیوبرز تک، سب یک زبان ہو کر چلا رہے ہیں: دنیا نے بالآخر پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے یا یہ کہ پاکستان نے خود کو تسلیم کروا لیا ہے۔
انٹرنیشنل ریلیشنز پڑھانے والے یونیورسٹی اساتذہ ، جنہیں عام طور پر روایتی میڈیا خال خا ل ہی اہمیت دیتا ہے، ان دنوں ٹی وی اسکرین اور ادارتی صفحات پر نمایاں ہیں۔ شائد کسی آئی آر اکیڈیمک نے میڈیا کو اطالوی فلسفی گئیوانی بوتیرو کی اصطلاح ’’مڈل پاور‘‘ سے بھی متعارف کروا دیا ہے۔ اس آسان مگر مبہم اصطلاح کا خوب چرچا ہے۔ ملیحہ لودھی نے تو’’ بلومبرگ پوڈ کاسٹ‘‘ میں عالمی سطح پر بھی سامعین کو باور کرانے کی کوشش کی کہ امریکہ کا زوال شروع ہے اور پاکستان جیسی مڈل پاور کو تسلیم کئے بغیر سورج کا مشرق سے نکلنا محال ہو سکتا ہے (بحوالہ) ۔
مڈل کلاس اور ٹویٹر مجاہدین نے اطالوی فلسفی کی اصطلاح کو دل و جان سے گلے لگا لیا ہے۔ مڈل کلاس کے لئے ان مذاکرات کا نشہ اس لئے بھی دو بالا ہو رہا ہے کہ روایتی حریف ہندوستان نہ صرف اس سارے مذاکراتی عمل سے دور رکھا جا رہا ہے بلکہ ہندوستان ان مذاکرات سے مارے حسد کے اپنی ہی آگ میں جل رہا ہے۔ریاست کے کرتا دھرتا بھی یقینی طور پر خوش ہیں۔ پاکستان کی مختصر تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے کہ ملکی اشرافیہ کو عالمی سطح پر ایسی شان و شوکت نصیب ہو رہی ہے۔ پچھلی بار، 1974 میں لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر یہ دھوم دھام نصیب ہوئی تھی۔ اس بار البتہ ،اپنی اہمیت کے حوالے سے، یہ موقع زیادہ بڑا ہے۔ چچا سام خود چل کر اسلام آباد آئے ہیں۔ کہاں وہ دن کہ چچا سام فون تک نہیں اٹھاتے تھے۔
سوال یہ ہے کہ ،وقتی طور پر ہی سہی، پاکستان اسکینڈے نیویا جیسا ،امن کا عالمی علبردار بن کر کیوں ابھرا ہے؟ گذشتہ سال ہونے والی پاک بھارت جھڑپ کے نتیجے میں مودی جی کے’’ مائی پھیرینڈ ڈولانڈ ٹرمپ‘‘کو بلاشبہ فیلڈ مارشل اور فیلڈ مارشل کے پرسنل سیکرٹری ، جو ان دنوں وزیر اعظم ہاوس میں مقیم ہیں، پسند آ گئے۔ ۔۔مگریہ توجیہ لیکن ناکافی اور ادھوری ہے۔
خارجہ پالیسی پاکستانی اشرافیہ کی معیشیت ہے
خارجہ پالیسی ریاست ِپاکستان کی روزی روٹی اور بقا کا ذریعہ ہے۔ خارجہ پالیسی حکمران اشرافیہ کی تنخواہ بھی ہے پنشن بھی۔ اس اشرافیہ نے سرد جنگ کے دوران یہ آرٹ سیکھ لیا تھا کہ جیو اسٹریٹیجک اہمیت کے حالات و واقعات میں خود کو مارکیٹ کیسے کرنا ہے۔ اسی مارکیٹنگ کے دوران ،انہوں نے یہ ہنر بھی سیکھ لیا کہ حریف عالمی یا علاقائی طاقتوں کو بیک وقت وفا داری کا یقین کیسے دلانا ہے۔ مثال کے طور پر ،پاکستان کی چین سے بھی ایسی دوستی ہے جو ہمالیہ سے اونچی اور سمندروں سے گہری ہے جبکہ امریکہ نے بھی اسے بہترین حلیف کا معزز خطاب دے رکھا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ 1970 میں چین اور امریکہ کے مابین خفیہ مذاکرات کے لئے ہنری کسنجر پاکستان آئے ۔ اس سہولت کاری کے نتیجے میں وائٹ ہاوس نے اپنی انتظامیہ کو مشرقی پاکستان کی خوں آشام راتوں کے دوران ہدایت جاری کی تھی کہ ہم بہر حال جنرل یحیٰ کے ساتھ ہیں۔
