← Back to Newsroom OS تعلیم

ڈاکٹر منظور اعجاز: ایکٹوازم اور پنجابی فکر کی میراث

By جدوجہد • 2025-04-07 • 14 min read

عرفان اسلم

پنجابی اسکالر اور ادیب ڈاکٹر منظور اعجاز گزشتہ ماہ 30 مارچ کو امریکہ کی ریاست ورجینیا کی ریاست واشنگٹن میں وفات پاگئے۔ وہ معیشت، سائنس، ادب، فلسفہ اور زبان سے لے کر فکری جستجو کے تنوع کے حامل ایک منفرد انسان تھے۔

وہ 1947 میں ساہیوال کے قریب چک 60، برج والا میں ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1964 میں اپنے گاؤں کے اسکول سے میٹرک کیا، 1968 میں ساہیوال کالج سے گریجویشن کیا اور لاہور آگئے جہاں انہوں نے فلسفہ میں ماسٹرز میں داخلہ لیا اور بعد میں یونیورسٹی میں یہی مضمون پڑھانا شروع کیا۔ ساہیوال میں وہ لاہور جانے سے پہلے اسٹیڈیم ہوٹل میں مجید امجد کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔

طلبہ کی سیاست

ان کی سوانح عمری’جندریائے تن دیساں تیرا تانا‘ کے مطابق وہ زمانہ طالبعلمی میں ہی اس گروپ کا حصہ تھے جس نے پروفیسر عزیز الدین کی قیادت میں نیشنل اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (این ایس او) بنائی۔پروفیسر عزیز الحق تنظیم کے پنجاب یونیورسٹی میں کنوینر بنے جبکہ مرکزی کنوینر امتیاز عالم تھے۔

انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھایا اور اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی سے جڑے اساتذہ کا مقابلہ کرتے رہے۔ تاہم ان کے مطابق جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والوں میں ان کے دوست بھی تھے، جن میں وارث میر جیسے لوگ بھی شامل تھے۔

منظور اعجاز اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر عزیز الدین اور پروفیسر عزیز الحق کی قیادت میں بائیں بازو کی نیشنل اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (این ایس او) بنائی اور اسلامی جمعیت طلبہ کا مقابلہ کیا۔ جب وہ پنجاب یونیورسٹی میں فلسفہ کے لیکچرر تھے تو انہوں نے 135 ایڈہاک اساتذہ کی خدمات کو ریگولرائز کرنے کے لیے کام کیا۔ وزیر خزانہ حنیف رامے نے انہیں 10 یا 12 بائیں بازو کے اساتذہ کی خدمات کو ریگولر کرنے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے تمام اساتذہ کو ریگولر کرنے پر اصرار کیا۔ بعد ازاں جب انہوں نے اے ایس اے کے جنرل سیکرٹری کا انتخاب لڑا تو اسلامی جمعیت طلبہ سے تعلق رکھنے والے مجاہد کامران الیکشن جیت گئے۔ مجاہد کامران منظور اعجاز کی کوششوں سے ہی ریگولر ہوئے تھے۔

پنجابی سنگت

انہوں نے سنگت بھی بنائی جسے اب نجم حسین سید کی سنگت کہا جاتا ہے۔ ان کی یادداشتوں کے مطابق،”پنجابی اور پنجابی کے بارے میں آگاہی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے پنجابی سنگت بنانے کا فیصلہ کیا اور نجم حسین سید کو پنجابی تاریخ اور ادب کے بارے میں اپنا علم بانٹنے کے لیے مدعو کیا۔ اس نئی سنگت میں این ایس او کے پرانے ساتھی اور نوجوان شجاع الحق، عارف رضا، عظمت قادر، جاوید علی خان، خالد محمود، خالد محمود، خالد محمود اور دیگر شامل تھے۔ اس کے علاوہ اکرم وڑائچ، طاہر یعسوب، مشتاق صوفی اور یونس (چاچا) بھی شامل ہوئے۔“

”پنجاب یونیورسٹی میں سنگت کے کچھ اجلاس ہوئے لیکن انتظامیہ نے ہمیں بعد میں کسی وجہ سے روک دیا۔ ہم نے نجم حسین سید کو اپنے گھر پر سنگت کی میٹنگیں کرنے کو کہا تو انہوں نے یہ تجویز مان لی۔ جب سنگت کو 49 جیل روڈ پر واقع نجم حسین سید کے گھر منتقل کیا گیا تو فیصلہ ہوا کہ شاہ حسین کے قافیے پڑھے جائیں گے، ان کا انتخاب اور کمپوزنگ نجم حسین سید کریں گے۔“

