← Back to Newsroom OS خبریں

پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹیو کا 12 فروری کو طلبہ یکجہتی مارچ کا اعلان

By جدوجہد • 2026-01-29 • 9 min read

لاہور(قاضی شہریار)پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹیو (پی ایس سی)نے 12فروری کو ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ یونین کی بحالی، تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف، کیمپسز میں اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیوں کے قیام، طلبہ سمیت تمام سیاسی اسیران کی رہائی اور فلسطین سے یکجہتی سمیت دیگر مطالبات کے لیے طلبہ یکجہتی مارچ کا اعلان کیا ہے۔ لاہور میں یہ مارچ ناصر باغ سے پنجاب اسمبلی تک کیا جائے گا۔

پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹیو کے سیکرٹری جنرل اقبال خان نے روزنامہ جدوجہد سے گفتگو میں کہا کہ 12 فروری کو ہونے والا طلبہ یکجہتی مارچ ایک نہایت اہم موقع پر منعقد ہو رہا ہے، جب ریاست کی نیولبرل پالیسیوں کے تحت تعلیمی اداروں کی جارحانہ نجکاری کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں طلبہ کو منظم طریقے سے تعلیم کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران جامعات میں فیسوں میں ہوشربا اضافہ کیا جا رہا ہے اور جامعات کو ایک ایسے آمرانہ نظم و ضبط کے تحت چلایا جا رہا ہے جہاں طلبہ کی عزت نفس، حقوق اور جمہوری آزادیوں کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ مارچ اس لیے بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ ریاست کی جانب سے عائد کردہ نام نہاد”ریڈ لائنز“خصوصا احتجاج اور اجتماع کے حق پر پابندیوں کو اجتماعی اور عملی طور پر چیلنج کرنے کی ایک کوشش ہے۔ شہریوں کو بار بار یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ جمع نہیں ہو سکتے، منظم نہیں ہو سکتے اور نہ ہی اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔ 12 فروری کو لاہور بھر سے طلبہ اکٹھے ہو کر ان مسلط کردہ پابندیوں کو کھلے عام للکاریں گے اور احتجاج، اجتماع اور اظہار رائے کے اپنے حق کو واپس حاصل کریں گے۔

طلبہ یکجہتی مارچ صرف طلبہ کے فوری مسائل کو اجاگر کرنے اور طلبہ یونینز کی بحالی، جو ایک بنیادی جمہوری حق ہے، کا مطالبہ کرنے کے لیے ہی ضروری نہیں، بلکہ یہ ملک بھر میں سکڑتی ہوئی سیاسی فضا اور سیاسی آزادیوں کا گلا گھونٹنے کے خلاف ایک وسیع تر مزاحمت کا بھی آغاز ہے۔

اس مارچ کا ایک مرکزی موضوع فلسطین سے یکجہتی ہے۔ فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے والوں پر ریاستی جبر، اور فلسطین کے دشمنوں سے ریاست کی کھلی وابستگی اس امر کو ناگزیر بناتی ہے کہ ایک متحد اور غیر مصالحانہ مزاحمتی آواز بلند کی جائے۔

ہم تمام طلبہ اور ساتھیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ 12 فروری کو طلبہ یکجہتی مارچ میں شرکت کریں، نجکاری، آمرانہ طرز حکمرانی، ریاستی جبر اور سامراجیت کے خلاف کھڑے ہوں، اور اجتماعی طور پر تعلیم، وقار اور سیاسی آزادی کے اپنے حق کا مطالبہ کریں۔

مارچ کے تمام مطالبات درج ذیل ہیں:

٭طلبہ یونین پر عائد پابندی ختم کی جائے اور ملکی سطح پر فی الفور الیکشن کروائے جائیں۔
٭تمام تعلیمی اداروں میں انسداد ہراسانی کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے جن میں جمہوری انداز سے منتخب طلبہ، بالخصوص طالبات کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔
٭تمام تعلیمی اداروں کی فیسوں میں کیا جانے والا حالیہ اضافہ واپس لیا جائے اور فیسوں میں 50فیصد کٹوتی کی جائے۔
٭تعلیمی اداروں کی نجکاری کا عمل فوری بند کیا جائے۔
٭تمام طلبہ کو ان کے سٹوڈنٹ کارڈ پر مفت اور معیاری صحت اور ملک بھر کی تمام ٹرانسپورٹ پر 50فیصد سبسڈی دی جائے۔
٭ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو ڈی سکیوریٹائز کیا جائے اور ہاسٹل کے اوقات کار یکسر ختم کیے جائیں۔
٭ تمام تعلیمی اداروں میں ایس ای ٹیز سسٹم کو لاگو کیا جائے۔
٭ کل جی ڈی پی کا کم سے کم 5 فیصد تعلیم اور صحت کے لیے مختص کیا جائے۔
٭طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کیا جائے اور تعلیمی نظام کو جدید سائنسی اور ماحولیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔
٭ریاست پاکستان فی الفور بورڈ آف پیس سے علیحدگی اختیار کرے، امریکہ کے ساتھ کیے جانے والے تمام عسکری اور معاشی معاہدے ختم کرے اور مظلوم و محکوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کی مزاحمت کو سپورٹ کرے۔
٭تمام سیاسی اسیران کو رہا کیا جائے۔