پہلی مخلوط حکومت
(نوٹ: لیون ٹراٹسکی کی شہرہ آفاق تصنیف’انقلاب روس کی تاریخ‘ کا اردو ترجمہ عمران کامیانہ نے کیا ہے۔ اس کتاب کو سلسلہ وار ’جدوجہد‘ کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔)
تمام سرکاری نظریات، قراردادوں اور اشتہاروں کے برعکس، اقتدار صرف کاغذ پر ہی عبوری حکومت کے پاس تھا۔ نام نہاد جمہوریت کی مزاحمت پر کوئی توجہ نہ دیتے ہوئے انقلاب لمبے قدم اٹھا رہا تھا، عوام میں نئے لوگوں کو ابھار رہا تھا،سوویتوں کو مضبوط کر رہا تھا اور کسی حد تک مزدوروں کو مسلح بھی کررہا تھا۔ حکومت کے مقامی کمیسار اور اُن کے تحت قائم کی گئی ’’سماجی کمیٹیوں‘‘ ، جن میں عام طور پر بورژوا تنظیموں کے نمائندوں کا غلبہ ہوتا تھا، کو بالکل فطری طور پر اور کسی کوشش کے بغیر ہی سوویتوں نے نکال باہر کیا۔ کچھ صورتوں میں جب مرکزی اقتدار کے نمائندوں نے مزاحمت کی کوشش کی تو سخت تصادم پیدا ہوئے۔ کمیساروں نے مقامی سوویتوں پر مرکزی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا الزام لگایا۔ بورژوا پریس نے شور مچانا شروع کر دیا کہ کرونسٹٹ، شلسلبرگ یا زارٹسائن وغیرہ روس سے الگ ہو کر آزاد جمہوریہ ریاستیں بن گئے تھے۔ مقامی سوویتوں نے اِس بکواس کے خلاف احتجاج کیا۔ وزرا مشتعل ہو گئے۔بورژوازی کے سامنے دلائل پیش کرتے، دھمکیاں دیتے اور قائل کرتے ہوئے حکومتی سوشلسٹ بھاگ کر اِن جگہوں کو گئے۔لیکن اس سب نے طاقتوں کا توازن تبدیل نہیں کیا۔ دوہرے اقتدار کے نظام کو کھوکھلا کرنے والے عوامل کی فیصلہ کن اہمیت اس حقیقت میں دیکھی جا سکتی ہے کہ یہ عوامل پورے ملک میں پنپ رہے تھے، اگرچہ اِن کی رفتار مختلف تھی۔سوویتیں اب حکومت کو قابو میں رکھنے کے اداروں سے انتظامیہ کے اداروں میں تبدیل ہو رہی تھیں۔انہوں نے خود کو اقتداروں کی تقسیم کے کسی نظرئیے کے مطابق نہیں ڈھالا بلکہ فوج کے انتظامی امور، معاشی تنازعات، خوراک اور ٹرانسپورٹ کے سوالوں، حتیٰ کہ انصاف کی عدالتوں میں بھی مسلسل مداخلت جاری رکھی۔ سوویتوں نے مزدوروں کے دباؤ کے تحت آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کا حکم جاری کیا، رجعتی حکام کو ہٹایا، عبوری حکومت کے زیادہ ناقابل برداشت کمیساروں کو نکال باہر کیا، گرفتاریاں کیں اور دشمن اخباروں کو کچلا۔ مسلسل بڑھتی ہوئی خوراک کی مشکلات اور سامان کی شدید قلت کے پیش نظر صوبائی سوویتوں نے قیمتیں مقرر کیں اور صوبوں سے برآمدات اور سرکار کی جانب سے قلیل سامان کی جبری وصولی پر پابندی عائد کر دی۔ تاہم ہر جگہ سوشل انقلابی اور منشویک ہی سوویتوں کی قیادت میں تھے اور اُنہوں نے ’’اقتدار سوویتوں کے پاس‘‘ (Power to the Soviets) کا بالشویک نعرہ حقارت سے مسترد کر دیا۔
اس حوالے سے خاص طور پر سبق آموزتفلیس (Tiflis) میں سوویت کی سرگرمی ہے، جو منشویکوں کے گڑھ کا دل تھا اور جس نے فروری انقلاب کو سریتیلی اور شکائدز جیسے رہنما دئیے اور بعد میں جب وہ پیٹروگراڈ میں بری طرح سے خود کو رسوا کر چکے تھے تو انہیں پناہ بھی دی۔تفلیس سوویت نے بعد میں آزاد جارجیا کے سربراہ بننے والے جورڈانیا کی قیادت میں ہر قدم پر خود کو مجبور پایا کہ خود پر اختیار رکھنے والی منشویک پارٹی کے اصولوں کو پیروں تلے روندے اور اقتدارِ اعلیٰ کے طور پر عمل کرے۔ سوویت نے نجی چھاپہ خانوں کو اپنے استعمال کے لئے قبضے میں لے لیا، گرفتاریاں کی، سیاسی جرائم کی تفتیش اور مقدموں کا انتظام سنبھال لیا، روٹی کی راشن بندی نافذ کی اور خوراک اور ضروریات زندگی کی قیمتیں مقرر کیں۔ سرکاری نظرئیے اور حقیقی زندگی کے درمیان فرق، جو پہلے دن سے واضح تھا، مارچ اور اپریل کے درمیان بڑھتا ہی گیا۔
جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ پیٹروگراڈ میں اگرچہ ہمیشہ نہیں، لیکن کم از کم ایک مخصوص سلیقہ نظر آتا تھا ۔ تاہم اپریل کے دنوں نے بالکل واضح انداز میں عبوری حکومت کے خصی پن کا پردہ فاش کرکے یہ ظاہر کردیا کہ دارالحکومت میں اس کی بالکل بھی کوئی حمایت موجود نہیں تھی۔ اپریل کے آخری دس دنوں میں حکومت کا چراغ ٹمٹما رہا تھا اور گل ہونے کو تھا۔ ’’کیرنسکی نے انتہائی تکلیف سے کہا کہ حکومت پہلے ہی اپنا وجود کھو چکی ہے، کہ اس نے کام نہیں کیا بلکہ صرف اپنی حالت پر ہی بحث کی ہے‘‘ ( سٹینکیوچ)۔ آپ عمومی طور پر حکومت کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ اکتوبر کے دنوں تک مشکل حالات میں یہ ہمیشہ بحران سے دوچار ہوتی تھی اور بحرانات کے درمیانی وقفوں میں بمشکل ہی قائم تھی۔ مسلسل ’’اپنی حالت پر بحث‘‘ کی وجہ سے اس کے پاس کام کا وقت ہی نہیں تھا۔