”طلبہ اور اساتذہ کی سیاست میں حصہ لینے کی وجہ سے اسلامی جمعیت طلبہ میرے خلاف تھی۔ ایک رات جب شجاع الحق (گورنمنٹ کالج کے استاد) اور ان کی کلاس فیلو امتیاز بانو (جھنگ میں پروفیسر) نے مجھے بلایا اور اسلامی جمعیت طلبہ نے میرے کمرے کو گھیرے میں لے کر فائرنگ شروع کر دی۔“ اس واقعہ کے بعد ہائی کورٹ میں مقدمہ چلایا گیا لیکن منظور اعجاز کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ اسلامی جمعیت طلبہ کے سامنے بہت کمزور تھی۔انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ملازمت کھونے کے بعد کچھ عرصہ پی ٹی وی پر مشتاق صوفی کے پروگرام میں فری لانس کام کیا۔ انہوں نے ایک اشاعتی ادارہ ’پنجاب ادبی مرکز‘بھی کھولا لیکن کوئی مستحکم آمدنی نہیں تھی۔

پنجابی دانشور اور شاعر مشتاق صوفی نے ڈاکٹر منظور اعجاز کو یہ کہتے ہوئے یاد کیا کہ اگرچہ ان دونوں کا تعلق ساہیوال سے تھا لیکن ان سے ان کی ملاقات 1973 میں پنجاب یونیورسٹی میں اس وقت ہوئی جب وہ فلسفہ پڑھا رہے تھے۔ ”میں نے گورنمنٹ کالج ساہیوال سے انٹرمیڈیٹ کیا اور جی سی لاہور چلا گیا جبکہ منظور مجھ سے دو سال سینئر تھے، لیکن عجیب بات ہے کہ ہماری وہاں ملاقات نہیں ہوئی۔“

ان کا کہنا تھا کہ منظور کو گانے کا شوق تھا اور جب پٹھانے خان موسیقی کے دلدادہ میاں اسلم رانجھا سے ملنے لاہور آنے لگے تو وہ منظور سے بھی ملے۔ ”میں اس وقت پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل میں مقیم تھا جہاں منظور کو دو کمروں کی رہائش گاہ الاٹ کی گئی تھی اور پٹھانے خان وہاں رہتے تھے۔“ مشتاق صوفی کہتے ہیں کہ منظور کو گانے میں بھی کافی مہارت تھی اور وہ ہیر وارث شاہ گایا کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ دہائیاں بدلتی ہوئی حرکیات کی وجہ سے سرگرمیوں سے بھرپور تھیں۔ جی سی جیسے اداروں کے برعکس پنجاب یونیورسٹی ان تمام سیاسی اور ثقافتی سرگرمیں کا مرکز تھی، جہاں منظور بھی سرگرم تھے۔ان کے مطابق منظور اعجاز بہت مضبوط اعصاب کے مالک تھے، پولیو سے متاثر ہونے کے باوجود انہوں نے کوئی معذوری کبھی ظاہر نہیں کی، وہ بہت تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے اور گھومتے پھرتے تھے۔

ان دنوں ضیاء حکومت کا جبر عروج پر تھا اور انہوں نے مغرب کی طرف ہجرت کرنے کا سوچنا شروع کیا۔ نجم سیٹھی نے انہیں امریکہ ہجرت کرنے کا مشورہ دیا کیونکہ وہاں نسل پرستی کم تھی۔ منظور اعجاز امریکہ چلے گئے اور معاشیات میں داخلہ لیا اور ہاورڈ یونیورسٹی واشنگٹن ڈی سی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔

ان کے قریبی رہ چکے واشنگٹن میں مقیم پاکستانی صحافی واجد علی سید کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر منظور اعجاز آخری دم تک بہت متحرک تھے۔”پچھلے سال ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں ایک ٹرک ان کے اوپر سے گزر گیا اور وہ 6ماہ تک ہسپتال میں داخل رہے۔ ان کے صحت یاب ہونے کے بعد ہم بھگت کبیر پر ویڈیو بنانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔“

انہوں نے کہا کہ انہوں نے پنجابی کلاسک سے شروعات کرتے ہوئے اپنے یوٹیوب چینل کے لیے ادب پرسیکڑوں ویڈیوز ریکارڈ کی ہیں۔”ان ویڈیوز کی وجہ سے مغرب کی پنجابی کمیونٹی میں بھی ان کے مداحوں میں اضافہ ہوا۔ ہم نے ایک بار بابا گرو نانک پر ایک سیشن کیا تھا اور سکھ برادری نے بابا نانک کے بارے میں ان کا موقف بہت پسند کیا تھا۔“

واجد علی سید نے بتایا کہ وہ پہلی بار منظور سے 2006 میں ملے تھے اور اس کے بعد سے وہ ہفتے میں کم از کم ایک بار ان سے ملتے ہیں۔ 2007-8 میں ان کی کتاب ’مائی پیپل، مائی تھاٹس‘ شائع ہوئی اور اس کے بعد ان کی قربت مزید بڑھ گئی۔انہوں نے کہا کہ منظور واشنگٹن پالیسی فورم چلاتے تھے، خاص طور پر پاکستان سے آنے والے کسی بھی مہمان کے ساتھ بات کرنے کے لیے اس فورم کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوتا تھا۔