دلچسپ بات ہے کہ پاکستان گاہے بگاہے ان دونوں کو ناراض بھی کرتا رہتا ہے۔ذرا تصور کیجئے ایران امریکہ مذاکرات ایبٹ آباد سے محض ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہو رہے ہیں جہاں 2 مئی 2011 کو اسامہ بن لادن ،بقول عمران خان ،’’شہید ‘‘ کئے گئے تھے۔ گیارہ ستمبر کے بعد ،درجنوں طالبان کمانڈر اپنے خاندانوں سمیت مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں ہنسی خوشی ، امریکی سفارت خانے کے پچھواڑے میں، امن سے رہ رہے تھے۔
چین کی اپنی ناراضیاں ہیں۔ مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے چین کے انجنئیرز پاکستان میں محفوظ ہیں نہ ان کے خاندان۔ ادہر ،چین کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ پاکستانی بھائی سی پیک کے حق میں ہیں یا خلاف۔ ان پاکستانی حرکتوں سے بیزار ہو کر،عام طور پر دھیمے لہجے میں بات کرنے والے کیمونسٹ پارٹی کے بیوروکریٹ بھی سٹپٹا اٹھتے ہیں اور بسا اوقات سر عام پاکستان کی سر زنش کی جاتی ہے۔
اسی طرح، علاقائی سطح پر 1979 سے، پاکستان نے ایران کو بھی بھائی بنارکھا ہے اور سعودی عر ب سے بھی برادرانہ تعلقات ہیں حالانکہ دونوں سے اندر خانے لڑائیاں بھی چلتی رہتی ہیں۔ تہران اس بات سے نالاں ہے کہ اسلام آباد،سعودی عرب کہ شہہ پر، شیعہ مخالف مسلح جتھوں کی سر پرستی کرتا ہے۔ جنوری 2024 میں تو ایران نے اسی بہانے بلوچستان پر میزائل اور راکٹ داغ دئیے تھے۔ سیز فائر کا اعلان کرنے سے پہلے، پاکستان نے بھی جوابی طور پر ایران پر دو چار میزائل داغے جو ہمیشہ کی طرح انتہائی ’’کامیابی سے اپنے نشانے پر لگے‘‘ ۔
ادہر،2015 میں جب محمد بن سلمان نے، حوثی باغیوں کا قلع قمع کرنے کے لئے پاکستان سے کہا کہ اپنے فوجی دستے یمن بھیجوتو پاکستانی پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا کہ ہم اس جنگ میں شامل نہیں ہو سکتے۔ جمہوریت بہترین انتظام ہے۔ عرب و فارس کی ان تمام شکایتوں کے باوجود، 16 اپریل کے روز ادہر، تہران میں عباس عراقچی تہران کے میدانِ ہوائی پر،باہیں پھیلائے عاصم منیر کے انتظار میں کھڑے تھے،ادہر عین اُسی روز محمد بن سلمان شہباز شریف سے جھپیاں ڈال رہے تھے۔ ویسے تو شہباز شریف عربی بھی بول لیتے ہیں لیکن سنا ہے ان کی عربی عربوں کو سمجھ نہیں آتی۔غالب امکان ہے باہمی مذاکرات انگریزی میں ہوئے ہوں گے۔
ویسے پاکستانی میڈیا میں عاصم منیر کے دورہ ایران کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ اس کی وجہ ایران کا اہم ہونا نہیں تھا۔
ایک چالاک کلائنٹ
