گلگت بلتستان میں زمینوں پر قبضے کے خلاف ابھرتی بغاوت
حیدر بلوک /قلندر بخش میمن
بھارت اور پاکستان نے رات کی تاریکی میں ایک دوسرے پر فضائی حملے اور میزائل فائر کیے۔ پہلگام حملے کے بعد ہونے والی یہ مختصر جنگ ایک طویل سایہ چھوڑ گئی ،ایک ایسا سایہ جس کے تحت سیاسی جبر اور اشرافیہ کی لوٹ مار میں شدت آئی۔ جب توجہ فضائی حملوں اور حب الوطنی کے نعروں پر مرکوز ہوئی، پاکستانی ریاست نے اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے ایک وحشیانہ کریک ڈاؤن شروع کیا ، لیکن یہ کریک ڈاؤن کسی بیرونی دشمن پر نہیں، بلکہ محنت کش عوام پرتھا۔
یہ مختصر مگر شدید جنگ پاکستانی ریاست کے اندرونی نوآبادیاتی منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے درکار ہسٹیریا اور خلفشار مہیا کر گئی۔ گلگت بلتستان میں یہ منصوبہ معدنی وسائل کے حصول اور اشرافیہ کی سیاحتی سرمایہ کاری کے لیے زمینوں کے زبردستی حصول کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ رواجی قوانین کے تحت زمینیں اور پہاڑوں کی دولت قریبی دیہات کے درمیان تقسیم ہوتی ہے۔ اجتماعی فیصلے معدنیات اور قیمتی پتھروں کی کان کنی کو پائیدار اور مقامی رہن سہن کے مطابق بناتے ہیں۔ اب یہ نظام حملے کی زد میں ہے۔ فوج جسے اس وقت کی وفاقی حکومت (مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی )کی حمایت حاصل تھی، نے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی سے گلگت بلتستان لینڈ ریفارمز ایکٹ (جی بی ایل آر اے) منظور کروایا۔
یہ ایکٹ ریاست اور اس کے اداروں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ زمینوں پر قبضہ کریں اور انہیں کارپوریٹ اداروں کو منتقل کریں۔ اس اختیار کا مرکز اب بیوروکریسی اور مقامی اشرافیہ ہیں، جو عوام، رواجی قانون، اور زمین کی سرپرستی کی طویل روایات کو نظرانداز کرتے ہیں۔ یہ قانون سخت گیر ہے۔ اس کے تحت زمین کے رہائشیوں کو محض 15 دن کے نوٹس پر بغیر کسی عدالتی نگرانی کے بے دخل کیا جا سکتا ہے۔ اس زمین پر قبضے کے ساتھ ساتھ ریاست سیاحت کے شعبے پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ 44ہوٹل، موٹلز اور سیاحتی مقامات، جو پہلے سرکاری اداروں کی ملکیت تھے، اب 30سال کے لیے گرین ٹورازم لمیٹڈ کو لیز پر دے دیے گئے ہیں ۔ یہ ایک ایسی کمپنی ہے جس کے اعلیٰ عہدے ریٹائرڈ فوجی افسران کے قبضے میں ہیں اور یہ فوج کے کاروباری نیٹ ورک یا’ملبس‘(Milbus) کا ہی تسلسل ہے۔
یہ اصطلاح عائشہ صدیقہ نے اپنی کتاب Military Inc.میں متعارف کروائی تھی، جو پاکستانی فوج کے وسیع کاروباری مفادات کو بیان کرتی ہے۔ گرین ٹورازم دراصل عوامی وسائل کو نجی کنٹرول میں لا کر فوجی کارپوریشن کے زیراثر لے آتی ہے۔
لینڈ ریفارمز ایکٹ کی قانونی حیثیت بھی مشکوک ہے۔ سب سے پہلے جس اسمبلی (گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی) نے یہ قانون منظور کیا، وہ خود قانونی ابہام کا شکار ہے۔ اس کی بنیاد پاکستان کے آئینی قوانین پر نہیں بلکہ صدارتی احکامات پر ہے، جیسے 2009 کا ایمپاورمنٹ آرڈر اور 2018 کا ریفارمز آرڈر۔ مزید یہ کہ گلگت بلتستان ایک متنازع علاقہ ہے، جو جموں کشمیر کے حل طلب تنازعے کا حصہ ہے، اور اسے پاکستان کا باضابطہ حصہ تسلیم نہیں کیا گیا۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی قرار دیا ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کے ساتھ انتظامی طور پر منسلک ہے، مگر آئینی طور پر نہیں، اور یہاں حکمرانی کے تمام اقدامات کو پاکستان کے قومی قوانین اور اقوام متحدہ کی جموں کشمیر سے متعلق قراردادوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اس بنا پر گلگت بلتستان لینڈ ریفارمز ایکٹ نہ صرف قانونی لحاظ سے کمزور ہے ،بلکہ سیاسی طور پر بھی متنازع ہے۔
