کیا ایران میں مظاہرے اسرائیل نے منظم کرائے؟ - روزنامہ جدوجہد
سیاوش شہابی
کسی نے مجھ سے پوچھا: ”ایران میں 200سٹار لنک والے موبائل فون کس نے بھیجے؟ موساد کا ایران کے اندر مظاہرے منظم کرانے میں کیا کردار تھا؟“
میں عام طور پر ایسے سوالوں کا جواب نہیں دیتا، کیونکہ بات صرف یہ نہیں کہ ایسے سوال ہی غلط ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ سوال کس طرح سے کیا جاتا ہے؟ سوال کرنے سے قبل یہ تک نہیں سوچا جاتا کہ سوال اور ایران میں پائی جانے والی حقیقتوں کاآپس میں کوئی تعلق نہیں بنتا۔
ایران کی آبادی نوکروڑ ہے۔ 1400شہر ہیں۔ ہزاروں قصبے ہیں۔ یونیورسٹیوں کا ایک پورا نیٹ ورک ہے۔ فیکٹریاں اور محلے ہیں۔ سکول اور قید خانے، دیہات اور شہروں کے نواحی علاقے ہیں۔
اگر200سٹار لنک آئے تھے تو اس سے کس بات کا ثبوت ملتا ہے؟ کیا200سٹار لنک کی مدد سے اس بڑے پیمانے کی عوامی بغاوت منظم کی جاسکتی ہے، جو ایران میں ہوئی؟ کیا ان 200سٹار لنک کی مدد سے لاکھوں خواتین، مزدوروں، طلبہ، اساتذہ، پنشنرز، قیدیوں کے خاندانوں، ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں اور سڑکوں پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے مابین سیاسی تعلق کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے؟
جب سے 200سٹار لنک والا دعویٰ سامنے آیاہے ایران میں انٹرنیٹ تک رسائی محدود ہے۔ اکثر انٹرنیٹ بند رہتاہے، یا آہستہ چلتا ہے۔ انٹرنیٹ ایران میں طبقاتی مراعات میں شمار ہونے لگا ہے۔ ”سکیورٹی“ کے نام پر اسلامی جمہوریہ نے انٹرنیٹ سے لوگوں کو محروم کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ بعض مخصوص کاروباری گروہوں کے ذریعے محدود حد تک، مہنگے داموں دستیاب ہے۔ ایسے میں 200سٹار لنک کیسے کام کر رہے ہیں، معلوم نہیں۔ جب عام لوگ، سیاسی کارکن، صحافی، مزدور اور خاندان انٹرنیٹ کو ترس رہے ہوتے ہیں، ایسے میں 200سٹار لنک کہا ں ہوتے ہیں؟
رہا موساد کا تعلق تو میں اسے بھی اتنا سیدھا مسئلہ نہیں سمجھتا۔ میں آغاز پر ہی موساد کے کردار کی نفی نہیں کرنا چاہتا۔ اس خطے میں ہر ریاست دوسری ریاست کے خلاف خفیہ آپریشن کر رہی ہے۔ ایران کا اسرائیل میں نیٹ ورک موجود ہے۔ اسرائیل نے ایران میں نیٹ ورک بنا رکھا ہے۔ ریاستوں نے دوسرے ملکوں میں جاسوس، گھس بیٹھیے، کنٹریکٹرز، دلال اور جتھے بھیجے ہوئے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں مندرجہ ذیل سنجیدہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہے:
