ہم اپنی کرنی کر گزرے: مزدور رہنما عثمان بلوچ کی سوانح حیات - روزنامہ جدوجہد
عامر رضا
پاکستان کی مزدور تحریک جدوجہد سے عبارت ہے۔اب تک اس تحریک نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے، مختلف ادوار میں مزدوروں کو یونین سازی کے حق کے لیے بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، یونین سازی کی وجہ سے نوکریوں سے نکالے گئے اور قید و بند کی صعوبتوں برادشت کیں لیکن اس کے باوجود مزدوروں کی جدوجہد مسلسل جاری رہی۔ مزدور تحریک کے ابھار کی وجہ سے اقتدار میں آنے والے حکمرانوں نے حقوق مانگنے والے مزدوروں کو یہ تک کہہ دیا کہ حقوق کے لیے اب اگر مزید باہر نکلے تو پھر ’’گلی کی قوت کا مقابلہ ریاست کی قوت سے کیا جائے گا‘‘۔
یہ بات توجہ طلب ہے کہ مزدور تحریک کی تاریخ لکھنے یا اس کو دستاویزی شکل دینے کا عمل بہت ہی سست ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ حال میں ہی مزدور رہنما عثمان بلوچ کی سوانح عمری ’’ہم اپنی کرنی کر گزرے‘‘ منظر عامہ پر آئی ہے۔یہ سوانح حیات عثمان بلوچ کے طویل انٹرویوز پر مبنی ہے جو کہ کامریڈ واحد بلوچ نے کیے ہیں ۔ ا ن کے بقول یہ انٹرویوز 128آڈیو کیسٹس پر ریکارڈ کیے گئے۔ ان کی ٹرانسکرپشن اور تدوین ایک مشکل کام تھا ،جسے کامریڈ واحد بلوچ نے بخوبی سر انجام دیا۔
کامریڈ عثمان بلوچ کی سوانح حیات مزدور تحریک کے لٹریچر میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ اس سے پہلے کرامت علی کی سوانح حیات ’’راہ گزرتو دیکھو‘‘ شائع ہوئی تھی، جس میں انہوں نے پاکستان کی مزدور تحریک کے حوالے سے بہت سی معلومات فراہم کی تھیں۔ عثمان بلوچ کی سوانح حیات بھی پاکستان کی مزدور تحریک کے بارے میں بہت ہی اہم معلومات مہیا کرتی ہے۔
پاکستان کے ابتدائی دور میں مزدوروں کو منظم کرنا ایک مشکل کام تھا ،لیکن عثمان بلوچ اور دیگر مزدور رہنماؤں نے اس کام کو بخوبی انجام دیا کہ چند ہی سالوں میں مزدوروں کے حقوق کی باز گشت ہر جگہ سنائی دینے لگی۔ عثمان بلوچ، کنیز فاطمہ، ایس پی لودھی ،اعزاز نذیر، باور خان اور چاچا علی جان جیسے مزدور رہنماؤں نے مزدوروں کے ساتھ صرف فیکٹر یوں تک ہی رشتہ نہیں رکھا بلکہ ان کے دکھ درد غمی خوشی میں بھی برابر کے شریک رہے۔
کامرن اسدر علی کے آرٹیکل کے مطابق 60کی دہائی کے اواخر میں اٹھنے والی مزدور تحریک نے پاکستان میں مارشل لاء کوچلتا کرنے اور عوامی ابھار کے ذریعے جمہوریت کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ عثمان بلوچ مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے بھٹو دور کا موازنہ دیگر سے کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
’’بھٹو دور میں مزدور قوانین کے ذریعے کارکنوں کو کچھ فوائد حاصل ہوئے، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ افراط زر کے لیے الاؤنس، سوشل سکیورٹی کے فوائد، اولڈ ایج پینشن، انتظامیہ میں مزدوروں کی شرکت میں اضافہ، مزدوروں کے شراکتی فنڈ کو 2 فی صد سے بڑھا کر 5 فی صد کرنا اور گریجویشن فنڈ میں اضافہ اس کی چند ایک نمایا ں مثالیں ہیں۔ ان سب کے باوجود پرانی روش پر چلتے ہوئے اس دور میں ہڑتالوں کو انتظامی جبر اور طاقت کے ذریعے ختم کرایا جاتا تھا۔ افسر شاہی کو پروان چڑھایا گیا اور صنعتی تنازعات کو اسی افسر شاہی نظام کے ذریعے حل کیا جاتا تھا۔ مزدوروں سے مشاورت کیے بغیر قوانین بنائے جاتے تھے۔ حکومت کی جانب سے قائم کردہ محکمہ محنت اور نئی تشکیل کردہ انڈسٹریل ریلیشنز کمیٹی مزدور قیادت کو دباو میں لانے یا انہیں بدعنوان بنانے میں نمایاں کردار ادا کر تے تھے۔‘‘(صفحہ 133)
انہوں نے پاکستان کے طبقاتی نظام، صنعت کاری کے نام پر ہونے والی لوٹ کھسوٹ اور مقتدر حلقوں کی حرص و ہوس کا بھی خوب تجزیہ کیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ لیاری کے حوالے بہت سی اہم معلومات ملتی ہیں۔ پاکستانی میڈیا اور بالی ووڈ (دھرندر) نے لیاری کو جرائم اور دہشت گرد کے گڑھ کے طور پر پیش کیاہے لیکن یہ سوانح عمری پڑھ کر اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ لیاری ایک سیکولر تشخص اور ثقافت کا نمونہ رہا ہے۔ جہاں سیاسی جلسے بھی ہوتے تھے، مزدوروں کی بیٹھکیں بھی ہوتی تھیں، سپورٹس کلب بھی موجود تھے اور اب بھی ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ ادبی محافل بھی برپا ہوتی تھیں۔ لیاری میں اب بھی یہ سب کچھ موجود ہے لیکن وہ ہمارے میڈیا کے فریم کا حصہ نہیں ہے۔
آئین پاکستان میں یونین سازی کا بنیادی حق ہونے کے باوجود ٹریڈیو نینز کی حالت مخدوش ہے۔ اس وقت ملک کی ورک فورس کا ایک فیصد سے بھی کم مزدور ٹریڈ یونینز کا حصہ ہے۔ مزدور تحریک کی کمزوری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اخبارات نے 90 کی دہائی کے دوران ہی اخبارات کی لیبر بیٹس کا خاتمہ کر دیا تھا۔ عوام میں ٹریڈ یونیزکو صنعتی ترقی کے دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔اکثریت ٹریڈ یونیز اور ان کے بنیادی فنکشن کے بارے میں بنیادی نوعیت کی معلومات بھی نہیں رکھتے۔ ایسے میں عثمان بلوچ اور دیگر مزدور رہنماؤں کی سوانح عمریاں پڑھنا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