← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

پہلی عالمی اینٹی فاشسٹ کانفرنس کا اعلامیہ: فسطائیت کے خلاف اتحاد

By جدوجہد • 2026-04-02 • 15 min read

(برازیل کے شہر پورٹوالیگرے میں منعقد ہونے والی پہلی عالمی اینٹی فاشسٹ کانفرنس کا اعلامیہ ’دی لنکس‘ میں شائع ہوا، جس کا اردو ترجمہ بذیل پیش کیا جا رہا ہے)

برازیل کے شہر پورٹو الیگرے میں دنیا کے پانچوں براعظموں کے 40سے زائد ملکوں سے ہزاروں کارکنان جمع ہوئے۔ یہ سب اپنے متنوع اتحاد کا جشن مناتے، مزاحمت کی تعمیر، اور فسطائیت، دائیں بازو کی انتہاء پسندی اور سامراجیت کے انتہائی جارحانہ مرحلے کے خلاف جدوجہد کو آگے بڑھانے کے عزم سے سرشار تھے۔ پورٹو الیگرے ایک ایسا شہر ہے جو بین الاقوامی جدوجہد کی علامت ہے اور اس کی جمہوری روایات اور امنگیں نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں۔

اسی ہفتے نوئیسٹرا امریکہ قافلہ کیوبا کے لیے کارواں روانہ ہوا؛ ارجنٹینا میں 10 لاکھ سے زائد افراد نے میلے کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا؛ برطانیہ میں لاکھوں لوگوں نے اینٹی فاشسٹ تحریک میں شرکت کی؛ اور خاص طور پر امریکہ میں تاریخی’’نو کنگز‘‘ احتجاج ہوا، جہاں لاکھوں امریکی شہری سینکڑوں شہروں میں جمع ہوئے اور ایک بار پھر ٹرمپ کو انسانیت کا دشمن قرار دیا۔

سرمایہ دار سامراجی نظام ایک گہرے بحران اور شدید اقتصادی، سماجی اور اخلاقی زوال سے گزر رہا ہے۔ اس زوال کے جواب میں سامراجی طاقتیں دنیا بھر میں فسطائیت کو فروغ دے رہی ہیں، نیولبرل پالیسیوں کو مسلط کر رہی ہیں، کمزور ممالک پر عسکری جارحیت کر رہی ہیں، اور ان کی ری کالونائزیشن کی کوششوں میں تیزی لا رہی ہیں۔

ہر ملک میں فسطائی اور نیولبرل خطرات اپنی مخصوص شکل اختیار کرتے ہیں، لیکن ان میں کچھ بنیادی خصوصیات مشترک ہیں۔ان میں جمہوری آزادیوں کا خاتمہ، مزدور حقوق کی تباہی، ساختیاتی بیروزگاری میں خوفناک اضافہ، سماجی تحفظ کے نظام کا انہدام، ٹریڈ یونینز اور عوامی تنظیموں پر ریاستی جبر، عوامی خدمات کی نجکاری، ’’کفایت شعاری‘‘کی وہ پالیسیاں جو تمام سماجی سرمایہ کاری کو ختم کر دیتی ہیں، سائنسی اور ماحولیاتی حقائق کا انکار، کسانوں کی زمینوں کی ضبطی اور ایگرو بزنس کو فروغ، قدرتی وسائل کے بے لگام استعمال کے لیے مقامی اور پسماندہ آبادیوں کو جبری طور پر بے دخل کرنا، انتہائی سخت گیر امیگریشن پالیسیاں، اور فوجی اخراجات میں بے تہاشا اضافہ شامل ہیں۔

