← Back to Newsroom OS سیاست

گلگت بلتستان عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج

By جدوجہد • 2025-05-26 • 8 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ) پاکستانی زیر انتظام گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین احسان علی ایڈووکیٹ سمیت دیگر عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین اور ترقی پسند کارکنوں کی گرفتاریوں اور مقدمات کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ گلگت بلتستان کے علاوہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر، پاکستان کے مختلف شہروں اور دنیا کے مختلف خطوں میں بھی ان رہنماؤں کی رہائی کے لیے آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

‘پامیر ٹائمز’ کے مطابق گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے اس کریک ڈاؤن کے دوران درجنوں افراد کے خلاف مختلف الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے ہیں۔

7مئی کو گلگت ایئرپورٹ تھانہ میں بغاوت اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ اس مقدمہ میں احسان علی، ممتاز حسین، نصرت حسین، علی ابرار، نفیس، مسعود الرحمان، شیر نادر، جاوید ناجی، تعارف عباس اور محبوب سمیت 20نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا۔

15مئی کو احسان علی ایڈووکیٹ کی 5دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گرفتاری کی گئی، جس کے خلاف علی آباد ہنزہ اور جوٹیال گلگت میں احتجاج کرنے والے رہنماؤں کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے۔

قبل ازیں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان گلبر خان نے واضح طور پر دھمکی بھی تھی۔ اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ریاست پاکستان یا اس کی مسلح افواج کے خلاف بات کرنے والوں کو پھانسی دی جانی چاہیے۔ ’

انہوں نے خبردار کیا کہ ‘حکومت نے پہلے قوم پرست اور سوشلسٹ گروپوں کے بارے میں نرم رویہ اپنایا تھا، اب یہ نقطہ نظر بدل جائے گا۔’

بعد ازاں وزیر داخلہ شمس لون نے بھی وزیراعلیٰ کے اس خطاب کی تائید کی اور ان لوگوں کو سزا دینے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے عوامی حقوق کی آواز اٹھانے والے قوم پرست اور ترقی پسند کارکنوں کو ‘پاکستان کے دشمن’ کے طور پر بیان کیا۔

وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات ایمن شاہ نے بھی عوامی حقوق کی بازیابی اور وسائل پر اختیار کا مطالبہ کرنے والے کارکنوں کو ‘بھارت جانے اور مودی حکومت کے زیر سایہ رہنے ’ کا مشورہ دیا۔

یاد رہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کی جانب سے 26مئی کو ‘قومی جرگہ’ بلانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس جرگے میں گلگت بلتستان بھر کے نمائنوں کو خطے کے بنیادی مسائل بشمول زمین کی ملکیت اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے بارے میں بات کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ یہ جرگہ جی بی اسمبلی میں مائنز اینڈ منرلز سے متعلق مجوزہ بل پر بڑھتے ہوئے خدشات کی وجہ سے بلایا جا رہا تھا۔

حکام کے مطابق پولیس نے احسان علی ایڈووکیٹ، انجینئر محبوب ولی، مسعود الرحمان، اصغر شاہ اور وحید حسن کو 14مئی کی شام گلگت کے مختلف مقامات سے گرفتار کیا۔ جی بی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے15 مئی کو ان کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا، جس کے بعد انہیں ائیرپورٹ تھانہ منتقل کر دیا گیا۔

ادھر عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین اصغر شاہ، وحید حسین، عرفان عباس آزاد کا پہلے عدالت نے چار روزہ ریمانڈ منظور کیا تھا، تاہم 22مئی کو انہیں عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد ان کا مزید 28مئی تک جسمانی ریمانڈ دے دیا گیا۔

دریں اثناء پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی نے دو روز قبل مظفرآباد میں منعقدہ جلسہ میں بھی احسان علی ایڈووکیٹ اور دیگر ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ میرپور سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور ان رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