گرین لینڈ سے ڈنمارک، ای یو یکجہتی نہیں منافقت کر رہے ہیں: ایس اے پی ڈنمارک
(مندرجہ ذیل بیان ڈنمارک کی سوشلسٹ ورکرز پالیٹکس، ایس اے پی، نے جاری کی ہے۔ ایس اے پی چوتھی انٹرنیشنل کا ڈینش سیکشن اور ڈنمارک کے ریڈ گرین الائنس کا حصہ ہے۔ ترجمہ: فاروق سلہریا)
ٹرمپ رژیم گرین لینڈ پر امریکہ کے سامراجی قبضے کے لئے پوری شدت سے حملہ آور ہے۔ ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں: سیاسی، معاشی حتٰی کہ فوج کشی کی دھمکیاں۔ یہ بات قابلِ فہم ہے کہ اس صورتحال میں گرین لینڈ کی سیلف گورنمنٹ نے اپنے سابق استعماری آقا (ڈنمارک)،یورپی یونین اور ناٹو کے یورپی ارکان سے اتحاد کی حکمت عملی اپنائی ہے۔
اس اتحاد کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ ٹرمپ کا گرین لینڈ پر قبضے کا منصوبہ اندریں حالات ناکام ہو جائے گا البتہٰ نہ تو ڈنمارک نہ ہی یورپی یونین گرین لینڈ کی جدوجہد آزادی کے حقیقی علمبردار ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ ڈنمارک اور یورپی یونین ڈنمارک کی آزادی چاہتے ہی نہیں۔ لوگوں نے ٹرمپ کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں بھر پور طریقے سے شرکت کی۔یہ خوشی کی بات ہے۔ علاوہ اور باتوں کے، ان مظاہروں میں گرین لینڈ کے حق خود ارادیت پر زور دیا گیا۔ گرین لینڈ کی حکومت کے علاوہ، ڈنمارک کی وزیر اعظم نے بھی گذشتہ چند مہینوں میں گرین لینڈ کے حق ِخود ارادیت پر زور دیا ہے۔ اس کے باوجود نہ تو ڈنمارک کی حکومت پر اعتبار کیا جا سکتا ہے نہ اس اتحاد میں شامل دیگر حلیف قابل اعتبار ہیں۔ ان کے ارادے نیک نہیں۔
ہم نے ایک سال پہلے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ ڈنمارک کا گرین لینڈ کے ساتھ سامراجی تعلق ہے۔ اس تعلق میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ گرین لینڈ کی وجہ سے ڈنمارک کو جیو پولیٹیکل اہمیت حاصل رہے۔ یہ بات اس حقیقت کے باوجود درست ہے کہ گرین لینڈ کے باسیوں نے لڑ کر اپنے لئے محدود خود مختاری حاصل کی ہوئی ہے۔یورپی یونین کے مددگار حلیف بھی گاہے بگاہے گرین لینڈ کی معدنیات میں دلچسپی ظاہر کرتے آئے ہیں۔ علاوہ ازیں یورپ کے دفاع میں اس ملک کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
منافقت سے باز آ جاو
چند ہفتوں سے گرین لینڈ کے لئے حق کود ارادیت کی حمایت میں ہر نوع کی سیاسی قوتیں آواز اٹھا رہی ہیں۔ گرین لینڈ کی آزادی میں یقین رکھنے والے حقیقی دوستوں،حتیٰ کہ خود گرین لینڈ کے لئے، ان آوازوں کو ہضم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے گویا ڈنمارک کی ”سلطنت“ ہمیشہ سے گرین لینڈ کے حق خود ارادیت کی پاسداری کرتی رہی ہو۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے تعلقات کی تاریخ اس خوب صورت افسانے کی نفی کرتے ہیں۔ یہ منافقت پر مبنی کہانی ہے۔ گرین لینڈ میں سیلف گورنمنٹ قائم ہونے کے بعد بھی ڈنمارک کا سامراجی غلبہ قائم ہے۔
