کشمیر کا جھنڈا چومتی لڑکی، ہڑتال کا حامی ٹیکسی ڈرائیور
فاروق سلہریا
گذشتہ ماہ، بڑی عید سے چند روز پہلے میں راولا کوٹ چلا آیا۔ کام سے چھٹی تھی ۔ سو ایک تو لاہور کی گرمی سے وقتی فرار چاہتا تھا۔ پھر یہ کہ راولا کوٹ میرا پسندیدہ ہل اسٹیشن ہے۔
حسب معمول روزنامہ ’ ’جدوجہد‘‘ کے شریک مدیر ، میرے ساتھی حارث قدیر اور ان کا خاندان میزبان تھے۔ایک روز ہم تولی پیر کی سیر کو گئے۔ ایک سر بلند پہاڑی کی چوٹی پر موجود ایک صدیوں پرانی درگاہ کی وجہ سے مشہور یہ مقام کشمیر کے خوبصورت ترین مقامات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
وہاں موجود ڈھابے کے بالمقابل کشمیر کا جھنڈا بھی لہرا رہا تھا۔ میں ڈھابے پر بیٹھا ،حارث قدیر کے ہمراہ چائے کے کپ پر جموں کشمیر کی سیاست ،بالخصوص ۹ جون کے مارچ اور ممکنہ انتخابات پر بات کر رہاتھا ۔ اتنے میں دو نوجوان خواتین وہاں سے گزریں۔ ایک نے رک کر ریاست جموں کشمیر کے جھنڈے کو چوما اور آگے نکل گئی۔
جھنڈے یا کشمیری شناخت کی کسی علامت کے ساتھ ایسی عقیدت میں نے بہت عرصے کے بعد دیکھی تھی۔ نوے کی دہائی میں ایسے مناظر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دکھائی دیتے تھے۔
میں نے حارث قدیر کی توجہ اس جانب دلائی تو ان کا کہنا تھا: گذشتہ چار پانچ سال میں جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ہونے والی موبلائزیشنز نے جموں کشمیر میں سوچیں بدل کر رکھ دی ہیں اور لوگ کشمیری شناخت کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ان کا کہنا تھا:ــ’’ریاست جب اس جھنڈے کو زبردستی مسلط کرتی تھی تو اس جھنڈے سے کوئی خاص لگاو دکھائی نہیں دیتا تھا مگر اب اس کے الٹ ہے‘‘۔
اسی طرح، جس دن میں راولا کوٹ پہنچا تو شہر بند تھا۔ ہم شہری حدود میں داخل ہو کر، ٹریفک جام میں پھنس کر رہ گئے۔ گھنٹہ بھر انتظار کے بعد ، ہم راستہ بدل کر، ایک ذیلی سڑک سے ہوتے ہوئے بمشکل پونچھ یونیورسٹی پہنچے جہاں میرا قیام تھا۔
سڑک ایک احتجاجی مظاہرے کی وجہ سے بند تھی۔ ہمیں صرف اتنا ہی پتہ چل سکا کہ طلبہ اپنے کسی مطالبے کے لئے سڑک بند کئے بیٹھے ہیں۔ ہم نے اس ہڑتال بارے ٹیکسی ڈرائیور سے اس کے تاثرات بارے پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ احتجاج کا حامی ہے(گو اسے ٹھیک سے مطالبات کا علم بھی نہیں تھا)۔
یہ سوچ کر کہ میں لاہور سے آیا ہوا کوئی غیر ریاستی باشندہ ہوں، وہ بولا:’’دیکھیں نا! یہ جموں کشمیر میں لانگ مارچ اورجدوجہد کا نتیجہ ہے کہ ہماری بجلی بھی پاکستان سے سستی ہے اور گندم بھی‘‘۔
گذشتہ پانچ دنوں میں،راولا کوٹ اور کوٹلیکے اندر موت کے رقص کے باوجود جس طرح، خوف کے بت توڑ کر، جموں کشمیر سڑک پر نکل پڑا ہے ۔۔۔اسے سمجھنے کے لئے یہ دو معمولی سے واقعات اہم سیاق و سباق فراہم کرتے ہیں۔