انٹرنیشنل ریلیشنز اور سیاسیات میں ایک تھیوری ہے کلائنٹل ازم (clientelism) ۔ مراد یہ ہے کہ غیر متحرک جمہوریتوں میں ووٹر کا اپنے انتخابی نمائندے سے تعلق سیاسی نہیں رہتا۔ وہ انتخاب (یا دیگر موقعوں پر) نوکری (یا پی ٹی آئی کے بقول،بریانی کی پلیٹ کے بدلے)اپنا ووٹ بیچ دیتا ہے۔اسی طرح، عالمی سطح پر کمزور ممالک کسی معمولی فائدے کے لئے طاقتور ملکوں کا ساتھ دینے لگتے ہیں جس کا اصل فائدہ سوپر پاور ہی اٹھاتی ہے۔
پاکستان کو بھی ایک کلائنٹ ریاست کہا جا سکتا ہے مگر یہ ایک شاطر کلائنٹ ہے۔گو ان چالاکیوں کا فائدہ عام پاکستانی شہری تک نہیں پہنچتا لیکن حکمران اشرافیہ کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ خارجہ پالیسی چونکہ اس اشرافیہ کی روزی روٹی ہے اس لئے طاقت کے عالمی و علاقائی ایوانوں میں ان کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ان ایوانوں تک پہنچ رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔ ان ایوانوں تک ابتدائی پہنچ تو سرد جنگ نے ممکن بنائی۔تاریخ کے علاوہ ،کچھ کردار جغرافئے کا تھا(اس بابت مزید بات چیت ذیل میں)۔
حالیہ ایران جنگ کے دوران، طاقت کے ایوانوں تک رسائی کے باعث پاکستانی اشرافیہ امن کی سہولت کاری کرنے کی پوزیشن میں آ گئی ۔ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ریاست ِپاکستان کا مفاد بھی ایران میں جنگ سے خاتمے سے وابستہ تھا۔
ایران جنگ شروع ہونے کے بعد،شریف سرکار تیل کی قیمتوں میں دودفعہ اضافہ کر چکی ہے۔ لوڈ شیڈنگ کی یہ حالت ہے کہ اسلام آباد میں بھی ،بجلی ایک گھنٹہ آتی ہے،دوسرے گھنٹے چلی جاتی ہے۔ حکمران طبقے میں شیعہ آبادی بارے خدشات کا ایک اظہار تو یہ تھا کہ سپہ سالار نے شیعہ عالموں کو بھرے اجتماع میں وارننگ دی کہ اگر کسی کو پاکستانی قومی مفاد کی نسبت ایران کا مفاد زیادہ عزیز ہے تو وہ ایران چلا جائے۔ یہ اجتماع کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے اور گلگت بلتستان میں پر تشدد مظاہروں کے بعد ہوا تھا۔ ان مظاہروں میں چند جانیں بھی ضائع ہوئیں اور ان میں ،غالب امکان ہے، اہل تشیع حلقوں نے ہی شمولیت کی۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے۔ فرقہ پرستی تہران پر مسلط مذہبی آمریت کا مہلک ہتھیار ہے جسے ،سعودی عرب کی طرح، تہران نے بھی محنت کش طبقے کو تقسیم کرنے اور ترقی پسند تحریکوں کو روکنے کے لئے کامیابی سے استعمال کیا ہے۔ حالیہ جنگ میں اس تقسیم کا زبردست اظہار لبنان میں دیکھنے کو ملا۔ لبنان کی کمیونسٹ پارٹی تو کیا ،شیعہ سیاسی جماعت ’’امل ‘‘نے بھی اس فرقہ واریت کی مذمت کی۔ بات یہ ہے کہ جب ’’اسلامی ریاست ‘‘ قائم کی جائے گی تو پھر اس کا فرقہ بھی ہو گا۔
