← Back to Newsroom OS بین الاقوامی

کیا ٹرمپ ایران پر حملے سے پیچھے ہٹ جائے گا؟

By جدوجہد • 2026-03-12 • 10 min read

 ایلیکس کالینیکوس

”کسی انقلاب پر حملہ مت کرو“، یہ انتباہ ٹائمز اخبار نے خزاں 1980 میں کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب صدام حسین کی قیادت میں عراق نے امریکہ کی پشت پناہی سے ایران پر حملہ کیا تھا۔

حقیقت میں ایران میں برسراقتدار آنے والی اسلامی جمہوری رژیم نے پہلے ہی اس عوامی اور مزدوروں پر مبنی انقلاب کو دفن کر دیا تھا جس نے 1979 میں شاہ کی آمریت کو اکھاڑ پھینکا تھا۔

تاہم آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں ایرانی ریاست نے خود کو اسی انقلاب کے جھنڈے میں لپیٹ لیا۔ عراق کے ساتھ 8 سالہ جنگ نے اس حکومت کو ایرانی قوم پرستی کی بنیاد پر اپنے آپ کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کیا۔ جنگ اور انقلاب کا یہ بانی تجربہ یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ ایران پر حملے اور خمینی کے جانشین علی خامنہ ای کے قتل کے باوجود اسلامی جمہوریہ کیوں نہیں گری۔

مورخ محسن میلانی کے مطابق ”یہ ایک شخص کا شو نہیں ہے۔ اسے ادارہ جاتی بنا دیا گیا ہے۔ یہاں طاقت کے متعدد مراکز موجود ہیں، سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے کئی پرتوں والے ادارے قائم ہیں۔“ اسلامی جمہوریہ ”شروع ہی سے اس طرح ڈیزائن کی گئی تھی کہ وہ بیرونی حملوں سے بچ سکے۔“

ان اداروں میں سب سے اہم شاید پاسداران انقلاب(آئی آر جی سی) ہے۔ یہ افواہیں ہیں کہ یہ نئے سپریم لیڈر، یعنی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے بہت قریب ہے۔ ان کا انتخاب ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ پر طمانچہ ہے، جو کہتے ہیں کہ وہ ایران کے آئندہ حکمرانوں کا انتخاب خود کریں گے۔

ایسا لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ تصور کر لیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ اسی طرح ہوگی جیسے جنوری میں وینزویلا پر امریکہ کی قزاقانہ کارروائی ہوئی تھی۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے اغوا کے بعد ان کی جگہ فرمانبردار ڈیلسی روڈریگز کو بٹھا دیا گیا تھا۔

تاہم واشنگٹن پوسٹ اخبار کے مطابق”نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی ایک خفیہ رپورٹ میں یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ بھی کرے تو بھی اس بات کا امکان کم ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے مضبوطی سے جڑے ہوئے فوجی اور مذہبی اقتدار کو ختم کیا جا سکے۔”

نیویارک ٹائمز کے مطابق”امریکی فوجی حکام“نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ”ایران جنگ کے لیے اس سے کہیں زیادہ تیار تھا جتنا ٹرمپ انتظامیہ نے اندازہ لگایا تھا۔“

اب تک ایرانی حکومت امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کو برداشت کرنے میں کامیاب رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پورے خطے میں میزائلوں اور ڈرونوں کی مسلسل کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکہ نے صرف ایران کی مزاحمت کی صلاحیت کو ہی کم نہیں سمجھا۔ اس کی جنگی منصوبہ بندی میں غالباً اس حقیقت کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا کہ ایران عالمی سرمایہ داری کے ایک نہایت اہم خطے کے بیچ واقع ہے۔یہ مسئلہ صرف اس حقیقت تک محدود نہیں کہ خلیج یورپ اور ایشیا دونوں کو تیل اور گیس فراہم کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔

گزشتہ ایک نسل کے عرصے میں دبئی تیزی سے پھیل کر ایک عالمی شہر بن گیا ہے، جس کی آبادی تقریباً 40لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کے حامیوں کے دعووں کے برخلاف، جغرافیہ اب بھی اہمیت رکھتا ہے۔ دبئی کو مالیات، ہوا بازی، سیاحت اور اعلیٰ درجے کی صارفیت کے مرکز کے طور پر اس لیے فائدہ ہوا کیونکہ یہ دولت کے بڑے مراکز یعنی خود خلیج، یورپ اور مشرقی ایشیاکے قریب واقع ہے۔یہ بات بھی قابل پیش گوئی تھی کہ بقا کی جنگ میں ایرانی رژیم خطے کی معیشت کو متاثر کرنے کی کوشش کرے گی۔

خلیجی ریاستوں پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے بھی زیادہ اہم بات آبنائے ہرمز کی بندش ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد مائع قدرتی گیس اور 25 فیصد سمندری راستے سے بھیجا جانے والا تیل اسی راہداری سے گزرتا ہے۔

جے پی مورگن انویسٹمنٹ بینک کی نتاشا کانیوا کے مطابق”آبنائے ہرمز کی پوری تحریری تاریخ میں یہ کبھی بند نہیں ہوئی۔ میرے لیے یہ صورت حال نہ صرف بدترین امکان تھی، بلکہ بالکل ہی ناقابل تصور تھی۔“

ماہرین اسے ”تاریخ کا سب سے بڑا تیل سپلائی جھٹکا“کہہ رہے ہیں، اوراس کی وجہ سے قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ فنانشل ٹائمز کے کالم نگار گڈیون راک مین نے ٹویٹ کیا کہ ”پس، تیل 110 ڈالر فی بیرل اور ایران کی سربراہی ایک اور خامنہ ای کے سپرد۔آپریشن ایپک فیوری آپریشن ایپک فیلئربن جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔“

اہم سوال یہ ہے کہ اس ناکامی پر ٹرمپ کیسے ردعمل دیتے ہیں؟وہ شاید اپنے خلیجی دوستوں کے دباؤ میں ایران پر حملوں کو روک دیں اور اعلان کر دیں کہ وہ جیت چکے ہیں۔ یہ ٹرمپ کے یوٹرن لینے کی ایک اور مثال ہوگی۔یا پھر ذلت کا سامنا کرنے کی بجائے، اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اکسانے پر وہ جنگ کو مزید شدید بھی کر سکتے ہیں۔

یہ انسانیت کے لیے ایک انتہائی خطرناک لمحہ ہے۔ 2007-09 کے مالیاتی بحران کے بعد سے عالمی سرمایہ داری کی اندرونی تباہی تیز ہوتی جا رہی ہے اور نظام کو تیزی سے خودکشی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ہمیں اس نظام سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔

(بشکریہ: ’سوشلسٹ ورکرز‘، ترجمہ: حارث قدیر)