← Back to Newsroom OS تعلیم

یادرفتگاں: بلوچستان کے ضمیر کا رکھوالا

By جدوجہد • 2026-01-13 • 13 min read

اکبر نوتزئی

2010 کی بات ہے، جب میں پہلی بار ماما قدیر سے کوئٹہ کی سریاب روڈ پر واقع ایک مقامی بینک میں ملا تھا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ ملاقات ایک مستقل تعلق میں بدل جائے گی۔

اس وقت میں انٹرمیڈیٹ کر رہا تھا اور کالج کی فیس جمع کرانے بینک گیا ہوا تھا۔ ماما بینک سے ریٹائر ہو چکے تھے اور اپنے ایک سابق ساتھی سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کا پوتا بھی تھا، جس کے والد لاپتہ افراد میں شامل تھے۔

میرا ایک کزن وہاں بینک مینیجر تھا۔ اس نے میرا تعارف کرواتے ہوئے کہاکہ ”یہ جلیل ریکی کے والد ہیں۔“پھر اس نے ماما سے میرے سامنے ان کے لاپتہ بیٹے کے بارے میں پوچھا۔ ماما، جن کا سرکاری نام اس وقت عبدالقدیر ریکی تھا، مطمئن لہجے میں بولے کہ”وہ (میرا بیٹا) جلد رہا ہو جائے گا، کیونکہ اس نے کچھ کیا ہی نہیں۔“

جب غم نے مزاحمت کا روپ دھارا

ماما کے بیٹے جلیل ایک بلوچ سیاسی کارکن تھے،وہ 13 فروری 2009 کو لاپتہ ہوئے تھے۔ نومبر 2011 میں ان کی گولیوں سے چھلنی لاش بلوچستان کے ضلع کیچ کی سرحدی تحصیل مند کے ایک سنسان علاقے سے ملی۔ جلیل کالعدم قرار دی گئی بلوچ ریپبلکن پارٹی (بی آر پی) کے سیکرٹری اطلاعات تھے۔ یہ پارٹی براہمداغ بگٹی کی سربراہی میں تھی، جو نواب اکبر بگٹی کے پوتے ہیں، وہی نواب بگٹی جنہیں 2006 میں ایک فوجی آپریشن میں قتل کیا گیا تھا۔

اپنے بیٹے کے قتل کے بعد بھی ماما کی ہمت نہ ٹوٹی۔ جب وہ اپنے پوتے کا ہاتھ پکڑے جلیل کی گولیوں سے چھلنی لاش دیکھنے گئے، تب بھی ان کی ضبط و برداشت میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ حتیٰ کہ جب وہ یہ بتا رہے تھے کہ جلیل کو کس نے اور کیوں قتل کیا، ان کا لہجہ پھر بھی مضبوط تھا۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب لاپتہ افراد کی لاشیں ملتی ہیں تو ان کے اہل خانہ صدمے، خوف یا مایوسی کے باعث احتجاج چھوڑ دیتے ہیں اور گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں۔

تاہم ماما قدیرنے وہ کیا جو کوئی اور نہ کر سکا۔ وہ اپنے احتجاجی کیمپ میں بیٹھے رہے۔ یہ کیمپ انہوں نے 2009 میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کے ساتھ مل کر کوئٹہ پریس کلب کے باہر لگایا تھا۔ دونوں نے جبری گمشدگیوں کے خلاف اور تمام لاپتہ بلوچوں کے لیے آواز بلند کرنا جاری رکھا، تاکہ خوف اور ناامیدی کے ماحول میں وہ ان کی مضبوط آواز بن سکیں۔