یہ بھی ایک اشتعال انگیز امر ہے کہ ڈنمارک،انگلینڈ، فرانس، نیدر لینڈ اور دیگر ممالک ”عالمی قانون کی بالادستی“ کا سبق دے رہے ہیں یا یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ”ہم مغرب والوں نے“ قانون کی اس بالادستی کو قائم رکھا۔ڈنمارک ہی نہیں، یورپ کے انہی بہت سے ممالک نے امریکہ کی قیادت میں،عالمی قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، ”کولیشن آف دی وِلنگ“میں امریکی حلیف کے طور پر پہلے افغانستان پر فوج کشی کی پھر عراق پر چڑھائی کی۔
کیا، امریکہ کے خلاف اس ٹیکٹیکل اتحاد کو برقرار رکھنے کے لئے،بایاں بازو اس منافقت پر خاموشی اختیارکر لے؟کیا ہم اس بات کو قبول کر لیں کہ ڈنمارک کی”سلطنت“ہمیشہ گرین لینڈ کے حق خود ارادیت کا احترام کرتی رہی ہے اور ”یورپی یونین والے دوست“ قابلِ بھروسہ ہیں؟ ریڈ گرین الائنس کم از کم یہی کر رہا ہے۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔
پہلی بات: اگر ہم اس طرح کا موقف لیں تو پھر ہم یوروسنٹرک منافق کے سوا کچھ نہیں جو مغربی (بشمول ڈنمارک) سامراج اور کلونیل ازم کی تاریخ اور عہد حاضر میں اس کے کردار پر آنکھیں موند لیتے ہیں۔ اس طرح کا موقف اختیار کر نے سے یکجہتی کی بنیاد پر، سرحدوں کے آر پارہمارے انٹرنیشنل ازم پر حرف آئے گا۔ اسی طرح، ہمارے گرین لینڈ ہی نہیں،ڈنمارک کی دیگر اقلیتوں۔۔۔جنہیں اس منافقت کا بخونی علم ہے۔۔۔سے بھی تعلقات تناو کا شکار ہوں گے۔
دوسری بات: گرین لینڈ کی حقیقی آزادی کے لئے بنیاد رکھنا اہم ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ ٹرمپ اور امریکہ اپنا منصوبہ ترک کرتے یں یا نہیں حتیٰ کہ ٹرمپ اور امریکہ کے عنصر کو ذہن میں رکھے بغیر بھی، گرین لینڈ کی آزادی کے لئے جدوجہد اہم ہے۔
جب تک ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضہ نہ کرے جس کے نتیجے میں ناٹو کا فوجی اتحاد بھی ٹوٹ جائے گا، گرین لینڈ کے حق خود ارادیت کے حوالے سے ڈنمارک اور یورپی یونین کا کردار کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کردار فوجی لحاظ سے بھی ہو گا اور گرین لینڈ کی معدنیات کے حوالے سے بھی۔اس حقیقت کے پیش نظر،ڈنمارک اور یورپی یونین میں کسی قسم کی خوش فہمی کو جنم دینا قابل گرفت ہے۔ اس بارے کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ طاقتیں گرین لینڈ کی معدنی دولت اور آرکٹک (Arctic) میں فوجی کنٹرول کے حوالے سے اپنے مفادات کو ترجیع دیں گی نہ کہ گرین لینڈ کے مفاد کو۔ گرین لینڈ کی سیلف گورنمنٹ آرکٹک میں اسلحہ کی دوڑ بارے بھی شکوک و شبہات رکھتی ہے اور یہاں کان کنی بارے بھی۔
آرکٹک میں اسلحے کی دوڑ نا منظور
آرکٹک میں اسلحے کی دوڑ گرین لینڈ کی سلامتی کے لئے بھی خطرہ ہے اور امن عالم کے لئے بھی۔یہ دوڑ ہر صورت رکنی چاہئے۔ اگر تو گرین لینڈ،حتیٰ کہ گرین لینڈ کی ترقی پسند جماعت اے آئی، ایسا چاہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ چند (مزید) ڈینش فوجی ”امریکی قبضے“ کے خلاف علامتی طور پر گرین لینڈ میں تعینات کر دئے جائیں۔ڈنمارک نے ایسا کیا۔اب تو یورپی ناٹوکے بھی بہت سے فوجی یہاں تعینات کئے جا رہے ہیں۔ بظاہر سب اس بابت جوش و خروش کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔ ریڈ گرین الائنس کے جوش و خروش کی وجہ ”گرین لینڈ کے لئے بہت بڑی یکجہتی“ ہے۔ بہت سے صحافیوں نے بھی اس یکجہتی والی بات کو اجاگر کیا ہے۔