تاہم گلگت بلتستان میں اختیار قانون کی بجائے طاقت کی بنیاد پر قائم ہے۔ پاکستانی ریاست اپنی مرضی منوانے کے لیے فوجی، خفیہ اداروں، اور عسکری نوعیت کی سول بیوروکریسی کے ذریعے طاقت کا استعمال کرتی ہے ،تاکہ اپنے نوآبادیاتی منصوبے کو آگے بڑھا سکے۔ لینڈ ریفارمز ایکٹ کے نفاذ سے پہلے ریاست نے طاقت کا مظاہرہ کیا، جس میں مقامی کارکنوں، خاص طور پر گلگت بلتستان عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی گرفتاریاں شامل تھیں۔
گلگت بلتستان عوامی ایکشن کمیٹی کی بنیاد 2014 میں گلگت بلتستان کو دی جانے والی گندم سبسڈی واپس لینے کے خلاف مزاحمت کے لیے رکھی گئی تھی۔ یہ کمیٹی فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر ہو کر کمیونسٹ اور مذہبی تنظیموں کو متحد کرنے میں کامیاب ہوئی اور ایک نادر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے کامیابی سے ہزاروں افراد پر مشتمل احتجاجی مظاہرے منظم کیے۔ کمیونسٹ رہنما احسان علی کی قیادت میں انہوں نے گلگت اور سکردو میں مسلسل دھرنے اور عوامی اجلاس کیے، جن میں تمام 8 اضلاع کے رہائشی شریک ہوئے۔ کامیابیوں نے قیادت کو مرعوب نہیں کیا، بلکہ انہوں نے مستقبل کی جدوجہد کو پہلے سے بھانپ لیا تھا۔
2014 میں احسان علی نے مصنفین کو بتایا تھا کہ آنے والی لڑائیاں زمین کے حقوق اور استحصالی کان کنی کے خلاف ہوں گی۔ ایک دہائی بعد ان کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس نئے مرحلے کی تیاری کے لیے ایک گرینڈ جرگہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ عوامی تائید حاصل کی جا سکے۔تاہم 14 مئی 2025 کو چیئرمین احسان علی سمیت عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت اس جرگے کے انعقاد کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ احسان علی کو پاکستان کی فورتھ شیڈول میں بھی شامل کر دیا گیا، جو سیاسی مخالفین کی نگرانی اور ان پر قدغن لگانے کا جابرانہ قانونی حربہ ہے۔
ان گرفتاریوں کے خلاف گلگت، ہنزہ، اور سکردو میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا، جو جلد ہی لاہور، کراچی، اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں تک پھیل گیا۔ بین الاقوامی یکجہتی کی کارروائیاں بھی ہوئیں، جنہیں زیادہ تر برطانیہ، امریکہ، یورپ، اور لاطینی امریکہ میں منظم کیاگیا۔ مظاہرین نے ان گرفتاریوں کو سیاسی انتقام قرار دیا اور عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی فوری رہائی، تمام الزامات کی واپسی، اور احسان علی کے فورتھ شیڈول سے اخراج کا مطالبہ کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے حراستی تشدد، ضمانت کی عدم فراہمی، اور احسان علی کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کیا، جس کی وجہ سے انہیں ہسپتال بھی منتقل کیا گیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت اب بھی قید میں ہے، اور جو جدوجہد ایک علاقائی مسئلہ تھی، وہ اب انصاف اور جمہوری حقوق کے لیے ایک وسیع قومی اور عالمی تحریک بن چکی ہے۔
کسی بھی ریاست کے لیے اپنی جوازیت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عوام سے ایک سماجی معاہدے پر قائم ہو۔ گلگت بلتستان میں یہ معاہدہ مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔ قومی سلامتی کی آڑ میں پاکستانی ریاست نے حقوق اور نمائندگی کو نظرانداز کرتے ہوئے وسائل کے حصول اور کنٹرول کو ترجیح دی ہے۔ زمین کے قوانین کو اس انداز سے دوبارہ تحریر کیا گیا ہے کہ وہ مقامی آبادی کو بیدخل کر سکیں، احتجاجوں کا جواب گرفتاریوں سے دیا گیا ہے، اور سیاسی اختلاف کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ یہاں صرف قانونی تنازعہ نہیں بلکہ جمہوری اختیار کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔ اگر یہی راستہ جاری رہا تو گلگت بلتستان میں مزاحمت نہ صرف جاری رہے گی بلکہ شدت اختیار کرے گی، کیونکہ مقامی آبادی ایک ایسی ریاست کا سامنا کر رہی ہے جو ان کی رضامندی کے بغیر حکومت کر رہی ہے۔
(بشکریہ: ’نیکڈ پنچ‘، ترجمہ: حارث قدیر)