مستقبل کے واقعات کی اپریل کی مشق میں سے نظریاتی طور پر تین نتائج برآمد ہوسکتے تھے۔ اقتدار مکمل طور پر بورژوازی کے پاس جا سکتا تھا؛ یہ صرف خانہ جنگی کے ذریعے ممکن تھا؛ ملیوکوف نے یہ کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اقتدار مکمل طور پر سوویتوں کے پاس جا سکتا تھا؛ یہ عمل کسی خانہ جنگی کے بغیر محض ہاتھ اٹھادینے سے، محض اس کی خواہش کر دینے سے ہی مکمل ہو سکتا تھا۔ لیکن مصالحت پسند اس کی خواہش ہی نہیں کرنا چاہتے تھے اور عوام کا اعتماد ابھی تک مصالحت پسندوں پر برقرار تھا، اگرچہ اس میں بری طرح سے دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ یوں بورژوا اور پرولتاری، دونوں بنیادی راستے بند تھے۔ ایسے میں ایک تیسرا امکان ہی بچتا تھا، یہ مصالحت کا متذبذب، نیم دلانہ، بزدلانہ اور ادھورا راستہ تھا۔ اس راستے کا نام ’مخلوط حکومت‘ تھا [۱]۔
اپریل کے آخری دنوں میں سوشلسٹوں کا مخلوط حکومت بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ بالعموم وہ کسی چیز کی پیش بینی نہیں کر رہے تھے۔ 21 اپریل کی قرارداد کے ذریعے مجلس عاملہ نے باضابطہ طور پر دوہری حاکمیت کو ایک حقیقت سے ایک آئینی اصول میں تبدیل کر دیا تھا۔ لیکن یہاں ایک بار پھر دانائی کے الّو نے بہت تاخیر سے پرواز کی: دوہری حاکمیت کی مارچ والی شکل کی یہ قانونی تقدیس عین اس لمحے کی گئی جب اس شکل کی دھجیاں پہلے ہی عوام کے عمل نے اڑا دی تھیں۔ سوشلسٹوں نے اِس معاملے میں اپنے آنکھیں بند کرنے کی کوشش کی۔ ملیوکوف بتاتا ہے کہ جب مخلوط حکومت بنانے کا سوال حکومت کی طرف سے اٹھایا گیا تو سریتیلی نے کہا: ’’اگر ہم تمہاری کابینہ میں شامل ہو جائیں تو کیا فائدہ ہو گا؟ اگر تم اکڑتے ہو تو ہم حکومت سے ایک زوردار دھماکے کے ساتھ علیحدگی پر مجبور ہوں گے۔‘‘ سرتیلی اپنے مستقبل کے ’’دھماکے‘‘ سے لبرلوں کو ڈرانے کی کوشش کر رہا تھا۔جیسا کہ ہمیشہ سے اُن کی حکمت عملی کی اساس تھی،منشویک بورژوازی کے مفادات کی آواز اٹھا رہے تھے ۔ لیکن پانی اُن کی گردنوں تک پہنچ چکا تھا۔ کیرنسکی نے مجلس عاملہ کو ڈرایا: ’’اس وقت حکومت انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہے: اس کے استعفے کی افواہیں کوئی ثانوی سا سیاسی ڈرامہ نہیں ہیں۔‘‘ اسی وقت بورژوا حلقوں کی طرف سے بھی دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ ماسکو کی شہری دوما نے مخلوط حکومت کے حق میں قرارداد منظور کی۔ 26 اپریل کو جب زمین کافی حد تک تیار ہو چکی تھی، عبوری حکومت نے ایک خصوصی استدعا میں حکومتی کام میں ’’ملک کی اُن تخلیقی قوتوں‘‘ کو بھی متعارف کروانے کی ضرورت کا اعلان کیا ’’جنہوں نے ابھی تک اس میں شرکت نہیں کی ہے۔‘‘
تاہم مخلوط حکومت کے خلاف جذبات کافی سخت تھے۔ اپریل کے آخر میں اِن سوویتوں نے حکومت میں سوشلسٹوں کی شمولیت کے خلاف ووٹ دیا: ماسکو، تفلیس، اوڈیسا، ایکاٹیرن برگ، نزھنی نووگوروڈ، ٹویر اور کئی دوسری ۔ ان کے مقاصد کا اظہار بڑے واضح انداز میں ماسکو کے ایک منشویک رہنما نے کیا: اگر سوشلسٹ حکومت میں شامل ہوتے ہیں تو ’’ایک مخصوص دھارے میں‘‘ عوام کی تحریک کی قیادت کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ لیکن یہ خیال اُن مزدوروں اور سپاہیوں کو سمجھانا مشکل تھا جن کے خلاف اِسے تشکیل دیا گیا تھا۔ عوام جس حد تک ابھی بالشویکوں کے حق میں نہیں تھے، اسی قدر وہ سوشلسٹوں کی حکومت میں شمولیت کے حق میں بھی تھے۔ اگر کیرنسکی کا وزیر ہونا اچھا ہے تو پھر چھ کیرنسکیوں کا وزیر بننا اور بھی اچھا ہے۔ عوام نہیں جانتے تھے کہ اس کا مطلب بورژوازی کے ساتھ اتحاد تھا اور بورژوازی اِن سوشلسٹوں کو اپنی عوام دشمن سرگرمیوں کے لبادے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی تھی۔ایک ہی اتحاد مارینسکی محل سے اور بیرکوں سے مختلف دکھائی دیتا تھا۔ عوام حکومت سے بورژوازی کو نکال باہر کرنے کے لئے اِن سوشلسٹوں کو استعمال کرنا چاہتے تھے۔ یوں دو متضاد قوتیں ایک لمحے کے لئے یکجا ہو گئیں۔
