پورا ملک عوامی بغاوتوں کا مرکز بنا ہوا ہے سوائے مین اسٹریم پاکستان کے
فاروق سلہریا
گو ریاست جموں کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں مگر عملی طور پر وہ اسلام آباد کی عملداری میں آتا ہے۔ وہاں ہونے والی سیاسی ہلچل کو پاکستان کی سیاست سے کٹ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ جون کے دوسرے ہفتے سے اس پار کے جموں کشمیر کی سب سے بڑی عوامی بغاوت سامنے آئی ہے۔گو پچھلے تین سال میں اس خطے کے لوگ تیسری بار عام ہڑتال کی طرف گئے ہیں مگر گذشتہ دو لانگ مارچ ،ایک طرف تو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔دوم، ہڑتالیں چند دن ہی چلیں۔ اس بار ہڑتال تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ ریاست نے جبر کے نئے نئے ہتھکنڈے استعمال کئے ہیں مگر یہ انتفادہ کسی طور کمزور پڑتی دکھائی نہیں دیتی۔ اس انتفادہ کی ایک انتہائی اہم بات یہ ہے کہ خواتین اس خطے کی تاریخ میں پہلی بار، اس بڑے پیمانے پر موبلائز ہوئی ہیں۔ قومی شناخت کا شعور بالکل بدل گیا ہے۔ انتفادہ کے موجودہ مرحلے کا انجام جو بھی ہو،بدلا ہوا شعور اس خطے کی سیاست کو نئے سرے سے تشکیل دے گا۔
ماضی میں ، نوے کی دہائی میں بھی پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں بڑی موبلائزیشن سامنے آئی تھی لیکن اس وقت اس کا فوکس سری نگر تھا۔ اس فیز میں خود مختار کشمیر کے گرد تحر یک کھڑی ہوئی تھی۔ اس بار مطالبات گورنس، سیاسی و معاشی حقوق اور نمائندگی کے حوالے سے ہیں۔
گلگت بلتستان تکنیکی طور پر ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے۔ یوں یہ خطہ بھی ریاست پاکستان کا حصہ نہیں مگر اس کی سیاست کو ریاست پاکستان سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔
گلگت بلتستان میں گذشتہ دس سال سے ،مگر پچھلے پانچ سال سے بالخصوص ، ہم نے عوامی تحریکوں کا ابھار دیکھا۔ یہاں بھی عوامی ایکشن کمیٹی سامنے آئی۔ پر امن دھرنوں کی مدد سے روڈ بلاک کرنے کی حکمت عملی نے بار بار ریاست کو مجبور کیا کہ مقامی لوگوں کے مطالبات تسلیم کرے۔ اس حوالے سے سب سے اہم کامیابی بابا جان اور ان کے ساتھیوں کی رہائی تھی۔ ان بہادر انقلابیوں کو اسی اسی اور نوے نوے سال قیدکی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ، آٹے پر سبسڈی کا مطالبہ بھی منوایا گیا۔ یہ خطہ عوامی ابھار کی علامت بنا ہوا ہے۔ بھلے پاکستان میں لوگوں کو اس کا اندازہ نہ ہو رہا ہو مگر جموں کشمیر کے لوگ گلگت بلتستان اور اس خطے کے لوگ جموں کشمیر کی سیاست کو غور سے دیکھتے ہیں۔
بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مہ رنگ بلوچ کی قیادت میں صوبے کی سیاست کوبالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ مہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری سے پہلے پورا بلوچستان سڑکوں پر امڈ آیا۔ 20 جون کو جب مہ رنگ بلوچ کو کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تو 22 جون کو پورا بلوچستان بند تھا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر عام ہڑتال اس بات کا ثبوت تھا کہ بلوچستان میں ایک پر امن عوامی تحریک نے اپنا نظریاتی غلبہ قائم کر رکھا ہے۔ جموں کشمیر کی طرح یہاں بھی خواتین پہلی بار اس بڑی تعداد میں موبلائز ہوئیں اور سیاست کی قیادت نوجوان خواتین کے پاس چلی گئی ہے۔ اسی دوران ہم نے گوادر میں بھی بڑی ہڑتالیں دیکھیں۔
خیبر پختونخواہ میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) ایک اہم ترین عوامی تحریک بن کر سامنے آئی۔ پی ٹی ایم نہ صرف متعدد بار لوگوں کو بڑے پیمانے پر موبلائز کرنے میں کامیاب ہوئی (جس میں اسلام آباد تک لانگ مارچ بھی شامل تھے)بلکہ بعض اوقات اپنے بعض مطالبات منوانے میں بھی کامیاب رہی۔
سندھ میں بھی ہم نے ایک بہت بڑی عوامی تحریک کا ابھار دیکھا جس کا مقصد ان نہروں کی تعمیر رکوانا تھا جو دریائے سندھ میں نکالی جانی تھیں اور جن سے جنوبی پنجاب میں تھل کے علاقے کو سیراب کرنا تھا۔ چھوٹے چھوٹے جلسوں سے شروع ہونے والی اس تحریک کی پہل سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے کی۔ سال کے اندر اندر یہ تحریک اتنی بڑی بن چکی تھی کہ سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی، جو کینال منصوبے پر منافقت سے کام لے رہی تھی، مجبور ہو گئی کہ اس منصوبے کی مخالفت کرے۔ آخر کار، حکومت کو یہ منصوبہ ترک کرناپڑا۔
گو خیبر پختونخواہ اور بلوچستان مین عوامی تحریکیں اپنے بڑے مطالبات منوانے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکیں، سندھ گلگت بلتستان اور کافی حد تک جموں کشمیر میں عومی تحریکوں نے اپنے بڑے مطالبات تسلیم کرائے۔
اس دوران البتہٰ پنجاب اور سندھ کے سب سے بڑے شہرکراچی میں ہمیں کوئی بڑی عوامی تحریک نظر نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہاں محنت کش عوام ، طلبہ،نوجوانوں یا درمیانے طبقے کے مسائل نہیں ہیں۔ ۔۔لیکن بہرحال یہ ایک طرح کا مین اسٹریم پاکستان کسی سیاسی ہلچل کا شکار نظر نہیں آیا۔ گو پاکستان تحریک انصاف نے کوشش کی کہ پنجاب کواپنے مقاصد کے لئے موبلائز کرے مگر پنجاب نے اس جماعت کو ووٹ تو دے دیا مگر سڑک پر نہیں نکلا۔
مین اسٹریم، میٹروپولیٹن پاکستان کی موجودہ سیاسی inactivity کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔
یہاں کے مسائل باقی خطوں سے مختلف ہیں اور یہاں ریاستی جبر اس طرح سے نہیں ہے جس طرح باقی خطوں میں ہے۔
معاشی مواقع زیادہ ہیں۔
سیاسی آزادیاں نسبتا زیادہ ہیں۔
ریاست کے سرکاری نظریات کو یہاں زیادہ قبولیت حاصل ہے کیونکہ ریاستی بندوبست سے یہاں کے لوگوں کی بڑے حصوں کو فائدہ پہنچا ہے۔
یہاں پاکستان تحریک انصاف یا ایسی سیاسی قوتوں کی بڑی حمایت موجود ہے جو ریاست کی ہی ایکسٹینشن ہیں۔
ٹریڈ یونین تحریک تقریبا غائب ہے۔ بایاں بازو بالکل مارجنل قوت ہے۔