چین کی غزہ میں فضائی امداد: ویڈیوز اور بائیں بازو کے دعوے چیلنج ہو گئے
لاہور(جدوجہد رپورٹ)حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایسی متعدد ویڈیوز اور دعوے سامنے آئے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ چین نے غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فضائی امداد روانہ کی ہے۔ پاکستان میں بھی بائیں بازو کے کچھ چین نواز حلقوں کی جانب سے ان ویڈیوز کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جا رہی ہے اور کچھ رہنماؤں کی طرف سے چین کی تعریف میں مضامین بھی لکھے ہیں۔
تاہم بین الاقوامی دفاعی اور فیکٹ چیکنگ اداروں نے ان دعوؤں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ ٹیکنالوجی اور تحقیق پر مبنی فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ ٹیک اے آر پی کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دکھائے گئے طیارے دراصل امریکی یا برطانوی ساختہ C-17گلوب ماسٹر تھری ہیں، جنہیں غلط طور پر چین کے Y-20طیاروں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان ویڈیوز کا چین سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ان میں کوئی چینی امدادی سرگرمی دکھائی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چینی طیاروں کی مخصوص ساخت اور نشانیاں ان ویڈیوز میں کہیں نظر نہیں آتیں۔ یہ مکمل طور پر غلط شناخت کی مثال ہے۔
برطانوی دفاعی تجزیاتی پلیٹ فارم ‘ڈیفنس جرنل یو کے ’نے بھی ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک غزہ میں فضائی امداد صرف چند ممالک نے فراہم کی ہے، جن میں امریکہ، برطانیہ، اردن، مصر اور یو اے ای شامل ہیں ۔ چین کی جانب سے کسی قسم کی فضائی امداد کا کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہے۔
اگرچہ چین نے غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مالی امداد فراہم کی ہے، تاہم یہ امداد محدود نوعیت کی ہے اور فضائی نہیں ہے۔ اکتوبر 2023 میں چین نے 2 ملین امریکی ڈالر کی امداد فراہم کی تھی، جس میں خوراک اور ادویات شامل تھیں۔ بعد ازاں مئی 2024 میں صدر شی جن پنگ نے مزید 68 ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا، جس میں اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی (UNRWA) کے لیے 3 ملین ڈالر کی رقم بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ چین کی جانب سے فضائی امداد بھیجے جانے کے یہ حالیہ دعوے ‘مڈل ایسٹ آئی’ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں ہونے والے انکشافات کے بعد سامنے آرہے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ چینی کمپنیاں اور مزدور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کے قیام میں براہ راست شریک ہیں، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور خود چین کی سرکاری پالیسی کے برعکس ہے۔ اس رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ چینی کمپنی نے اسرائیلی بستیوں میں زرعی سرگرمیوں میں مدد کے ساتھ ساتھ رہائشیوں کے لیے زرعی سکالرشپ فنڈ بھی قائم کیا ہے۔ ایک چینی کمپنی کو مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کی 16بستیوں میں پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