بالشویکوں کے ساتھ دوستانہ مراسم رکھنے والے بکتر بند یونٹ سمیت پیٹروگراڈ میں کئی فوجی یونٹوں نے مخلوط حکومت کی حمایت کر دی۔ صوبوں نے وسیع اکثریت کیساتھ مخلوط حکومت کے حق میں ووٹ دیا۔ سوشل انقلابیوں میں بھی مخلوط حکومت کا رجحان غالب تھا؛ وہ صرف منشویکوں کے بغیر حکومت میں جانے سے ڈرتے تھے۔ اور آخر میں فوج بھی مخلوط حکومت کے حق میں تھی۔ اس کے ایک مندوب نے بعد میں سوویتوں کی جون کانگریس میں اقتدار کے سوال کی طرف محاذ کا رویہ کافی بہتر طور پر بیان کیا: ’’ہمارا خیال تھا کہ فوج سے اُس وقت اٹھنے والی چیخ پیٹروگراڈ میں لازماً سنی گئی ہو گی جب اسے معلوم ہوا کہ سوشلسٹ ان لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے لئے حکومت میں شامل نہیں ہوں گے جن پر وہ اعتماد نہیں کرتے، جب کہ پوری فوج کو ان لوگوں کے ساتھ مرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے جن پر یہ اعتماد نہیں کرتی۔‘‘
دوسرے سوالوں کی طرح اِس سوال میں بھی جنگ ایک فیصلہ کن عنصر تھی۔ پہلے پہل سوشلسٹوں کا خیال تھا حاکمیت کی ہی طرح جنگ سے بھی علیحدہ رہیں اور انتظار کریں۔ لیکن جنگ انتظار نہیں کر سکتی تھی۔ اتحادی ممالک بھی انتظار نہیں کر سکتے تھے۔ محاذ بھی مزید انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا۔ حکومتی بحران کے عین درمیان میں محاذ سے مندوبین آئے اور مجلس عاملہ میں اپنے رہنماؤں کے سامنے سوال اٹھایا: ہم نے لڑنا ہے یا نہیں؟ جس کا مطلب تھا: کیا تم جنگ کی ذمہ داری قبول کرتے ہو یا نہیں؟ یہ کوئی گول مول سوال نہیں تھا۔ اتحادی ممالک بھی یہی سوال نیم دھمکی آمیز زبان میں پوچھ رہے تھے۔ مغربی محاذ پر اپریل کا حملہ اتحادیوں کو بہت مہنگا پڑا تھا اور اس کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوتے تھے۔انقلابِ روس کے زیر اثر اور اس حملے کی ناکامی کی وجہ سے فرانسیسی فوج میں تذبذب محسوس کیا جارہا تھا۔مارشل پیٹین (P-E9tain) کے الفاظ میں فوج ’’ہمارے ہاتھوں میں خم کھا رہی تھی۔‘‘اس خطرناک عمل کو روکنے کے لئے فرانسیسی حکومت کو روسی حملے اور اُس وقت تک کم از کم حملے کے پکے وعدے کی ضرورت تھی۔ مادی فائدے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ جلد از جلد انقلابِ روس سے امن کا ہالہ چھین لیا جائے، فرانسیسی سپاہیوں کے دلوں میں جاگی امید کو زہرآلود کر دیا جائے، جنگی اتحاد کے ساتھ وابستہ کر کے انقلاب کو مجروح کر دیا جائے، روسی مزدوروں اور سپاہیوں کی سرکشی کے پرچم کو سامراجی قتل و غارت کے خون اور کیچڑ میں غرق کر دیا جائے۔
اس بلند مقصد کو حاصل کرنے کے لئے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کئے گئے۔ ان ذرائع میں اتحادی ممالک کے حب الوطن سوشلسٹوں کی جگہ کوئی آخری نہیں تھی۔ اُن میں سے سب سے زیادہ تجربہ کار لوگوں کو انقلابی روس بھیجا گیا۔ وہ خوشامدانہ رویے اور چکنی چپڑی باتوں سے پوری طرح مسلح ہو کر آگئے۔ سوخانوف لکھتا ہے، ’’غیرملکی سوشل حب الوطنوں کا شاندار استقبال مارینسکی محل میں کیا گیا۔ برانٹنگ، کاچن، اوگراڈی، ڈی بروکیئر اور دوسروں کے ساتھ گھر والوں جیسا برتاؤ کیا گیا اور اُنہوں نے دوسرے وزرا کے ساتھ مل کر سوویت کے خلاف مشترکہ محاذ کھول دیا۔‘‘ یہ ماننا پڑے گا کہ مصالحت پسندوں کی سوویت بھی اکثر اُن جیسے معزز لوگوں سے ہچکچاتی تھی۔
اتحادی ممالک کے سوشلسٹوں نے محاذوں کے چکر لگائے۔ وینڈرویلڈ لکھتا ہے، ’’جنرل الیگزیف نے پوری تگ و دو کی کہ ہماری کوششوں سے وہ نتیجہ نکل آئے جس کا بیڑا کچھ ہی عرصہ پہلے بحرِ سیاہ سے جہازیوں کے مندوبین ، کیرنسکی اور البرٹ تھامس نے اٹھایا تھا، یعنی کہ حملے کی اخلاقی تیاری کی تکمیل۔‘‘ یوں دوسری انٹرنیشنل کے صدر وینڈرویلڈ اور نکولس دوم کے سابق سپہ سالار جنرل الیگزیف کو اپنی جمہوریت کے درخشاں نظریات کی جدوجہد میں مشترکہ زبان مل گئی۔ فرانسیسی سوشلزم کا ایک رہنما ریناؤڈل اطمینان کے ساتھ چیخنے کے قابل تھا: ’’اب ہم شرم کے بغیر انصاف کی جنگ کی بات کر سکتے ہیں۔‘‘ جنگ کے آغاز کے تین سال بعد انسانیت کو معلوم پڑا کہ اِن لوگوں کو شرم بھی آتی تھی۔
