پیرو کے انتخابات: کییکو فجی موری کی پہلے مرحلے میں برتری، نتائج تنازع اور بدنظمی کا شکار
لاہور(جدوجہد رپورٹ)پیرو میں اتوار کو ہونے والے صدارتی اور قانون سازی کے انتخابات کے ابتدائی نتائج میں دائیں بازو کی امیدوار کییکو فجی موری نے پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے، تاہم وہ صدارتی انتخاب پہلے ہی مرحلے میں جیتنے کے لیے درکار 50 فیصد ووٹ سے کہیں پیچھے رہیں۔ فجی موری اب دوسرے مرحلے کے رن آف کی مضبوط امیدوار بن کر سامنے آئی ہیں۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق نکلنے والے ایگزٹ پولز اور ابتدائی گنتی کے مطابق دوسرے نمبر کے لیے سخت مقابلہ جاری ہے، جہاں انتہائی دائیں بازو کے امیدوار رافائل ’’پورکی‘‘ لوپیز الیاگا بھی مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ ملک بھر میں تقریباً 2 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
اس بار صدارتی بیلٹ پیپر پر 35 امیدواروں نے حصہ لیا، جن میں ایک مقبول کامیڈین، میڈیا ٹائیکون، سیاسی خاندان کی وارث اور خود کو کارٹون کردار سے تشبیہ دینے والے سابق میئر تک شامل تھے۔ ایگزٹ پول کے مطابق فجی موری 16.6 فیصد ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر رہیں، جب کہ بائیں بازو کے امیدوار رابرٹو سانچیز 12.1 فیصد اور سینٹر لیفٹ امیدوار ریکارڈو بیلمونٹ 11.8 فیصد کے ساتھ ان کے تعاقب میں رہے۔
اگر کوئی امیدوار 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہ کرے تو 7 جون کو ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدوار آمنے سامنے آئیں گے۔ البتہ انتخابی عمل اس وقت تنازع کا شکار ہو گیا جب نیشنل الیکشن آفس نے اعلان کیا کہ انتخابی مواد کی شدید قلت کے باعث تقریباً 63 ہزار افراد ووٹ نہیں ڈال سکے۔ درجنوں پولنگ اسٹیشن اتوار کو بند رہے، جس کے بعد حکام نے شفافیت اور عوام کے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے پیر کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا، تاہم بعد میں انتظامات میں مزید تاخیر کی اطلاع دی گئی۔
پیرو میں 2018 سے اب تک 8 صدور بدل چکے ہیں، جن میں سے اکثر کرپشن اور مواخذے کی بھینٹ چڑھے، جس سے عوامی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔ کئی شہریوں نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’’تمام حکمران کرپٹ نکلے‘‘ اور وہ کسی پر اعتماد نہیں کرتے۔
کییکو فجی موری کی یہ چوتھی صدارتی کوشش ہے۔ وہ قانون و نظم اور معاشی استحکام کی علمبردار کے طور پر مہم چلا رہی ہیں، تاہم ان کے والد اور سابق صدر البرٹو فجی موری کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کرپشن کے ریکارڈ کے باعث ان کی شخصیت بدستور متنازع ہے۔