← Back to Newsroom OS تعلیم

ہیگو بلانکو کی انقلابی میراث

By جدوجہد • 2025-07-25 • 16 min read

بین ریڈ فورڈ

ہیگو بلانکو (1934-2023) پیرو کے ایک انقلابی رہنما تھے، جو پیرو، لاطینی امریکہ اور دنیا بھر میں عوامی جدوجہد میں سرگرم رہے۔انہوں نے 1960 کی دہائی میں پیرو میں زمین کے حقوق کے لیے ایک پرزور اور ملیٹنٹ جدوجہد کی قیادت کی، جس پر ریکارڈو پیریز گوڈوئے(Recardo Perez Godoy) کی فوجی آمریت نے انہیں سزائے موت سنائی۔ تاہم ملکی اور بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں یہ سزا کم کر کے 25 سال قید کر دی گئی۔

بلانکو کو بالآخر 1970 میں 8سال قید کاٹنے کے بعد معاف کر دیا گیا، لیکن رہائی کے فوراً بعد انہیں ملک بدر کر دیا گیا۔اپنے انقلابی نظریات اور عوامی مزاحمتی تنظیم سازی کی وجہ سے بلانکو کو کئی بار گرفتار کیا گیا، قید میں ڈالا گیا اور پیرو سے جلاوطن کیا گیا۔وہ 1973 میں چلی میں ہی موجود تھے جب امریکہ کی حمایت یافتہ فوجی بغاوت کے ذریعے سلواڈور آلندے (Salvador Allende)کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ اس وقت وہ آگسٹو پنوشے (Augusto Pinochet)کی فوجی آمریت کے ہاتھوں موت سے بال بال بچے۔

بلانکو کو ایکو سوشلزم کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے، وہ مقامی/دیسی کے حقوق کے حقوق کے لیے ایک غیر متزلزل جہدکار تھے، اور انٹرنیشنل ازم کے لیے ان کی وابستگی دیرینہ تھی۔

25 جون کو بلانکو کی وفات کو دو سال مکمل ہوئے۔ اس موقع پر ان کی بیٹی ماریا بلانکونے 26جون کو گرین لیفٹ کے بین ریڈ فورڈ سے اپنے والد کی زندگی اور وراثت کے بارے میں میں خصوصی گفتگو کی۔ ماریا بلانکوصنفی برابری اور مزاحمت پر مبنی تنظیم خواتین کی بغاوت(Genero Rebelde) سے وابستہ ایک سرگرم کارکن ہیں۔ان کے انٹرویو کا اردو ترجمہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

آپ کے والد نے نہ صرف پیرو بلکہ پورے براعظم اور حتیٰ کہ دنیا بھر پر اپنا اثر چھوڑا۔ ان کی میراث کے کون سے پہلو آج بھی قائم ہیں؟

ماریا بلانکو:میری نظر میں ان کی میراث کا سب سے مضبوط پہلو زمین، پانی اور علاقے کے لیے جدوجہد اور کلونیل ازم کے خلاف مزاحمت ہے۔ یہ ان کی زندگی کے آغاز سے ہی تھا اور آخر تک جاری رہا۔ اس کے بعد دوسرا مضبوط پہلو انٹرنیشنل ازم تھا،یعنی یہ سوچ کہ کوئی بھی جدوجہد تنہائی میں قائم نہیں رہ سکتی۔

جیسا کہ میکسیکن عوام کہتے ہیں کہ ’یکجہتی عوام کا نرم خو جذبہ ہوتا ہے‘۔ یہی کسی تحریک یا سماجی جدوجہد کے وقت کے ساتھ قائم رہنے کے لیے بنیادی عنصر ہوتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ آپ کے والد لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے بہت جامع طریقے اپناتے تھے، وہ فرقہ وارانہ انداز اختیار نہیں کرتے تھے۔۔۔

ماریابلانکو:ہاں، میرا خیال ہے ایسا ہی تھا۔ میرے والد اپنی زندگی کے ایک بڑے حصے میں ٹراٹسکی اسٹ رہے۔ یہ وہ وقت تھا جب دیواربرلن ابھی موجود تھی۔ اس وقت جو لوگ بائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے،لیکن اسٹالن ازم سے اختلاف رکھتے تھے، انہیں نشانہ بنایا جاتا اور مار دیا جاتاتھا۔