دایاں بازو اور نیو فسطائی قوتیں ایک وسیع جارحانہ یلغار پر ہیں۔ وہ نیولبرلزم کے تباہ کن نتائج سے پیدا ہونے والی عوامی بے چینی کو استعمال کرتے ہوئے انہی پالیسیوں کو مزید تیزی سے آگے بڑھا رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے کلاسیکی فسطائیت کی طرح وہ عوامی غصے کو حقیقی ذمہ داروں کی بجائے مظلوم اور محروم طبقات کی طرف موڑ دیتی ہیں۔مہاجرین، خواتین، ایل جی بی ٹی کیو آئی پلس افراد، سماجی شمولیت کے منصوبوں سے فائدہ اٹھانے والے، نسلی اقلیتیں، اور مذہبی یا قومی اقلیتیں ان کا نشانہ بنتے ہیں۔

ہر ملک کی صورتحال کے مطابق جب بھی دائیں بازو کا عروج بڑھتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ قوم پرستی، نسل پرستی، غیر ملکیوں سے نفرت، عورت دشمنی، اینٹی ایل جی بی ٹی کیو آئی پلس تعصب، نفرت انگیزی، اور ظلم و سفاکی کی عمومی نارملائزیشن بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔

سرمائے کے ہاتھوں دولت کو مرتکز کرنے کی خواہش، اور زیادہ سے زیادہ منافع کے جس بے لگام تعاقب پر انتہائی دائیں بازو کی پالیسیوں کی بنیاد ہے، وہ سامراجی جارحیت میں اضافے کی صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے،تاکہ وسائل پر اجارہ داری قائم کی جائے اور آبادیوں کا وحشیانہ استحصال کیا جائے۔

سامراج پہلے سے کہیں زیادہ بے قابو، جارحانہ اور عسکریت پسند ہوتا جا رہا ہے۔ وہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، اور اقوام کے حق خودارادیت کو روند ڈالتا ہے۔ وہ ان ممالک پر پابندیاں عائد کرتا ہے، حملے کرتا ہے اور بمباری کرتا ہے جو اس کی ہدایات کے آگے سر نہیں جھکاتے۔ وہ ریاستی سربراہوں کو اغوا کرتا ہے اور قتل تک کر دیتا ہے۔

یہ سب نوآبادیاتی حالات کو برقرار رکھنے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ فلسطین کے معاملے میں یہ صورتحال غزہ میں ایک کھلے عام نسل کشی کی صورت اختیار کر چکی ہے، جسے صیہونی ریاست اسرائیل انجام دے رہی ہے، ایساامریکہ کی غیر مشروط حمایت اور دیگر سامراجی طاقتوں کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے حال ہی میں لبنان پر حملہ کیا اور اس پر مجرمانہ بمباری کی ہے، اور وہ عوامی طور پر اس کے جنوبی حصے کے الحاق کا ارادہ بھی ظاہر کر چکا ہے۔

ہم ہر قسم کے سامراج کی مخالفت کرتے ہیں اور اقوام کی خودارادیت کی جدوجہد کی ہر اس صورت کی حمایت کرتے ہیں جو ضروری ہو۔ انتہائی دائیں بازو کی قوتیں نیتن یاہو کی نسل کش حکومت سے اپنی گہری وابستگی کے علاوہ، عالمی سطح پر روابط قائم کرتی ہیں۔اس سلسلے میں کانفرنسیں منعد کی جاتی ہیں، تھنک ٹینکس بنائے جاتے ہیں، مشترکہ بیانات، انتخابی عمل میں باہمی تعاون، اور پروپیگنڈا و گمراہ کن معلومات کے پروگراموں میں شراکت داری کی جاتی ہے۔ انہیں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی کھلی یا خفیہ حمایت بھی حاصل ہوتی ہے، جو سامراجیت کی مزاحمت کرنے والی حکومتوں کو غیر مستحکم کرتی ہیں اور ڈیجیٹل میدان میں رجعتی پروپیگنڈے کو بڑھاتی ہیں۔

