کیمپ ازم سامراج دشمنی نہیں، طبقاتی جدوجہد کو بے دخل کرنے کا نام ہے - روزنامہ جدوجہد
سیاوش شہابی
کیمپ ازم محض کوئی جیوپولیٹیکل غلطی یا سامراج دشمنی کی غلط فہمی کا نام نہیں۔ کیمپ ازم طبقاتی جدوجہد کو بے دخل کرنے اور غائب کر دینے کا نام ہے۔
سامراجی ممالک میں بائیں بازو کا ایک حصہ جو اپنے اپنے ملکوں میں سامراجی سرمائے، اسلحہ ساز انڈسٹری، جنگ، پولیس، جیل، بارڈرز، نسل پرستی اور سامراجی سیاسی جماعتوں کے خلاف یا تو جدوجہد منظم نہیں کر پایا یا کرنا نہیں چاہتا۔ اس نوع کا بایاں بازو اپنے آزادی کے خواب کو پھر کہیں اور تعمیر کرنے میں لگ جاتا ہے۔
سامراج مخالفت کو بندرگاہوں، یونیورسٹیوں، اسلحہ ساز فیکٹریوں، ٹریڈ یونینز، میڈیا، ٹیک کمپنیوں،اور جنگ کے لیے اسلحہ فراہم کرنے والی لاجسٹک چینزمیں مزدور تنظیموں کی شکل دینے کی بجائے کیمپ اسٹ بایاں بازو بیرونی ریاستوں ااور طاقتوں میں سامراج مخالفت تلاش کرتا ہے۔ یوں امریکہ سے دشمنی رکھنے والی ریاستیں محنت کش طبقے کی جگہ لے لیتی ہیں، طبقاتی جدوجہد کی جگہ جیو پالیٹکس لے لیتی ہے، قومی خودمختاری استحصال سے آزادی کی جگہ لے لیتی ہے۔
کیمپ اسٹ نقطہ نظر کے مطابق ایران، شام اور فلسطین طبقاتی کشمکش، صنفی جبر، اجرت کے بدلے محنت، ہجرت، جیل، ہڑتال، قلم کی آزادی اور عوام کے نچلی سطح پر منظم ہونے کا نام نہیں رہتے۔ یہ مل کر ایک ایسی سٹیج بن جاتے ہیں جن پر مغربی بائیں بازو کی تاریخی ناکامی کا مداوا کیا جاتا ہے۔ ان معاشروں کا کام یہ رہ جاتا ہے کہ وہ اس کیمپ اسٹ بائیں بازو کی طرف سے مزاحمت کریں، اس بائیں بازو کی طرف سے قیمت چکائیں، اور اس کی خاطر ترقی پسندی کو زندہ رکھیں مگر ضروری نہیں وہ یہ سب کچھ اپنی آواز، اپنے نقطہ نظر، اپنے طبقاتی مفاد سے کریں۔ ان کے پاس یہ اختیار بھی برداشت نہیں کیا جاتا کہ وہ ان ریاستوں یا طاقتوں پر تنقید کر سکیں جو مزاحمت کے نام پر ان کے اوپر حکومت کرتی ہیں۔ یہ بے دخلی محض تھیوریٹیکل اور سیاسی سطح پر نہیں ہوتی۔ یہ نالج پروڈکشن میں بھی ری پروڈیوس ہوتی ہے۔
نوآبادیاتی تاریخ اور سامراج کے موجودہ غلبے کے باعث، مغربی اداروں کے پاس آج بھی یہ اختیار موجود ہے کہ وہ کسی جواز کو ثابت کر سکیں، اس بات کا فیصلہ کیں کہ کس کو کتنی توجہ ملنی ہے اور کسی مسئلے یا موضوع پر کس کی بات معتبر ہے۔ نہ صرف یہ ادارے غیر مغربی دنیا بارے بات کرتے ہیں بلکہ یہ فیصلہ بھی کرتے ہیں کہ کس کی آواز کو پذیرائی بخشنی ہے، کون حقیقی نمائندگی کا حق دار ہے، کس کی آوازکو دبانا ہے، کیونکہ وہ آواز بہت خام ہے، بالکل مقامی ہے، سمجھ سے بالاتر ہے یا یہ کہ تھیوری میں فٹ نہیں ہوتی۔
مغرب کے بہت سے میڈیا آؤٹ لیٹ یا حلقے جب ایران یا اس خطے کی بات کرتے ہیں تو مزدوروں، خواتین کارکنوں، اساتذہ، نرسوں، آزادی سے لکھنے والے لکھاریوں، سیاسی قیدیوں، سیاسی کارکنوں اور ملک میں موجود آوازوں کو موقع خال خال ہی دیا جاتا ہے کہ وہ خود اپنی جدوجہد کے بارے میں بات کریں۔ اس کی بجائے مغرب میں موجود اکیڈمکس، ڈائسپورا میں موجود ماہرین، یا پروفیشنل مبصرین کو موقع دیا جاتا ہے کہ ان معاشروں کا جائزہ لیں۔ نقطہ یہ نہیں کہ ڈائسپورا ماہرین یا اکیڈمکس غیر اہم ہیں۔ بات یہ ہے کہ جب نالج پروڈکشن کسی میڈیم کے ذریعے ہو گی تو غیر مغربی ممالک میں ہونے والی جدوجہد کا مفہوم اور مطلب یا اس کی ترویج بالادست حلقے کریں گے۔
میں یہاں ان حلقوں کی بات نہیں کر رہا، جو جان بوجھ کر مطلق العنان، بنیاد پرست، عورت دشمن، مزدور دشمن یا فسطائی قوتوں کو ”مزاحمت“ کے نام پر پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں کیمپ ازم ایلیٹ ازم اور ریورس اورینٹل ازم سے گڈ مڈ ہو جاتا ہے: مشرق اور گلوبل ساؤتھ”پسماندہ“ ہونے کی بجائے”مزاحمت“ کی علامت بن جاتے ہیں، کسی قہرمان کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ ہاں البتہ انہیں اپنی زبان میں بات نہیں کرنے دی جاتی، اس زبان میں جو طبقاتی کشمکش اور آزادانہ جدوجہد کے لہجے میں بات کرے۔
ہم ایک ناہموار جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمیں مقامی سرمایہ داری، سکیورٹی اسٹیٹ، پدرسری، بنیاد پرستی، اور طبقاتی جبر کے خلاف لڑنا ہے، مگر ہمیں سامراجی ذہنیت کے خلاف بھی لڑنا ہے۔ یہ وہ ذہنیت ہے جو مغرب میں اگر لیفٹ بھی کہلاتی ہے تو بھی ہمارے معاشروں میں حقیقی جدوجہد کرنے والی قوتوں کو بولنے اور نظریہ سازی کا حق نہیں دیتی۔
تضاد بالکل واضح ہے: وہی حلقے جو نیویارک کے بلدیاتی الیکشن میں تو فتح کا جشن تو منا لیتے ہیں، مگر ایران میں ہڑتال پر جانے والے مزدور، خاتون ایکٹوسٹ، ایک آزاد مصنف، یا ایک جبر کا شکار معلم کو بولنے یا نظریہ سازی کے لیے کوئی موقع فراہم کرنے پر تیار نہیں۔