یکم مئی کو مجلس عاملہ نے فطرت کو معلوم تذبذب کے تمام مراحل طے کرنے کے بعد 18 کے مقابلے میں 41 کی اکثریت سے مخلوط حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔صرف بالشویکوں اور منشویک انٹرنیشنلسٹوں کے ایک چھوٹے سے حصے نے ہی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔
یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس قریبی مصالحت کا شکار بورژوازی کا مقبول رہنما ملیوکوف تھا۔ بعد میں ملیوکوف نے کہا، ’’میں باہر نہیں نکلا، انہوں نے مجھے نکال دیا‘‘، ’سپاہی کے حقوق کے منشور‘ پر دستخط سے انکار کرتے ہوئے گچکوف پہلے ہی 30 اپریل کو حکومت سے علیحدہ ہو چکا تھا۔اُن دنوں لبرلوں کے دلوں میں خوف کا اظہار اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ کیڈٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے مخلوط حکومت کو بچانے کے لئے ملیوکوف کو حکومت میں رکھنے پر اصرار نہ کرنے کا فیصلہ کیا [۲]۔ دائیں بازو کا کیڈٹ اسگوییف لکھتا ہے کہ ’’پارٹی نے اپنے رہنما سے غداری کی۔‘‘ تاہم پارٹی کے پاس کوئی اور راستہ بھی نہیں تھا۔ یہی اسگوییف بالکل درست کہتا ہے، ’’اپریل کے آخر میں کیڈٹ پارٹی کے ٹکڑے ہو چکے تھے؛ اخلاقی طور پر اُسے ایسی ضرب لگی تھی جس سے یہ بحال نہیں ہو سکتی تھی۔‘‘
لیکن ملیوکوف کے سوال پر اتحادی ممالک کو آخری بات کہنا تھی۔ برطانیہ کی پوری خواہش تھی کہ اس ڈارڈینلس حب الوطن کی جگہ ایک زیادہ اعتدال پسند ’’جمہوریت پسند‘‘ لے۔ ہنڈرسن، جو بوقت ضرورت بچانن کی جگہ بطور برطانوی سفیر لینے کے اختیارات کے ساتھ پیٹروگراڈ میں موجود تھا، نے صورتحال کی جانکاری کے پیش نظر اِس تبدیلی کو غیرضروری خیال کیا۔ درحقیقت بچانن بالکل درست جگہ پر تھا، کیونکہ وہ اُس وقت تک ہی جنگی قبضوں کا سخت مخالف تھا جب تک کہ وہ برطانیہ کی ہوس سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ اُس نے نرمی کے ساتھ ترشچینکو سے سرگوشی کی، ’’اگر روس کو قسطنطنیہ کی ضرورت نہیں ہے تو جتنا جلدی وہ اس کا اعلان کر دے اتنا ہی اچھا ہے۔‘‘فرانس نے پہلے پہل ملیوکوف کی حمایت کی، لیکن یہاں بچانن اور سوویت رہنماؤں کی پیروی کرتے ہوئے تھامس نے اپنا کردار ادا کیا۔ یوں اُس سیاستدان، جس سے عوام نفرت کرتے تھے، کو اتحادی ممالک، جمہوریت پسندوں اور آخر میں اُس کی اپنی پارٹی نے بھی چھوڑ دیا۔
ملیوکوف ایسی ظالمانہ سزا کا مستحق نہیں تھا، کم از کم اِن ہاتھوں سے تو بالکل نہیں۔ لیکن مخلوط حکومت ایک تطہیری قربانی کی متقاضی تھی۔ اُنہوں نے عوام کے سامنے ملیوکوف کو ایسی بدروح بنا کر پیش کیا جو جمہوری امن کی طرف عالمگیر فاتحانہ پیش قدمی کو اندھیر کر رہی تھی۔ ملیوکوف کو فارغ کر کے مخلوط حکومت نے ایک جنبش میں خود کو سامراجیت کے سارے گناہوں سے پاک کر لیا۔ مخلوط حکومت کے عملے اور اس کے پروگرام کی منظوری 5 مئی کو پیٹروگراڈ سوویت نے دی۔ بالشویکوں نے اس کے خلاف 100 ووٹ اکٹھے کئے۔ ملیوکوف طنزیہ انداز میں اس اجلاس کے بارے میں بتاتا ہے، ’’اجلاس نے گرمجوشی سے مقررہ وزیروں کا استقبال کیا۔ تاہم ایسی ہی طوفانی تالیوں اور نعروں سے اس نے ’پہلے انقلاب کے پرانے رہنما‘ ٹراٹسکی کا استقبال بھی کیا، جو ایک دن پہلے امریکہ سے آیا تھا اور جس نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے حکومت میں سوشلسٹوں کی شمولیت کی شدید مذمت کی تھی کہ دوہری حاکمیت ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف حکومت میں منتقل کر دی گئی تھی، مزید یہ کہ روس کو ’بچانے‘ والا واحد اقتدار تب آئے گا ’جب مزدوروں اور سپاہیوں کے نمائندگان کو اقتدار کی منتقلی کا اگلا قدم اٹھایا جائے گا‘؛ اس کے بعد ’ایک قوم کی دوسری قوم کے خلاف جدوجہد میں نہیں بلکہ محکوم اور مجبور طبقے کی حکمران طبقات کے خلاف جدوجہد میں ایک نیا عہد، خون اور فولاد کا عہد‘ شروع ہو گا ۔‘‘ ملیوکوف نے اسی طرح منظر کشی کی ہے۔ اپنے نتیجے میں ٹراٹسکی نے عوام کی حکمت عملی کے تین اصول وضع کئے، ’’اعتمادکے تین انقلابی نکات: بورژوازی پر اعتماد نہ کرو؛ رہنماؤں کو قابو میں رکھو؛ صرف اپنی قوت پر بھروسہ کرو۔‘‘ اس تقریر کے بارے میں بات کرتے ہوئے سوخانوف کہتا ہے: ’’واضح طور پر اُسے اپنے الفاظ کو ہمدردی ملنے کی توقع نہیں تھی۔‘‘ سچ بھی یہی ہے کہ مقرر کے باہر نکلتے وقت تالیاں اور نعرے اس سے کہیں دھیمے تھے جتنے کہ اُس کے داخلے کے وقت تھے۔ مصالحت کے حلقوں میں جو کچھ ہو رہا تھا اس بارے میں بہت باریک بین سوخانوف کہتا ہے: ’’اگرچہ ٹراٹسکی کا تعلق بالشویک پارٹی سے نہیں تھا، لیکن پہلے ہی افواہیں پھیل رہی تھیں کہ وہ لینن سے بھی دو ہاتھ آگے تھا۔‘‘