انتہائی دائیں بازو کے ابھار کے خلاف لڑنے والی قوتیں متنوع ہیں۔ان کے تجزیات، حکمت عملیاں، طریقہ کار، پروگرام اور اتحاد کی پالیسیاں بھی مختلف ہیں۔ تجربہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ان اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے بھی دشمنوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی تعمیر ناگزیر ہے۔ اس اتحاد میں وہ تمام قوتیں شامل ہونی چاہئیں جو محنت کش طبقے، کسانوں، مہاجرین، خواتین، ایل جی بی ٹی کیو آئی پلس افراد، نسلی طور پر محروم طبقات، مظلوم قومی یا مذہبی اقلیتوں، اور مقامی آبادیوں کے دفاع کے لیے تیار ہوں؛ جو فطرت کو سرمایہ دار انہ ماحولیاتی بربادی سے بچانے کے لیے کھڑی ہوں؛ جو سامراجی و نوآبادیاتی جارحیت کی ہر شکل کی مخالفت کریں؛ جو نیٹو کے خاتمے کی جدوجہد کریں؛ اور جو مزاحمت کرنے والے عوام اور حکومتوں کی حمایت کریں۔ تجزیات کا تبادلہ کرنا، روابط کو مضبوط کرنا، اور ٹھوس عملی اقدامات کرنا نہایت ضروری ہو چکا ہے۔

فاشزم اور سامراج کے خلاف مزاحمت کے ساتھ ساتھ ہمارا مقصد ایک ایسا پلیٹ فارم بھی تعمیر کرنا ہے جو مرکزی اور متحد کرنے والے نکات پر پیش رفت کے لیے بنیاد فراہم کرے۔ آمرانہ رجحانات کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عوامی شرکت کی بنیاد پر جمہوری حقوق کو بحال، وسیع، اور گہرا کیا جائے، مقامی سطح سے لے کر قومی سطح تک، اور بین الاقوامی اداروں کے اندر بھی۔ ہم روزگار کی دنیا کو مرکزی حیثیت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، اور مشترکہ عالمی اقدامات کی تجویز پیش کرتے ہیں تاکہ فاشسٹ تشدد اور نیولبرل غیر مستحکمی کے خلاف مزاحمت منظم کی جائے۔ ایک پائیدار مستقبل کا دفاع اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ سرمایہ داری اور دائیں بازو کی حکومتوں کی جانب سے فطرت کو محض ایک شے سمجھ کر اس کا استحصال کرنے اور ماحولیاتی حفاظت کو ختم کرنے کے ایجنڈے کا براہ راست سامنا کیا جائے۔ ہم زرعی اصلاحات کو خوراک کی خودمختاری کے حصول کے لیے بنیادی راستہ قرار دیتے ہیں۔

سامراج اور فاشزم کے خلاف جدوجہد کبھی اتنی ضروری اور فوری نہیں رہی جتنی آج ہے۔ یہ جدوجہد عالمی سطح پر منظم ہونی چاہیے۔ عوام کی خودمختاری کے لیے منعقدہ اینٹی فاشزم کانفرنس اس امر کا عزم کرتی ہے کہ وہ اس جدوجہد کو مسلسل جاری رکھے گی، اور دائیں بازو کے ابھار اور سامراجی جارحیت کے خلاف اتحاد کی تعمیر کے لیے پلیٹ فارم کا کردار ادا کرے گی۔ بربریت کے مقابلے میں ہم بین الاقوامی یکجہتی، عوامی جدوجہد، اور سوشلسٹ، ماحولیاتی، جمہوری، نسائی اور نسل پرستی مخالف مستقبل کا پرچم بلند کرتے ہیں۔

ہم تجویز پیش کرتے ہیں کہ :

مقامی کمیٹی کے ساتھ کوآرڈینیشن کرتے ہوئے بین الاقوامی کمیٹی آئندہ کانفرنس کی منصوبہ بندی کی تنظیم کی ذمہ دار ہوگی، اور نئی تنظیموں کی شمولیت کے لیے معیار اور تجاویز مرتب کرے گی۔

