گریتا پر اسرائیلی تشدد، اسرائیلی جھنڈا چومنے پر مجبور کیا گیا
لاہور(جدوجہد رپورٹ)بین الاقوامی ماحولیاتی کارکن گریتا تھنبرگ پر اسرائیلی حراست میں تشدد اور توہین آمیز سلوک کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
’دی گارڈین‘نے انکشاف کیا ہے کہ گریتانے سویڈش حکام کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے انہیں ایک بدحال اور جراثیم زدہ سیل میں قید رکھا، جہاں انہیں ناکافی خوراک اور پانی فراہم کیا گیا اور جسم پر خارش اور دانے نکل آئے۔
گریتا تھنبرگ کو اسرائیلی بحریہ نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘کے ساتھ غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والی کشتیوں کے قافلے میں سوار تھیں۔ یہ فلوٹیلا 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل تھی جن کا مقصد اسرائیل کی 16 سالہ غزہ کی ناکہ بندی کو توڑ کر وہاں انسانی امداد پہنچانا تھا۔ اسرائیلی افواج نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تمام کشتیوں کو روکا اور عملے کے 437 ارکان کو گرفتار کر لیا، جن میں ارکان پارلیمان، وکلا اور سماجی کارکن شامل تھے۔
سویڈش وزارت خارجہ کی ایک ای میل میں بتایا گیا کہ سویڈش سفارتخانے کے ایک اہلکار نے جیل میں گریٹا سے ملاقات کی۔ گریتانے سفارتی عملے کو بتایا کہ انہیں کم پانی، ناکافی خوراک اور سخت فرش پر طویل وقت تک بٹھائے جانے جیسے سخت حالات کا سامنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں مشتبہ طور پر جراثیم زدہ سیل میں رکھا گیا ہے جس کے باعث جلد پر خارش اور زخم ہو گئے۔
ایک دوسرے قیدی نے مبینہ طور پر بتایا کہ اسرائیلی اہلکاروں نے گریٹا کو زبردستی جھنڈے تھامنے پر مجبور کیا اور ان کی تصاویر بنائیں۔ ان جھنڈوں کی شناخت نہیں ہوسکی، تاہم فلوٹیلا کے دیگر دو شرکا نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ گریٹا کو اسرائیلی پرچم میں لپیٹ کر’ٹرافی‘کی طرح پیش کیا گیا۔
ترک کارکن ارسن چیلک نے اناطولیہ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ’ہماری آنکھوں کے سامنے انہوں نے چھوٹی سی گریتا کو بالوں سے گھسیٹا، مارا پیٹا، اور انہیں اسرائیلی جھنڈا چومنے پر مجبور کیا۔ وہ انہیں دوسروں کے لیے نشان عبرت بنانے پر تلے ہوئے تھے۔‘
اسی طرح فلوٹیلا میں شامل اطالوی صحافی لورینزو ڈی آگوسٹینو نے استنبول پہنچنے کے بعد بتایا کہ’گریتا کو اسرائیلی جھنڈے میں لپیٹ کر اس طرح دکھایا گیا جیسے کوئی جنگی انعام ہو۔ یہ منظر ہم سب کے لیے ناقابل یقین اور تکلیف دہ تھا۔‘
گریتا سمیت بیشتر کارکنوں کو جنوبی اسرائیل کے صحرائے نیگیو میں واقع کتزیوت جیل میں رکھا گیا ہے۔ یہ ایک ہائی سکیورٹی جیل ہے جہاں عام طور پر فلسطینی قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جن پر اسرائیل دہشت گردی یا مزاحمتی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم’عدالہ‘کے وکلا کے مطابق قیدیوں کے بنیادی حقوق کی منظم انداز میں خلاف ورزی کی گئی ہے۔ انہیں پانی، صفائی، دوا اور وکیلوں تک فوری رسائی سے محروم رکھا گیا، جو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اطالوی قانونی ٹیم نے بھی تصدیق کی کہ قیدیوں کو کئی گھنٹوں تک خوراک اور پانی نہیں دیا گیا، سوائے ایک پیکٹ چپس کے جو صرف گریتا کو دیا گیا اور میڈیا کے سامنے دکھایا گیا۔
اسرائیل کے انتہا پسند وزیرقومی سلامتی ایتامار بن گویر نے جمعرات کی شب اشدود بندرگاہ پر حراست میں لیے گئے کارکنوں کو’دہشت گرد‘قرار دیا۔ ان کے ترجمان نے تصدیق کی کہ بن گویر نے ایک ویڈیو میں فلوٹیلا کے شرکا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ’یہ ہیں فلوٹیلا کے دہشت گرد۔‘
اس دوران کچھ کارکنوں کو’فلسطین کو آزاد کرو‘کے نعرے لگاتے بھی سنا گیا۔ بن گویر پہلے بھی مطالبہ کر چکے ہیں کہ ایسے کارکنوں کو ملک بدر کرنے کی بجائے قید کیا جائے۔
سویڈن کے وزارت خارجہ کے مطابق سفارتخانے کے حکام نے گریتا سمیت 9 سویڈش شہریوں سے ملاقات کی ہے۔ سویڈن نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قیدیوں کی صحت، خوراک، اور قانونی نمائندگی کا خیال رکھا جائے اور انہیں جلد از جلد اپنے وطن واپس بھیجا جائے۔
یاد رہے کہ یہ دوسرا موقع ہے جب گریتا تھنبرگ کو غزہ کے لیے روانہ ہونے والی امدادی فلوٹیلا کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی وہ جون میں اسی نوعیت کی کوشش کے دوران حراست میں لی جاچکی ہیں۔