پندرہ میں سے چھ قلمدان سوشلسٹوں نے لے لئے۔ وہ اقلیت میں رہنا چاہتے تھے۔ حتیٰ کہ کھلے عام حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کرنے کے بعد بھی انہوں نے دھوکہ دہی کا یہی کھیل جاری رکھا۔ شہزادہ لووف وزیر اعظم رہا؛ کیرنسکی جنگ اور بحریہ کا وزیر بن گیا؛ چرنوف زراعت کا وزیر بنا۔ خارجہ امور کے وزیر کے طور پر ملیوکوف کی جگہ ترشچینکو نے لے لی، جو رقص کا ایک شوقین اور بیک وقت کیرنسکی اور بچانن، دونوں کا رازدار تھا۔ وہ تینوں کے تینوں متفق تھے کہ قسطنطنیہ پر قبضہ کئے کے بغیر بھی روس بہترین اندازمیں پیش قدمی کر سکتا تھا۔ وزارت انصاف کا سربراہ ایک معمولی وکیل پیریورزیف بنا، جسے بعد ازاں بالشویکوں کے جولائی کے واقعے کی وجہ سے وقتی شہرت مل گئی۔ سریتیلی نے خود کو ڈاک اور ٹیلی گراف کے قلمدان تک محدود رکھا تاکہ مجلس عاملہ کو وقت دے سکے۔ سکوبیلیف نے محنت کا وزیر بن کر جوش کے عالم میں سرمایہ داروں کے منافعے ایک سو فیصد کم کرنے کا وعدہ کیا۔ یہ بات بہت جلد مشہور ہو گئی۔ توازن برقرار رکھنے کی غرض سے تجارت اور صنعت کی وزارت ماسکو کے ایک بڑے صنعتکار کونووالوف کو دے دی گئی۔ وہ اپنے ساتھ ماسکو اسٹاک ایکسچینج کے کئی مشہور لوگ بھی لایا جنہیں اہم حکومتی عہدے دئیے گئے۔ویسے دو ہفتے بعد اِسی کونووالوف نے عوامی معیشت میں ’’انتشار‘‘ کے خلاف احتجاج کے طور پر استعفیٰ دے دیا۔ سکوبیلیف دو ہفتوں سے بھی پہلے منافعوں پر اپنے مبینہ حملوں سے دستبردار ہو گیا اور انتشار کے خلاف جدوجہد، یعنی ہڑتالوں کو ختم کرنے اور مزدوروں سے خود کو لگام دینے کی استدعائیں کرنے میں مصروف ہو گیا۔ جیسا کہ ساری مخلوط حکومتوں سے توقع کی جاسکتی ہے، نئی حکومت کا اعلامیہ فرسودہ اور رسمی باتوں پر مشتمل تھا۔ اِس میں امن کے لئے فعال خارجہ پالیسی، خوراک کے سوال اور زمین کے سوال کے حل کی تیاری کا اشارہ کیا گیا تھا۔ یہ صرف باتیں تھیں۔کم از کم ارادے کے نقطہ نظر سے واحد سنجیدہ نکتہ ’’روس اور اس کے اتحادی ممالک کو ممکنہ شکست سے بچانے کے لئے دفاعی اور جارحانہ سرگرمی کے لئے‘‘فوج کی تیاری کے بارے میں تھا۔ اسی میں درحقیقت اُس مخلوط حکومت کے سارے معنی کا خلاصہ موجود تھا جو روس میں اتحادی ممالک کے آخری کھیل کے لئے تشکیل دی گئی تھی۔
برطانوی سفارتکار بچانن نے لکھا، ’’روس میں مخلوط حکومت محاذ پر عسکری صورتحال میں بہتری کی ہماری آخری اور تقریباً واحد امید ہے۔‘‘ یوں چبوتروں، تقاریر، مصالحتوں اور فروری انقلاب کے لبرل اور جمہوری رہنماؤں کے ووٹوں کے پیچھے اتحادی ممالک کی شکل میں ایک سامراجی ہدایت کار کھڑا تھا۔اتحادی ممالک،جو انقلاب کے دشمن تھے، کے عسکری مفادات کے لئے جلدی سے حکومت میں شامل ہونے پر مجبور ہو جانے والے سوشلسٹوں نے جنگ کی ایک تہائی ذمہ داری قبول کر لی۔
نئے وزیر خارجہ کو اتحادی حکومتوں کی جانب سے 27 مارچ کے اعلامیے کے جواب کی اشاعت دوہفتوں کے لئے موخر کرنا پڑی، تاکہ مخلوط حکومت کے اعلامیے کے خلاف اُن کے مناظرے کو خاص طرز کی تبدیلیاں کر کے چھپایا جا سکے۔اس کے بعد سے ’’امن کے لئے فعال خارجہ پالیسی‘‘ نے اپنا اظہار سفارتی ٹیلی گراموں میں ترشچینکو کی پرجوش تبدیلیوں میں کیا۔وہ ’’دعووں‘‘کو کاٹ کر ’’انصاف کے تقاضے‘‘ لکھ دیتا تھا، ’’مفادات کے تحفظ‘‘ کی جگہ ’’عوام کی بھلائی کے لئے‘‘ لکھ دیتا تھا۔ ملیوکوف نے دانت پیستے ہوئے اپنے اِس جانشین کے بارے میں کہا: ’’اتحادی سفیروں کو معلوم تھا کہ اُس کے مراسلوں کی ’جمہوری‘ لفاظی حالات کا تقاضا تھی اور وہ اسے برداشت کر گئے۔‘‘
