’چھاوا‘: تاریخ کو مسخ کرنے، گہرائیوں اور پیچیدگی کو نظر انداز کرنے کی ایک اور مثال!
نی سیم منناتھوکرن
بالی ووڈ کی تازہ ترین بلاک بسٹر فلم ’چھاوا‘ دیکھنے کے بعدگجرات میں ایک فلم بین نے غصے میں آکر سینما کی اسکرین پھاڑ دی۔ یہ غصہ اورنگزیب کی جانگ سے سمبھاجی پر کیے گئے مظالم کو دیکھ کر ابھرا۔ فلم دیکھنے کے بعد بچوں سمیت کئی ناظرین کے رونے اور نعرے لگانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ کوئی بھی فلم جو اپنے کل136منٹ کے دورانیے میں سے آخری منٹ محض تشدد کی بے رحمانہ منظر کشی پر صرفکرے، اس کے جمالیاتی ذوق پر پہلے ہی سوال اٹھنے لگتے ہیں۔
’چھاوا‘ کا ایک قابل تحسین مقصد یہ ضرور ہے کہ سمبھاجی کو ایک عظیم جنگجو اور منظم کے طور پر پیش کرتے ہوئے متعصبانہ بیانیوں کو رد کر کے تاریخی ریکارڈ کو درست کیا جائے، لیکن جب یہ فلم اچھے ہندو بمقابلہ برے مسلمان کی سادہ اور خطرناک تقسیم پر مرکوز ہوتی ہے، کچھ ناقابل تردید تاریخی حقائق کو نظر انداز کرتی ہے اور مکمل طور پر حکومتی جماعت کی نظریاتی سوچ سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے تو یہ محض ایک مضراور قومی سطح کی پروپیگنڈہ فلم بن جاتی ہے۔
یوں یہ فلم حالیہ برسوں میں بننے والی 20سے زائد کھلی پروپیگنڈہ فلموں کی فہرت میں شامل ہو جاتی ہے، جن میں ’دی کشمیر فائلز‘، ’دی کیرالہ اسٹوری‘، ’دی ویکسین وار‘، ’آرٹیکل370‘، ’بستر۔دی نکسل سٹوری‘، ’سواتنترے ویر ساورکر‘، ’جے این یو: جہانگیر نیشنل یونیورسٹی‘، ’دی سابر متی رپورٹ‘، اور ’سمراٹ پرتھوی راج‘ شامل ہیں۔ بعض دیگر فلموں کی طرح چھاوا کووزیراعظم اور دیگر وزراء کی طرف سے تائید حاصل ہے اور بی جے پی کی حکومت والی کچھ ریاستوں میں اسے ٹیکس سے مستثنیٰ بھی قرار دیا گیا ہے۔
فلم ’چھاوا‘ کا تجزیہ: وکی کوشل اور اکشے کھنہ عظیم مراٹھاشخصیت کے اس ناہموار خاکے میں توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔
ہندو مسلم تقسیم
فلم ’چھاوا‘کی دنیا ایسی ہے جہاں مسلمان اورنگزیب کی برائی کو بے نقاب کرنے کی مسلسل کوشش میں یہ باتیں نظرانداز کر دی جاتی ہیں کہ وہ راجپوتوں کی حمایت کی بنیاد پر اقتدار میں آیا تھا؛ کہ اُس کی حکومت میں مغل تاریخ کے سب سے زیادہ ہندو منصب دار (33 فیصد) شامل تھے؛ کہ اس کی انتظامیہ میں دیوان کے عہدے اور دو اہم صوبوں کے سربراہان بھی ہندو تھے؛ اور یہ کہ وہ بادشاہ جس نے جزیہ عائد کیا (لیکن برہمنوں، راجپوتوں، خواتین، بزرگوں وغیرہ کو اس سے مستثنیٰ رکھا)، اُس نے بعض مندروں کو منہدم کیا تو کچھ کو محفوظ بھی رکھا، جیسا کہ بعض مورخین کا کہنا ہے۔
یقیناً، اس سب کا مطلب یہ نہیں کہ اورنگزیب روادار تھا، بلکہ یہ کہ اس کی مذہبی سخت گیری کو سیاسی حقیقت پسندی کے تحت کچھ حد تک ڈھلنا پڑا۔ جہاں سیکولر مورخین اس سیاسی حقیقت پسندی پر زور دیتے ہیں، وہیں سمیرہ شیخ یہ دکھاتی ہیں کہ اورنگزیب کی سنی تنگ نظری نے شاید شیعہ مسلمانوں اور دیگر اسلامی مہدی پرست گروہوں جیسے مہدوی، داؤدی بوہرہ، اور صوفیوں کو ہندوؤں کے مقابلے میں زیادہ نشانہ بنایا۔ اس جبر و ستم کا ایک اقتصادی پہلو بھی تھا۔ ان’گمراہ‘ گروہوں کی بڑھتی ہوئی خوشحالی نے اورنگزیب کے سنی علما ء کے غصے کو ہوا دی، جن کے اپنے کاروباری مفادات بھی اس میں شامل تھے۔