معترضین یہ نقطہ اٹھا سکتے ہیں کہ ایران حماس کی حمایت بھی تو کر تا ہے مگر ایسے معترضین کے لئے عرض ہے کہ وہ یمن کو نہ بھولیں جہاں ساٹھ کی دہائی میں سعودی عرب کی وہابی حکومت جمال عبدلناصر کے خلاف ’’بر سر پیکار‘‘شیعہ سلطان کی حمایت کر رہی تھی۔ حکمرانوں کی فرقہ پرستی در اصل اشرافیہ کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے ہی ہوتے ہیں۔ اس موضوع پر تفصیل سے آئندہ لکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ فی الحال پاکستان کی خارجہ پالیسی تشکیل دینے والے زار وں کی طرف واپس چلتے ہیں۔
ایران کے عرب ممالک پر حملے بھی ریاست پاکستان کے لئے پریشانی کا باعث تھے۔ اگر جنگ بندی نہ ہوتی تو سعودی عرب کا پاکستان پر دباو بڑھ سکتا تھا کہ وہ ،معاہدے کے تحت، سعودی دفاع کے لئے سر زمینِ مقدس کا رُخ کرے۔ میزائل چاہے عرب ریگزاروں میں گر رہے تھے لیکن ہر میزائل کے گرتے ہی اسلام آباد کی مارگلہ ہلز کے دامن میں بیٹھے طاقتور لوگ ہاتھ ملنے لگتے(کچھ کے وہاں محلات اورکاروبار بھی تو ہیں)۔
اگر ایران کو ناراض نہیں کیا جا سکتا تو عرب ممالک کی ناراضی بھی تو مول نہیں لی جا سکتی۔اگر باہمی سطح پر چین نے سب سے زیادہ قرضہ دے رکھا ہے تو چین کے بعد سب سے زیادہ قرضہ خلیج کے سلطان ہی فراہم کرتے ہیں۔ دبئی والے سلطان نے تو عین جنگ کے دوران، دو ارب واپس مانگ لئے۔ یہ ’’خارجہ پالیسی ہماری معیشیت‘‘ کا اظہار تھا کہ بحران کے اِن سنگین دنوں میں پاکستانی حکمرانوں نے سعودی عرب سے تین ارب ڈالر لے کر یو اے ای کے دو ارب واپس کر ڈالے۔ قرضوں کے علاوہ، پاکستان کے لئے زر مبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ وہ پاکستانی مزدور ہیں جو خلیجی ریاستوں میں غلاموں کی طرح کام کر تے ہیں۔ کامیاب خارجہ پالیسی کا ایک تقاضہ یہ ہے کہ پاکستانی حکمران جدید غلامی کی شکل میں کام کرنے والی پاکستانی لیبر کے استحصال پر کبھی ایک لفظ تک لبوں پر نہیں لائیں گے۔
ستم ظریفی دیکھئے کہ عین جب امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں ناکام ہو رہے تھے،چین اپنے ہاں طالبان کی پاکستان سے صلح کروا رہا تھا۔ چین میں پاکستان نے ہفتہ بھر مذاکرات کئے۔ اس سال افغانستان میں جنگ کا ذکر بھی ضروری ہے۔علاوہ اور باتوں کے، پاکستانی اشرافیہ اس لئے بھی طالبان سے ناراض ہے کہ وہ نئی دہلی سے تعلقات بڑھا رہے ہیں۔ گذشتہ سال ہندوستان اور 2024 میں ایران سے جھڑپوں کا ذکر تو اوپر آ ہی چکا ہے۔ان جنگوں کا ذکر یہ یاد دلانے کے لئے کیا جا رہا ہے کہ امن نہ تو پاکستان کی مجبوری ہے نہ نظریہ۔
ریاست پاکستان چالاک کلائنٹ کیسے بنی؟
متحارب سوپر پاورز کے ساتھ بیک وقت اچھے تعلقات بنائے رکھنا محض پاکستان کا امتیاز نہیں ہے۔بعض دیگر مضافاتی ریاستیں بھی ایسا کرتی آئی ہیں۔ پاکستانی ریاست کو چلانے والی اشرافیہ کی ’’خوبی‘‘ یہ ہے کہ وہ مسلسل ایسا کرتے آ رہے ہیں۔ اس ’’چالاک پن‘‘ کی جڑیں کہاں پیوست ہیں؟
