پنجاب ڈائری: کسان، دھوتی اور گندم کی سنہری فصل
مشتاق صوفی
شہر کے بھیڑ سے نکل کر اگر آپ ان دنوں میں کسی ہائی وے یا موٹر وے پر سفر کرتے ہیں تو ایک دلکش منظر آپ کا منتظر ہوتا ہے۔ یہ گرمی میں چمکتے ہوئے گندم کے سنہرے کھیت ہیں۔ تاہم حیرانی کی بات یہ ہے کہ نہ کہیں کوئی کسان اپنی روایتی درانتی لیے نظر آتا ہے، نہ کوئی کمبائن ہارویسٹرکے ساتھ۔ فصل کٹائی کے لیے تیار ہے لیکن کھیت خالی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گندم کی فصل اب کسانوں کے لیے بوجھ بن چکی ہے۔
بوائی کے موسم کے آغاز میں حکومت نے گندم کی امدادی قیمت کا اعلان کیا تھا، تاکہ کسانوں کو خوراک کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔ کسانوں نے اپنا وعدہ پورا کیا، لیکن اب جب فصل تیار ہے تو حکومت وعدہ خلافی کرتے ہوئے طے شدہ قیمت پر گندم خریدنے سے انکار کر رہی ہے۔ کسانوں کو اپنی پیداوار آدھی قیمت پر بیچنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جو کہ ان کی لاگت بھی پوری نہیں کرتی۔ اب وہ چاہے فصل کو کھیتوں میں سڑنے دیں یا کاٹ کر بیچیں، ہر صورت میں نقصان ہی ہے۔ یہ کسانوں کی سستی یا لاپروائی نہیں، بلکہ ان کے احتجاج کی ایک واضح علامت ہے۔
وہ دن گئے جب کسانوں کے پاس فراغت کا وقت ہوتا تھا، جب وہ بوہڑ یا پیپل کے درختوں کے نیچے بیٹھ کر حقہ پیتے ہوئے باتیں کرتے تھے، کیونکہ سال میں صرف دو فصلیں ہوا کرتی تھیں۔ فصلوں کے درمیانی وقفے میں آرام اور تفریح کا وقت ہوتا تھا، جو ہمارے دیہی لوک ادب، کہانیوں، گیتوں اور موسیقی کو جنم دیتا تھا، لیکن اب ان کے پاس ایسا وقت نہیں بچا۔
مشینوں کے استعمال نے ان کی فراغت کو ختم کر دیا۔یہ سب آسکر وائلڈ کے تصور کے برخلاف تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ مشینیں انسان کو مشقت کے ظلم سے آزاد کریں گی اور انہیں تخلیقی سرگرمیوں کے لیے زیادہ وقت دیں گی۔ بدقسمتی سے انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ موجودہ سماجی و معاشی نظام مشینوں کو فراغت کے لیے نہیں، بلکہ پیداوار بڑھا کر زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
سرمایہ داری کی پیدا کردہ کنزیومر سوسائٹی نے بے لگام اور نمائشی کھپت کو انسان کی قدر کا پیمانہ بنا دیا۔ منطقی طور پر اس کا مطلب یہ تھا کہ جتنا زیادہ کھپت ہو، اتنی ہی زیادہ پیداوار کی ضرورت ہو گی، جس کا عملی مطلب طویل تر اوقاتِ کار تھا۔ ہمارے کسان بھی اسی انجام سے دوچار ہوئے۔ انہیں دو روایتی فصلوں پر اکتفا کرنے کی بجائے، زیادہ تر صورتوں میں سال میں چار فصلیں اگانے پر مجبور کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ پورا سال مشقت میں جتے رہتے ہیں۔
اس سب کے ساتھ منڈی اور حکومتوں کے غیر یقینی اور پیچیدہ رویے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ یہ صورتحال عشروں سے چلی آ رہی ہے۔ کسانوں کے پاس کوئی اور راستہ نہیں کہ وہ اپنی فصلوں کے لیے تمام ان پٹ (بیج، کھاد، دوا وغیرہ) کھلی مارکیٹ سے خریدیں، جو ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیار کرکے انہیں لوٹتی ہے۔ اول تو یہ کہ ان پٹس کی قیمتیں بلاجواز اوربہت زیادہ رکھی جاتی ہیں، اوردوسرا یہ کہ اس میں متعلقہ حکومتی اداروں کی خاموش حمایت بھی شامل ہوتی ہے۔ کسان مسلسل شکوہ کرتا ہے کہ اسے منڈی کے بڑے کھلاڑی لوٹ رہے ہیں۔ وہ خود کو اس شخص کی مانند محسوس کرتا ہے، جس کی وضاحت کسی شاعر نے یوں کر رکھی ہے:
”یہاں وہ آدمی بولتا ہے جسے کوئی نہیں سنتا / وہ بہت زور سے بولتا ہے / وہ اپنی بات بار بار دہراتا ہے“،لیکن پھر بھی اسے کوئی توجہ نہیں دی جاتی، گویا وہ کسی ویرانے میں پکار رہا ہو۔
