پنجاب حکومت کی نئی پالیسی: سرکاری سکولوں کے بعد اب کالجوں کی بھی نجکاری کی جائے گی - روزنامہ جدوجہد
لاہور(جدوجہد رپورٹ) پنجاب حکومت نے 5ہزار380 سرکاری اسکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دینے کے بعد اب یہی پالیسی سرکاری کالجوں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’ٹربیون‘ کے مطابق صوبائی حکام نے بتایا ہے کہ ’’کالجز آف ایمینینس‘‘(ترجیحی کالجز) کے قیام کی منظوری دے دی گئی ہے، جنہیں مرحلہ وار نجی انتظام کے حوالے کیا جائے گا۔
حکومتی ہدایات پر پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ پنجاب کے تمام تحصیلوں میں ایک ایک ماڈل کالج منتخب کیا جائے گا، جسے جدید عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کر کے نجی شراکت داری کے تحت چلایا جائے گا۔دوسرے لفظوں میں جو چند کالجز بہتر سہولیات فراہم کرنے والے ہیں انہیں نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا، جب کارکردگی اور سہولیات کے حوالے سے پسماندہ ہیں، ان کالجز کی ہی بنیاد پر سرکاری شعبے کو مزید ناکام اور ناکارہ بنا کر پیش کیا جائے گا اور اچھے کالجز نجی شعبے کے حوالے کر کے نجی شعبے کی بہتر کارکردگی ظاہر کی جائے گی۔
محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے مطابق یہ کالج موجودہ سرکاری اداروں میں سے ایک مخصوص معیار پر منتخب کیے جائیں گے۔ اس معیار کے لیے 10لازمی شرائط طے کی گئی ہیں، جن میں تعلیمی شہرت،انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ فیکلٹی،طلبہ کی کارکردگی،تحقیق اور اختراع،جدید انفراسٹرکچر،لیبارٹریز اور لائبریریوں کی دستیابی،دیگر سہولتیں،صنعت سے روابط،انٹرن شپس سمیت وہ تمام عناصر شامل ہیں جو بین الاقوامی سطح کے اداروں کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کا مقصد ’’تحصیل کی سطح پر عالمی معیار کی تعلیم‘‘ فراہم کرنا ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق اس اقدام کے ذریعے سرکاری اعلیٰ تعلیم کے مزید شعبے نجکاری کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں، جس سے عام طلبہ کے لیے رسائی اور اخراجات کے نئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