جب اسٹالن نے انٹرنیشنل ازم سے منہ موڑ کر صرف روس پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا، تو اسی عمل نے روسی انقلاب کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اسی لیے میرے والد کو ٹراٹسکی ازم میں بڑی گنجائش نظر آئی۔ اس نظریے میں مختلف آرا کے لیے جگہ تھی، اور ہمیشہ ایک بین الاقوامی نقط نظر موجود رہتا تھا۔

تاہم جب دیوار برلن گری، تو انہیں صرف ٹراٹسکی اسٹ کہلانے کا کوئی خاص فائدہ نظر نہ آیا۔ وہ سیاسی پارٹیوں میں سرگرم ہونا چھوڑ چکے تھے، اور انہوں نے یہ ماننا بھی چھوڑ دیا تھا کہ پارٹیاں کوئی تبدیلی لا سکتی ہیں۔

وہ کبھی کبھار لوگوں کو بائیں بازو کے کسی امیدوار کو ووٹ دینے کی ترغیب دیتے تھے، لیکن یہ اس لیے نہیں کہ وہ سمجھتے تھے کہ اس سے تبدیلی آئے گی۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ وہ اس پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کا ماننا تھا کہ صرف سماجی تحریکیں اور نچلی سطح پر تنظیم سازی ہی حقیقی تبدیلی لا سکتی ہیں۔

پھر بھی وہ یہ ضرور سمجھتے تھے کہ پارلیمنٹ میں ایسے نمائندے ہونا فائدہ مند ہے جو بائیں بازو سے ہوں، یا جو ماحولیات اور مقامی (دیسی) علاقوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوں۔

آپ کے والد ایکو سوشلزم کے بانیوں میں سے تھے، وہ اس نظریے کے عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے سے پہلے سے اس سے وابستہ تھے۔ ہم ان کے ماحولیاتی انصاف کے تصور سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

ماریا بلانکو:میرے خیال میں اُن کے لیے، اور میرے لیے بھی یہ بہت اہم بات تھی کہ ماحولیاتی انصاف کی جدوجہد نوآبادیات مخالف، سرمایہ دارانہ نظام مخالف، اور پدرشاہی کے خلاف جدوجہد سے جڑی ہوئی ہو۔ جب تک ہم نوآبادیاتی سرمایہ دارانہ نظام سے نجات حاصل نہیں کرتے، تب تک ہم زمین (Mother Earth) کی حقیقی حفاظت نہیں کر سکتے۔ یہ سب پدرشاہی نظام سے بھی جڑا ہوا ہے۔یہ تمام نظام زمین کی پروا نہیں کرتے، بلکہ اس کے برعکس، وہ زمین کو صرف ایک شے سمجھتے ہیں، جسے لوٹا جائے، پامال کیا جائے، اور فتح کیا جائے۔

جب کلونیل ازم کا خاتمہ ہو جائے گا، تب وہ اقوام شاید دوبارہ ایسے ہی جینے کے قابل ہو سکیں، جو ہمیشہ فطرت کے ساتھ ایک مختلف اور ہم آہنگ طرز زندگی گزارتی رہی ہیں، فطرت کے ساتھ بہتی رہی ہیں، نہ کہ اس سے لڑتی یا اس پر حاوی ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔

ظاہر ہے یہ بات کچھ لوگوں کو خیالی محسوس ہو سکتی ہے، کیونکہ آج کل بعض دیسی برادریاں بھی معدنیات نکالنے یا غیر قانونی جنگل کٹائی میں ملوث ہیں۔تاہم عمومی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ دیسی اقوام اپنے پانی اور علاقے کی حفاظت کی طرف واپس لوٹتی ہیں۔

جیسا کہ ہم پیرو کے شمالی علاقے کے وامپیس (Wampis) لوگوں کی مثال سے دیکھ سکتے ہیں،یہ شمالی ایمیزون کے مقامی لوگ ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک علیحدہ قوم وامپیس نیشن تشکیل دی ہے اور وہ ایک نئی سطح کی خودمختاری حاصل کر رہے ہیں تاکہ شمال میں غیر قانونی لکڑی کاٹنے والوں کا مقابلہ کر سکیں، جو بنیادی طور پر منظم جرائم پیشہ گروہ ہیں۔ پولیس کچھ نہیں کرتی، بلکہ حقیقت میں وہ انہی مجرموں کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے۔

وامپیس غیر قانونی کان کنی کے خلاف بھی اپنے علاقے کا دفاع کرتے ہیں۔ جون میں ہی انہوں نے حکومت سے اپنے دریاؤں میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف مدد مانگی۔ جب حکومت نے کوئی جواب نہ دیا، تو وامپیس نیشن نے اعلان کیا کہ وہ اپنی خودمختار علاقائی دفاعی کارروائیاں خود شروع کریں گے۔اب وامپیس اپنی سیکیورٹی، اور اپنے جنگل اور دریاؤں کی حفاظت خود کرتے ہیں۔

