← Back to Newsroom OS خبریں

چے گویرا کا نایاب انٹرویو کرنے والے برطانوی صحافی و مورخ رچرڈ گاٹ وفات پا گئے

By جدوجہد • 2025-11-06 • 8 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)برطانوی صحافی، مورخ اور سابق فیچر ایڈیٹر رچرڈ گاٹ 2 نومبر 2025 کو لندن میں انتقال کر گئے۔ وہ وفات کے وقت 87 سال کے تھے۔

گاٹ نے نصف صدی سے زائد عرصے تک بین الاقوامی صحافت میں خدمات انجام دیں، اور اپنی بے لاگ رپورٹنگ، تجزیاتی تحریروں اور عالمی سطح پر اثر رکھنے والے انٹرویوز کے باعث جانے جاتے تھے۔ ان کی صحافتی شناخت میں لاطینی امریکہ کی انقلابی تحریکیں، نوآبادیاتی رجحانات اور سامراجی طاقتوں کی کڑی نگرانی شامل تھی۔

گٹ کی زندگی اس لحاظ سے بھی یادگار ہے کہ انہوں نے 1963 میں کیوبا کا دورہ کیا اور وہاں انقلابی رہنما چے گویراسے ملاقات کر کے نایاب انٹرویو لیا۔ معروف صحافی و مصنف طارق علی نے لکھا کہ ”رچرڈگاٹ ان چند مغربی صحافیوں میں سے تھے جنہوں نے 1963 میں ہوانا میں چی گویرا سے ملاقات اور طویل گفتگو کی۔ چار سال بعد جب چے گویرا بولیویا میں مارے گئے، تو گاٹ بھی ان صحافیوں میں شامل تھے جنہیں ان کی لاش کی شناخت کے لیے بلایا گیا۔ وہ آنسو بہاتے ہوئے اس فرض کو انجام دے گئے۔“

یہ ملاقات اور بعد کی شناختی ذمہ داری ان کے کیریئر کے سنگ میل ثابت ہوئے، جنہوں نے اپنے قلم کے ذریعے دنیا کے اہم لمحوں کو حرف آخر تک پہنچایا۔

گاٹ کا کیریئر نہ صرف بلند معیار کا تھا بلکہ تنازعوں سے بھی خالی نہ رہا۔ 1990 کی دہائی میں اخباری دعوے سامنے آئے کہ وہ سوویت خفیہ ادارے کے جی بی کے ساتھ روابط رکھتے تھے اور انہیں ’ایجنٹ‘قرار دیا گیا۔ گارڈین نے ان دعووں کی تفصیل شائع کی اور انہیں ادارے سے برخاست بھی کیا گیا تھا۔انہوں نے ہمیشہ اس بات کی تردید کی، لیکن ان کی بے گناہی سوویت یونین کے خفیہ منصوبوں سے متعلق دستاویزات پبلک ہونے تک ان کی بے گناہی پر یقین نہیں کیا گیا۔

بعد ازاں جب بروقت’متروخن آرکائیوز‘ پبلک ہوئیں تو گاٹ کی بے گناہی کی یقین دہانی ہوئی۔ انہیں نہ تو’جاسوس‘ٹھہرایا گیا اور نہ ہی کسی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حقیقت نے ان کی صحافتی ساکھ کو ازسرنو مستحکم کیا۔

ان کے ساتھی صحافیوں اور مدیران نے انہیں یاد کرتے ہوئے خراج پیش کیا ہے۔

گارڈین سے منسلک جان گٹنگزنے لکھا کہ ”وہ صحافیوں میں ان معدود افراد میں تھے جنہوں نے سرد جنگ کے دور میں سامراجی طاقتوں کے خلاف آواز اٹھائی۔“

سابق مدیر ایلن رسبریجر نے لکھا کہ”وہ گارڈین کی تاریخ میں دوسری نصف صدی میں ایک حقیقتاًاہم شخصیت تھے۔“

گاٹ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ برطانیہ میں گزارا اور’گارڈین‘کے مختلف شعبوں میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔ ان کے قلم سے متعدد کتابیں شائع ہوئیں جن میں ’کیوبا: اے نیو ہسٹری‘ اور ’برٹینز ایمپائر: رزسٹنس، رپریشن اینڈ ریوالٹس‘ نمایاں ہیں۔

انہوں نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا کہ صحافت طاقت کے مراکز کی نہیں، بلکہ عوام کی آواز بنتی ہے اور سماجی ناہمواریوں کے خلاف مسلسل بولتی رہتی ہے۔

رچرڈ گاٹ کی وفات پر بین الاقوامی صحافتی برادری نے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ان کی مثال آج بھی کئی نوجوان صحافیوں کے لیے مشعل راہ ہے جنہیں دنیا کی پیچیدہ سیاسی و سماجی حقیقتوں کا تجزیہ کرنا ہے۔

وہ اس امید کے ساتھ رخصت ہوئے کہ صحافیوں کا کام صرف رپورٹنگ نہیں، بلکہ انسانی آزادی اور سچائی کا پرچار ہے۔