← Back to Newsroom OS خبریں

کہاں جاؤ گے

By جدوجہد • 2025-09-26 • 6 min read

فیض احمد فیض

اور کچھ دیر میں لٹ جائے گا ہر بام پہ چاند
عکس کھو جائیں گے آئینے ترس جائیں گے
عرش کے دیدہئ نمناک سے باری باری
سب ستارے سر خاشاک برس جائیں گے
آس کے مارے تھکے ہارے شبستانوں میں
اپنی تنہائی سمیٹے گا، بچھائے گا کوئی
بے وفائی کی گھڑی، ترک مدارات کا وقت
اس گھڑی اپنے سوا یاد نہ آئے گا کوئی
ترک دنیا کا سماں ختم ملاقات کا وقت
اس گھڑی اے دل آوارہ کہاں جاؤ گے
اس گھڑی کوئی کسی کا بھی نہیں رہنے دو
کوئی اس وقت ملے گا ہی نہیں رہنے دو
اور ملے گا بھی اس طور کہ پچھتاؤگے
اس گھڑی اے دل آوارہ کہاں جاؤگے
اور کچھ دیر ٹھہر جاؤ کہ پھر نشتر صبح
زخم کی طرح ہر اک آنکھ کو بیدار کرے
اور ہر کشتہئ واماندگیئ آخرشب
بھول کر ساعت درماندگیئ آخر شب
جان پہچان ملاقات پہ اصرار کرے