مندرجہ ذیل دو عناصر کا امتزاج اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مدد سے سکتا ہے۔
اول، پاکستانی ریاست کا عسکری کردار۔اگر کہیں جمہوریت ہو تو بار بار غیر مقبول فیصلے لینا ممکن نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر،ہندوستان میں نہ تو نہرو کے پاس یہ عیاشی موجود تھی کہ وہ اپنی نظریاتی بنیاد کو رد کرتے ہوئے بار بار تضاد بھرے فیصلے لیں نہ مودی ایسا کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان سے دوستی یا ہندوستان کی اندرونی سیاست میں مسلمان دوستی بی جے پی کی سیاست ختم کر دے گی۔ پاکستان میں خارجہ پالیسی بنانے والے کسی کو جوابدہ نہیں۔ مزید یہ کہ ہائبرڈ رژیم کی شکل میں یہ سہولت بھی دستیاب ہے کہ پالیسیاں کوئی بناتا ہے ، برا بھلا کسی اور کو سننا پڑتا ہے۔
دوم، پاکستانی ریاست کے پاس فوج ہے (یا فوج کے پاس ریاست ہے) جس کے ہاتھ میں ایٹمی قوت بھی ہے۔اپنی عسکری اور ایٹمی صلاحیت کو بوقت ضرورت کامیابی سے استعمال کر لیا جاتا ہے(اکثر کلائنٹ ریاستوں کے پاس سودے بازی کے لئے یہ قوت موجود نہیں)۔سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہے البتہٰ شہید ڈاکٹر اے کیو خان کی ’’نیٹ ورک‘‘ دن دھاڑے ایران کی ایٹمی مدد کر رہا تھا۔
اضافی طور پر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ کلانئٹ ریاست، pivotal state بھی ہے (مراد ایک ایسی ریاست جسے کوئی بھی سُوپر پاور توڑنا نہیں چاہتی بلکہ اس کی سلامتی میں ہی اپنا مفاد دیکھا جاتا ہے)۔
انٹرنیشنل ریلیشنز کے پاکستانی سکالرز عام طور پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کی وضاحت پیش کرتے ہوئے اس کی جغرافیائی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ دنیا کا ہر ملک اپنے خطے کی کسی طاقت، یا کسی عالمی طاقت کے لئے اہمیت رکھتا ہے۔ امریکی سامراج کے لئے دنیا کا ہر ملک اہم ہے وہ صومالیہ ہو یا افغانستان۔ اس لئے یہ کہنا کہ پاکستان جغرافیائی طور پر اہم ہے، ایک بیان بازی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔پاکستان میں اکثر لوگوں کو شائد معلوم بھی نہ کہ تائیوان عالمی نقشے پر کہاں ہے مگر امریکہ اور چین،دونوں کے لئے تائیوان اہم ہے۔ جغرافیہ کسی حد تک، بعض حالات میں ضرور اہم ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایران جنگ میں ایران کے پڑوسی اہم ہیں، لاطینی امریکہ کے ممالک اتنے اہم نہیں البتہ جغرافیہ کوئی ایسی تھیوری نہیں جس سے ہر بات کی وضاحت پیش کی جا سکے۔
ذرا سوچئے اگر سرد جنگ کے دوران پاکستان میں کوئی حقیقی سوشلسٹ حکومت ہوتی؟ یا یہ کہ پاکستان کی بانی جماعت جاگیردار انہ مسلم لیگ کی بجائے کیمونسٹ پارٹی ہوتی؟ خارجہ پالیسی کی،موجودہ یا سابقہ جغرافئے کے باوجود ،تاریخ بالکل مختلف ہوتی[سابقہ جغرافئے سے مراد ،1971 سے پہلے والا جغرافیہ]۔
