’پاکستان کی ’کامیاب ‘خارجہ پالیسیوں کا خمیازہ بلوچ ،پشتون بھگت رہے ہیں‘
جدوجہد رپورٹ
(اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران امن مذاکرات کے دوران ایک عالمی نشریاتی ادارے نے مدیر جدوجہد فاروق سلہریا کا انٹرویو کیا۔ ادارے کی جانب سے بھیجے گئے تحریری سوالوں کا جو تحریری جواب فاروق سلہریا نے بھجوایا اس کا اردو ترجمہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے)
سوال: کیا یہ ایک تضاد نہیں کہ پاکستان امن کے علمبردار کے طور پر سامنے آ رہا ہے حالانکہ اس کی افغانستان کے ساتھ لڑائی جا ری ہے۔پاکستان افغانستان پر بم بررہا ہے ۔ اسی طرح، ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ٹھیک نہیں؟
فاروق سلہریا: خارجہ پالیسی پاکستان کی بقا کا ذریعہ بھی اور اس کی روٹی روزی کا بھی۔ پاکستان کی حکمران اشرافیہ نے عرصہ پہلے یہ ہنر سیکھ لیا تھا کہ اگر کوئی جیو سٹریٹیجک موقع ہاتھ لگے تو اس کا فائدہ کس طرح اٹھانا ہے۔اس چکر میں پاکستانی اشرافیہ نے یہ ہنر بھی سیکھ لیا کہ دو متحارب عالمی حریفوں کے ساتھ بیک وقت دوستی کیسے قائم رکھنی ہے، توازن کیسے برقرا ر رکھنا ہے۔مثال کے طور پر پاکستان کے ،بیک وقت،امریکہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور چین کے ساتھ بھی حالانکہ گیارہ ستمبر کے بعد پاکستان نے افغانستان میں دوغلی پالیسی اپنائے رکھی۔انقلابِ ایران کے بعد بھی، پاکستان کے ایران کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم رہے اور سعودی عرب کے ساتھ بھی۔پاکستان ایک کلائنٹ اسٹیٹ (Client State)ہے مگر انتہائی شاطر کلائنٹ۔ ہاں یہ ایک علیحدہ بحث موجود ہے کہ کیا ان خارجہ پالیسیوں کا فائدہ پاکستان کے عام شہریوں کو بھی پہنچا ،یا نہیں۔ہاں البتہ ریاست کے کرتا دھرتا اپنے مفاد کو اپنی خارجہ پالیسی سے ضرور آگے بڑھاتے رہے ہیں۔ عالمی سطح پر متحرک رہنے کی وجہ سے پاکستانی حکمرانوں کی پہنچ طاقت کی عالمی اور علاقائی غلام گردشوں تک موجود رہی ہے۔ایران جنگ کے دوران اپنی اس پہنچ کو استعمال کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پاکستانی ریاست کا اپنا مفاد اس جنگ کے ختم ہونے سے جڑا ہوا تھا۔
میری نظر میں، اسلامی سربراہی کانفرنس(1974) کے بعد، یہ دوسرا موقع ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کو ایسی شان وشوکت نصیب ہو رہی ہے مگر موجودہ موقع اسلامی سربراہی کانفرنس سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
ستم ظریفی دیکھئے کہ عین اس وقت کہ جب اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات ہو رہے تھے، چین پاکستان اور افغان طالبان کی امن بات چیت کرا رہا تھا۔یہ بات چیت ایک ہفتے پر محیط تھی۔ اسی طرح، ہندوستان کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہیں۔ گویا پاکستان نہ تو نظریاتی طور پر امن کا حامی ہے نہ امن اس کی کوئی مجبوری ہے۔پاکستان کی نظریاتی اساس ہندوستان دشمنی پر قائم ہے۔ کابل سے موجودہ کشیدگی کی وجہ بھی یہی ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی انڈیا سنٹرک(India centric) ہے۔افغان طالبان نئی دہلی سے دوستی بڑھا رہے تھے ،سو اسلام آباد غصے میں ہے۔اس ساری صورتحال کا نتیجہ اس تضاد کی شکل میں نکل رہا ہے کہ عالمی طور پر تو پاکستان امن کا علمبردار بنا ہوا ہے مگر علاقائی طور پر اس کے الٹ ہے۔
