چلی کا صدارتی انتخاب کل: بائیں بازو کی خانیئت جارا کا فار رائٹ امیدوار کے ساتھ مقابلہ
لاہور(جدوجہد رپورٹ)چلی میں صدارتی انتخابات اتوار16نومبر کومنعقد ہو رہے ہیں۔ان انتخابات میں بائیں بازو کی امیدوار اور سابق لیبر منسٹر خانیئت جارا اس وقت ملک کی مضبوط ترین امیدوار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ 1990 میں آمریت کے خاتمے کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ کسی کمیونسٹ امیدوار کو مرکزی دھارے میں اس قدر وسیع عوامی حمایت مل رہی ہے۔ اتوار کے روز ہونے والے پہلے راؤنڈ میں مجموعی طور پر 8 امیدوار میدان میں ہیں، اور یہ تقریباً طے ہے کہ مقابلہ دوسرے راؤنڈ تک پہنچے گا، جو 14 دسمبر کو ہوگا۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق معتبر سروے ادارے ’Activa Research‘کے مطابق جارا 24.9 فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں، جب کہ ان کے قریب ترین حریف ہوزے انتونیو کاسٹ 16.9 فیصد پر کھڑے ہیں۔ دائیں بازو کے ووٹ اس وقت مختلف امیدواروں میں تقسیم ہیں، لیکن سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر الیکشن دوسرے مرحلے تک گیا تو دائیں بازو کا ووٹ یکجا ہو کر مقابلہ سخت کر سکتا ہے۔
خانیئت جارا اپنے محنت کش پس منظر اور عوامی شناخت کی بنیاد پر انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ سانتیاگو کے غریب علاقے کونچالی میں پیدا ہونے والی جارا نے نوجوانی میں پنوشے کی آمریت کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیا۔ معاشی مشکلات کے باعث ان کے والدین کو روزگار کے لیے گھر سے دور جانا پڑا، اور جارا نے 13 سال کی عمر میں موسمی کام شروع کیا۔ بعد میں وہ کمیونسٹ یوتھ کا حصہ بنیں اور پھر سرکاری شعبے اور مزدور یونینوں میں عملی کام کیا۔ بورک حکومت میں لیبر منسٹر کے طور پر انہوں نے کام کے اوقات 45 سے 40 گھنٹے تک کم کرانے اور نجی پنشن نظام میں اصلاحات کا اہم کردار ادا کیا۔
اپنی انتخابی مہم میں جارا کا بنیادی زور مہنگائی، کم اجرت اور عوامی خدمات پر ہے۔ چلی جنوبی امریکہ کے مہنگے ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور 66 فیصد شہری قرضوں کے دباؤ میں ہیں۔ جارا کم از کم تنخواہ میں نمایاں اضافے، سستی رہائش کی فراہمی اور پبلک ہیلتھ سسٹم کی مضبوطی جیسے وعدوں کے ساتھ میدان میں ہیں۔ جلسوں میں شریک لوگ انہیں ’اپنا‘ سمجھتے ہیں، اور ان کی سادگی اور عام فہم زبان کو ان کی مضبوطی قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب انتہائی دائیں بازو کے امیدوار ہوزے انتونیو کاسٹ اپنی مہم کا مرکز جرائم، غیر قانونی امیگریشن اور سیکورٹی کو بنا رہے ہیں۔ 2022 سے 2023 کے درمیان آرگنائزڈ کرائم میں 8.4 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا، جس نے کاسٹ کے سخت گیر بیانیے کو تقویت دی ہے۔ وہ سرحدوں پر فوج تعینات کرنے اور غیر قانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری جیسے اقدامات تجویز کر رہے ہیں۔ ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ موجودہ حکومت، اور بالواسطہ طور پر جارا، معیشت اور امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابات کے اس مرحلے کو زیادہ غیر یقینی بنانے والا عنصر لازمی ووٹنگ کی بحالی ہے۔ 2012 کے بعد پہلی بار ہر بالغ شہری کے لیے ووٹ ڈالنا لازمی ہے، جس سے ووٹر ٹرن آؤٹ بڑھنے اور نتیجہ غیر متوقع ہونے کا امکان ہے۔