← Back to Newsroom OS پاکستان

کسان اور مزارعین دریائے سندھ پر نہریں نہیں بننے دینگے: پریس کانفرنس

By جدوجہد • 2025-03-26 • 8 min read

لاہور(پ ر) پاکستان کسان رابطہ کمیٹی اور انجمن مزارعین پنجاب کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ انہوں نے لاہور میں اپنا اہم اجلاس کیا ہے۔ جس میں پنجاب بھر سے مزارعین کی قیادت نے شرکت کی اور حکومت کے تمام اقدامات کے خلاف مزاحمت کا لائحہ عمل بنایا۔

لاہور سمیت پنجاب کی سیاسی جماعتوں، کسان، مزدور، طلبہ، اساتذہ، تاجر، وکلا، صحافی، انسانی حقوق کی تمام تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اس اہم اجلاس میں بھرپور شرکت کی۔ انہوں نے پنجاب کے مزارعین کا مقدمہ سنا، اور انکے حقوق کی اس جنگ میں شامل ہوکر، اس ظلم اور ظالم نظام کے خلاف مزاحمت کرنے کا عظم کیا۔

پنجاب، سندھ اور پورے پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر مزارعین سے زمینیں چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پنجاب کے کئی اضلاع میں مقیم مزارعین کے ہزاروں خاندانوں کو زمینوں سے بے دخل کر کے وہ زمینیں چند ایک کارپوریٹ مافیہ کو دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ زمینیں مزارعین کے خاندان نسل در نسل آباد کرتیآئے ہیں اور انہوں نے انتھک محنت سے ان بنجر زمینوں کو کاشت کے قابل بنایا۔

عدالتی احکامات کی روشنی میں بھی یہ زمینیں مزارعین کی ملکیت ہیں اور انہیں کوئی بے دخل نہیں کر سکتا تاہم موجودہ حکومت مزارعین کو مالکانہ حقوق دینے کی بجائے، کارپوریٹ مافیہ کے ساتھ مل کر زبردستی اور خوف کی بنا پر مزارعین سے زمینیں چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔

مزارعین کی 27000 ایکڑ زمین مختلف کمپنیوں اور افراد کو لیز کی گئی ہے۔ زمینوں کو کارپوریٹ فارمینگ کے نام پر مختلف کمپنیوں اور افراد کو 30 سے 50 سال تک کی لیز کردی گئی ہے۔ کمپنیوں نے پولیس کی مدد سے عارف والا اور حاصل پور میں زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، جس کو مزارعین نے ناکام بنا دیا۔ مزارعین نے واضح کر دیا کہ ان کے زیر کاشت زمین کا قبضہ نہیں دیا جائے گا۔

حکومت کی جانب سے اب نئے ہتھکنڈے کے طور پر مزارعین سے ٹھیکہ حصہ بٹائی کے نوٹسز بھی جاری کیے جارہے ہیں۔ مقامی پٹواریوں اور تحصیل داروں کی مدد سے مزارعین کو لاکھوں کروڑوں روپے کے واجبات ادا کرنیکینوٹیس جاری کیے گئے۔ جبکہ پولیس کی مدد سے زبردستی غریب مزارعین سے انگوٹھے لگوائے جارہے ہیں، محکمہ مال کی طرف سے بھی مزارعین کو نوٹس جاری کر کے مزارعین کو دھمکایا جارہا ہے۔

ہم واضح کرنا چاہتے کہ کارپوریٹ فارمینگ کسانوں کو نامنظور ہے۔ اس سے زراعت اور کسان کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے۔ زراعت کی ترقی زرعی اصلاحات اور زمینوں کی منصفانہ تقسیم سے ہو گی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سرکاری زمینیں چھوٹے کسانوں اور مزارعین میں تقسیم کی جا?۔ ہم یہ واضع کرنا چاہتے ہیں کہ کسی صورت اپنی آباد کردہ زمینوں کا قبضہ نہیں چھوڑیں گے اور اپنی زمینیں بچانے کے لیے پوری مزاحمت کریں گے۔

ہم مریم نواز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مزارعین کے مسائل کے حل کے لیے مزارعین کمیٹی کو بحال کیا جائیاور مزارعین کے حقیقی نمائندوں کو اس کا حصہ بنا کر ان کے مسائل کو حل کیا جائے۔

دوسری جانب دریائے سندھ سے 6 نہریں نکال کر چولستان میں کارپوریٹ فارمنگ مافیا کی مدد کی جارہی ہے۔ کسانوں اور مزارعین نے اس منصوبے کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے اور انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہریں نہیں بننے دیں گے۔

پریس کانفرنس کرنے والوں میں صدر انجمن مزارعین پنجاب مہر غلام عباس، سیکرٹری محمد اخلاق، جنرل سیکرٹری پاکستان کسان رابطہ کمیٹی فاروق طارق، ڈاکٹر تیمور رحمان، مزمل خان کاکڑ اور دیگر شامل تھے۔