آخر میں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ’’خارجہ پالیسی ریاست ِپاکستان کی روزی روٹی اور بقا کا ذریعہ ہے‘‘۔
راقم کے اس دعویٰ کا مطلب ہے حکمران طبقے کے نقطہ نظر سے خارجہ پالیسی ریاست ِپاکستان کی روزی روٹی اور بقا کا ذریعہ ہے۔پاکستان کے عام شہریوں ،محنت کشوں اور کسانوں کے نقطہ نظر سے یہ خارجہ پالیسی شدید ناکام ہے۔ سفارت کاری کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہوتی ہے اگر کوئی ریاست اپنے ہمسایہ ممالک سے پر امن طریقے سے معاملات حل نہ کر پائے اور مسلسل جنگ کی کیفیت میں رہ رہی ہو۔ پاکستانی اشرافیہ کی یہ ناکامی ستر سال سے واضح ہے۔
دوم، اس خارجہ پالیسی کی بھاری قیمت عام شہری ادا کرتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ َاسی کی دہائی میں ایک طرف ملک کو فرقہ وارانہ فسادات (جس میں اہل تشیع عمومی طور پر نشانہ بنے) کا گڑھ بنا دیا گیا تو دوسری طرف افغان جہاد نے اس ملک کی سیاست،معیشیت، ثقافت کا جنازہ نکالا اور قومیتوں کے سوال کو تیز کر دیا۔ گیارہ ستمبر کے بعد، انہی پالیسیوں کے نتیجے میں یہ ملک ٹیررستان بن گیا۔یاد رہے،
1989 سے لیکر 2018 تک، پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے3072 واقعات ہوئے جس مین 5,602لوگ ہلاک ہوئے۔گیارہ ستمبر کے بعد، گو عام طور پر کہا جاتا ہے کہ 70 ہزار لوگ ہلاک ہوئے مگر مسئلہ یہ ہے کہ’ تحریک طالبان پاکستان ‘کی شکل میں یہ سلسلہ جاری ہے اور یہ اعداد و شمار نئے سرے سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر یہ بھی کہ فرقہ واریت اور طالبنائزیشن یا جہاد کشمیر و جہاد افغانستان آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
یہ پہلو بھی مد نظر رہے کہ ان خارجہ پالیسیوں کا ، قومی بنیادوں پر،زیادہ نقصان پشتون اور بلوچ نے اٹھایا اور مسلسل اٹھا رہے ہیں۔
یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اس اشرافیہ کو ملنے والی حالیہ عالمی شان و شوکت کے نتیجے میں موجودہ ہائبرڈ رژیم کو اپنے جائز ہونے کا جواز بھی مل رہا ہے۔اس جواز کی مدد سے کوشش کی جا رہی ہے کہ فارم 47 کا داغ دھو دیا جائے۔ گذشتہ سال بھارت کے ساتھ جھڑپوں کے بعد، اب ایران امریکہ مذاکرات کے دوران میزبانی کرتے ہوئے اس رژیم نے عالمی سطح پر جو ساکھ بہتر بنائی ہے اس کی قیمت یہاں کے عام لوگ چکائیں گے۔ کم از کم پاکستان کا ماضی تو یہی سبق سکھاتا ہے۔ جب اور جوں جوں پاکستان کی غیر جمہوری حکومتوں کو عالمی سطح پر پزیرائی ملتی ہے تب اور توں توں (بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں) جبر بڑھتا چلا جاتا ہے۔
(یہ تحریر ،تھوڑے رد و بدل کے ساتھ شائع کی جا رہی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ مضمون انگریزی زبان میں ،معروف عالمی سوشلسٹ جریدے لنکس میں شائع ہوا)۔