مگر: فوجیوں کی اس تعیناتی بارے یہ تاثر نہیں ہے کہ انہیں امریکہ کے خلاف گرین لینڈ کی حفاظت کے لئے تعینات کیا جا رہا ہے۔ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ یہ فوجی گرین لینڈ،ناٹو اور امریکہ کی حفاظت کے لئے چین اور روس کے خلاف تعینات کئے جا رہے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر ڈنمارک یہ کہہ رہا ہے کہ خطے میں اسلحے کی دوڑ کا امریکی خواب ڈنمارک پورا کرنے پر تیار ہے تو قبضے کی کیا ضرورت ہے؟
یوں فوجیوں کی تعیناتی سے دوہرا مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ ایک طرف امریکہ کو قائل کیا جا سکتا ہے کہ گرین لینڈ پر قبضہ مشکل اور مہنگا سودا ہے۔ دوسرا یہ کہ امریکی خواب کی تکمیل تو ڈنمارک اور ناٹو کے یورپی ارکان کر سکتے ہیں۔ ریڈ گرین جیسی سیاسی جماتوں کے لئے اس موقع پر مختلف موقف اختیار کر نا ضروری ہو جاتا ہے یا ہو جانا چاہئے تھا۔ ہم ایک سامراجی بلاک کی دوسرے سامراجی بلاک سے جنگ میں پڑنے کو درست خیال نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آرکٹک ریجن میں فوجوں کا انخلا چاہتے ہیں۔ گرین لینڈ میں ناٹو کی تعیناتی اسلحے کی دوڑ کو تیز کرے گی۔
گرین لینڈ کے ارد گرد ناٹو، ڈنمارک اور امریکہ کی جانب سے فوجی اقدامات گرین لینڈ کے دفاع کے لئے نہیں۔ گرین لینڈ کے باسیوں کا تحفظ تو ہر گز بھی ان کے پیشِ نظر نہیں۔ مثال کے طور پر،گرین لینڈ کے ساحلوں کی مانیٹرنگ تا کہ روسی سب میرینز کو امریکہ کی جانب پیش قدمی سے روکا جا سکے، یا گرین لینڈ کے گرد میزائلوں کا حصار (”گولڈن ڈوم“)قائم کرنا تا کہ امریکہ کو روس کے میزائل حملوں سے بچایا جا سکے،کسی طور بھی سلطنت ِڈنمارک کو محفوظ بنانے والے اقدامات تو نہیں کہلا سکتے۔ آرکٹک میں تو ان اقدامات کے نتیجے میں گرین لینڈ اور اس کے باسی پہلا نشانہ بن جائیں گے۔
اس گولڈن ڈوم کے نتیجے میں امریکہ، جو عہد حاضر کی سب سے جارح سامراجی قوت ہے، محفوظ ہو جاتا ہے تو اس سے امن عالم کو کیا فائدہ ہو گا،بالخصوص اگر امریکہ تیسری عالمی جنگ شروع کر دیتا ہے تو اس گولڈن ڈوم کے بدلے امریکہ سے کیا بات منوائی جا رہی ہے؟ اس عمل کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ چین یا روس کے ساتھ فوجی تنازعے کی شکل میں اس بات کا خطرہ بڑھ جائے گا کہ ٹرمپ جیسا کوئی صدر دنیا کو ایٹمی جنگ میں جھونک دے۔ابھی گذشتہ ہفتے ہی ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ گولڈن ڈوم امریکہ کی ”قومی سلامتی کے مفاد“میں ہے جس کے لئے گرین لینڈ پر قبضہ ضروری ہے۔
ماحولیات کے ساتھ گرین لینڈ کی وابستگی
معاشی دباو کے باوجود،کئی ایسے موقع آئے کہ گرین لینڈ کی سیلف گورنمنٹ نے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کو گرین لینڈ میں کان کنی کے ایسے منصوبوں سے منع کر دیا جس سے ماحولیات کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ٹرمپ گرین لینڈ پر بلا شبہ اس لئے بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے کہ یہاں کی معدنیات حاصل کرنے کے لئے ماحولیات کے تحفظ کے لئے بنائے گئے گرین لینڈ کے قوانین کو ختم کیا جا سکے تا کہ امریکی کمپنیاں لوٹ مار کر سکیں۔ ایک خطرہ گویا یہ بھی ہے کہ امریکہ سے مذاکرات میں اس نقطے پر بھی گھٹنے ٹیکے جا سکتے ہیں۔اس بات سے قطع نظر کہ اس ضمن میں ناٹو جنرل سیکرٹری کے ساتھ بات چیت میں ٹرمپ نے پہلے ہی مطالبہ کیا ہوا ہے یا نہیں۔۔۔خدشہ یہ ہے کہ ماحولیات بارے قوانین پر سمجھوتہ کر کے ممکن ہے ڈنمارک اور یورپی یونین خود اپنا حصہ وصول کرنے کی کوشش کریں۔ اس سارے عمل میں گرین لینڈ سے شائد پوچھا بھی نہ جائے۔
اس پس منظر میں یہ کافی نہیں کہ ماحولیات کے لئے بنائے گئے گرین لینڈ کے قوانین پر فیصلہ گرین لینڈ لے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ گرین لینڈ کو ایسی معیشیت کی ضمانت دی جائے جس کے نتیجے میں اسے معدنیات بیچنی ہی نہ پڑیں۔ ایک حقیقی خود مختار گرین لینڈ ک حکومت کے لئے ضروری ہے کہ اسے معاشی آزادی حاصل ہو۔ اس وقت صسورت حال یہ ہے کہ معاشی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے گرین لینڈ حکومت نئے منصوبے شروع نہیں کر پا رہی۔ پہلی ترجیع یہ ہونی چاہئے کہ گرین لینڈ کی امداد میں اضا فہ کیا جائے۔ یہ امداد غیر مشروط ہونی چاہئے تا کہ آزاد گرین لینڈ کی راہ ہموار ہو سکے۔ایک اضافی شرط یہ ہے کہ گرین لینڈ پر ڈنمارک کے کلونیل قبضے کا مداوا کرنے کے لئے ڈنمارک گرین لینڈ کو زر تلافی ادا کرے۔ یہ رقم ایسے پائیدار،ریاستی ملکیت میں چلنے والے کاروباری منصوبوں پر لگائی جائے جس کے نتیجے میں آزاد،خود مختار گرین لینڈ کی نیاد پڑ سکے۔
مزاحمت ابھی جاری ہے!
بلا شبہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیوں کے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم کیا جائے تا کہ گرین لینڈ کی سرحدوں اور گرین لینڈ کے باسیوں کے حق خود ارادیت کا تحفظ کیا جا سکے۔ بلا شبہ یہ فیصلہ گرین لینڈ کے باسیوں نے کرنا ہے کہ اندریں حالات وہ مزاکرات کے نتیجے میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ ایک طرف امریکہ دھمکیاں دے رہا ہے،دوسری جانب ان سے جھوٹے وعدے کئے جا رہے ہیں۔
اس کا مگر یہ مطلب نہیں کہ ہم،بشمول ریڈ گرین الائنس، کسی ایسے ”حل“ پر بغلیں بجائیں جس سے امریکہ یا ڈنمارک اور یورپی یونین کے سامراجی مفادات کو بڑھاوا ملے۔ ریڈ گرین الائنس کو شروع سے مزاکرات کے نتیجے میں تلاش کئے گئے کسی بھی ”قابل قبول حل“ بارے باخبر ہونا چاہئے تھا۔ ایسے کسی حل کا نتیجہ یہ نہیں نکلنا چاہئے کہ آرکٹک میں اسلحے کی دوڑ شروع ہو جائے،گرین لینڈ کی معدنیات کی سامراجی لوٹ مار ہونے لگے اور گرین لینڈ کی آزادی داو پر لگ جائے۔
مذاکرات کا نتیجہ کچھ بھی نکلے، مختلف حالات میں بھی گرین لینڈ کی آزادی، ماحولیات کے تحفظ اور اسلحے کی دوڑ کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔ گرین لینڈ کے باسیوں کا حق خود ارادیت کا مطالبہ اور اس مطالبے کے لئے عمومی حمایت جاری رکھنا ضروری ہے۔ مگر ہمیں ایسے مطالبات بھی اٹھانے ہوں گے جس کے نتیجے میں حق خود ارادیت پر عمل درآمد کا خواب حقیقت بن سکے۔ ہمارا اہم ترین فریضہ ہے کہ سامراج مخالف پاپولر یکجہتی کی لہر ڈنمارک اور دیگر سامراجی ملکوں میں عمومی حمایت حاصل کرے۔