تھامس اور نیا آنے والا وینڈرویلڈ اپنے ہاتھ باندھ کے نہیں بیٹھے رہے۔ انہوں نے پرجوش طریقے سے ’’عوام کی بھلائی‘‘ کی تشریح اتحادی ممالک کی ضروریات کے مطابق کی اور کافی کامیابی سے مجلس عاملہ کی حماقتوں کا فائدہ اٹھایا۔ وینڈرویلڈ نے اطلاع دی، ’’سکوبیلیف اور چرنوف بڑی سرگرمی سے قبل از وقت امن کے تمام خیالات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔‘‘کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ ایسے معاونین پر انحصار کرتے ہوئے 9 مئی کو فرانسیسی وزیراعظم ریبوٹیہ اعلان فرانسیسی پارلیمنٹ کے سامنے کرنے کے قابل ہوا کہ وہ ’’کسی چیز سے دستبردار ہوئے بغیر‘‘ ترشچینکو کو تسلی بخش جواب دینے کا ارادہ کر رہا تھا۔
نہیں، حقیقی آقا کسی چیز سے دستبردار ہونے کا ارادہ نہیں کر رہے تھے۔ یہ انہی دنوں میں ہوا کہ اٹلی نے البانیا کی آزادی کا اعلان کر دیا اور فوراً ہی اسے اٹلی کے قبضے میں لے لیا۔ یہ کوئی بری عملی مثال نہیں تھی۔ عبوری حکومت کو احتجاج کرنے کا خیال آیا، جمہوریت کے لئے نہیں بلکہ ’’بلقان کے علاقے میں توازن‘‘ ٹوٹ جانے کی وجہ سے۔ لیکن خصی پن نے اُسے اپنی زبان دانتوں میں دبانے پر مجبور کر دیا۔
مخلوط حکومت کی خارجہ پالیسی میں واحد نئی چیز اِس کی امریکہ سے جلد مصالحت تھی۔ اس نئی دوستی کے تین اہم فائدے تھے: فرانس اور برطانیہ کی طرح امریکہ عسکری بدکاریوں کا زیادہ شکار نہیں تھا؛ روس کے سامنے سمندر پار کی یہ جمہوریہ قرضوں اور فوجی رسد کے معاملے میں وسیع امکانات کھول رہی تھی؛ آخر میں امریکی صدر ولسن کی سفارت، جو بدمعاشی اور جمہوری پارسائی کا آمیزہ تھی، عبوری حکومت کی مخصوص ضرورت کے عین مطابق تھی۔ روس میں ’روٹ مشن‘ (Root Mission) بھیجتے ہوئے ولسن نے اپنے ایک واعظانہ خط میں عبوری حکومت سے مخاطب ہوتے ہوئے اعلان کیا : ’’کسی عوام پر ایسی حاکمیت مسلط نہیں کی جانی چاہئے جس کے تحت وہ رہنا نہیں چاہتے۔‘‘امریکی صدر نے جنگ کے مقاصد واضح طور پر نہیں بلکہ پرفریب انداز میں بیان کئے: ’’… مستقبل کے لئے دنیا کے امن اور اس کی فلاح اور خوشحالی کا حصول۔‘‘ اس سے بہتر کیا ہو سکتا تھا؟ ترشچینکو اور سریتیلی کو بس اِسی کی تو ضرورت تھی: تازہ نیک نامی اور امن پسندی کی فرسودہ لفاظی۔ نیک نامی کی مدد سے اور امن پسندی کے لبادے میں وہ حملے کی تیاری کر سکتے تھے ، جس کا تقاضا قرض کے کاغذات جنونی انداز میں لہراتے ہوئے فرانس کے سود خور کر رہے تھے۔
11 مئی کو حملے کے حق میں اپنی ایجی ٹیشن کا آغاز کرنے کے لئے کیرنسکی محاذ پر چلا گیا۔ خوشی سے پاگل ہو کر نئے وزیر جنگ نے عبوری حکومت کو اطلاع دی،’’فوج میں جوش و جذبے کی ایک لہر پنپ اور پھیل رہی ہے۔‘‘14 مئی کو کیرنسکی نے فوج کو ایک حکم جاری کیا: ’’تم وہ کرو گے جو تمہارے رہنما تمہیں بتائیں گے۔‘‘ سپاہی کے لئے اِس جانے پہچانے اور غیردلکش تناظر کو خوبصورت بنانے کے لئے اُس نے مزید کہا: ’’تم امن کو اپنی سنگینوں کی نوک پر اٹھاؤ گے۔‘‘ 22 مئی کو محتاط جنرل الیگزیف ، جو کوئی زیادہ اہم آدمی نہیں تھا، کو ہٹا دیا گیا اور اس کی جگہ زیادہ لچکدار اور مہم جو بروسیلوف کو سپہ سالار تعینات کر دیا گیا۔ جمہوریت پسند اپنی پوری قوت سے اُس حملے کی تیاری کر رہے تھے جو فروری انقلاب کا سب سے بڑا سانحہ تھا۔
*****
سوویت مزدوروں اور سپاہیوں کا ادارہ تھا، یہاں سپاہیوں کا مطلب کسان ہیں۔ عبوری حکومت بورژوازی کا ادارہ تھا۔ ’رابطہ کمیشن‘ مصالحت کا ادارہ تھا۔ لیکن مخلوط حکومت نے خود عبوری حکومت کو ہی ایک رابطہ کمیشن میں تبدیل کر کے اس سارے میکانیے کو سادہ بنا دیا۔ لیکن دوہری حاکمیت کا کسی طور بھی خاتمہ نہیں ہو سکا۔ سریتیلی رابطہ کمیشن کا رکن تھا یا ڈاک کا وزیر، اِس سے کچھ بھی طے نہیں ہوتا تھا۔ ملک میں دو متضاد ریاستی تنظیمیں تھیں: اوپر سے عبوری حکومت کی جانب سے تعینات کئے جانے والے نئے اور پرانے اہلکاروں کے ڈھانچے، نیچے سے محاذ پر دور دراز کمپنیوں تک جانے والا نتخابی سوویتوں کا نظام۔یہ دو ریاستی نظام مختلف طبقات پر قائم تھے، جو اپنا تاریخی حساب چکتا کرنے کے لئے ابھی تیار ہی ہو رہے تھے۔ مخلوط حکومت میں شامل ہوتے وقت مصالحت پسندوں کو توقع تھی کہ سوویت نظام کا اقتدار پرامن اور بتدریج طریقے سے تحلیل ہو جائے گا۔اُن کا خیال تھا کہ اُن کی شخصیات میں مجتمع سوویتوں کااقتدار اُن کے ساتھ ہی سرکاری حکومت میں چلا جائے گا۔ کیرنسکی نے بچانن کو قطعی طور پر یقین دہانی کروائی کہ ’’سوویتیں اپنی موت آپ مر جائیں گی…‘‘ یہ امید جلد ہی مصالحت پسند رہنماؤں کا سرکاری نظریہ بن گئی۔ اُن کے خیال کے مطابق مرکز ثقل کو خود اختیاری والی حکومت کے نئے اداروں تک منتقل ہو جانا چاہئے تھا۔ مرکزی کمیٹی کی جگہ آئین ساز اسمبلی کو لے لینی چاہئے تھی۔ اس طرح مخلوط حکومت کو بورژوا پارلیمانی جمہوریہ تک پل بننا تھا۔
