← Back to Newsroom OS ثقافت

ہم نے ابھی ہار نہیں مانی! ہم نے کبھی ہار نہیں مانی! - روزنامہ جدوجہد

By جدّوجہد • 2026-05-01 • 3 min read

عشا وٹو

آج پاکستان میں یوم مزدور ہے۔

حکومت کی طرف سے تقریریں ہوں گی، صاحب حیثیت لوگ چھٹی منائیں گے۔۔۔ اور کراچی کی ایک فیکٹری میں ایک عورت پھر بھی کام پر جائے گی، پھر بھی دن بھر کام کرے گی، پھر بھی وہی اجرت لے کر لوٹے گی جو اس کی محنت کے برابر کبھی نہیں ہوگی۔ اس کے لیے یہ دن کچھ نہیں بدلتا۔اسی لئے محنت کشوں کویہ دن منانا پڑتا ہے اوریہ تحریر اسی عورت کے لیے ہے۔ اور لاہور کے باہر کسی بھٹے پر کام کرنے والے بچے کے لیے۔ اور اس لڑکی کے لیے جو کسی اور کا گھر صاف کرتی ہے، جس کے پاس نہ کوئی کاغذ ہے، نہ کوئی حق، نہ کوئی راستہ۔ یہ مزدور دن کے بارے میں ہے، اور اس بارے میں ہے کہ یہ دن محض ایک چھٹی نہیں ہے۔

لیبر ڈے آیا کہاں سے؟

لیبر ڈے کہیں اوپر سے نہیں اترا۔ کسی حکومت نے تحفے میں نہیں دیا، کسی فیکٹری مالک نے مہربانی سے نہیں بخشا۔ یہ دن خون سے، غم سے، اور اُس مزاحمت سے پیدا ہوا جو محنت کشوں نے تب کی جب انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی کی قیمت صرف ہماری محنت نہیں ہے۔

1886 میں شکاگو کے مزدوروں نے ہڑتال کی۔ مانگ بہت سادہ تھی، آٹھ گھنٹے کا کام۔ بس آٹھ گھنٹے۔ 3 مئی کو پولیس نے فیکٹری کے باہر مزدوروں پر گولیاں چلائیں۔ اگلے دن احتجاج پر بم پھینکا گیا، اور ریاست نے وہی کیا جو سرمایہ دارریاستیں ہمیشہ کرتی ہیں جب مزدور اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ چار رہنماوں کو پھانسی دی گئی۔ بم پھینکنے پر نہیں، اس لیے کہ وہ یقین رکھتے تھے کہ مزدور بھی برابر کے انسان ہیں۔

1889 میں دنیا بھر کی مزدور تحریک نے یکم مئی کو ان کی یاد میں منتخب کیا۔ یہ دن تقریروں کے لیے نہیں بنا تھا۔ یہ اس لیے بنا تھا کہ مزدور ایک دوسرے کو دیکھیں اور کہیں: ہم ابھی یہاں ہیں، ہم لڑ رہے ہیں، اور ہم نے ہار نہیں مانی۔
ہم نے ابھی ہار نہیں مانی! ہم نے کبھی ہار نہیں مانی!

بھٹہ

پاکستان کے تقریباً ہر بڑے شہر کے باہر بھٹے ہیں۔ اور بہت سے بھٹوں پر سارا سارا خاندان رہتا ہے،کام کرتا ہے۔ یہ خاندان ایسے نظام میں پھنسے ہوئے ہیں جسے قانون غیرقانونی کہتا ہے لیکن یہ غیر قانونی نظام کھلے عام چل رہا ہے۔
طریقہ یہ ہے کہ کوئی غریب خاندان بھٹے کے مالک سے کچھ پیسے ادھار لیتا ہے۔اسے پیشگی کہتے ہیں۔ چند ہزار روپے، کبھی کبھی اس سے بھی کم۔ بس اسی لمحے سے وہ قرضدار ہو گئے۔ اجرت مالک طے کرتا ہے۔ سود بھی مالک طے کرتا ہے۔ حساب بھی مالک رکھتا ہے۔ قرض کبھی ختم نہیں ہوتا، اور اگر کوئی بھاگنے کی کوشش کرے تو واپس لایا جاتا ہے۔ اسے بندھوا مزدوری کہتے ہیں۔ اسے غلامی بھی کہہ سکتے ہیں۔

اور بچے بھی کام کرتے ہیں۔ جب بڑوں کی کمائی سے پیٹ نہیں بھرتا تو بچے کام پر آ جاتے ہیں۔ دھوپ میں اینٹیں اٹھاتے ہیں۔ اسکول نہیں جاتے کیونکہ وقت نہیں، پیسے نہیں، اور بھٹے کو ان کی ضرورت ہے۔شام کو دوستوں کے ساتھ کھیلنے نہیں جاتے۔ ان چھوٹے کندھوں پر قرض کا بوجھ ہے جو انہوں نے خود نہیں لیا۔ پاکستان میں کروڑوں بچے مزدوری کرتے ہیں۔ بہت چھوٹے بچے۔ جن میں سے بہت سوں نے کبھی پنسل نہیں پکڑی۔

گارمنٹ فیکٹری
2019 میں ہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ شائع کی: ”No Room to Bargain”۔ کراچی، لاہور اور حافظ آباد کی 25 فیکٹریوں میں کام کرنے والے 118 سے زیادہ مزدوروں سے بات کی گئی۔ جو باتیں سامنے آئیں وہ کوئی استثنیٰ نہیں تھیں۔ یہ سب معمول تھا، اتنا معمول کہ لوگ بھول گئے کہ یہ غلط ہے۔