فاشزم اور سامراج کے خلاف جدوجہد کرنے والی بے شمار تنظیموں اور انجمنوں کی موجودگی کے پیش نظر، ہم ایک بین الاقوامی رابطہ پلیٹ فارم کے قیام کی تجویز دیتے ہیں تاکہ اس جدوجہد کو عالمی سطح پر متحد کیا جا سکے۔ ساتھ ہی ہم علاقائی اور قومی سطح پر اینٹی فاشزم اور اینٹی سامراج کانفرنسوں کے انعقاد کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، جس کا مقصد عوام کی خودمختاری کے لیے دوسری بین الاقوامی اینٹی فاشزم کانفرنس منعقد کرنا ہے۔

اس کانفرنس میں شریک تمام تنظیمیں، جب تک وہ واضح طور پر اس کی مخالفت نہ کریں، اس اعلامیے کی خودبخود دستخط کنندہ تصور ہوں گی۔

ہم ارجنٹینا میں ایک لاطینی امریکہ کانفرنس کے انعقاد کی حمایت کرتے ہیں ، جس کی تاریخ اور شکل ارجنٹینا کے نمائندہ وفود اور تنظیمیں بین الاقوامی کمیٹی کے ساتھ مشاورت میں تجویز کریں گی۔

ہم شمالی امریکہ میں ایک علاقائی کانفرنس کی حمایت کرتے ہیں جس میں میکسیکو، امریکہ، کینیڈا، کیریبین اور وسطی امریکہ کی تنظیمیں شامل ہوں۔

ہم گلوبل صمود فریڈم فلوٹیلا کی حمایت کرتے ہیں، جو ایک بار پھر غزہ کا محاصرہ توڑنے اور جاری نسل کشی کو بے نقاب کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ فلسطینی عوام ، چاہے غزہ میں ہوں یا مغربی کنارے میں ، ان کی جدوجہد انسانیت کا مقدمہ ہے۔ ہم بی ڈی ایس جیسے اقدامات کے ذریعے فعال یکجہتی کی حمایت کرتے ہیں۔

ہم کیوبا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، جس پر امریکہ نے مجرمانہ اقتصادی محاصرہ مسلط کر رکھا ہے، اور جس کی خودمختاری کو خطرات لاحق ہیں۔ ہم تمام یکجہتی اقدامات، بشمول حالیہ فلوٹیلاز، کی حمایت کرتے ہیں۔

ہم وینزویلا پر حملے،صدر نکولس مادورو اور رکن پارلیمان سیلیا فلوریس کے اغوا اور حراست کی مذمت کرتے ہیں، اور ان کی رہائی کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔

ہم امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فوجی حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم ایرانی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرتے ہیں اور یکطرفہ پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ہم ہر اس خطے کی آزادی، خودارادیت اور خودمختاری کا دفاع کرتے ہیں جو نوآبادیاتی یا سامراجی قبضے کے تحت ہے۔

ہم ہیٹی میں غیر ملکی مداخلت کی مذمت کرتے ہیں اور اس کے عوام کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔

ہم پولیساریو فرنٹ کی مغربی صحارا کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں ، جو ایک ایسا حق ہے جسے اقوام متحدہ بھی تسلیم کرتی ہے۔

ہم پورٹو ریکو کے عوام کی خودارادیت اور آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔

ہم 2026 میں ترکی میں ہونے والی اینٹی نیٹو کانفرنس کی حمایت کرتے ہیں۔

ہم جون 2026 میں فرانس اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے جی سیون مخالف سربراہ اجلاس کی حمایت کرتے ہیں۔

ہم موسمیاتی حقیقت کے انکار کے خلاف تمام اقدامات ، بشمول موجودہ ایکوسوشلسٹ تحریکوں اور اجتماعات ، کی حمایت کرتے ہیں۔

ہم اگست 2026 میں بینن میں ہونے والے ورلڈ سوشل فورم کی تیاری اور انعقاد کی حمایت اور اس کی تشکیل میں تعاون کرتے ہیں۔