مسئلہ یہ تھا کہ انقلاب اس راستے پر سفر کرنا چاہتا تھا نہ کر سکتا تھا۔ نئی شہری دوماؤں کے انجام نے اِس سلسلے میں واضح تنبیہ کر دی تھی۔ یہ دومائیں ہر ممکن حد تک وسیع حقِ رائے دہی (Franchise) کی بنیاد پر منتخب ہوئی تھیں۔ عام آبادی کے برابر سپاہیوں اور مردوں کے برابر خواتین نے ووٹ دیا۔ جدوجہد میں چار پارٹیوں نے حصہ لیا۔دنیا کے بددیانت ترین اخباروں میں سے ایک، زارشاہانہ حکومت کے پرانے جریدے ’نووویہ وریمیا‘ (Novoye Vremya) نے دائیں بازو والوں، قوم پرستوں اور اکتوبر پارٹی والوں سے کیڈٹوں کو ووٹ دینے کی استدعا کی۔ لیکن جب ملکیتی طبقات کا سیاسی خصی پن بالکل واضح ہو گیا تو بورژوا اخباروں کی اکثریت نے یہ نعرہ اپنا لیا: ’’جسے مرضی ووٹ دو، بس بالشویکوں کو نہ دو۔‘‘ تمام دوماؤں اور بلدیاؤں میں کیڈٹ دایاں بازو تھے، بالشویک بائیں بازو کی بڑھتی ہوئی اقلیت تھے۔ معمول کے مطابق سوشل انقلابیوں اور منشویکوں کو وسیع اکثریت حاصل تھی۔
یوں محسوس ہو گا جیسے یہ دومائیں، جو زیادہ وسیع نمائندگی کے لحاظ سے سوویتوں سے مختلف تھیں، بہت بااختیار ہوں گی۔ مزید برآں قانونی سماجی اداروں کے طور پر دوماؤں کو سرکاری حکومت کی حمایت کا بے انتہا فائدہ تھا۔ پولیس، خوراک کی رسد، بلدیاتی ٹرانسپورٹ، تعلیم، غرضیکہ سب کچھ سرکاری طور پر دوما کے ہاتھ میں تھا۔ ’’نجی‘‘ ادارے کے طور پر سوویت کے پاس نہ بجٹ تھا نہ اختیارات۔ پھر بھی اقتدار سوویتوں کے پاس ہی رہا۔ معاملے کی اساس میں دومائیں، سوویتوں کے بلدیاتی کمیشن بن کے رہ گئیں۔ رسمی جمہوریت کے ساتھ سوویت نظام کی یہ رقابت اپنے نتائج میں زیادہ حیران کن تھی، کیونکہ یہ انہی سوشل انقلابی اور منشویک پارٹیوں کی قیادت کے تحت ہو رہی تھی جو دوماؤں اور سوویتوں میں برابر حکمرانی کرتے ہوئے پوری طرح قائل تھیں کہ سوویتوں کو دوماؤں کی بالادستی قبول کر لینی چاہئے اور اُنہوں نے خود بھی اس عمل کو پروان چڑھانے کی پوری کوشش کی۔ اِس غیرمعمولی مظہر ، جس کے بارے میں حقیقی واقعات کے بھنور میں بہت کم غوروفکر کیا گیا، کی وضاحت سادہ ہے: جمہوریت کے دوسرے اداروں کی طرح بلدیاتی حکومتیں بھی صرف مضبوطی سے قائم سماجی رشتوں کی بنیاد پر، یعنی کہ ملکیت کے ایک معین نظام کی بنیاد پر کام کر سکتی ہیں۔ تاہم انقلاب کی اساس ہی یہ ہے کہ وہ اس ملکیت کے نظام پر سوال اٹھا دیتا ہے جو ساری بنیادوں کی بنیاد ہوتا ہے۔ اور اُس کے سوال کا جواب صرف طاقتوں کے توازن کا کھلا انقلابی امتحان ہی دے سکتا ہے۔ اپنی قیادت کے کم تر معیار کے باوجود سوویتیں اُن محکوم طبقات کی لڑاکا تنظیمیں تھیں جو شعوری یا نیم شعوری طور پر سماجی ڈھانچے کی بنیادیں یکسر تبدیل کرنے کے لئے یکجا ہوئے تھے۔ بلدیاتی حکومتیں شہریت (Citizenship) کی تجرید تک محدود کر کے آبادی کے تمام طبقات کی برابر نمائندگی کرتی تھیں اور ایک انقلابی صورتحال میں بالکل ویسا طرز عمل ظاہر کرتی تھیں جیسے بے چینی سے جنگ کی تیاری کرنے والی دو دشمن فوجوں کی نمائندگی کرنے والا سفارتی اجلاس بڑی مہذب اور منافقانہ زبان میں اپنا اظہارکرتا ہے۔ انقلاب کے روزمرہ معمولات کے دوران بلدیاتی حکومتیں ایک نیم مصنوعی وجود کے ساتھ گھسٹ رہی تھیں۔ لیکن نازک لمحات میں، جب عوام کی مداخلت واقعات کی سمت کا تعین کر رہی تھی، یہ حکومتیں ہوا میں زائل ہو گئیں، اِن کے اجزائے ترکیبی مخالفت مورچوں میں نمودار ہوئے۔آئین ساز اسمبلی کے مقدر کی پیش بینی کے لئے مئی سے اکتوبر تک سوویتوں اور بلدیاتی حکومتوں کے متوازی کرداروں کاموازنہ ہی کافی تھا۔
مخلوط حکومت کو آئین ساز اسمبلی بلانے کی کوئی جلد ی نہیں تھی۔ جمہوریت پسندوں کی جمع تفریق کے باوجود حکومت میں اکثریت رکھنے والے لبرلوں کو آئین ساز اسمبلی میں ایک کمزور سا دایاں بازو بننے کی کوئی جلدی نہ تھی، جیسا کہ وہ نئی دوماؤں میں بن چکے تھے۔ آئین ساز اسمبلی بلانے کے لئے ایک خصوصی اجلا س نے انقلاب کے تین مہینے بعد مئی کے آخر میں کام شروع کیا ۔ لبرل قانون دان بال کی کھال اتارنے لگے، اپنی قرنبیقوں میں ہر قسم کے جمہوری تلچھٹ ہلانے لگے، فوج کے انتخابی حقوق کی لا حاصل بحث میں مسلسل الجھتے رہے: آیا بھگوڑوں کو ووٹ ڈالنے کا اختیار دینا ضروری تھا، جو دسیوں لاکھ تھے، اور آیا زار کے خاندان کو یہ اختیار دیا جائے، جو دسیوں تھے۔ اسمبلی بلانے کی تاریخ کے بارے میں ہر ممکن حد تک کم بات کی گئی۔ یہ سوال اٹھانا آداب کی ایسی خلاف ورزی تصور کی جاتی تھی جو صرف بالشویک ہی کر سکتے تھے۔
