کامریڈ جورج عبداللہ: آزادی فلسطین کا ’نیلسن منڈیلا‘، 40 سالہ قید کے بعد رہا
لاہور(جدوجہد رپورٹ)40سال تک فرانس کی جیلوں میں قید رہنے والے لبنانی انقلابی جارج ابراہیم عبداللہ کو بالآخر 17جولائی2025کو رہا کیا گیا۔جارج ابراہیم عبداللہ کی رہائی صرف ایک انقلابی قیدی کی رہائی نہیں، بلکہ سامراجی جبر، استقامت، نظریاتی یکجہتی اور مزاحمت کی عالمی تاریخ میں ایک فیصلہ کن لمحہ قرار دی جارہی ہے۔وہ ایک ایسی طویل قید سے رہا ہوئے، جسے قانونی سے زیادہ سیاسی اور سامراجی انتقام کا نمونہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور نظریاتی سفر
جارج ابراہیم عبداللہ 1951 میں شمالی لبنان کے عیسائی مارونائٹ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم اور تربیت کے دوران ہی انہوں نے خود کو فلسطینی مزاحمت کے قریب پایا، اور جلد ہی لبنانی خانہ جنگی کے دوران وہ بائیں بازو کے مسلح گروپوں سے وابستہ ہو گئے۔ جارج نے اپنی زندگی فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت، عرب دنیا میں سامراجی مداخلت کے خلاف جدوجہد، اور طبقاتی آزادی کے لیے وقف کر دی۔
وہ لبانیز آرمڈ ریولوشنری فیکشنز(ایل اے آر ایف)کے سرکردہ رکن تھے، جنہوں نے 1980 کی دہائی میں یورپ میں امریکی و اسرائیلی مفادات پر حملے کیے، جنہیں وہ فلسطینی مزاحمت کا حصہ تصور کرتے تھے۔
فرانس میں گرفتاری اور سیاسی قید
جارج ابراہیم عبداللہ کو 1984 میں فرانس میں ایک جعلی پاسپورٹ کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں ان پر الزام لگا کہ وہ 1982 میں پیرس میں امریکی سفارتکار چارلس رے اور اسرائیلی سفارتکار یاکوف بارسیمان طوف کی ہلاکت میں ملوث تھے۔ فرانسیسی عدالت نے 1987 میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی۔ اس عدالتی عمل کے دوران شفافیت، ثبوت اور غیرجانبداری پر شدید سوالات اٹھائے گئے۔
فرانسیسی قانون کے تحت وہ 1999 میں پیرول پر رہا ہونے کے اہل ہو چکے تھے، مگر اس کے باوجود انہیں مزید 26 سال قید میں رکھا گیا۔ فرانس کی عدالتیں متعدد بار ان کی رہائی کی منظوری دیتی رہیں، مگر ہر بار ریاستی ادارے امریکی دباؤ کے تحت رہائی روک لیتے۔ یہ قید اب صرف قانونی نہیں بلکہ سیاسی انتقام کی علامت بن چکی تھی۔
امریکہ اور فرانس کی سامراجی ملی بھگت
امریکہ کی سی آئی اے، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، اور صیہونی لابی نے فرانس پر مسلسل دباؤ ڈالا کہ جارج کو رہا نہ کیا جائے۔ جارج کی رہائی کو وہ ’دہشت گردی کی حوصلہ افزائی‘قرار دیتے رہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جارج ابراہیم عبداللہ نے اپنے ہر بیان میں فلسطین کے عوام، سامراج کے خلاف عالمی جدوجہد اور طبقاتی آزادی کی حمایت کو اپنا جرم تسلیم کیا، اور کبھی اپنی سیاسی پوزیشن سے پیچھے نہ ہٹے۔
فرانس اپنی ’آزادی، مساوات، بھائی چارے‘کی روایات کو بالائے طاق رکھ کر امریکی احکامات کی پیروی کرتا رہا، اور جارج کو ایک غیر مغربی، انقلابی عرب ہونے کی سزا دیتا رہا۔
این پی اے اور دیگر یکجہتی تحریکوں کا کردار
جارج عبداللہ نے قید میں رہتے ہوئے بھی اپنا قلم اور شعور بلند رکھا۔ ان کے بیانات، خطوط اور پیغامات دنیا بھر میں مزاحمتی تحریکوں کے لیے مشعل راہ بنے۔ وہ ہر سال فلسطینی قیدیوں کے عالمی دن، یومِ نکبہ، اور یومِ مزاحمت پر پیغامات بھیجتے رہے، اور کبھی کسی عدالت، حکومت یا مفاہمتی سودے کے آگے سر نہیں جھکایا۔
فرانس میں نیواینٹی کیپیٹل اسٹ پارٹی(این پی اے) نے جارج کی رہائی کے لیے مسلسل آواز اٹھائی۔ پارٹی نے ہر سال جیل کے باہر مظاہرے کیے، بیانات جاری کیے، اور عوامی دباؤ کی مہمیں چلائیں۔ 17 جولائی 2025 کو جارج کی رہائی کے موقع پراین پی اے نے اپنے بیان میں کہاکہ ’ان کی اتنے طویل عرصے تک قید ایک کھلی ناانصافی ہے اور یہ فلسطین سے یکجہتی اور سامراج کے خلاف مزاحمت کو مجرمانہ قرار دینے کی علامت ہے۔۔۔ جارج عبداللہ ہماری جدوجہد سے ہیں، اور ہم ان کی لڑائیوں سے ہیں!‘
اس جدوجہد میں ’سپورٹ کمیٹی فار جارج ابراہیم عبداللہ‘نے بھی کلیدی کردار ادا کیا، جو کہ فرانس، لبنان، بلجیم، الجزائر اور دیگر ممالک میں سرگرم کارکنوں پر مشتمل تھا۔
لبنان کی کمیونسٹ پارٹی اور حماس کے درمیان رابطہ
جارج عبداللہ کی رہائی کے لیے لبنان کی کمیونسٹ پارٹی (ایل سی پی) نے صرف فرانسیسی ریاست سے اپیلوں پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ انہوں نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس سے بھی رابطہ کیا۔ پارٹی نے تجویز دی کہ جب حماس اسرائیل سے قیدیوں کے تبادلے کی بات کرتی ہے، تو جارج ابراہیم عبداللہ کا نام بھی ان فہرستوں میں شامل کیا جائے۔
ایک کمیونسٹ پارٹی اور ایک اسلامی مزاحمتی تحریک کے درمیان مشترکہ دشمن (صیہونیت و سامراج) کے خلاف عملی اشتراک کی صورت یہ پیش رفت نظریاتی لحاظ سے ایک غیر معمولی قدم تھا۔ حماس نے اس تجویز پر غور کیا اور غیر رسمی طور پر اس کی اہمیت تسلیم کی۔ یہ رابطہ مزاحمتی قوتوں کے مابین نظریاتی سرحدوں سے بالاتر ہو کر عرب عوام کی اجتماعی جدوجہد کا مظہرقرار دیا جاتا ہے۔
رہائی اور استقبال
17 جولائی 2025 کو بالآخر فرانس نے جارج ابراہیم عبداللہ کو رہا کر دیا۔ لبنان میں ان کا فقید المثال استقبال ہوا۔ بیروت کی سڑکوں پر ’پیارے کامریڈ خوش آمدید‘ اور’جارج فلسطین کا سپاہی ہے‘جیسے نعرے گونجے۔ ان کی رہائی پر عرب دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور دنیا بھر میں انقلابی قوتوں نے اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا۔
