← Back to Newsroom OS کالم

ہجرت کے لیے خطرناک راستوں کا انتخاب، گزشتہ سال 7 ہزار 900 افراد کی جان گئی - روزنامہ جدوجہد

By جدّوجہد • 2026-04-22 • 3 min read

لاہور(جدوجہد رپورٹ)اقوامِ متحدہ کے مطابق 2025 میں ہجرت کے خطرناک راستوں پر تقریباً 7ہزار900 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو گئے، جس کے بعد 2014 سے اب تک مرنے یا لاپتہ ہونے والوں کی مجموعی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن(آئی او ایم) کی جانب سے منگل کو جاری بیان میں کہا گیا کہ محفوظ اور قانونی راستوں کی کمی کے باعث لوگ خطرناک اور غیر قانونی سفری راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا ضیاع جاری ہے۔

آئی او ایم کے مطابق 2025 کے دوران دنیا بھر کے ہجرت کے راستوں پر 7ہزار904 اموات اور گمشدگیاں ریکارڈ کی گئیں، جو اس عالمی ناکامی کی عکاسی کرتی ہیں کہ ان قابل روک اموات کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ ادارے کے مسنگ مائیگرنٹس پراجیکٹ کے مطابق 2014 سے اب تک 80 ہزار سے زائد افراد ہجرت کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یا لاپتہ ہو گئے ہیں۔ تاہم آئی او ایم نے خبردار کیا کہ یہ اعداد و شمار اصل تعداد کا صرف کم از کم اندازہ ہیں، کیونکہ بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 2025 میں امدادی فنڈز میں غیر معمولی کمی اور خطرناک راستوں سے متعلق معلومات تک رسائی میں پابندیوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا، جس کے باعث لاپتہ ہونے والے تارکین وطن کی بڑی تعدادغیر مرئی ہو کر رہ گئی ہے۔

آئی او ایم کے مطابق اس بحران سے براہِ راست متاثر ہونے والے خاندانوں کی تعداد کم از کم 3 لاکھ 40 ہزار کے قریب ہے، جو اپنے پیاروں کی گمشدگی کے باعث نفسیاتی، سماجی، قانونی اور معاشی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ادارے نے زور دیا کہ مئی 2026 میں منعقد ہونے والا انٹرنیشنل مائیگریشن ریویو فورم اس صورتحال کو بدلنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، جہاں عالمی برادری کو موثر اقدامات اور مضبوط سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

آئی او ایم نے کہا کہ ہجرت کے دوران ہونے والی ان اموات کو روکنے اور متاثرہ خاندانوں کو منظرعام پر لانے کے لیے فوری اور مسلسل اقدامات ناگزیر ہیں۔