کوئٹہ کا آرٹسٹ کیفے - روزنامہ جدوجہد
اکبر نوتیزئی
غروب آفتاب کے وقت کوئٹہ کی عموماً تنگ اور حد سے زیادہ مصروف اسپنی روڈ پر ٹریفک معمول کے مطابق رواں تھی، میں نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس میں قائم حال ہی میں کھولے گئے ”آرٹسٹ کیفے“ میں داخل ہوا۔
داخلے پر ”آرٹسٹ کیفے“ کا ایک سائن بورڈ مجھے دو الگ الگ چھوٹے باغیچوں کی طرف لے گیا، جن کے سامنے سبز رنگ کی لکڑی سے بنا ایک ڈھانچہ کھڑا تھا۔ یہی وہ مختصر سا کیفے تھا جہاں تقریباً ایک درجن افراد چار مختلف گروپوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے۔
کیفے کے اندر میری ملاقات سید منور شاہ سے ہوئی، جو شلوار قمیص پہنے اپنے گاہکوں کے لیے چائے بنا رہے تھے۔ خود بھی ایک فنکار ہونے کے ناطے سید منورشاہ نے مجھ سے درخواست کی کہ میں انہیں چند منٹ دوں تاکہ وہ پہلے اپنے گاہکوں کو چائے پیش کر سکیں۔ بعد ازاں وہ داخلی دروازے کے قریب دو کرسیاں لے آئے اور مجھ سے کیفے اور اپنے فنی سفر کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔
مچھ میں پیدا ہونے اور وہیں پرورش پانے کے بعد کوئٹہ منتقل ہونے والے سید منورشاہ کا کہنا ہے کہ ان کی خاص مہارت ماربل آرٹ ہے۔ انہیں مچھ کی دلکش وادی کی بے شمار خوشگوار یادیں ہیں، جسے وہ اپنے فن کے لیے تحریک کا ایک اہم سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔
سید منورشاہ کو اپنے خاندان اور اپنے فنی سفر میں ان کے کردار پر خاص فخر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”میری اہلیہ میرے ماربل آرٹ کے لیے رنگوں کے انتخاب میں میری مدد کرتی ہیں۔“ یہ کہتے ہوئے وہ اپنے ”گھر کے آرٹسٹک ماحول“ پر بھی فخر کا اظہار کرتے ہیں۔
یہی ان وجوہات میں سے ایک ہے جس کی بنا پر وہ آرٹسٹ کیفے کو چلانے میں پیش پیش ہیں۔ ان کا مقصد ایسے شہر میں فنکاروں کو ایک جگہ اکٹھا کرنا ہے جہاں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے عمومی طور پر بہت کم مواقع اور جگہیں موجود ہیں۔
وہ باغیچوں میں بیٹھے مختلف فنکاروں کے گروہوں کو خوش گپیوں میں مصروف دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”ہم نے یہ کیفے اس لیے قائم کیا ہے تاکہ فنکار ایک ہی جگہ جمع ہو سکیں اور بے فکری کے ساتھ اپنا وقت گزار سکیں۔“
تھیٹر کی واپسی
آغا محمد کرد ایک مقامی ہدایت کار اور اداکار ہیں۔ جس دن میں کیفے گیا، وہاں ان کی ملاقات اپنے دوست، ادیب اور فنکار محمد ظفر کے ساتھ ہوئی۔ دونوں کسی موضوع پر نہایت جوش و خروش سے گفتگو میں مصروف تھے۔ جب میں ان کی میز کے قریب پہنچا تو انہوں نے خوش دلی سے میرا استقبال کیا، مجھے اپنے ساتھ بیٹھنے کی دعوت دی اور ویٹر کو اشارہ کیا، جس نے میرے سامنے تازہ تیار کی گئی چائے کا ایک کپ لا کر رکھ دیا۔
باقی حاضرین کی طرح وہ بھی کیفے کے قیام اور ساتھ واقع تھیٹر کی تقریباً 30برس بعد بحالی پر خوش ہیں۔
آغا محمد کرد خوشی سے کہتے ہیں کہ ”یہ وہ چیز تھی جس کی ہمیں بہت عرصے سے ضرورت تھی۔ ہم اپنے ہی شہر میں خانہ بدوشوں کی طرح زندگی گزار رہے تھے۔ شام کے وقت بیٹھنے کے لیے کوئی مستقل جگہ نہیں تھی، اس لیے کبھی کسی جگہ تو کبھی کسی چائے خانے میں بیٹھ جاتے تھے۔ خوش قسمتی سے اب ہمارے پاس اپنے فنکار دوستوں کے ساتھ بیٹھنے کی ایک جگہ موجود ہے۔“
