← Back to Newsroom OS خبریں

پاکستانی میڈیا میں جموں کشمیر کیخلاف بھارتی طرز کا پراپیگنڈا

By Roznama Jeddojehad • 2026-07-10 • 4 min read

جے کے این ایس ایف

پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں جاری عوامی تحریک کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے۔ ریاست، اس کا میڈیا، اور اس کے کرائے کے سوشل میڈیا کارندے ایک وسیع عوامی سیاسی جدوجہد کو بدامنی، تشدد اور انتشار کا مسئلہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ وہ عوام کی طرف سے اٹھائے گئے حقیقی سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ یہ طریقہ کار ہمارے لیے نیا نہیں۔

 بھارتی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں بھارتی ریاست اور اس کے میڈیا نے “پتھر باز” کی اصطلاح استعمال کر کے کشمیری نوجوانوں کی پوری نسل کو مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی، اور فوجی قبضے کے خلاف ایک جدوجہد کو پتھروں اور گلیوں کی جھڑپوں کے تصور تک محدود کر دیا۔

آج پاکستانی ریاست اور اس کی پروپیگنڈا مشینری یہاں بھی یہی عمل دہرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ “ٹمبر کا ڈنڈا” کو لاقانونیت کی علامت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے پیچھے موجود سیاسی حقوق سے محرومی اور مزاحمت کو چھپایا جا رہا ہے۔ عوامی سرکشی سے جنم لینے والی ایک علامت کو جرم کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ ریاست اس تحریک کے خلاف جبر کا جواز پیدا کر سکے جسے وہ سیاسی طور پر شکست دینے میں ناکام رہی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک اور جھوٹ بھی پھیلایا جا رہا ہے کہ پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کے عوام نے کبھی بھارتی قبضے کے خلاف آواز نہیں اٹھائی، اور نہ ہی لائن آف کنٹرول کے پار بسنے والے عوام کے ساتھ یکجہتی میں مارچ کیے۔ یہ تاریخ کی دانستہ مسخ کاری ہے۔

 1990، 1992، 1999، 2000 اور 2019 میں مختلف ترقی پسند، قوم پرست، جمہوری اور عوام دوست تنظیموں، جن میں جے کے این ایس ایف بھی شامل ہے، نے احتجاج اور لانگ مارچ کی کالیں دیں اور لائن آف کنٹرول کی طرف مارچ کیے۔ یہ مارچ اور سیاسی تحرکات اس خطے کی زندہ مزاحمتی تاریخ کا حصہ ہیں۔

ان مارچوں میں عوام بھارتی افواج کے ہاتھوں بھی شہید ہوئے اور پاکستانی افواج کے ہاتھوں بھی۔ جے کے این ایس ایف جس میں 1990 کا وہ مارچ بھی شامل ہے۔ جس نے مسلط کردہ تقسیم کو چیرتے ہوئے بھارتی گولیوں کا سامنا کیا۔  آج اس تاریخ کو مٹایا جا رہا ہے کیونکہ یہ ریاستی بیانیے کے سیاسی کردار کو بے نقاب کرتی ہے۔ پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر کے عوام نے ہمیشہ بھارتی زیرِ انتظام جموں کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ قبضے، قتل و غارت، گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور حقِ خودارادیت سے انکار کے خلاف کھڑے ہو کر جدوجہد کی ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے اپنے حصے میں موجود جبر، استحصال اور سیاسی کنٹرول کے خلاف بھی مزاحمت کی ہے۔

یہ دونوں مؤقف ایک دوسرے سے الگ نہیں، بلکہ جموں کشمیر کے حل طلب قومی سوال سے جنم لیتے ہیں، یعنی جموں کشمیر کے عوام کا حق کہ وہ آزادی، وقار اور اپنے مستقبل پر اختیار کے ساتھ زندگی گزاریں۔ ہم بھارتی میڈیا اور بھارتی سوشل میڈیا کے ان حلقوں کی کوششوں کو بھی مسترد کرتے ہیں جو اس جدوجہد کو اپنے ریاستی مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ جموں کشمیر کے عوام کبھی بھی اس ریاست کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے جس نے بے شمار کشمیریوں کو شہادتوں، قید و بند، جبری گمشدگیوں اور بدترین ریاستی بربریت کا نشانہ بنایا۔ موجودہ پروپیگنڈے کا مقصد تحریک کو تنہا کرنا، عام لوگوں میں ابہام پیدا کرنا، گرفتاریوں اور چھاپوں کو جائز ثابت کرنا، اور سیاسی کارکنوں کو مجرم بنا کر پیش کرنا ہے۔

وہی ریاست جو عوام کے مطالبات کا جواب دینے سے انکار کرتی ہے، اب انہی مطالبات کو لیبلوں، ایڈٹ شدہ کلپس، گھڑے ہوئے بیانیوں اور اپنے میڈیا وفاداروں کی گالیوں کے نیچے دفن کرنا چاہتی ہے۔ جے کے این ایس ایف اس پوری کردار کشی کی مہم کو رد کرتی ہے ۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی جدوجہد وقار، وسائل، جمہوری حقوق اور سیاسی اختیار کی عوامی جدوجہد ہے۔ اس کا جموں کشمیر کی وسیع تر جدوجہد سے تعلق تاریخ، قربانی، اور جموں کشمیر کے حل طلب قومی سوال کے تحت جبر کے مختلف مگر باہم جڑے ہوئے تجربات سے قائم ہے۔ ہم تمام گرفتار مظاہرین، کارکنان، طلبہ، محنت کشوں اور سیاسی منتظمین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تحریک کے خلاف تمام مقدمات، چھاپے، دھونس، دھمکیاں اور ریاستی جبر فوری طور پر بند کیا جائے!