’کلائمیٹ جسٹس فورم‘ قائم: موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت سے نمٹنے کے اقدامات تجویز
راولاکوٹ(نامہ نگار) راولاکوٹ میں سیاسی و سماجی رہنماؤں اور صحافیوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت جیسے مسائل کے خاتمے کے لیے کام کرنے کے لیے ’کلائمیٹ جسٹس فورم‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ابتدائی طور پر راولاکوٹ کے تمام سیاسی و سماجی رہنماؤں، موسمیاتی ماہرین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کو منظم کرتے ہوئے ایک ہمہ گیر ’کلائمیٹ جسٹس فورم‘ کو تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجوہات، نقصانات اور مستقبل کے چیلنجز کے حوالے سے آگاہی سیمینارز اور آگاہی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا اور ساتھ ہی حکومت اور شہری حکومتوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کرنے اور پانی کی قلت کو دور کرنے کے حوالے سے مطالبات بھی کیے گئے۔
اجلاس کی میزبانی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ(رؤف) کے زونل صدر ناصر سرور نے کی۔موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت کی وجوہات سے متعلق ابتدائی بریفنگ صحافی حارث قدیر نے دی، جبکہ اجلاس سے رمضان رحیم، ریاض شاہد، عمران جاوید،محمد خورشید بیگ، زاہد خان، اجمل شاہین، بدر رفیق، شفقت شعیب،عبید ارشد، عبدالقدیر خان، ابرار اسلم، عمران اسحاق، طاہر قریشی، سلطان محمود خان، رشید خان، محمد حنیف خان، عمر شیراز، خورشید منور، رضوان خان اور دیگر نے خطاب کیا۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ دریائے جہلم یا دریائے پونچھ سے پانی اپ لفٹ کر کے راولاکوٹ شہر اور گردونواح کے لیے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے منصوبہ دیا جائے۔ سیوریج لائن کا منصوبہ شہر کے لیے دیا جائے، اور دیہی علاقوں میں سیوریج کے حوالے سے ترجیحی پالیسی بناکر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پلانٹ کا منصوبہ دیا جائے اور شہر سمیت دیہی علاقوں میں کچرہ ری سائیکل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ زیر زمین پانی کے ذخائر کو ری چارج کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ پانی کے ذخائر اور ماحول کو نقصان پہنچانے والے درختوں بالخصوص سفیدہ کو تلف کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ شہر اور گردونواح میں گرین بیلٹ واگزار کیے جائیں، شہر کی توسیع کے عمل کو منظم کیا جائے اور گرین بیلٹ سمیت سڑکوں کے دونوں اطراف سدا بہار درختوں کی کاشت یقینی بنائی جائے۔ تمام قدرتی چشموں، ندی نالوں میں کچراپھینکنے اور سیوریج لائن ڈالنے پر پابندی عائد کر کے عملدرآمد کیا جائے۔ دریک ڈیم کی فی الفور صفائی، ڈیزائن کی اپ گریڈیشن اور سپل ویز کی تعمیر کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ راولاکوٹ شہر میں پارکنگ کے لیے انتظامات کیے جائیں۔
اجلاس میں شہریوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنے کی ترغیب دینے کے لیے آگاہی مہم چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ تاہم یہ طے کیا گیا کہ تمام سٹیک ہولڈرز، سیاسی و سماجی رہنماؤں، ماہرین اور سول سوسائٹی اراکین سے رابطے استوار کر کے اس معاملے کو حتمی شکل دی جائے گی اور باضابطہ کلائمیٹ جسٹس فورم کی تشکیل بھی ایک بڑے اجلاس میں عمل میں لائی جائے گی۔