قانون سے کم اجرت۔ پنشن جو صرف کاغذوں میں ہے۔ اُوور ٹائم جو لازمی ہے لیکن اس کے پیسے نہیں ملتے۔ بریک نہیں ملتی۔ خواتین کوزچگی کی چھٹی جو قانون کے مطابق ملنی چاہیے، نہیں ملتی۔ اور سب سے اہم بات: یونین نہیں بنا سکتے۔ جو مزدور اکٹھے ہونے کی کوشش کریں، نکال دیے جاتے ہیں۔ جو سوال پوچھے، نکال دیا جاتا ہے۔

یہ لاپرواہی نہیں ہے۔ یہ ایک سوچا سمجھا انتظام ہے۔ پاکستان کی گارمنٹ انڈسٹری اربوں کماتی ہے۔ وہ عورتیں جو وہ مشینیں چلاتی ہیں جن سے یہ اربوں آتے ہیں، وہ ایسی اجرت گھر لے جاتی ہیں جس سے گزارا نہیں ہوتا۔ جب آپ کوئی سستی قمیض خریدتے ہیں، تو صرف کپڑا نہیں خریدتے۔ آپ کسی ایسے شخص کی خاموشی خریدتے ہیں جس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔

گھروں میں کام کرنے والی

اور پھر وہ عورت ہے جو اس سب میں بھی نظر نہیں آتی۔ گھریلو ملازمہ۔ عموماً عورت۔ اکثر لڑکی۔ کسی کے گھر کے اندر کام کرتی ہے، یعنی قانون کی پہنچ سے باہر۔

نہ کوئی معاہدہ۔ نہ طے شدہ وقت۔ نہ کوئی”کم از کم اجرت“جو اُس پر لاگو ہو۔ نہ کوئی سوشل سیکیورٹی۔ نہ کوئی انسپکٹر جو دیکھنے آئے۔ اگر اس کے ساتھ برا ہو تو اس کے پاس بہت کم راستے ہیں۔ یہ قانونی خلا جان بوجھ کر رکھا گیا ہے، کیونکہ طاقتور لوگوں کو اس کے بے حق ہونے سے فائدہ ہے۔

یہ عورتیں پاکستان کے سب سے پسماندہ طبقوں سے آتی ہیں۔ وہ آرام دہ زندگی گزارنے والوں کے گھر صاف کرتی ہیں۔ ان کے بچے پالتی ہیں۔ شکریہ ملتا ہے، کبھی کبھی، اگر گھر والے”اچھے“ ہوں۔ حفاظت کہیں سے نہیں ملتی۔

اصل بات

کارل مارکس نے ایک بات کہی تھی جو ہمیں بار بار یاد دلانی پڑتی ہے کیونکہ یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ مزدور اور آجر کا رشتہ برابری کا رشتہ نہیں ہے۔ ایک کو زندہ رہنے کے لیے اجرت چاہیے۔ دوسرے کو منافع کے لیے محنت چاہیے۔ جو بغیر دوسرے کے رہ سکتا ہے، طاقت اسی کے پاس ہے۔۔۔ اور جب ایک طرف تمام طاقت ہو اور دوسری طرف صرف کام کرنے کی تیاری، تو جو ہوتا ہے وہ معاہدہ نہیں ہوتا۔ وہ ہار ہوتی ہے۔

آٹھ گھنٹے کا دن، کم از کم اجرت، یونین بنانے کا حق، بچوں کی مزدوری کے خلاف قانون، زچگی کی چھٹی، یہ سب کوئی تحفے میں نہیں ملے۔ یہ سب چھینے گئے، بہت بڑی قیمت دے کر، ایسے لوگوں نے جن کے پاس بہت کم تھا لیکن پھر بھی وہ کھڑے ہوئے۔

لیبر ڈے اسی حق کے لئے کھڑے ہونے کی یاد ہے۔

پاکستان کے مزدوروں کو ہمدردی نہیں چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ بندھوا مزدوری کے قوانین واقعی نافذ ہوں۔ بچے بھٹوں پر نہیں، اسکولوں میں ہوں۔ گارمنٹ مزدوروں کو نوکری کھوئے بغیر یونین بنانے کا حق ہو۔ گھریلو ملازمائیں مکمل طور پر لیبر قانون میں شامل ہوں۔ یہ خواب نہیں ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو دوسری جگہوں پر پہلے ہی ہو چکی ہیں، ان لوگوں نے کیں،جنہوں نے ٹھان لی تھی۔

آخری بات

کراچی میں فیکٹری میں 13 گھنٹے کھڑی عورت آپ سے الگ نہیں ہے۔ بھٹے میں بچہ دور نہیں ہے۔ یہ حالات اس لیے ہیں کیونکہ اکثر لوگوں نے اس صورت حال کوقابلِ قبول سمجھا، اور یہ حالات تب بدلیں گے جب اکثر لوگ یہ فیصلہ کرلیں گے کہ یہ حالات قابلِ قبول نہیں ہیں۔یوم مئی کی شروعات ایسے مزدوروں نے کی جن کے پاس کچھ نہیں تھا اور وہ اپنی زندگی کے آٹھ گھنٹے واپس مانگ رہے تھے۔ انہیں اس مارا گیا، لیکن مانگ زندہ رہی اور آخرکار کئی جگہوں پر، ادھوری سہی، جیت ہوئی۔

وہ عورت جو صبح سے کام پر ہے، ابھی بھی اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