یقیناً یہ پیچیدگیاں اور مباحثے فلم ’چھاوا‘کی دنیا میں شامل نہیں ہو سکتے، جہاں سمبھاجی کی قیادت میں مرہٹہ ’سوراج‘کی جستجو کو ہندو علامات میں لپیٹ کر اس طرح پیش کیا گیا ہے جیسے وہ بھارت کو’غیر ملکی حکمرانی‘سے نجات دلا رہے ہوں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مغل اُس وقت تک ہندوستان میں 150 سال سے زائد عرصے سے آباد تھے۔
مورخ اسٹیورٹ گورڈن کا کہنا ہے کہ چھترپتی شیواجی، جنہوں نے رواداری اور ہم آہنگی کی وکالت کی، اور اورنگزیب سے اکبر کی رواداری کو اپنانے کی اپیل کی، وہ نہ تو قوم پرستی کا علم بلند کر رہے تھے اور نہ ہی کسی ’عالمگیر ہندو راج‘کے داعی تھے۔ خود شیواجی کی حکومت میں بھی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی، جن میں اعلیٰ فوجی کمانڈر بھی شامل تھے۔
غیر مبہم بیانیے کی کوئی گنجائش نہیں
’چھاوا‘کی دنیا، جس میں ہندو بمقابلہ مسلمان یا ہندوستانی بمقابلہ غیر ملکی کی تقسیم نظر آتی ہے، سترہویں صدی کی اصل تاریخی پیچیدگیوں سے بہت دور ہے۔ اُس وقت برصغیر میں کئی ریاستیں موجود تھیں، یورپی طاقتیں ابھر رہی تھیں، اور ان کے درمیان مختلف قسم کے باہمی اتحاد اور رقابتیں جاری تھیں۔ ایک طاقتور ساحلی قوت ’جنجیرا کے سیدی‘ تھے، جو افریقی مسلمان تھے، جب کہ احمد نگر سلطنت کے پیشوا 26 سال تک ایک حبشی غلام اور مشہور فوجی جنرل ’ملک امبر‘ تھے۔ شیواجی (اور ان کے والد) بیجاپور کی عادل شاہی حکومت کا حصہ تھے۔ یہاں تک کہ جب انہوں نے بغاوت کی اور اپنی خودمختار ریاست قائم کی، تب بھی وہ عادل شاہیوں، گولکنڈہ کی قطب شاہی سلطنت، حتیٰ کہ مغلوں کے ساتھ بھی اتحادی بنے، اور بعض اوقات کرناٹک کے نائک جیسے ہندو راجاؤں کے خلاف صف آرا ہوئے۔
اسی طرح سمبھاجی نے بھی بعض مسلم سلطنتوں کے ساتھ اتحاد کیا تاکہ میسور کے ہندو حکمران ’چکّہ دیوراجا‘ جیسے بادشاہوں کے خلاف لڑ سکیں۔
’چھاوا‘کا مرکزی بیانیہ جو اورنگزیب کو مکمل طور پر شیطان کے طور پر پیش کرتا ہے، اُس کی شدت گھٹ سکتی تھی اگر فلم یہ دکھاتی کہ خود سمبھاجی نے ایک وقت پر اپنے والد شیواجی کے خلاف بغاوت کی تھی، اور کچھ عرصے کے لیے اسی ’شیطانی‘اورنگزیب کا ساتھ بھی دیا تھا۔ اگرچہ ’چھاوا‘دیگر پروپیگنڈا فلموں کے برعکس کچھ ہندو غداروں کو، حتیٰ کہ اپنے خاندان کے افراد کو بھی دکھاتی ہے، لیکن تمام سرمئی آنکھوں والے مسلمان کردار بلااستثنا برے ہی نظر آتے ہیں۔
’چھاوا‘ جب اورنگزیب کے مظالم کو ایک غیر معمولی ظلم کے طور پر پیش کرتی ہے، تو وہ اُس عہدِ وسطیٰ کی عمومی سفاکیت کو نظرانداز کر دیتی ہے، جس میں روزمرہ کی جنگیں عام تھیں۔ ریاستیں، بشمول مرہٹہ سلطنت، محض اتحاد کے ذریعے ہی نہیں، بلکہ ہندو (اور مسلمان) زمین دار اشرافیہ (جیسے دیش مکھ، جاگیردار وغیرہ) کو زبردستی زیرِ نگیں لا کر بھی قائم ہوئیں، جو بہتر مادی یا علامتی فائدے کے لیے ریاستوں کے درمیان وفاداریاں بدلتے رہتے تھے۔