بینک سے باریکیڈ تک

یوں ماما قدیرکا سیاسی ارتقا ہوا۔ عبدالقدیر ریکی، ایک بینکر، سے ماما قدیر بلوچ،اور بلوچوں کی ایک توانا اور سرگرم آواز بن گئے۔ ان کی بے تھکان کوششوں کی بدولت وہ لوگ بھی آواز اٹھانے لگے جو براہ راست لاپتہ افراد کے متاثرہ خاندانوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ غیر سیاسی بلوچ بھی اس جدوجہد میں شامل ہوتے گئے، جن کا لاپتہ افراد کے مسئلے سے کوئی ذاتی تعلق نہیں تھا۔

بالآخر انہی کوششوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) کے ظہور کی راہ ہموار کی، جو ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی قیادت میں اس وقت سامنے آئی جب ماما قدیرکو کوئٹہ پریس کلب کے باہر اپنا احتجاجی کیمپ لگائے ہوئے 10 سال گزر چکے تھے۔

1970 کی دہائی میں ماما خود ایک سیاسی کارکن تھے اور نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے رکن تھے۔ اس زمانے میں ان کا تعلق بلوچ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری سے بھی مضبوط تھا۔ بعد ازاں انہوں نے بینک میں کیشئر کے طور پر ملازمت اختیار کرلی۔ ملازمت کی نوعیت کے باعث وہ اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکے، لیکن 2006 میں نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد ان کے بیٹے جلیل نے 2008 میں قائم ہونے والی بلوچ ریپبلکن پارٹی (بی آر پی) میں شمولیت اختیار کرلی۔

ماما 1940 میں بلوچستان کے ضلع قلات کے ایک چھوٹے سے قصبے سوراب میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے ہی علاقے میں حاصل کی، پھر میٹرک کے لیے خضدار چلے گئے۔ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے لیے انہوں نے کوئٹہ کا رخ کیا۔

بینک میں ملازمت اختیار کرنے سے پہلے ماما صوبائی لائیواسٹاک ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے تھے۔ 1974 میں انہوں نے سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ بینک کی نوکری کرسکیں، جو ان کے لیے اپنے خاندان کی مالی معاونت کا ذریعہ بن سکتی تھی۔ وہ اپنے اردگرد بیٹھنے والوں کو اکثر یہ بتایا کرتے کہ انہوں نے کس قدر محنت کی تاکہ ان کے بچے اپنے تعلیمی مقاصد حاصل کر سکیں، جن میں جلیل بھی شامل تھا اور ڈبل ماسٹرز تھا۔

انصاف کی طویل جدوجہد

اپنے بیٹے جلیل کی گمشدگی کے بعد ماما قدیر دوبارہ سیاست کی طرف لوٹے۔ یہ فیصلہ انہوں نے ریاستی دباؤ کے نہایت سخت ماحول میں کیا، اوراس وقت جب بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر آواز اٹھانا بے حد مشکل تھا۔

27 اکتوبر 2013 کو ماما قدیرنے ایک طویل پیدل مارچ کا آغاز کیا۔ ان کے ساتھ زیادہ تر خواتین، بچے اور لاپتہ بلوچوں کے دیگر رشتہ داروں پر مشتمل ایک چھوٹا گروہ تھا۔ انہوں نے یہ مارچ اس مقصد سے شروع کیا کہ مبینہ طور پر ریاست کے ہاتھوں لاپتہ کیے گئے بلوچ افراد کے مسئلے کو اجاگر کیا جا سکے۔

سخت سردیوں کے موسم کا مقابلہ کرتے ہوئے، مظاہرین نے سندھ اور پنجاب کے راستے تقریباً دو ہزار کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا اور چار ماہ بعد، فروری 2014 کے آخر میں اسلام آباد پہنچے۔

ماما قدیرکے مارچ کا موازنہ حتی کہ موہن داس کرم چند گاندھی کے مشہور نمک مارچ (1930) سے بھی کیا گیا ہے، جو برطانوی استعمار کے غیر منصفانہ نمک اجارہ داری اور ٹیکس کے خلاف کیا گیا تھا۔ اسی طرح اس کا تقابل چین کے کمیونسٹ رہنما ماؤ زے تنگ کے لانگ مارچ سے بھی کیا گیا ہے، جس میں 6ہزار میل کا سفر طے کیا گیا تھا۔