ایسا کیوں ہے کہ ایران میں مزدوروں کی ہڑتال ہو، ماحولیات کے لیے کام کرنے والا کوئی گروہ ہو، خواتین کا کوئی نیٹ ورک ہو، اساتذہ کا کوئی احتجاج ہو، طلبہ کا کوئی ایکشن ہو، حتیٰ کہ سکول کے بچے بھی کچھ کریں تو پاسداران انقلاب اور ایران کے سکیورٹی ادارے انہیں بے رحمی سے کچل دیتے ہیں، مگر موساد ایجنٹ دن دیہاڑے داخل ہوتے ہیں اور اس بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہیں۔ کیسے؟
ایک انسٹاگرام پوسٹ، مزدورکے ایک بیان، دیوار پر لکھے ایک نعرے پر تو تحقیقات شروع ہو جاتی ہیں، مگر اس بڑے پیمانے پر اسرائیل نے گھس بیٹھ کر رکھی ہے اور ایران کے سکیورٹی ادارے اس قدر بے بس ہیں۔ کیوں؟
ان لوگوں کو مندرجہ بالا سوالات بہت ناگوار گزرتے ہیں کیونکہ ان سوالوں کے جواب میں بات ایرانی رژیم تک پہنچتی ہے: بدعنوانی، بھتہ خوری، سماجی اعتبار کا خاتمہ، رژیم کے بارے میں یہ تاثر کے یہ ناجائز ہے، سکیورٹی پر مبنی معیشت، اطلاعات کی خرید و فروخت، سیاست سے معاشرے کی بے دخلی اور ایک ایسا نظام جو شہریوں کا دفاع کرنے کی بجائے انہیں دشمن تصور کرتا ہے۔
جو لوگ”سٹار لنک“ اور ”موساد“ کی مدد سے ہر بات کا تجزیہ کر دیتے ہیں، انہیں نہ تو یہ اندازہ ہے کہ ایران کتنا بڑا ہے۔ یہاں جبر کی ایک تاریخ ہے، معاشرے اور ریاست کے مابین کتنی گہری خلیج ہے، سالہا سال کی ذلت سہنے والی نسل غصے سے کتنی بھری بیٹھی ہے نہ ہی ایسے لوگوں کو غربت، امیتازی سلوک، زبردستی کے حجات، قید خانوں، پھانسیوں، بیروزگاری، زبان بندی اور جھوٹ کے بارے میں کوئی خبر ہے۔
یہ لوگ ایک زندہ معاشرے کو ہالی ووڈ کی فلم کا کوئی منظر بنا کر پیش کرتے ہیں: چند غیر ملکی ایجنٹ، درجن بھر سیٹلائٹ سے جڑے موبائل، چند خفیہ کارروائیاں اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ ایسے بیانیے میں ایرانی شہریوں کے پاس گویا کوئی سیاسی سمجھ بوجھ نہیں ہے۔
اس طرح کے بیانیے میں ایرانی یا تو ایک ”قوم“ ہیں، ”نظام کے حامی ہیں“، جو ”ہرگھڑی تیار ہیں“ یا، اگر وہ سڑکوں پر نکل آئیں تو، انہیں بیوقوف بنایا گیا ہے، وہ بک گئے ہیں، اور بیرونی دشمن کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔
یہ محض احمقانہ حد تک سادہ بیانی نہیں، بلکہ ایرانی رژیم کی منطق ہے۔ جب اس طرح کا بیانیہ مغرب میں بیٹھ کر بنایا جائے تو اسے نسل پرستی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مغرب کا ایک حلقہ ابھی بھی یہ سمجھتا ہے کہ اہل ایران میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ سیاست، غصے، تنظیم، بغاوت، شعور یا کسی تاریخی تجزیے کو منظم کر سکیں۔
کسی غیر ملکی ہاتھ کا ہونا ضروری ہے۔ یہ تو وہی طریقہ کار ہے جو نوآبادیاتی دور میں تھا، جس میں ایرانی کو تحلیل کر دیا جاتا ہے۔ ایرانی کو ایک تابعدار انسان ہونا چاہیے ورنہ وہ احمق ہے۔ اس بیانیے کے مطابق ایرانی نہ تو کبھی بالغ نظر ہو سکتا ہے، نہ طیش میں آسکتا ہے اور نہ ہی وہ اپنی تاریخ خود بنا سکتا ہے۔