خودمختار حکومتیں قائم کرنے کا یہ تصور ایمیزون کے خطے میں جڑ پکڑ چکا ہے، اور دیگر دیسی اقوام بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔ شاید اب تک تین اقوام ایسی ہیں جنہوں نے خود کو خودمختار حکومتیں قرار دیا ہے۔

میں ہمیشہ خودمختاری کی جدوجہد کی حمایت کرتی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں یہ ایک بہت اہم راستہ ہے، اور دنیا کے کئی خطوں میں یہ رجحان نظر آتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر اس کی دیگر طاقتور مثالیں روجاوا (کردستان) کی خواتین، اور میکسیکو کے چیاپاس (Chiapas)علاقے میں زاپاتیستا (Zapatistas)تحریک ہیں، لیکن اور بھی بہت سی تحریکیں ہیں جو خودمختاری کے لیے کوشاں ہیں۔

یہاں پیرو کے پہاڑی علاقوں میں رونڈاس کمپیسیناس (Rondas Campesinas) ہیں۔ یہ نچلی سطح پر اپنی کمیونٹی کی سکیورٹی کا نظام ہے، جس میں لوگ بغیر ہتھیاروں کے اپنی زمینوں کی نگرانی کرتے ہیں، اور یہ طے کرتے ہیں کہ کون اندر آسکتا ہے اور کون نہیں۔یہ معدنیات نکالنے والی کمپنیوں یا غیر قانونی لکڑی کاٹنے والوں کو دور رکھنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ رونڈاس کمپیسیناس کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔ وسطی پہاڑی علاقوں کے شہر اور صوبے ہاوخا (Jauja) میں یہ نظام خاصا مضبوط ہے۔ پیرو کے شمالی پہاڑی علاقوں کے شہرکاجامارکا (Cajamarca) میں تو یہ سب سے طاقتور ہے۔ وہاں ان رونڈاس نے بڑی معدنیاتی کمپنیوں (جیسے نیومونٹ اور بویناونتورا) کو روک دیا، جو کانگا میں سونے اور تانبے کی کان کنی کرنا چاہتی تھیں۔ ان زمینوں کی محافظ میکسیما آکونا (Maxima Acuna) نے اس جدوجہد کے نتیجے میں 2016 میں گولڈمین ماحولیاتی انعام بھی جیتا۔یہاں رونڈاس ابھی اتنی مضبوط نہیں ہیں، لیکن کئی مقامات پر ایسی پہل موجود ہے۔

مثلاً پیساک (Pisac) میں پارو پارو(Paru Paru) کمیونٹی ہے، جس کی اپنی رونڈا ہے، اور کالکا (Calca) میں بھی کچھ کمیونٹیز اپنی رونڈاس رکھتی ہیں۔ اسی طرح کے اقدامات دوسرے ممالک میں بھی ہو رہے ہیں۔

گوئٹے مالا میں 1980کی دہائی کے اوائل میں ہونے والی نسل کشی کے رد عمل میں ایک بہت خوبصورت مثال ہے۔ جب میرے والد کی وفات کو ایک سال مکمل ہوا،تو لوچا انڈیخینا (Lucha Indigena) کی اداریہ ٹیم کے کچھ افراد (یہ اخبار میرے والد نے قائم کیا تھا) نے فیصلہ کیا کہ ہم مختلف دیسی برادریوں اور تنظیموں سے ملیں گے جو پانی اور زمین کی حفاظت کے لیے سرگرم ہیں، تاکہ ان کے بین الاقوامی جذبے اور جدوجہد کو یاد کیا جا سکے۔

ہم نے میکسیکو اور گوئٹے مالا میں کئی تنظیموں اور کمیونٹیوں سے ملاقاتیں کیں۔گوئٹے مالامیں کچھ برادریاں ایسی تھیں جنہوں نے نسل کشی سے بچنے کے لیے 12-13سال جنگلوں میں چھپ کر گزارے، مسلسل نقل مکانی کی اور فوج کے خلاف مزاحمت کی۔ انہوں نے مکمل طور پر خودمختار برادریاں قائم کیں، جن کا رومن کیتھولک پر مبنی اپنا تعلیم کا نظام، اپنا مذہبی اندازتھا، لیکن لبریشن تھیولوجی اور مایان کاسمو ویژن سے بہت متاثر تھا۔ ان برادریوں میں عورتیں واعظ بھی بنتی تھیں، جو کہ کیتھولک ازم میں شاذو نادر ہی ہوتا ہے۔