فروری 2014 میں اسلام آباد پہنچنے کے بعد ماماقدیر کی یہ خواہش بھی تھی کہ وہ ایک اور طویل مارچ جنیوا تک کریں اور اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں جا کر بات کریں۔تاہم جیسا کہ نصراللہ بلوچ نے بتایا، وہ ایسا نہ کر سکے کیونکہ ان کا نام حکومتی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل تھا۔

آزمائشوں اور مشکلات کے تمام تر مراحل میں بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ان کی جدوجہد ہمیشہ پرامن اور عدم تشدد پر مبنی رہی۔ وہ اپنے احتجاجی کیمپ میں گفتگو کے دوران اکثر کہا کرتے تھے کہ ”اگر گمشدہ افراد نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔“وہ 2009 سے 2025 تک اپنے دھرنے پر بیٹھے رہے، حتیٰ کہ ان دنوں میں بھی جب وہ بیمار ہوتے تھے۔

اس عرصے کا بڑا حصہ انہوں نے مطالعے میں گزارا۔ وہ بائیں بازو کے رہنماؤں، جیسے روسی لیڈر ولادیمیر لینن اور ارجنٹائن کے انقلابی ارنسٹو چے گویرا، کے تراجم پڑھا کرتے تھے۔ وہ گھنٹوں اردو اخبارات میں سر کھپا کر خبریں پڑھتے رہتے، ان کی عینک ہمیشہ ناک پر ٹکی رہتی۔

ان کا مستقل شکوہ یہی ہوتا تھا کہ ”ہمارے بارے میں کوئی خبر نہیں ہوتی۔“

گواہی دینے کی قیمت

جیسے جیسے مقامی اخبارات اور ٹی وی چینلز نے ماما قدیرکے بیانات کی کوریج بند کی اور لاپتہ افراد کا مسئلہ سرخیوں سے اوجھل ہوتا گیا، ویسے ویسے زیادہ تر مقامی صحافی بھی ماما قدیراور ان کے احتجاجی کیمپ سے دور رہنے لگے، تاکہ ان کے شکوؤں، اعتراضات اور سوالات سے بچ سکیں۔

افسوس کہ میں نے بھی یہی کیا۔ میں ان کے طعنوں اور اس سوال سے بچنا چاہتا تھا کہ میں نے ان کے مقصد کے لیے کیا کیا ہے، حالانکہ ہم دونوں جانتے تھے کہ یہ میری رپورٹنگ کا میدان نہیں تھا اور میں ویسے بھی بہت زیادہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ ان کے مگرکچھ جملے آج تک میرے ذہن میں نقش ہیں۔ مثلاً وہ مجھ سے کہا کرتے تھے کہ”پیسہ قلم سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔“شاید وہ ٹھیک کہتے تھے۔

20 دسمبر 2025 کو ماما قدیرطویل علالت کے بعد کوئٹہ کے ایک ہسپتال میں وفات پا گئے۔ ان کی عمر 85 برس تھی۔ ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ، ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔

وہ دلیر، اگرچہ ضدی، غصے سے بھرپور شخصیت تھے، اور زندگی کی سختیوں نے انہیں کندن بنا دیا تھا۔اپنے بیٹے کے قتل کے بعد ماما قدیرنے اپنی ساری توانائی بلوچ لاپتہ افراد کی جدوجہد کے لیے وقف کر دی تھی۔ اسی لیے وہ اپنی آخری سانس تک جھکے نہیں، اور لاپتہ بلوچوں کے مقصد کے لیے جیے اور اسی مقصدپر جان دی۔

ماما، آپ کی روح کو سکون نصیب ہو!

(بشکریہ: ’ڈان‘، ترجمہ: حارث قدیر)