کئی ہفتے گزر گئے، لیکن مصالحت پسندوں کی تمام تر امیدوں اور پیش گوئیوں کے باوجود سوویتیں نہیں مٹیں۔ بعض اوقات اپنے رہنماؤں کی وجہ سے متذبذب اور خاموش ہو کر وہ نیم پژمردگی کا شکار ہو جاتی تھیں، لیکن خطرے کی پہلی ہی نشانی انہیں پیروں پر دوبارہ کھڑا کردیتی تھی اور سب کے سامنے واضح ہوجاتا تھا کہ حقیقی اختیار اُنہی کے پاس تھا۔ سوویتوں میں ٹوٹ پھوٹ کی کوشش کرنے والے سوشل انقلابی اور منشویک ہر اہم واقعے میں اُن کی برتری کو تسلیم کرنے پر بھی مجبور تھے۔ دوسری چیزوں کے علاوہ اس کا اظہار اس حقیقت سے بھی ہوتا تھا کہ دونوں پارٹیوں کی بہترین قوتیں سوویتوں میں مجتمع تھیں۔بلدیاتی حکومتوں میں اُنہوں نے دوسرے درجے کے لوگ، تکنیک کار اور منتظمین وغیرہ تعینات کئے تھے۔ یہی چیز بالشویکوں میں بھی دیکھی گئی۔ صرف کیڈٹوں نے ہی سوویتوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے خوداختیاری کے اِن اداروں میں اپنی بہترین قوتوں کو مجتمع کیا۔ لیکن مایوس کن بورژوا اقلیت اُنہیں حقیقی سہارے میں تبدیل نہ کر سکی۔
بلدیاتی حکومتوں کو کوئی بھی اپنے ادارے نہیں سمجھتا تھا۔ مزدور اور مالک، سپاہی اور افسر، کسان اور زمیندار کے درمیان بڑھتے ہوئے تضاد پر بلدیاتی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں میں اُس طرح سرِعام بحث نہیں ہو سکتی تھی جیسے کہ اِن طبقات کے اپنے اپنے حلقوں میں ہوتی تھی۔ چھوٹی موٹی تفصیلات پر تو دشمن سے بات کی جا سکتی ہے، لیکن زندگی اور موت کے معاملات پر نہیں!
اگر آپ اس مارکسی کلیے کو تسلیم کرتے ہیں جس کے مطابق حکومت محض حکمران طبقات کی انتظامی کمیٹی ہوتی ہے تو آپ کو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اقتدار کے لئے جدوجہد کرنے والے طبقات کی حقیقی ’’کمیٹیاں‘‘ مخلوط حکومت کے باہر تھیں۔ جہاں تک سوویتوں کا تعلق ہے، جن کی نمائندگی اِس حکومت میں اقلیت میں تھی تو یہ بالکل واضح تھا۔ لیکن بورژوا اکثریت کے لئے بھی یہ اِتنا ہی درست تھا۔سوشلسٹوں کی موجودگی میں لبرل بالکل بھی اِس قابل نہ تھے کہ سنجیدہ اور باقاعدہ انداز میں بورژوازی کے لئے اہم ترین سوالوں پر بحث کر سکتے۔ ملیوکوف، جو بورژوازی کا تسلیم شدہ اور غیرمتنازعہ رہنما تھا اور جس کے گرد جائیداد مالکان کی قیادت متحد تھی، کو فارغ کرنا ایک علامتی کردار کا حامل تھا اور بالکل واضح کرتا تھا کہ یہ حکومت صحیح معنوں میں نرالی تھی۔ زندگی دو محوروں کے گرد گھوم رہی تھی، اِن میں ایک مارینسکی محل کے بائیں جانب اور دوسرا دائیں جانب تھا۔
وزرا اپنی ہی تخلیق کردہ رسوم کے ماحول میں زندہ تھے، جو سوچتے تھے اسے کہنے کی جرات نہیں رکھتے تھے۔مخلوط حکومت کے لبادے میں دوہری حاکمیت ایک دوہری سوچ، دوہرے احساس اور ہر ممکن قسم کے دوہرے پن کی درسگاہ بن گئی۔ اگلے چھ ماہ کے دوران یہ مخلوط حکومت بحرانات، تعمیرنو اور ترتیب نو کے پورے سلسلے سے گزری، لیکن اِس کے بنیادی خدوخال، یعنی خصی پن اور منافقت، اِس کی موت کے دن تک برقرار رہے۔
*****
[۱] ’مخلوط حکومت‘ سے مراد عبوری حکومت میں بورژوازی اور سوشلسٹوں کا باقاعدہ اتحاد۔
[۲]بورژوازی خود سے حکومت کرنے کے قابل نہیں تھی۔ اس کی عبوری حکومت لڑکھڑا رہی تھی اور اس کے پاس کوئی طاقت نہیں تھی۔ اس حکومت کی ساکھ بڑھانے کے لئے وہ سوویت رہنماؤں کو حکومت میں شامل کرنا چاہتے تھے جن کو اس وقت تک وسیع عوامی حمایت حاصل تھی۔ مزید برآں سوویت رہنماؤں کو حکومت میں شامل کر کے وہ اپنے جارحانہ جنگی عزائم کو جواز دینا چاہتے تھے اور عوام میں اس جنگ کی حمایت بڑھانا چاہتے تھے۔سوویت رہنماؤں کو حکومت میں شامل کرنے کے لئے بورژوازی اپنے زیادہ جارحانہ نمائندوں (مثلاً ملیوکوف) کی قربانی دینے کو بھی تیار تھی۔ فرانس اور برطانیہ جیسے سامراجی ممالک بھی ایسا ہی چاہتے تھے۔