خاندانی اراکین کے درمیان باہمی جنگ و جدل، جیسا کہ مغلوں کے ہاں تھا،مرہٹہ سلطنت میں بھی عام تھا۔ شیواجی نے اپنے سوتیلے بھائی ایکوجی سے لڑائی کی، اور بعد میں سمبھاجی کے بیٹے نے بھی دوسرے دعوے داروں سے۔ جب فلم میں دکھایا جاتا ہے کہ سمبھاجی کو زہر دینے کی ناکام سازش اُس کے سوتیلے بھائی راجارام کے کہنے پر کی گئی، اور اس سازش میں ملوث 20 اہم مرہٹہ وزیروں اور اشرافیہ کو ہاتھیوں کے قدموں تلے روند کر قتل کیا گیا، تو فلم صرف اس ظلم کا ہلکا سا اشارہ دیتی ہے۔
جب سمبھاجی کی مرہٹہ فوجیں گوا پر حملہ کرتی ہیں، تو ایک پرتگالی بیان (جس کا حوالہ مؤرخ جدوناتھ سرکار نے دیا ہے) کہتا ہے کہ ’اب تک ہندوستان میں کہیں بھی ایسا بربریت کا مظاہرہ نہیں دیکھا گیا‘۔۔۔ اگرچہ ایسے بیانات کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے، مگر یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ اُس زمانے میں تشدد ہر جگہ موجود تھا، اگرچہ اس کی شدت مختلف ہو سکتی تھی۔
ذات پات کو نظرانداز کرنا
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ’چھاوا‘میں ہندومسلم بائنری ذات پات کے سوال کو مکمل طور پر نظرانداز کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں ریاستوں میں سب سے زیادہ ظلم و ستم نچلی ذاتوں اور غریب طبقوں پر ہی ڈھائے جاتے تھے۔
1818 کی کوریگاؤں کی جنگ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی افواج، جن میں دلت مہار شامل تھے، نے پیشوا کی قیادت والی مرہٹہ کنفیڈریسی کو شکست دی۔ یہ واقعہ امبیڈکر اور دلت برادری کے لیے ذات پات کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گیا۔
یہ فلم ایک اور پہلو سے بھی طنزیہ ہے، کیونکہ مہاراشٹر کی غیربرہمن تحریک طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ سمبھاجی کو ایک کمزور، نالائق اور اخلاقی لحاظ سے گرا ہوا حکمران ظاہر کرنے والا بیانیہ برہمن مؤرخوں نے تشکیل دیا۔ اسی بیانیے کو بعد میں ساورکر اور گولوالکر جیسے ہندوتوا نظریہ سازوں نے مزید تقویت دی۔ آج یہی فلم ایک بار پھر مرہٹہ بمقابلہ برہمن جذبات کو ہوا دے رہی ہے۔
’چھاوا‘کی دنیا دیگر کئی حالیہ پروپیگنڈا پر مبنی تاریخی فلموں کی طرح، موجودہ دور کی اکثریت پر مبنی قوم پرستی کے رجحانات سے متاثر ہے، جہاں قومی ناظرین خود بھی ان بیانیوں کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
جب سینما میں تاریخ محض ایک جذباتی ہتھیار بن جائے، جس کا مقصد غصہ، نفرت اور کراہت پیدا کرنا ہو، تو اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم تاریخ کو اس کی پوری پیچیدگی میں سمجھنے کے اہل نہیں رہتے۔
جب نصابی کتب دوبارہ لکھی جا رہی ہوں، اور جب لوگ تاریخ کو زیادہ تر واٹس ایپ فارورڈز کے ذریعے جانتے ہوں، تو’چھاوا‘جیسی فلمیں اور ان کی تاریخی حذف کاری (erasures) ایک انتہائی خطرناک رجحان کی نمائندگی کرتی ہیں۔
(بشکریہ: ’دی ہندو‘۔ ترجمہ: حارث قدیر)