میری نظر میں جہاں کہیں بھی خودمختاری قائم کی جائے، وہ نہ صرف ایک زبردست مزاحمت کی شکل ہے، بلکہ اسے آپ کالونیل سرمایہ داری کے ایک دن بہ دن زیادہ درندہ صفت بننے والے نظام کے خلاف ایک قسم کی زندگی کی انشورنس بھی کہہ سکتے ہیں۔

کیا آپ کے پاس ایسی مزید مثالیں بھی ہیں؟

ماریا بلانکو:آپ جہاں بھی جائیں خودمختار جدوجہدیں ہر جگہ موجود ہیں۔ اگر آپ تلاش کریں تو آپ کو یہ جدوجہدیں ضرور ملیں گی۔ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی حمایت کریں، ان کی مدد کریں، ان کی راہنمائی کریں، اور سب سے اہم یہ کہ انہیں آپس میں جوڑنے میں مدد دیں۔ میرے خیال میں یہ بھی بے حد ضروری ہے، تاکہ جب وقت آئے تو انہیں وہ یکجہتی حاصل ہو جس کی انہیں ضرورت ہے۔

میکسیکو میں یہ بات بہت نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ وہاں مختلف تنظیموں، گروپوں اور اجتماعی گروہوں کے درمیان بے پناہ یکجہتی پائی جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان میں سے بہت سی تنظیمیں نیشنل انڈیجنس کانگریس سے جڑی ہوئی ہیں، جسے زاپاتیستاؤں (Zapatistas)نے فروغ دیا۔ اس طرح ان کے پاس ملک گیر سطح پر ایک مربوط نیٹ ورک موجود ہے۔ میں چاہوں گی کہ پیرو میں بھی کچھ ایسا ہی ہو۔

میکسیکو میں جب کہیں کسی جگہ ریاستی جبر ہوتا ہے، تو نیشنل انڈیجنس کانگریس سے وابستہ سب لوگ آواز بلند کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں، احتجاجی اقدامات منظم کرتے ہیں وغیرہ۔ اس سے واقعی بہت فرق پڑتا ہے۔ مثلاً، اس کی وجہ سے قید کارکنوں کی رہائی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔

ہم نے وہاں ایک گروپ سے ملاقات کی، جس کا ناماپیزاکان ڈیموکریٹک اینڈ انڈیپنڈنٹ پیپلز یونین (UPADI)تھا۔ یہ تنظیم اصل میں ریل کے مزدوروں کی یونین کے طور پر شروع ہوئی تھی، کیونکہ اپیزاکو ایک ایسا شہر ہے جو ریاست تلاسکالا میں ریل کے ارد گرد آباد ہوا تھا، جو میکسیکو سٹی سے زیادہ دور نہیں ہے۔

جب ریل بند ہو گئی، تو بہت سے مزدوروں نے چھوٹے کاروبار شروع کر دیے۔ کچھ سڑکوں پر سامان بیچنے لگے، کچھ نے بازاروں میں چھوٹے اسٹال قائم کیے۔تاہم وہ سب UPADI میں اکٹھے رہے، ایک دوسرے کا خیال رکھتے رہے۔ وہ یقینی بناتے ہیں کہ سڑکوں پر کام کرنے والوں کو نکالا نہ جائے،اور بازار کے مالک کرائے، بجلی، پانی وغیرہ کی قیمتیں من مانے طریقے سے نہ بڑھا دیں۔

وہ اب بھی بہت منظم ہیں، اور انہوں نے خود کو نیشنل انڈیجنس کانگریس کا حصہ قرار دیا ہے۔ وہ چیاپاس اور میکسیکو کے دوسرے علاقوں میں ہونے والی جدوجہدوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، اور بدلے میں انہیں بھی یکجہتی حاصل ہوتی ہے۔

ان کا طریقہ کار بالکل ایک مزدور یونین جیسا ہے۔ جب بھی کوئی نیا میئر اقتدار سنبھالتا ہے، تو وہ اس سے ایک مضبوط اور متحد تنظیم کے طور پر مذاکرات کرتے ہیں۔ حکام کو یہ ہمت نہیں ہوتی کہ ان کے پانی، بجلی یا جائیداد پر ٹیکس کی شرح بڑھا دیں۔۔۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ لوگ سخت مزاحمت کریں گے۔

Ben Radford