یوٹیوب نے غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کی دستاویزی ویڈیوز خفیہ طور پر ہٹا دیں
لاہور(جدوجہد رپورٹ)گوگل، مائیکروسافٹ اور ایمیزون جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں طویل عرصے سے غزہ پر اسرائیل کی جارحیت میں شراکت کے الزامات کی زد میں ہیں۔ اب ایک اور بڑا نام، یوٹیوب، بھی اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔
’ڈان‘ کے مطابق انٹرسیپٹ کی 4 نومبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گوگل کی ملکیت والا یہ پلیٹ فارم خاموشی سے 700 سے زائد ویڈیوز ہٹا چکا ہے جو اسرائیلی تشدد کی دستاویزات پر مبنی تھیں۔ یہ اقدام تین بڑی فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں کے اکاؤنٹس حذف کرنے کے بعد سامنے آیا ، جو ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کا تسلسل تھا۔
الحق، المیزان سینٹر فار ہیومن رائٹس، اور فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق وہی تین تنظیمیں ہیں جنہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی ) کو شواہد فراہم کیے تھے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بعد ازاں اسی عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیردفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔
اکتوبر کے اوائل میں عدالت کے اس فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کے دفاع میں مزید شدت پیدا کی، عدالت کے اہلکاروں پر پابندیاں لگائیں اور ان افراد کو نشانہ بنایا جو عدالت کے ساتھ کام کر رہے تھے۔
سینٹر فار کونسٹی ٹیوشنل رائٹس کی سینئر اسٹاف اٹارنی کیتھرین گیلاگر نے انٹرسیپٹ سے گفتگو میں کہاکہ ’’یہ انتہائی قابل مذمت بات ہے کہ یوٹیوب ٹرمپ انتظامیہ کے اس ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے، جس کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے شواہد کو عوامی نظروں سے اوجھل کرنا ہے۔‘‘
رپورٹ کے مطابق ان حذف شدہ ویڈیوز میں بہت بڑی تعداد میں انتہائی اہم مواد شامل تھا ، مثلاً امریکی صحافی شیرین ابو عاقلہ کے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل کی تحقیقات، فلسطینی قیدیوں پر تشدد کے بیانات، اور’دی بیچ‘جیسی دستاویزی فلم، جو ساحل پر کھیلتے ہوئے اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے بچوں کی کہانی بیان کرتی تھی۔
الحق کے ترجمان نے انٹرسیپٹ کو بتایا کہ تنظیم کا یوٹیوب چینل 3 اکتوبر کو حذف کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ’’یوٹیوب کا کسی انسانی حقوق کی تنظیم کا پلیٹ فارم بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ختم کرنا اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے لیے ایک تشویشناک پسپائی ہے۔‘‘
فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق کے بین الاقوامی لیگل ایڈوائزرباسل السورانی نے کہاکہ ’’یوٹیوب کا یہ اقدام دراصل فلسطینی مظلوموں کی آوازوں کو دبانے میں شراکت داری ہے۔‘‘
یوٹیوب کے ترجمان بوٹ نے انٹرسیپٹ کو بتایاکہ ’’گوگل تمام متعلقہ پابندیوں اور تجارتی قوانین کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے۔‘‘
رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات صرف مذکورہ تنظیموں کے باضابطہ اکاؤنٹس تک محدود ہیں۔ اگرچہ کچھ حذف شدہ ویڈیوز کے آرکائیو شدہ ورژن فیس بک، ویمیو اور وے بیک مشین جیسے پلیٹ فارمز پر اب بھی موجود ہیں، لیکن اس بات کا کوئی جامع ریکارڈ نہیں کہ مجموعی طور پر کیا کچھ حذف کیا گیا ، جس کے نتیجے میں بصری شواہد کا ایک بڑا حصہ ہمیشہ کے لیے انٹرنیٹ سے غائب ہو گیا۔