یونی لیور نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے باعث بھرتیوں پر پابندی عائد کر دی ہیں
لاہور(جدوجہد رپورٹ)صارفین کی معروف کمپنی یونی لیور نے عالمی سطح پر ہر قسم کی نئی بھرتیوں پر فوری پابندی عائد کر دی ہے، جو کم از کم تین ماہ جاری رہے گی۔ یہ قدم مشرق وسطیٰ میں جاری ایران جنگ اور اس کے باعث پیدا ہونے والی معاشی ابتری کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔ یہ بات ’رائٹرز‘کو موصول ہونے والی کمپنی کی ایک اندرونی میمو میں بتائی گئی۔
میمو کے مطابق مشرق وسطیٰ کے تنازع نے کمپنی کے کاروبار کے لیے نمایاں چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ ایران جنگ کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی ہے، جب کہ تیل و گیس کی تاریخ کی بدترین رکاوٹ نے توانائی کی قیمتوں کو بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ اس اضافی لاگت نے کیمیکل، پلاسٹک اور فوڈ پروڈکشن جیسی صنعتوں کی پیداوار کو بھی سست کر دیا ہے۔
یونی لیور کے پرسنل کیئر بزنس کے سربراہ فابیان گارسیا نے لکھا کہ موجودہ معاشی و جغرافیائی صورت حال آئندہ مہینوں کے لیے سخت مشکلات لا سکتی ہے، اسی لیے کمپنی کے لیڈرشپ ایگزیکٹو نے عالمی سطح پر”ہر لیول“ پر بھرتیوں کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یونی لیور پہلے ہی 2024 سے ایک بڑے کاسٹ کٹنگ پروگرام پر عمل کر رہی ہے، جس کے ذریعے آئندہ تین سالوں میں 800 ملین یورو کی بچت کا ہدف رکھا گیا ہے۔ان اقدامات کا اثر تقریباً 7ہزار500 نوکریوں پر پڑنے کا امکان تھا۔کمپنی کے ملازمین کی تعداد 2020 میں 1لاکھ49ہزار تھی، جو اب کم ہو کر 96ہزار رہ گئی ہے۔