ہنگری انتخابات میں وکٹر اوربان کو اپ سیٹ شکست: پیٹر میگیار کی ٹیزا پارٹی کی دو تہائی اکثریت
لاہور(جدوجہد رپورٹ) ہنگری کے طویل عرصے سے حکمران رہنے والے انتہائی دائیں بازو کے قوم پرست وزیراعظم وکٹر اوربان نے ملک کے پارلیمانی انتخابات میں واضح شکست تسلیم کر لی ہے، جہاں ابتدائی سرکاری نتائج کے مطابق پیٹر میگیار کی سینٹر رائٹ ٹیزا پارٹی نے غیر معمولی برتری حاصل کی ہے۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق میگیار نے اتوار کی شب بتایا کہ اوربان نے انہیں فون کر کے فتح پر مبارکباد دی۔ 97 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ٹیزا پارٹی نے 53.6 فیصد ووٹوں کے ساتھ 199 رکنی پارلیمان میں 138 نشستیں حاصل کر لیں، جب کہ اوربان کی قوم پرست فدیس پارٹی 37.8 فیصد ووٹوں اور صرف 55 نشستوں تک محدود رہی۔
دارالحکومت کے دریائے ڈینیوب کے کنارے ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے میگیار نے کہاکہ ’’آج سچ نے جھوٹ پر فتح حاصل کر لی۔‘‘ انہوں نے نتائج کو تاریخی مینڈیٹ قرار دیتے ہوئے ہنگری کو متحد کرنے کا وعدہ کیا۔ ان کے مطابق جمہوری ہنگری کی تاریخ میں کبھی اتنے زیادہ لوگوں نے ووٹ نہیں ڈالا، اور نہ ہی کسی جماعت کو اتنا واضح مینڈیٹ ملا ہے۔
الجزیرہ کے نامہ نگار کے مطابق بوداپیسٹ میں جشن کا سماں ہے اور 16 برس بعد اوربان کے اقتدار کا خاتمہ ہنگری کی سیاست میں ایک بھونچال کے مترادف ہے۔ ایک ووٹر کے مطابق ’’ہم ایک ایسے ہنگری کی امید رکھتے ہیں جو سب کے لیے ہو، صرف فدیس کے حامیوں کے لیے نہیں۔‘‘
اوربان نے اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ نتیجہ ’’تکلیف دہ‘‘ مگر ’’واضح‘‘ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت اب اپوزیشن میں رہ کر قوم کی خدمت کرے گی۔ اس انتخابی نتیجے کے دور رس اثرات ہوں گے، خصوصاً یورپی یونین اور یوکرین کے لیے۔ اوربان کی رخصتی سے وہ رکاوٹ دور ہو سکتی ہے جو ہنگری نے یورپی یونین کے یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے قرضے پر کھڑی کر رکھی تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی حکومت مغربی یورپی اتحادیوں کے ساتھ قربت بڑھائے گی اور ہنگری ’’یورپی یونین کے مرکزی دھارے‘‘ میں واپس آ سکتا ہے۔
فدیس حکومت کے دور میں جمہوری اقدار کی مبینہ خلاف ورزیوں پر برسلز نے جو فنڈز معطل کیے تھے، ان کی بحالی کا امکان بھی بڑھ گیا ہے۔ یہ تبدیلی روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اوربان یورپی یونین میں ان کے واحد مضبوط اتحادی تھے۔