دوسری بات یہ کہ مہنگے داموں فروخت ہونے والے بہت سے ان پٹ جیسے کہ بیج، اسپرے اور کیمیکل یا تو ناقص ہوتے ہیں یا سراسر جعلی۔ ایسا مشکوک مال بازاروں میں کھلے عام فروخت کیا جاتا ہے، قانون کا کوئی خوف نہیں ہوتا، کیونکہ قانون نافذ کرنے والے خود بیچنے والوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ دونوں مل کر خریداروں کو لوٹتے ہیں، اور یہ سب جانتے ہیں کہ یہ دھندہ حکومتی اہلکاروں کی سرپرستی میں چلتا ہے۔ مارکیٹ میں ان پٹس کے معیار پر تو کوئی کنٹرول نہیں، لیکن جب بات کسان کی پیداوار خریدنے کی آتی ہے تو مارکیٹ اور سرکاری ادارے مل کر قیمتوں میں ہیرا پھیری کے ذریعے کسانوں کو لوٹتے ہیں۔ اناج کے معیار کا تعین سخت معیار کے تحت کیا جاتا ہے، جس کا فائدہ صرف درمیان میں بیٹھے آڑھتیوں کو ہوتا ہے۔ ادائیگی میں تاخیر یا قسطوں میں ادائیگی معمول کی بات ہے۔
یوں کسان دو طرفہ مار کھاتا ہے۔ ان پٹس خریدنے میں وہ منڈی کے رحم و کرم پر ہوتا ہے، اور جب وہ اپنی پیداوار بیچنے جائے تو اسے سیاسی طور پر مسلط کردہ قیمتوں کے شکنجے میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ انصاف اور قومی معیشت کے مفاد میں ضروری ہے کہ کسان اور مارکیٹ دونوں کے لیے برابری کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ یا تو مارکیٹ فورسز کو مناسب طریقے سے ریگولیٹ کیا جائے، یاپھر دونوں کو مکمل آزادی دی جائے کہ وہ آزادانہ طور پر مقابلہ کریں۔
چونکہ گندم ہماری بنیادی خوراک ہے، اس لیے یہ کسی بھی حکومت کے لیے ایک حساس سیاسی مسئلہ بن جاتا ہے، کیونکہ روٹی کی مہنگائی شہری آبادی میں غصے اور بدامنی کو جنم دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گندم کی قیمتیں اکثر سیاسی مداخلت کی زد میں رہتی ہیں۔ یہ سب حربے ہماری زراعت کی کمر توڑ دیتے ہیں، جو براہِ راست یا بالواسطہ سب سے زیادہ روزگار مہیا کرتی ہے۔
حال ہی میں لگائے گئے نئے ٹیکسز نے زرعی شعبے کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ حکومتی پالیسی کا غیر مستقل ہونا ہے۔ اگر سپورٹ پرائس کا تصور ترک کیا جا رہا ہے (جیسا کہ آئی ایم ایف کے اہداف اور سبسڈی ختم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے) تو اسے کھلے لفظوں میں ترک کیا جائے، یا اگر وعدے کیے جاتے ہیں تو انہیں پورا کیا جائے۔ یہ غیر یقینی کیفیت معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے اور کسان کی مشکلات میں غیر ضروری اضافہ کرتی ہے۔ نتیجہ ایک سیاسی و معاشی بحران کی صورت میں نکلتا ہے جو کہ روکا جا سکتا ہے۔
حکومت کے موقع پرست فیصلے حالات کو مزید خراب کرتے ہیں۔ کبھی وہ اچانک مقامی گندم خریدنے کی بجائے درآمد کا فیصلہ کر لیتی ہے، کبھی گندم کو برآمد کرنے یا اسمگل ہونے کی کھلی چھوٹ دے دیتی ہے۔ تاہم اس ساری ’دیوانگی‘میں بھی ایک ’ترتیب‘ہے۔ کچھ لوگ کہیں نہ کہیں اس پورے عمل سے ناجائز منافع کما کر اپنی جیبیں بھر لیتے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ دھوتی والا کسان گندم کی فصل کاٹنے میں کوئی جلدی کیوں نہیں دکھا رہا۔
یہ صورتحال کچھ ایسی ہی ہے جیسی بابا فرید نے 12ویں صدی میں اپنے ایک شعر میں بیان کی تھی، جس کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے:
”اے فرید! یہ دیگ میں پکنے والے خوش ذائقہ خوشبودار دانے دراصل زہر ہیں
کچھ لوگ ان کو اگاتے اگاتے مر گئے، اور کچھ فصل کو لوٹ کر فرار ہو گئے“
وارث شاہ نے 18ویں صدری میں اس صورتحال کی کچھ یوں منظر کشی کی تھی کہ ”کسان دے کھیت نوں لگی اے اگ، ویکھئیے کدوں بجھاوے گا“۔ جہاں تک کسانوں کا تعلق ہے،طریقے بدل گئے ہیں، لیکن کسانوں کے کھیت آج بھی لٹ رہے ہیں۔
(بشکریہ:’ڈان‘، ترجمہ:حارث قدیر)