آغامحمدکرد کی بات درست ہے کہ کوئٹہ میں کیفے نہ ہونے کے برابر ہیں، خصوصاً جناح روڈ پر، جو کبھی کیفوں کا مرکز ہوا کرتی تھی اور جہاں ادیبوں، سیاست دانوں، وکلا اور صحافیوں کی ایک متحرک برادری جمع ہوتی تھی۔
یہ ثقافت بہت پہلے ختم ہو چکی تھی۔ اس کیفے میں آغامحمدکرد جیسے فنکاروں کو ایک پناہ گاہ مل گئی ہے، جہاں وہ سکون سے بیٹھ کر بغیر کسی خلل کے لکھ سکتے ہیں۔
حکومت بلوچستان کے ڈائریکٹر ثقافت داؤد ترین کا کہنا ہے کہ آرٹسٹ کیفے فنکار برادری کے لیے ایک سازگار اور سرگرم ماحول فراہم کرنے کی غرض سے قائم کیا گیا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ”ہم نے ایک طویل عرصے کے بعد ان کے لیے تھیٹر بھی دوبارہ شروع کیا ہے تاکہ تھیٹر کی روایت کو بھی زندہ کیا جا سکے۔“
محمد ظفر اور آغا محمد کرد دونوں 30برس بعد تھیٹر کی واپسی کے حوالے سے پرامید ہیں۔
محمد ظفر ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”کوئٹہ میں نہ فنڈنگ تھی، نہ دلچسپی، اور نہ ہی ہمارے پروگرام منعقد کرنے کے لیے کوئی جگہ موجود تھی۔ اب جبکہ تھیٹر دوبارہ فعال ہو گیا ہے تو اس نے فنکاروں میں اپنے کام کو جاری رکھنے کے لیے امید کی ایک نئی کرن پیدا کر دی ہے۔“
آغا محمد کرد کے مطابق تھیٹر انہیں اپنے ڈرامے پیش کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، اور اس وقت وہ ایک مزاحیہ ڈرامہ پیش کر رہے ہیں۔
سورج غروب ہونے کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا۔ ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہونے اور متبادل جگہ نہ ہونے کے باعث ہم باہر ہی بیٹھے رہے۔ اس چھوٹے سے کیفے میں باورچی خانے کے علاوہ کوئی خاص اندرونی جگہ موجود نہیں۔
آغا محمد کرد اور محمد ظفر کے لیے یہ انتظام فی الحال قابل عمل ضرور ہے، لیکن سردیوں میں یہ مسئلہ بن سکتا ہے۔
آغا محمد کرد کہتے ہیں کہ ”ہم سردیوں میں باہر نہیں بیٹھ سکیں گے۔ کیفے کے اندر بھی بیٹھنے کے لیے مناسب جگہ ہونی چاہیے۔“
اس پر سید منور شاہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ان کے پاس منصوبہ موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”سردیوں کی آمد سے پہلے ہم کیفے کو مزید وسیع کریں گے۔“
اسی دوران آغا محمد کرد کیفے کی شناخت برقرار رکھنے کے لیے ”باہر کے لوگوں“ کو یہاں آنے کی اجازت دینے کے خیال کے مخالف نظر آتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں سوچتے ہیں، کیونکہ اگر کیفے کو عام لوگوں کے لیے بھی کھول دیا جائے تو یہ آمدنی کا ایک اچھا ذریعہ بن سکتا ہے اور کاروباری ماڈل کو پائیدار بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
مختصر خاموشی کے بعد وہ جواب دیتے ہیں کہ ”اگر کوئی نشے میں دھت شخص کیفے میں آ کر اس فنی ماحول کو خراب کرنے لگے تو کیا ہوگا؟“
ان کے دوست محمد ظفر اس بات پر صرف مسکرا دیتے ہیں۔
(بشکریہ: ’ڈان‘، ترجمہ:حارث قدیر)