پنجابی قوم پرست نہیں بلکہ انٹرنیشنلسٹ

جشن منظور اعجاز کے دوران صحافی اور مصنف محمد حنیف کے ساتھ ایک سیشن میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ پنجابی قوم پرست نہیں ہیں بلکہ ایک بین الاقوامیت پرست ہیں۔وہ انسانیت پر یقین رکھتے ہیں لیکن انہوں نے پنجابی میں اس لیے لکھا کیونکہ انہیں اس میں لذت محسوس ہوتی تھی،حالانکہ انہیں اردو میں بھی لکھنا پسند تھا اور غالب بھی اتنا ہی پسند تھا جتنا وارث شاہ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پنجابی میں اپنے خیالات کو بہتر انداز میں بیان کر سکتے ہیں پھر انہیں اردو یا انگریزی میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

پنجابی زبان کے بارے میں ان کا ایک منطقی اختلاف تھا کہ اگر پنجابی زبان میں نیا علم پیدا نہیں کریں گے تو کوئی اسے کیوں سیکھے گا، اور اس کے لیے شاعری اور افسانے کافی نہیں ہیں۔ اس بات نے انہیں پنجابی کی تاریخ، فلسفہ اور لسانیات پر کتابیں لکھنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے اپنی شاعری اور ادب کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔

پبلشنگ ہاؤس ’کیتن ترنجن‘ چلانے والے پنجابی مصنف اور پبلشر زبیر احمدنے منظور اعجاز کی 22 کتابیں شائع کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ ڈاکٹر اعجاز کو1975-76سے جانتے تھے جب وہ پنجاب ادبی مرکز چلاتے تھے، لیکن وہ 1996 سے ان کے ساتھ مستقل رابطے میں تھے اور ان کا بنیادی رابطہ نجم حسین سید کی سنگت کی وجہ سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منظور نے اپنی زیادہ تر کتابیں گزشتہ چند سالوں کے دوران لکھیں اور وارث شاہ پر اپنی پرانی کتاب ’رانجھن یار‘کے علاوہ تمام کتابیں شائع کیں۔ ”ان کی بہترین کتابوں میں وارث نامہ شامل ہے جس میں انہوں نے وارث شاہ کا جدلیاتی اور مادیت پسند نقطہ نظر اور فلسفہ کی تاریخ کی بنیاد پر تجزیہ کیا جو کہ پنجابی زبان میں ایک نادر کارنامہ تھا۔“ زبیر نے اسٹیفن ہاکنگ کے ’اے بریف ہسٹری آف ٹائم‘کے ان کے ترجمے کو بہت بلند درجہ دیا۔ ”کچھ پنجابی اسکالرز اور دانشوروں کے برعکس، منظور اعجاز کی زبان بہت سادہ تھی کیونکہ وہ اپنے خیالات لوگوں تک پہنچانا چاہتے تھے۔“

زبیراحمد نے کہا کہ اپنے آخری دنوں میں وہ مارکسزم اور سرمایہ داری پر ایک کتاب پر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر منظور اعجاز اگرچہ مارکسسٹ اور ترقی پسند تھے لیکن وہ اپنے آخری ایام میں اس پر کافی تنقید کرتے تھے۔

پانچ شعری مجموعوں کے علاوہ ڈاکٹر منظوراعجاز کی چند کتابوں میں ’پنجاب دی لوک تاریخ‘، مختلف عنوانات سے ان کی سوانح عمری کی تین جلدیں، ’غالب نامہ‘، ’انقلاب جو آ چکا ہے‘،’اجوکی وچار دھرا‘،’وارث شاہ دی مڈھلی وچار دھرا اور پنجابی ریت‘،پانچ جلدوں پر مشتمل’وارث نامہ‘اور ’وارث شاہ: دی آئیڈیالاگ‘ شامل ہیں۔

انہوں نے تقریباً 25 سال تک انگریزی میں اور تقریباً 5 سال جنگ میں اردو کالم لکھے۔

وفات کے وقت ڈاکٹر منظور اعجازکی عمر 78 سال تھی۔ ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ کوکب عطیہ، بیٹی عائشہ حسین اور بیٹا وارث حسین ہیں۔
ان کی نماز جنازہ 5 اپریل بروز ہفتہ صبح 11 بجے فیئر فیکس میموریل پارک، 9902 بریڈاک روڈ، فیئر فیکس، وی اے میں ادا کی گئی۔

(بشکریہ:’ڈان‘، ترجمہ: حارث قدیر)

Irfan Aslam