سوال: کیا پاکستان کو افغانستان اور ہندوستان سے تعلقات بہتر نہیں کرنے چاہئیں؟ کیا پاکستان ایسا کرے گا؟
فاروق سلہریا: جب میں نے یہ کہا کہ خارجہ پالیسی پاکستان کی بقا کا ذریعہ بھی اور اس کی روٹی روزی کا بھی، تو یہ بات پاکستانی اشرافیہ کے نقطہ نظر سے کی گئی۔اگر پاکستانی شہریوں کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی منہ چڑاتی نظر آتی ہے اور اس کا ایک اظہار پڑوسی ممالک سے تعلقات ہیں۔ اگر کوئی ریاست اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ہی امن سے نہیں رہ پا رہی تو یہ سفارت کاری کی شدید ناکامی ہے۔گو خطے میں امن کی نہ صرف زبردست ضرورت ہے بلکہ یہ اہم بھی ہے مگر اندریں حالات امن کے امکانات دو وجہ سے محدود ہیں۔
اول، جیسا کہ پہلے بھی کہا ،پاکستان کی نظریاتی اساس ہندوستان دشمنی پر مبنی ہے ۔اس بات کا فی الحال کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا کہ پاکستان اس شناخت کو بدلنے جا رہا ہے۔ دوم، اُدہر ہندوستان میں بھارتی جنتا پارٹی کی نہ صرف حکومت ہے بلکہ اس کا سماج پر نظریاتی غلبہ دکھائی دیتا ہے۔ بی جے پی کی تو سیاست ہی مسلمان دشمنی اور پاکستان دشمنی پر قائم ہے۔ یوں ان دو ممالک کے مابین تعلقات کی بہتری مستقبل قریب میں تو دکھائی نہیں دیتی۔
سوال: بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں فوجی آپریشن چل رہے ہیں۔عمران خان جیل میں ہیں۔ اگر پاکستان نے عالمی سطح پر امن کا علمبردار بن کر ابھرنا ہے تو کیا اسے اندرونی طور پر بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت نہیں؟
فاروق سلہریا: بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں امن اور مصالحت وقت کی پکار ہیں۔دونوں صوبوں نے بہت صدمے جھیل لئے۔اب بس ہو جانی چاہئے۔پاکستان کی چالاک کلائنٹ ریاست کی چالاکیوں کی قیمت یہ دو صوبے ادا کر رہے ہیں۔ اسی طرح، اگر پاکستان کو امن کا علمبردار بننا ہے تو ایک متحرک جمہوری نظام ضروری ہے۔اندریں حالات البتہ ایسی کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونا ممکن نہیں۔پاکستان ایک عسکری ریاست ہے۔اس عسکری کردار کے پیش نظر یہ توقع رکھنا کہ یہ ریاست عالمی سطح پر امن اور ملکی سطح پر جمہوریت کی روادار ہو گی، تضاد پر مبنی بات ہے۔اسی تضاد میں عمران کان کا سوال بھی پیوستہ ہے۔اپنی سیاسی حریفوں کی طرح وہ بھی اسٹیبلشمنٹ کی ایکسٹنشن ہیں۔جب یہ لوگ حزب اختلاف میں ہوتے ہیں تو انہیں درست مگر بد نیتی پر مبنی الزامات کے تحت جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ اس لئے نہ تو عمران خان کی رہائی کا موقف، نہ ہی ان پر مقدے چلانے کا موقف اصولی جمہوری موقف ہے۔اس بیان کی مدد سے آپ پاکستانی سیاسی ڈھانچے کے تضاد کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خارجہ پالیسی اندرونی سیاست کا عکس ہوتی ہے۔ جب اندرونی سیاست تضادات کا شکار ہے تو خارجہ پالیسی بھی تضادات کا مجموعہ دکھائی دے گی۔